مضمون نگاری کے لیے چند باتیں

اکثر نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ بھی مشہور مصنّفین کی طرح خوب صورت تحریریں لکھیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ شروعات کیسے کی جائے اور مضمون نگاری میں کن باتوں کا خیال رکھا جائے اس سلسلہ میں چند باتیں پیش کی جاتی ہیں جو نئے لکھنے والوں کے لیے یقینا مفید ہوں گی۔

بڑا اور مقبول لکھاری بننے کے لیے بہت وسیع ذخیرۂ الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایک بڑا لکھاری وہ ہے جس کی شخصیت میں اثر انگیزی ہو۔ ہر شخصیت منفرد ہوتی ہے جس کی جھلک اس کی تحریروں میں نظر آتی ہے۔ اگر آپ اپنی تحریروں میں کامیابی کے ساتھ اپنی خالص شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ لوگ آپ کی تحریروں کو محبت اور شوق سے پڑھیں گے۔

شخصیت کا ادراک کیجیے

لکھاریوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لکھتے ہوئے اپنی شخصیت کا ادراک نہیں کر پاتے۔ وہ لگے بندھے اصولوں پر کار بند رہتے ہیں اور ان کی تحریروں میں کسی اور مقبول لکھاری کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ درست رویہ نہیں ہے۔ اپنی تحریروں میں ایسی شخصیت کا تاثر نہیں دینا چاہیے جو حقیقت میں آپ ہیں نہیں۔ آپ کو اپنی شخصیت کو دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تحریروں میں مجسم انداز میں پیش بھی کرنا ہوگا۔ یہ ایک دقت بھرا اور محنت طلب کام ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں ہے۔

موضوعات پر ارتکاز رکھیے

لکھنے کے میدان میں مستقل جگہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی دلچسپی کا میدان متعین کیجیے اور پھر اس دائرے میں تجربات شروع کردیجیے۔ یہ میدان بہت وسیع بھی ہوسکتا ہے اور بہت محدود بھی، مثلاً: آپ دینی موضوعات پر لکھ سکتے ہیں۔ پھر ان میں بھی مزید انتخاب ممکن ہے۔ مثلاً قرآنی موضوعات، تاریخ، شخصیات وغیرہ اسی طرح آپ تاریخ و ثقافت یا تاریخی مقامات پر فیچر لکھنے سے بھی شروعات کرسکتے ہیں۔

اپنے قارئین کو جانئے

آپ کے پڑھنے والوں میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو آپ کی شخصیت مین نکھار لانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہیں جاننے کی کوشش کیجیے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کی تحریروں کے صحیح معنوں میں صارفین ہوتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی تحریروں میں آپ کے قارئین کی دلچسپیوں کی جھلک نظر آئے۔ آپ سوشل میڈیا، ای میلز یا پھر ذاتی رابطوں کے ذریعے اپنے قارئین کو اور ان کے میلانات کو جان سکتے ہیں۔

خود دکھائی دیں

یہ درست ہے کہ تحریروں میں محسوس ہونے والی شخصیت لکھاری کی اصلی شخصیت سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔ بہتر بات یہ ہے کہ اگر آپ اپنی ذاتی زندگی میں ایک سنجیدہ انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں تو آپ کی تحریروں میں یہی جھلک نظر آنی چاہیے اور اگر آپ کا تعارف ایک شگفتہ مزاج اور پرمزاح شخص کا ہے تو یہ شگفتگی آپ کی تحریروں کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ یہ آپ کی شخصیت ہے، اسے تسلیم کرتے ہوئے لکھئے۔

گفتگو کے انداز میں لکھیے

ایسے لکھئے جیسے اپ کسی اچھے خیال پر گفتگو کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اس دوران آپ فضول اور حشو تفاصیل سے گریز کریں گے اور اسی لمحے آپ کی شخصیت کا تاثر بھی آپ کی گفتگو میں نمایاں ہوگا۔ لکھتے ہوئے یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ اس آئیڈیے پر بات کرتے ہوئے آپ کے جذبات کیا ہیں۔ آپ پرجوش ہیں یا خوف کا شکار یا پھر مشتعل ہیں، جو بھی آپ کی کیفیت ہے اسے مختلف طریقوں سے اپنی تحریر میں برتنے کی کوشش کیجیے۔ اس طرح آپ کی تحریر اپنا قدرتی اثر برقرار رکھے گی۔

منظم رہیے

اپنی تحریروں میں خود کو منظم رکھیے۔ لوگ بکھری ہوئی اور اناپ شناپ معلومات پڑھنے میں دلچسپی نہیںلیتے۔ خود کو منظم بنانے کی کوشش کریں۔ تحریر سے قبل ایک خاکہ یا ’آؤٹ لائن‘ بنائیں اور پھر اس کے مطابق معلومات کو ترتیب دیتے جائیں۔ تحریر کے دوران ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی جانب منتقلی کا عمل انتہائی منظم طریقے سے ہونا چاہیے تاکہ پڑھنے والے کو کوئی دشواری نہ ہو۔

اپنا اسلوب بنائیے

ایک مقبول تحریر کا اپنا آہنگ ہوتا ہے۔ آپ کو اپنی تحریر کے لیے کوئی ایسی تکنیک تلاش کرنی ہوگی جو آپ کی شناخت بن جائے اور پھر آپ آئندہ اسی کے مطابق اپنا مواد مرتب کریں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے مضمون کے آخر میں سوال اٹھاتے ہیں۔ اس طرح آپ کا ایک مستقل اسلوب بنے گا اور قارئین آپ سے اسی اسلوب میں لکھنے کی توقع رکھیں گے۔ ایک منفرد لکھاری کی بنیادی خوبی اس کا صاحب اسلوب ہونا ہے۔

لکھنے سے لطف لیجیے

اگر آپ لکھتے ہوئے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ دل سے لکھ رہے ہیں اور یہ تحریر دلوں پر دستک دے گی۔ ایک انگریزی بلاگر کرسٹل پینے کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی ذاتی زندگی کے تجربات اور احساسات کے بارے میں لکھتی ہے تو اسے ایک عجیب قسم کی خوشی اور لطف محسوس ہوتا ہے۔ اس کے بقول ایسی تحریروں پر قارئین کا رد عمل بھی خوب ملتا ہے اور لوگ اپنے ذاتی تجربات بھی بتاتے ہیں، جن میں سیکھنے کا کافی سامان موجود ہوتا ہے۔

قدرتی انداز اپنائیے

اگر آپ کی تحریر میں ’آمد‘ کی جگہ ’آورد‘ کا عنصر زیادہ ہے تو لوگ اسے محسوس کرلیں گے۔ کوشش کریں کہ تحریروں میں آپ کی شخصیت معمول کے مطابق نظر آئے۔ اچھے لکھاریوں کی تحریریں پڑھ کر لگتا ہے کہ آپ انہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی شخصیت کو اسی خوب صورتی اور مہارت سے برتتے ہیں۔

اسلوب سے جڑے رہیے

یہ ایک اور اہم ترکیب ہے۔ ایک مرتبہ اپنا اسلوب بنالینے کے لیے بعد اسے برقرار رکھیے۔ صاحب اسلوب لکھاریوں کے قارئین ان سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ معلومات اور تجربات کو اپنے مخصوص پیرائے میں بیان کریں گے۔ بار بار اپنے تحریری انداز میں تبدیلیاں کرنے سے آپ کی تحریر اپنی مقبولیت کھو سکتی ہے۔ اس حوالے سے ہر لکھنے والے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ کوئی مختصر مضامین کی صورت میں اپنی بات کا ابلاغ کرتا ہے تو کوئی مکالموں اور کرداروں کا سہارا لے کر بات کرتا ہے، کچھ لکھاری حقیقی زندگی کے تجربات اور واقعات کو بنیاد بنا کر کسی ایک مسئلے یا پہلو پر رائے دیتے ہیں۔مختصر یہ کہ اپنا ایک اسلوب بنانا اور پھر اس کے ساتھ جڑے رہنا کسی بھی لکھاری کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

مطالعہ اور معلومات

تقریر اور تحریر میں فرق ہوتا ہے، انداز میں بھی اور اسلوب میں بھی۔ تقریر محض الفاظ کے سہارے آگے بڑھائی جاسکتی ہے مگر تحریر معلومات اور مستند معلومات کی طالب ہوتی ہے۔ تحریر کا تقاضا ہے کہ وہ موضوع کے تمام پہلوؤں کو موثر اور مربوط انداز میں بیان کرے اور قاری پڑھنے کے بعد محسوس کرے کہ مضمون نے اس کے علم میں بھی اضافہ کیا ہے اور اس کے فکر و خیال کو بھی روشنی دی ہے۔

جو لوگ محدود معلومات یا محض سنی سنائی معلومات کی بنیاد پر مضمون نگاری کرتے ہیں ان کی تحریریں قاری پر واضح کردیتی ہیں کہ اس میں کیا کچھ ہے۔ اس لیے اس بات کا خیال رہے کہ لکھنے سے پہلے موضوع پر وافر مواد جمع کرلیا جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خالد قیصر

Leave a Reply