داعش

کیا مغربی قومیں داعش کا واقعی قلع قمع کرنا چاہتی ہیں؟

کیا وجہ ہے کہ پیرس کے ہولناک حملوں سے پہلے برطانیہ یا اس کے اتحادیوں نے شام میں داعش کے خلاف بمباری کا بیڑہ نہیں اٹھایا۔ سب پر یہ آشکارا ہے کہ ہے جب یورپ میں داعش کے حملے ہوئے تو ایسا لگا کہ برطانیہ اور اس کے یورپی اتحادی اچانک ہڑبڑا اٹھے ہیں اور انہوں نے آناً فاناً داعش کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بمباری کے حق میں تحریک کی منظوری کے چند گھنٹوں کے بعد رقعہ کے قریب تیل کی تنصیبات پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جب بہت سے لوگوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ برطانوی بمبار طیاروں نے داعش کے مرکز کو نشانہ کیوں نہیں بنایا تو یہ کہا گیا کہ ان علاقوں میں جو داعش کے کنٹرول میں ہیں تیل کی تنصیبات پر بمباری اس لیے کی جا رہی ہے کہ یہاں سے تیل کی اسمگلنگ اور چور بازاری سے داعش کو دس لاکھ ڈالر یومیہ کی آمدنی ہو رہی ہے۔ یہ اقدام بھی بہت سے لوگوں کے لیے عجیب و غریب ہے کیوں کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی بلکہ ایک عرصہ سے سب کو اس کا علم تھا کہ پچھلے ایک سال سے رقعہ کی تیل کی تنصیبات سے تیل کی اسمگلنگ کا سلسلہ جاری تھا اور داعش کا تیل عالمی بازار سے بہت سستے داموں، ترکی، کردستان اور آس پاس کے علاقوں میں، جن میں اسرائیل بھی نمایاں تھا، فروخت ہو رہا تھا۔ حتی کہ شام میں اسد حکومت بھی یہ تیل خرید رہی تھی اور داعش کی گیس سے بھی فیض یاب ہو رہی تھی۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پچھلے ایک سال میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے رقعہ سے تیل کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کارروائی کیوں نہیں کی اور ان بڑے بین الاقوامی مغربی بینکوں کا محاسبہ کیوں نہیں کیا جو تیل کی اس اسمگلنگ کی گنگا میں کھلم کھلا ہاتھ دھو رہے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ عراق میں داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ ایک عرصہ سے بمباری کر رہے ہیں لیکن اس بمباری کا مقصد داعش کا قلع قمع کرنا نظر نہیں آتا بلکہ صرف تیل سے مالا مال کردستان کو جس پر امریکا کا خاص دست شفقت ہے، داعش کی پیش قدمی سے روکنا ہے۔ کردستان سے ملحق موصل پر داعش کا قبضہ ختم کرانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ایک عرصہ سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ داعش کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں اور ان کا اصل مقصد کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ان کی طوفانی پیش رفت کے پیچھے شام اور خاص طور پر عراق میں سنیوں کی بغاوت کار فرما ہے، جو صدام حسین کے زوال کے بعد سے اقتدار سے محرومی کا شکار رہے ہیں۔ ان کی کامیابی کے پیچھے عراق کے سنی فوجیوں اور افسروں کی امداد کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ جون سے جب سے داعش کی سپاہ نے آناً فاناً شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کیا کہ سنی اکثریت والے صوبے موصل اور الانبار پر قبضہ کرنے میں داعش کی سپاہ کو حیرت انگیز حد تک کامیابی رہی ہے۔ بہت سے دفاعی ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ داعش کی سپاہ کی کامیابی کے پیچھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خفیہ ایجنسیوں کی امداد کار فرما ہے، جن کی مدد کے بغیر یہ سپاہ شام کی سرحد پار کر کے عراق میں داخل نہیں ہوسکتی تھیں۔ خاص طور پر امریکہ کی ہمہ گیر فضائی سراغ رسانی اور زمینی انٹیلی جنس کے جال کے ہوتے ہوئے۔

دفاعی تجزیہ کار اس بات کو بھی اہمیت دیتے ہیں کہ داعش نے شام میں القاعدہ سے منسلک تنظیم جبہۃ النصر کی کوکھ سے جنم لیا ہے جس کو امریکیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس بات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے کہ داعش کے قائد ابراہیم البدری عرف خلیفہ ابوبکر البغدادی اور ان کے قریبی ساتھی دو سال تک عراق میں بقہ کے نظر بندی کیمپ میں امریکیوں کی قید میں رہے ہیں اور انہیں ۲۰۰۶ میں جب رہا کیا گیا تو اس وقت امریکہ کی بش انتظامیہ نے ایک نئے مشرق وسطیٰ کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کا بنیادی نکتہ مشرقی وسطی پر بھرپور تسلط کے لیے مسلکوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکانا تھا۔ ۲۰۰۷ میں ممتاز امریکی صحافی سیمور ہرش نے انکشاف کیا تھا کہ ایک نئے مشرق وسطی کے منصوبہ کا مقصد ایران سے لے کر لبنان تک اس پورے علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کے دشمنوں، شام، ایران اور حزب اللہ کے ابھرتے ہوئے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کے لیے سنی ممالک کو استعمال کرنا تھا۔

گو بعض حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے تربیت یافتہ ہیں لیکن کوئی ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی۔ البتہ ستمبر ۲۰۱۴ میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کانگریس کی ایک سماعت کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکہ کے بڑے عرب اتحادیوں سے واقف ہیں جو ISIS کو مالی امداد دے رہے ہیں۔سینیٹر لیڈی گراہم نے اس کا یہ جواز پیش کیا کہ یہ مالی امداد شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے لیے ان تنظیموں کو دی جا رہی ہے جو شامی افواج سے نبرد آزما ہیں۔ اس دوران یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ شام میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقہ جولان کی پہاڑیوں کے آس پاس القاعدہ سے منسلک جبہۃ النصرہ اور اس کے اتحادیوں کو اسرائیلی فوج مدد دے رہی ہے اور ان تنظیموں کے زخمی فوجیوں کو اسرائیل کے اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ۲۰۱۴ میں اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے کھلم کھلا ان زخمیوں کی عیادت کی تھی۔

گزشتہ سال روسی صدر پیوٹن کے ایک اعلیٰ معتمد الگزانڈر پر خانوف نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد داعش کی سپاہ کو تربیت دے رہی ہے۔ پرخانوف کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان ہے کہ موساد نے اپنے انٹیلی جنس تجربات سے داعش کی قیادت کو فیض پہنچایا ہے اور ممکن ہے اسرائیل کے فوجی مشیر داعش کی سپاہ کو مدد دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کی پروردہ ہے اور امریکہ داعش کو اپنے اثر و رسوخ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور یورپی ملکوں کو یہ باور کرا رہا ہے کہ اگر امریکیوں نے فوجی مداخلت نہ کی تو داعش یورپ کے فوجی مفادات کے لیے خطرہ ثابت ہوگی۔ اب تک یہ قیاس آرائیاں واقعاتی شہادتوں پر مبنی تھیں لیکن پچھلے دنوں ایک طویل تحقیق کے بعد پروفیسر مائیکل چوسو ووسکی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ داعش دراصل امریکی انٹیلی جینس نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی M16 اور اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد کی مدد سے قائم کی ہے اور اس کی مالی اعانت چند عرب ممالک، ترکی اور اسرائیل کر رہے ہیں۔

بیش تر مبصرین کی رائے ہے کہ داعش کی آڑ میں امریکا اور اس کے اتحادی مشرق وسطی میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس علاقے پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عراق کی جنگ کے بعد امریکہ عراق کو تین علاقوں میں تقسیم کرنے کا خواہاں تھا۔ ایک خود مختار کردستان، جس کے تیل پر ہمیشہ سے امریکہ کی نظریں گڑی ہوئی ہیں۔ دوسری شیعوں کی الگ مملک اور موصل اور انبار میں سنی اکثریت والے علاقوں پر جدا مملکت۔ عراق میں داعش کے ذریعے امریکہ نے عراق کو تین جدا علاقوں میں تقسیم کا مقصد عملی طور پر حاصل کرلیا ہے۔ یہ بات خاصی اہم ہے کہ سنی اکثریت والے صوبے موصل پر داعش کا قبضہ ختم کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ جوا زیہ پیش کیا جاتا ہے کہ موصل کی سنی اکثریت عراقی حکومت کے مقابلہ میں جس میں انہیں کوئی نمائندگی حاصل نہیں داعش کی حمایت کرتی ہے۔

جنگی تاریخ میں یہ حیرت انگیز بات ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے عراق میں پچھلے ایک سال کے دوران داعش کے ٹھکانوں پر ۷۵ ہزار بمبار حملے کیے ہیں لیکن داعش کی پیش قدمی روکنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی بنیاد پر بہت سے تجزیہ کاروں کی یہ رائے ہے کہ شام میں بھی داعش کے خلاف برطانیہ کی بمباری اس وقت تک بے سود ثابت ہوگی جب تک زمینی فوج کی کاروائی نہ کی جائے۔ عراق کی حکومت اپنی سرزمین پر دوبارہ امریکی فوجوں کی آمد کے سخت خلاف ہے اور شام میں بھی زمینی فوجی کاروائی نہایت خطرناک ثابت ہوگی۔ خاص طور پر حال میں روسی فوجوں کی موجودگی کی وجہ سے۔ شام میں برطانیہ کی بمباری کے فوراً بعد وزیراعظم کیمرون نے یہ اعتراف کیا ہے کہ بمباری سے فی الفور داعش کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ممکن ہے کہ بمباری کا سلسلہ تین سال تک جاری رہے۔

برطانیہ میں بعض مبصرین کی رائے ہے کہ امریکہ برطانیہ اور اس کے اتحادی اپنے اپنے نو آبادیاتی مقاصد اور مفادات کے تحفظ کے لیے داعش کا وجود برقرار رکھنے کے خواہاں ہوں گے۔ مغرب میں بعض عناصر اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے داعش کا وجود برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔ اس وقت شام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی آنکھوں میں اس بنا پر کھٹکتا ہے کہ یہ ایران سے لے کر لبنان تک ایران کے زیر اثر علاقوں کی زنجیر میں اہم کڑی ہے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور اس کے بعض عرب اتحادی اپنے اپنے مقاصد کے تحت اس کڑی کو توڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پچھلے چار سال کی خانہ جنگی کے باوجود یہ کڑی نہیں ٹوٹ سکی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اب شام کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ سنی اور شیعہ علاقوں میں۔ یوں اگر یہ کڑی ٹوٹتی نہیں تو کمزور ضرور ہوگی۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ شام میں برطانیہ کی بمباری سے داعش کا قلع قمع نہیں ہوسکے گا۔ یہ بمباری محض شام کی مزید تباہی و بربادی ثابت ہوگی اور اس کا آخر کار حشر لیبیا ایسا ہوگا جہاں بربادی کے بعد اب نراجیت کا راج ہے۔lll

(روز نامہ جسارت سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
آصف جیلانی

Leave a Reply