صرف تنقید ہی نہیں

ہم ہمیشہ لوگوں کی غلطیاں نکالنے اور ان کی لغزشیں نوٹ کرنے میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے اور اکثر نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کی اچھائیاں تلاش کریں اور پھر اس کی بنیاد پر لوگوں کی ستائش میں بخل سے کام نہ لیں۔ اکثر اساتذہ سست اور غبی طالب علم کو تو کوستے ہیں لیکن وہ محنتی اور ذہین طالب علم کی تعریف بھی نہیں کرتے ہیں۔ اساتذہ طلبا کے لیے نمونہ ہوتے ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ہر سطح کے طالب علم کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان طلبا کی زیادہ حوصلہ افزائی کریں، جو کسی بھی وجہ سے اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں اپنے ہم مکتبوں سے پیچھے رہ گئے ہوں۔

بسا اوقات ہم بچوں کو ان کی غلطیوں اور شرارتوں پر ڈانٹ ڈپٹ تو کرتے ہیں، لیکن جب وہ کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو ہم عموماً ان کی تعریف نہیں کرتے۔ یوں ہم دلوں تک رسائی کے بہت سے مواقع کھو دیتے ہیں۔

اچھائیوں کی تعریف شرف انسانیت

ابو موسیٰ اشعریؓ کا قبیلہ تلاوت و حفظ قرآن کا بہت اہتمام کرتا تھا۔ تلاوتِ قرآن پاک کی کثرت اور عمدگی کے باعث انہیں بیشتر صحابہ کرامؓ پر فوقیت حاصل تھی۔ ایک سفر کے دوران قبیلہ اشعر کے لوگ رسولِ کریمﷺ کے ہمراہ تھے۔ رات کو ایک مقام پر پڑاؤ کیا، صبح ہوئی اور لوگ اکٹھے ہوئے تو رسولِ کریمؐ نے فرمایا: ’’میرے اشعری رفقاء رات کو خیموں میں جاتے ہیں تو میں تلاوتِ قرآن میں منہمک ان کی آوازوں سے ان کے خیمے پہچان لیتا ہوں، اگرچہ میں نے دن کے وقت ان کے خیمے نہیں دیکھے ہوتے۔‘‘

رسولِ اکرمﷺ کے ان تعریفی کلمات سے اشعریوں کو جو مسرت حاصل ہوئی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایک صبح رسول کریمﷺ کی ابو موسیٰ اشعریؓ سے ملاقات ہوئی۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: ’’کاش! رات آپ مجھے دیکھتے، جب میں آپ کی تلاوت کان لگا کر سن رہا تھا۔ آپ کو تو آلِ داؤد کے سروں میں سے ایک سر عطا کیا گیا ہے۔‘‘ اس پر ابو موسیٰ اشعریؓ پھولے نہ سمائے۔ اور کہنے لگے ’’اگر مجھے پتا ہوتا کہ آپؐ میری تلاوت بہ غور سن رہے ہیں تو میں ایسی خوش الحانی سے تلاوت کرتا کہ مزہ آجاتا۔‘‘

رسولِ اکرمﷺ اپنے احساسات پوشیدہ نہیں رکھتے تھے، بل کہ جس کے لیے ہوتے اس کے سامنے اظہار کر دیتے تھے۔

عمرو بن تغلبؓ کا شمار عام صحابہ کرام میں ہوتا تھا۔ ان میں کوئی غیر معمولی صلاحیت نہیں تھی، البتہ ان کا دل ایمان کی حرارت سے معمور تھا۔ رسولِ کریمﷺ ان کے دل کی اس کیفیت سے واقف تھے۔ ایک روز آپؐ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے۔ اتنے میں کہیں سے غنیمت وغیرہ کا مال آیا جسے آپؐ صحابہ کرامؓ میں تقسیم کرنے لگے۔ اموال کی عادلانہ تقسیم کے سلسلے میں رسول اللہؐ کا طریق کار بڑا واضح اور صاف ستھرا تھا۔ آپؐ مال کی اندھا دھند تقسیم کے قائل نہیں تھے۔ چناں چہ آپؐ نے چند لوگوں کو عطیات دیے اور دوسروں کو نہ دیے۔ جن افراد کو عطیہ نہ دیا گیا وہ دل میں ناراض ہوئے کہ ہمیں کس بنا پر محروم رکھا گیا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ کے کانوں میں اس ناراضی کی بھنک پڑی تو آپؐ منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا۔

’’واللہ! میں ایک آدمی کو عطیہ دیتا ہوں اور دوسرے کو چھوڑ دیتا ہوں۔ جسے چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے اس سے بڑھ کر محبوب ہوتا ہے، جسے عطیہ دیتا ہوں۔ لیکن چند افراد کو صرف اس لیے دیتا ہوں کہ میں ان کے دلوں کی بے چینی بھانپ لیتا ہوں۔ اور چند لوگوں کو ان کے قلوب میں اللہ کی طرف سے ڈالی گئی خیر کے سپرد کر دیتا ہوں۔ انہیں میں سے ایک عمرو بن تغلبؓ ہیں۔‘‘

عمرو بن تغلبؓ نے رسول اللہﷺ کی زبان سے سر عام اپنی تعریف سنی تو بہت خوش ہوئے۔ وہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کرتے ’’واللہ! مجھے پسند نہیں کہ رسول اللہﷺ کے ان جملوں کے بدلے مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔‘‘

ایک اور موقع پر جناب ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا: ’’روزِ قیامت آپؐ کی شفاعت کا حق دار کون ہوگا؟‘‘

آپؐ نے ان کی ستائش کرتے ہوئے فرمایا: ’’مجھے علم کے متعلق تمہارا شوق دیکھتے ہوئے یقین تھا کہ مجھ سے اس بارے میں تم سے قبل کوئی نہیں پوچھے گا۔ روزِ قیامت میری شفاعت کا حق دار وہ ہوگا جو صدق دل سے یہ اقرار کرلے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

سلمان فارسیؓ خیارِ صحابہ میں سے تھے۔ وہ عرب نہیں تھے بلکہ فارس (ایران) کے رئیس زادے تھے۔ ان کے والد کو بیٹے سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ انہیں اپنی نظروں سے دور نہیں ہونے دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سلمانؓ کے دل میں ایمان جاگزیں کیا۔ انہوں نے اپنا وطن چھوڑا اور حق کی تلاش میں شام پہنچ گئے۔ وہاں انہیں ایک آدمی نے دھوکے سے غلام بنا کر کسی یہودی کے ہاتھ بیچ دیا۔ صعوبت بھرے طویل سفر کے بعد وہ مدینہ پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ کریمﷺ ان کی بہت قدر کیا کرتے تھے۔ ایک روز آپ صحابہ کرامؓ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ سورہ جمعہ نازل ہوئی۔

آپ سورہ جمعہ کی تلاوت کر رہے تھے اور صحابہ کرامؓ توجہ سے سن رہے تھے۔ جب اس آیت پر پہنچے ’’وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں خود انہی میں سے ایک رسول اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا اور ان کا تزکیہ کرتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، جب کہ وہ اس سے قبل کھلی گمراہی میں پڑے تھے۔ اور ان میں سے کچھ اوروں کو بھی، جو ابھی ان سے نہیں ملے اور وہ زبردست دانا ہے۔‘‘

صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے پوچھا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! وہ کون لوگ ہیں؟‘‘ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوبارہ سوال کیا، اے اللہ کے رسولؐ! وہ کون لوگ ہیں؟‘‘

اس پر نبیﷺ نے سلمان فارسیؓ کی طرف دیکھا اور ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔ ’’اگر ایمان اوج ثریا پر بھی ہوتا تو ان لوگوں میں کچھ افراد اسے ضرور جالیتے۔‘‘

جوہر تحریر یہ ہے کہ دوسروں کے لیے ہمیشہ اچھا گمان رکھیں، لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کے اچھے اور مثبت کاموں کی تعریف میں بخل سے کام نہ لیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ کامیابی کے راستے پر مزید آگے بڑھتے رہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عاتکہ بنت حافظ عبد الغفور

Leave a Reply