عادات۔۔۔ جو خود اعتمادی کی قاتل ہیں

کیا آپ میں خود کو ہرانے یا اپنے پر شبہ کرنے کی عادت ہے؟ کیا آپ اپنے اعتماد کو بحال رکھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ خود سے زیادہ دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں؟ یہ اور اس قسم کی دیگر باتیں، جن کا تعلق آپ کی اپنی ذات کے ساتھ ہو، کے بارے میں جاننا بے حد ضروری ہے۔ آپ اپنا بغور جائزہ لیں اور اس بات کو نوٹ کریں کہ آپ کے کس قسم کے رویے سے لوگ خوشی محسوس کرتے ہیں اور آپ کی کون سی عادات دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں؟ بسا اوقات انسان جانتے بوجھتے بھی غلط عادات کو اپنا لیتا ہے یا پھر جان بوجھ کر دوسروں کو تکلیف یا پریشانی دے کر خوشی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یاد رکھیں! ایک مثبت اور تعمیری شخصیت کا مالک انسان ایسی تمام عادات سے شعوری اور لاشعوری طور پر دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ بری عادات انسان کی پوری شخصیت کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہیں اور سماجی سطح پر انہیں نظر انداز کیا جانے لگتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے افراد کی قربت کو کوئی بھی پسند نہیں کرے گا۔ لوگ ہمیشہ ایسے افراد کو پسند کرتے ہیں جو منفی خصوصیات سے دور ہوں یا کم از کم دوسروں کے لیے ان کی منفی عادات تکلیف کا باعث نہ بنتی ہوں۔ پیارے رسولؐ کا ارشاد ہے کہ ’’مومن وہ ہے جس کی برائیوں سے دوسرا مومن محفوظ ہو۔‘‘

ایک بہترین انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی شخصیت میں موجود بری عادات کے بارے میں مکمل جانتا ہے اور اس بات کی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اس کے اندر سے منفی رویوں کا خاتمہ ہوجائے۔ کوشش بہترین چیز ہے کہ اس کا انجام آپ کی منشاء کے مطابق ہوسکتا ہے۔ اگر شعوری طور پر آپ اپنی ان بری عادات کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کے دماغ میں نئے مثبت افکار کا آغاز ہونے لگتا ہے، کیوںکہ دماغ میں اتنی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ اگر آپ مسلسل تعمیری اور مثبت باتوں کے بارے میں سوچنا شروع کردیں گے تو دماغ کے نیورونز کا راستہ بدل جاتا ہے۔ انسانی دماغ اچھی عادات اور مثبت رویے کے اپنانے کی کوشش کو فوراً قبول کرنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ عادات یا رویے آپ کی شخصیت کا ہی ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ اپنے اندر موجود غلط عادات کو جاننے کے لیے آپ کو خود اپنا جائزہ لینا ہوگا۔ آپ اپنے منفی رویوں یا عادات کا سامنا کریں، انہیں بدلنے کی کوشش کریں، اس طرح کی کوشش سے ذہن تعمیری انداز میں سوچنے لگے گا، جو یقینا آپ کے لیے کامیابی، خوشی اور خود اعتمادی لاسکتا ہے۔ ایسی چند عام بری عادات جس کا شکار ہر دو میں سے ایک شخص ضرور ہوتا وہ یہ ہیں:

٭ احساس جرم ایک ایسی عادت ہے کہ جس کا اندازہ بچپن سے ہی ہونے لگتا ہے۔ احساس جرم اس وقت تک تو ٹھیک ہے جب آپ جان بوجھ کر کسی کو تکلیف پہنچائیں یا پھر کسی کی اقدار یا روایات کا مذاق اڑائیں۔ ان تمام باتوں کو انجام دینے کے بعد احساس جرم کا شکار ہو جانا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ آپ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور اسے آئندہ انجام نہیں دینا چاہتے، تو یہ آپ کے مثبت رویے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ مگر کسی بھی معاملے میں ایک حد سے زیادہ احساسِ جرم بھی آپ کے اپنے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کسی بھی حوالے سے احساس جرم کو اپنے اوپر طاری کرلینے یا دن رات اس کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ کی زندگی سے خوشی اور اطمینان غارت ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ اپنی کسی کامیابی یا خوشی سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔ لہٰذا احساس جرم ایک حد تک رہے تو ٹھیک ورنہ یہ آپ کی شخصیت کے اعتماد کو مار سکتا ہے۔

٭ ہم میں سے بہت سے ایسے افراد ہیں، جو اپنے آپ کو ایک ناکام انسان کے طور پر دیکھتے ہیں یا پھر اپنے ذہن میں اس سوچ کو پختہ کرلیتے ہیں کہ وہ ایک ناکام انسان ہے اور ہمیشہ ناکام ہی رہے گا۔ یہ سوچ غلط ہے کیوں کہ اگر آپ اپنی زندگی کو ہمیشہ ناکامی کے طور پر ہی دیکھیں گے تو آپ اپنے کسی کام پر وہ توجہ نہیں دے پائیں گے، جس کا وہ متقاضی ہے اور نتیجتاً آپ ناکام ہوجاتے ہیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے آپ کی کامیابیوں کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو اپنے آپ کو ناکام سمجھتا ہو اور اسی وجہ سے ہر کام میں لاپرواہی سے کام لیتا ہو تو یہ منفی عادت اسے زندگی میں کبھی آگے بڑھنے نہیں دے گی۔ اس لیے اپنے ذہن سے ہر قسم کی ناکامی کا خوف نکال کر اپنے کاموں کو سر انجام دیں۔

٭ کاملیت پسندی (Perfectionism)کا حد سے زیادہ شکار ہونا جسم کے ساتھ دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ ایک پرفیکشنسٹ (کاملیٹ پسند) کے اندر ضرورت سے زیادہ اعتماد کا احساس بڑھنے لگتا ہے، حالاں کہ ایک پرفیکشنسٹ کو خود کو تب ہی پسند کرنا چاہیے جب وہ اپنا کوئی بھی کام ٹھیک سے سر انجام دے۔ اگر آپ واقعی ایک پرفیکشنسٹ ہیں تو دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو بڑا سمجھ کر ری ایکٹ کرنا چھوڑ دیں۔

٭ پچھتاوے کا احساس اگر حد سے زیادہ ہو تو شخصیت میں بگاڑ پیدا ہونے لگتا ہے، لیکن بسا اوقات پچھتاوے کا احساس صحیح یا غلط کا راستہ بھی دکھا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی قسم کی بری عادت کا شکار ہیں اور اس کے باوجود ندامت یا پچھتاوے کا احساس آپ کو پریشان کیے رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس بری عادت کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ خود احتسابی، غلطیوں سے سیکھنا، خوبیوں اور اچھائیوں کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کرنا اور دوسروں کے عیبوں کے ذکر کے بجائے اپنی زندگی کو ان عیوب سے پاک کرلینا شخصیت کے ارتقاء کے لازمی امور ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حکیم لقمان سے کسی نے پوچھا: آپ نے ادب و سلیقہ کس سے سیکھا، انہوں نے جواب دیا کہ بے ادبوں سے! سوال کیا گیا وہ کیسے؟ انہوں نے جواب دیا جو برائی ان میں دیکھی خود کو اس سے دور کرلیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نرگس ارشد رضا

Leave a Reply