لفافہ

حجاب کے نام

مسلم پرسنل لاء

نئے سال ۲۰۱۶ کا پہلا شمارہ ہمارے سامنے ہے۔ مفید مضامین او راہم معلومات کے ساتھ یہ شمارہ بھی قابل قدر ہے۔اس شمارے میں مسلم پرسنل لاء پر ایک تحریر شائع ہوئی ہے۔ مسلم پرسنل لاء ہندوستان کے مسلمانوں کا اہم مسئلہ ہے۔ اور گزشتہ تیس پینتیس سالوں سے اس پر سخت بحث جاری ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں اس پر بھی سیاست کر رہی ہیں۔

دوسری طرف مسلمانوں میں اس معاملے کو لے کر شعور گویا ہے ہی نہیں۔ مسلم پرسنل لاء پٍر جب بھی نشانہ سادھا جاتا ہے تو علماء اور باشعور لوگ اس پر احتجاج کرتے ہیں۔اس پر یہ کہا جاتا ہے کہ عام مسلمانوں کو مسلم پرسنل لاء سے کوئی دلچسپی نہیں یہ تو صرف ’’ملا مولویوں‘‘ کی سیاسی روٹی سینکنے کا اشو ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ جب بھی کسی مسلمان کو اس بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ اس کی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی دینی و سیاسی بصیرت کے فقدان کے سبب حقیقت میں وہ اپنے مسائل سے بھی آگاہ نہیں۔ اگر وہ آگاہ ہوجائیں تو مسائل کا حل یقینی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس مسئلہ پر خاطر خواہ بیداری پیدا کی جائے تاکہ وہ اس سے واقف ہوں اور درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کا شعور پیدا ہو۔

افضال الرحمن قدوائی

لکھنؤ

اہل خانہ کی تربیت

جنوری کے حجاب اسلامی میں اگرچہ تمام ہی مضامین اچھے لگے مگر رضوان احمد اصلاحی کا مضمون ’’ہم اور ہمارا خاندان‘‘ بہت اچھا لگا۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت دین اور دین داری کے اعتبار سے اپنے گھر اور گھر والوں کی تعلیم و تربیت سب سے زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دعوت دین اور اصلاح و تربیت سے وابستہ افراد اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ اہل خاندان کی اصلاح ہمارا دینی اور دنیاوی ہر طرح سے فریضہ ہے۔ کاش کہ لوگ اس پر دھیان دیں۔

دواؤں سے دوری اور عمارت کی کرسی اونچی رکھیں، بھی مفید اور اچھے لگے۔

نائلہ عثمان

بیہٹ روڈ

سہارن پور (یوپی)

مضامین اچھے لگے

دسمبر ۲۰۱۵کا حجاب اسلامی ہاتھوں میں ہے۔ افسانہ ’’ماں‘‘ بہت پسند آیا۔ ماں کی محبت بے مثال اور لافانی ہے۔ ماں بہ قید حیات نہ بھی ہو تو اس کی محبت و شفقت غائبانہ میں بھی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔

یہ افسانہ ایک تہذیب اور ایک دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں ماں باپ اولاد کی تعلیم و تربیت اور پرورش کے لیے یکسو ہوتے تھے۔ موجودہ دور کے والدین حقیقت میں جزوقتی یا پارٹ ٹائم پیرنٹس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل والدین اور بچوں کے درمیان پہلا جیسا جذباتی رشتہ نہیں رہ گیا ہے۔ حالاں کہ والدین اولاد کو ہر عیش فراہم کرنے کے لیے ہی جدوجہد کرتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اولاد کے لیے وقت اور جذبہ محبت بھی درکار ہے جو ان کی شخصیت کی تکمیل کے لیے لازمی ہے۔

سمیہ تحریم کا مضمون ’’بیٹی بولتی ہے‘‘ بہت اچھا لگا۔ اس کے بارے میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ مضمون بہت خوب ہے اور واقعی تمام باشعور بیٹیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ’’بچوں کی تعلیم میں ماں کا رول‘‘ بھی مفید ہے۔

بشریٰ تبسم

(بذریعہ ای میل)

حجاب کی مارکیٹنگ

حجات اسلامی میرا پسندیدہ رسالہ ہے۔ گزشتہ دو تین سالوں سے مطالعہ میں ہے اور اگر کسی ماہ بھی تاخیر ہوجائے تو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ حجاب اسلامی کے پھیلاؤ کے لیے کچھ خاص منصوبہ بنائیے۔ موجودہ زمانے میں مارکیٹنگ کی بڑی اہمیت ہے۔ کتنا بھی اچھا پروڈکٹ ہو، اگر مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ پیش نہ کیا جائے تو بے کار ہو جاتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ حجاب ہر جگہ پہنچے۔ اس کے لیے آپ سے درخواست ہے کہ ایک شاندار مارکیٹنگ منصوبہ تیار کیا جائے۔ اس منصوبے میں قارئین اور مشتہرین کو بھی شامل کیا جائے۔lll

کلیم احمد

بھوپال (بذریعہ ای میل)

[کلیم صاحب! آپ نے درست فرمایا۔ حجابِ اسلامی کافی مقبول ہو رہا ہے۔ ہم جلد ہی ایک اچھا منصوبہ قارئین، مشتہرین اور ایجنٹ حضرات کی خدمت میں پیش کریں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ اسے کامیاب بنانے میں مدد کریں۔ ایڈیٹر]

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے