انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید

مسلمانوں کو آپس میں بھائیوں کی طرح رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت، نرمی، بھلائی، اخلاص اور خیر خواہی سے پیش آنا چاہیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’رحم کرو تم زمین والوں پر، رحم کرے گا تم پر آسمان والا۔‘‘ اور آپؐ نے فرمایا: ’’ساری مخلوق میں سب سے زیادہ، اللہ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اللہ کی عیال یعنی مخلوق کے ساتھ زیادہ بھلائی سے پیش آتا ہے۔

حضرت علیؓ شمائل نبویؐ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’آپؐ کے قریب بہت لوگ ہوتے تھے، لیکن ان میں سے آپ کی نظر میں زیادہ صاحب فضیلت وہی ہوتا، جو عام لوگوں کی زیادہ بھلائی چاہتا تھا، اور آپؐ کے نزدیک وہی شخص صاحب مرتبہ ہے، جو لوگوں کے دین و دنیا کے کام آتا اور ان کے ساتھ محبت و اخلاق سے پیش آتا ہے۔‘‘

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’تمام اہل ایمان بھائی بھائی ہیں۔‘‘ ایک بھائی کا اپنے بھائی سے جو تعلق ہوتا ہے، وہی تعلق ایک ایمان والے کا دوسرے ایمان والے سے ہوتا ہے۔ عالمی اخوتِ اسلامی کی یہ دعوت ہی نہیں، بلکہ ایمان کا یہ ثمر ہے۔ دینی اخوت کی فضیلت کے بارے میں سرکار دو عالمؐ نے ارشاد فرمایا! ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہے، جو میرے لیے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے رہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہے جو میری خاطر ایک دوسرے کو چاہتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہے، جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘

خالق کی عبادت کے ساتھ اس کی مخلوق سے حسن سلوک بے پناہ اجر کا باعث ہے۔ حضور نبی کریمؐ نماز، روزے اور دیگر عبادات کے بارے میں تاکید کے ساتھ صحابہ کرامؓ کو دوسرے انسانوں سے بھلائی اور خیر خواہی کی بھی بھرپور تلقین فرماتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے ایثار کی حق تعالیٰ شانہ نے قرآن حکیم میں تعریف فرمائی کہ ’’وہ لوگ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ ان پر فاقہ ہی ہو۔‘‘

کنز العمال میں ایک حدیث ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یہ عمل پسند ہے کہ کسی مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔‘‘ اسی طرح انسانی تعلقات میں باہمی خیر خواہی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سرکار دو عالمؐ نے معاشرت کا یہ زریں اصول عطا فرمایا کہ ایسے شخص کی محبت میں کوئی خوبی نہیں، جو تمہارے لیے بھی وہ کچھ نہ چاہیے جو اپنے لیے چاہتا ہے یا اس انداز میں نہ سوچے جس انداز میں وہ اپنی بہتری اور بھلائی سوچتا ہے۔ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ’’خدا کی قسم تم مومن نہیں ہوسکتے، جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی وہ کچھ نہ چاہو، جو اپنے لیے چاہتے ہو۔‘‘

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ہمارے لیے فلاح و نجات کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ تو اسے وہ رسوا کرے اور نہ ہی اس پر ظلم کرے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہے گا، اللہ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف دور کرے گا اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔‘‘

حضور اکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے: ’’آپس میں خصومت اور دشمنی سے گریز کرو، کیوں کہ اس سے خوبیاں فنا ہو جاتی اور فقط عیوب زندہ رہتے ہیں۔‘‘ اسی طرح پڑوسیوں کے ساتھ حسن معاملہ کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص خدا اور روز جزا پر اعتقاد رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسیوں کی عزت کرے اور اسے ایذا نہ دے۔ وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا ہمسایہ مامون نہیں، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ رسول اکرمؐ، صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو مصیبت و تکلیف میں مبتلا دیکھتے، تو سخت رنجیدہ ہوجاتے، دل میں رقت اور آنکھیں نم ہوجاتیں۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور ناحق پکڑے جانے والے قیدی کو رہا کراؤ۔‘‘

ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں ایک بچے کو دیکھا، جو دوسرے بچوں سے الگ تھلگ اور مغموم بیٹھا تھا۔ حضورؐ نے اس بچے سے پوچھا:

’’بیٹے کیا بات ہے، تم کیوں افسردہ ہو؟ بچے نے جواب دیا، میرا باپ مر چکا ہے، میری ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، میرا کوئی سرپرست نہیں۔‘‘ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ پسند نہیںکہ محمد تمہارے باپ ہوں، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمہاری ماں اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمہاری بہن ہو۔ بچہ خوش ہوگیا اور رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حاجی محمد حنیف طیب

Leave a Reply