سپریم کورٹ کی ایک تجویز

دہلی سے ملحق غازی آباد شہر کے ایک کریچ میں ایک پانچ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مذکورہ معاملہ شہر کی گارڈنیا سوسائٹی میں چل رہے کریچ کا ہے جہاں کام کاجی ماں باپ اپنے بچوں کو سونپ کر اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے ہیں۔ پانچ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص ایک ۶۵ سالہ بوڑھا ہے جو کریچ چلانے والی خاتون کا رشتہ دار ہے اور وہ یہ حرکت گزشتہ تین ماہ سے انجام دے رہا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ متاثرہ بچی کی ماں نوئیڈا میں اعلیٰ افسر ہے اور اس کا شوہر ملک سے باہر نوکری کرتا ہے۔

مذکورہ حادثہ عین اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حکومت سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سزا کو مزید سخت بنانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ۱۱؍ جنوری کو خواتین وکیلوں کی ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کو اس طرح کی ہدایت جاری کی۔ خواتین وکیلوں کی تنظیم نے سپریم کورٹ سے معصوم بچیوں کے ساتھ روز بہ روز بڑھتی جنسی زیادتیوں کے تناظر میں عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو جنسی اعتبار سے ناکارہ بنا دیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں اس طرح کے جرم کا ارتکاب نہ کرسکیں۔ عرضی گزاروں نے عدالت کے سامنے چند ممالک کی مثال بھی پیش کی تھی جہاں اس قسم کا قانون نافذ ہے۔ جنوبی کوریا، روس، پولینڈ، امریکہ، نیوزی لینڈ وغیرہ اس فہرست میں شامل ہیں۔ حالاں کہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں اس قسم کے قانون کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم خصوصاً جنسی جرائم کا تناسب کافی اوپر ہے۔ ملک کی سپریم کورٹ نے جہاں پارلیمنٹ سے اس جرم کے لیے سخت سزا کا قانون بنانے کو کہا ہے وہیں یہ بات بھی کہی ہے کہ لفظ ’’بچہ‘‘ کی واضح تعریف بھی متعین کی جائے۔

خواتین وکیلوں کے گروپ کو اس بات نے حوصلہ دیا تھا کہ گزشتہ اکتوبر میں مدراس ہائی کورٹ نے مجرمین کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کی خاطر معصوم بچے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہونے والوں کو جنسی طور پر ناکارہ بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اسی طرح کی ایک تجویز دہلی کی سیشن کورٹ کی جج کامنی نے ۲۰۱۱ میں دی تھی اور اس پر ملک گیر بحث چلانے کو کہا تھا۔

غازی آباد میں ہونے والا واقعہ نمایندہ ہے اور اس قسم کے واقعات پر عدالت کا تاثر اور اسے تشویش کی نگاہ سے دیکھنا معاملے کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہیـ اور ہمارے سامنے کئی حقائق کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اب یہ بات ثبوت کی محتاج نہیں رہی کہ ہمارا سماج اخلاقی اعتبار سے زبردست تنزل کا شکار ہے۔ سماج میں اب سے پہلے جو قدریں زندگی کا بنیادی حصہ تھیں، اب اسی سماج میں وہ پامال ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سماج میں مختلف النوع جرائم کی بھرمار ہوتی جا رہی ہے، جنسی جرائم سے لے کر سائبر جرائم تک اپنی نئی نئی شکلوں میں موجود ہوتے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی تازہ تجویز ایک طرح سے اس قسم کے جرائم کے سامنے بند باندھنے کی ایک کوشش ہے۔

جنسی جرائم کے تیز رفتار اضافے کے تناظر میں اب یہ تشویش ملک کی سپریم کورٹ تک پہنچ گئی ہے مگر سپریم کورٹ نے کوئی واضح ہدایت نامہ جاری کرنے کے بجائے حکومت کو محض سخت قانون بنانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ اپنی جگہ درست ہے مگر قابل غور بات یہ ہے کہ قانون بنانے سے زیادہ اہم چیز قانون کا نفاذ کرنا اور قانون نافذ کرنے والی مشینری کا فعال اور درست سمت میں کام کرنا ہے۔ ہمارے سماج کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں قانون کے ساتھ مذاق عام بات ہے۔ مثال کے طور پر خواتین کے تحفظ کے لیے گزشتہ سالوں میں کئی قوانین بنائے گئے۔ ان میں خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے ڈومسٹک وائلنس ایکٹ بنا، جو بعد میں خواتین کے ہاتھوں مردوں کے استحصال کی ایک نئی شکل بن گیا۔ اسی طرح جنسی استحصال کے خلاف جو قانون بنا وہ مردوں کے خلاف خواتین کے ہاتھوں میں ہتھیار ہوگیا۔ سیکڑوں لوگوں کو محض اس وجہ سے جیل جانا پڑا کہ خواتین ان کااستحصال کرنا چاہتی تھیں اور اب کیفیت یہ ہے کہ یہ قانون اپنے عملی نفاذ میں بے اثر ہوکر رہ گیا۔

جو بنیادی بات ہے وہ یہ ہے قانون بنانے سے زیادہ قانون کا صحیح نفاذ ہے۔ اگر حقیقت میں قانون کا درست نفاذ ہونے لگے تو بہت سے مسائل خود بہ خود حل ہوجائیں۔

جنسی جرائم کے فروغ میں سب سے اہم کردار موجودہ دور کے ذرائع ابلاغ اور اس کلچر کا ہے جسے ہم مغرب سے درآمد کر رہے ہیں اور جسے اپنی زندگی میں سمونا اپنے لیے قابل فخر تصور کرتے ہیں، اس کلچر کی پشت پر سپورٹ کے لیے پوری دنیا ہے۔ قانون بنانے والوں سے لے کر نافذ کرنے والوں تک کے ذہن و دماغ میں اس کی برتری بس گئی ہے۔ اور یہ کلچر حقیقت میں گم کردۂ راہ ہے۔ یہ کلچر خود اپنے مقام پر اندھیروں پر اندھیرے انڈیلتا رہا ہے اور اب کیفیت یہ ہے کہ معاشرتی و سماجی اعتبار سے وہاں اندھیروں کا عالم یہ ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ مغربی دنیا خود اس سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں جرائم کو قانون کی بنیاد پر روکنا چاہتی ہیں، حالاں کہ قانون طاقت ور ہونے کے باوجود نہایت کمزور چیز ہے۔ ایک قانون بنتا ہے تو مجرمین اور ان کے پشت پناہ اس سے نکلنے کے دس راستے تیار کرلیتے ہیں۔ قانون کچی مٹی کے مانند ہے اور اس میدان کے لوگ اس سے جو چاہیں ڈھال لیتے ہیں۔ پھر قانون کا ایک لمبا اور پرپیچ راستہ اکثر اوقات انصاف کے راستے یا تو بند کر دیتا ہے یا اس عمل میں میں ا س قدر تاخیر کا سبب بنتا ہے کہ انصاف بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔

قانون اور اخلاق کو اگر ایک ساتھ نہ رکھا جائے تو قانون طاقت ور اور موثر نہیں رہ جاتا۔ اس کے لیے عدالتی نظام اور عوام دونوں کا اخلاقی نظام سے مضبوط تعلق درکار ہے۔ اب بڑا سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اخلاقی نظام کہاں سے آئے۔ یہ نظام ہمیں مذہب فراہم کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔ انسان کو اس زندگی میں کیسے چلنا چاہیے اور کیا کرنا اور کیا نہ کرنا چاہیے۔ اگر نظام زندگی کو اس سے نہ جوڑا جائے تو پورا نظام گم کردۂ راہ ہو جاتا ہے اور قانون بھی وہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، جس کے لیے بنا ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں انسان اور پورا سماج انسانیت کھوکر حیوان بن جاتا ہے جیسا کہ اس قسم کے واقعات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔قرآن اس کیفیت کو ظلمت بعضھا فوق بعض (اندھیروں کے اوپر اندھیرے) قرار دیتا ہے اور اس قسم کے انسانوں کو ’’حیوان بلکہ اس سے بھی زیادہ گمراہ‘‘ کہتا ہے۔

گمرہی کا علاج ضروری ہے اور یہ اسی صورت میں دور ہوسکتی ہے جب لوگ مذہب یعنی خدائی طریقۂ زندگی کی طرف پلٹیں۔ کیوں کہ حقیقی روشنی وہی ہے اور روشنی دینے والا بھی وہی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply