دواؤں سے دوری ازحد ضروری؟

اگر آپ مجھے روز مرہ کی اشیا خریدتے ہوئے دیکھیں گے تو آپ کو کافی عجیب لگے گا۔ میں ہر چیز خریدنے سے پہلے اس کے اجزا کا جائزہ لیتی ہوں اور اس کے بعد ہی اسے کریدنے یا واپس رکھ دینے کا فیصلہ کرتی ہوں، کیوں کہ میں ایک ماہر غذائیت ہوں، اس لیے یہ میری عادت ہے۔ لیکن ایک طویل عرصے سے صرف ایک ہی چیز ایسی ہے، جس کے اجزا کا میں نے کبھی جائزہ نہیں لیا، اور وہ ہیں دوائیں۔ چاہے سردی لگ جائے، پیٹ درد ہو یا سر درد، میں نے کبھی بھی دوا کھانے سے پہلے اس کا لیبل پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیوں کہ مجھے لگتا تھا کہ دوائیں ہماری دوست ہوتی ہیں اور یہ ہمیں بیماریوں سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا کہ ایک دن میں نے انٹرنیٹ پر ایک چارٹ دیکھا اور پھر بالکل کھانے کی چیزوں کی طرح دواؤں کے اجزا کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا۔ اس چارٹ میں مختلف وجوہات کی بنا پر مارے جانے کے خطرے کا بوئنگ ۷۴۷ حادثے میں موت کے خطرے سے موازنہ کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دواؤں کا الٹا اثر ٹاپ ٹین میں شامل ہے اور اس سے ہونے والی اموات کی شرح پھیپھڑوں، چھاتیوں اور مثانے کے کینسر، شوگر، گاڑیوں کے حادثات میں ہونے والی اموات سے زیادہ ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ دوائیں کینسر سے زیادہ خطرناک ہوں؟ کیا دواؤں کا کام ہماری صحت لوٹانا نہیں ہے؟ اگلے کچھ ہفتوں میں نے ڈرگز ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹس پر کئی دواؤں کے منفی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان میں سے کچھ نے تو میرے ہوش ہی اڑا دیے۔

مثال کے طور پر ڈپریشن کی ایک مشہور دوا Cipratex کے منفی اثرات میں عجیب خواب، دھیان کی کمی، بے حسی، وہم و نظر کا دھوکہ، سر درد، ضرورت سے زیادہ فعال رویے یا خیالات، اور بے آرامی شامل ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ منفی اثرات صرف کچھ ہی لوگوں پر ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی کیا ان سے دواکا مقصد فوت نہیں ہو جاتا؟

(نوٹ: یہ چارٹ Nhppa.orgپر دستیاہے)

کیا پہلے سے ڈپریشن کے شکار شخص کے لیے یہ مزید پریشانی نہیں ہوگی؟ میں نے اپنے آس پاس جتنا زیادہ دیکھا، میں نے دیکھا کہ کئی لوگ یہی محسوس کرتے ہیں۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ بوسٹن ریجنل میڈیکل سینٹر کے شعبہ طب کے سربراہ نے بھی دواؤں پر حد سے زیادہ انحصار کے خلاف استعفیٰ دے کر قدرتی دواؤں سے علاج کا اپنا مرکز کھولا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی میری طرح اس بات کو سمجھ گئے ہوں گے کہ زیادہ تر دوائیں صرف مرہم پٹی کی طرح ہوتی ہیں جو فوری لیکن عارضی آرام پہنچا کر بیماری کی علامات کو تھوڑی دیر یا کچھ عرصے کے لیے چھپا دیتی ہیں۔

میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے آس پاس موجود کسی ایسے شخص کے بارے میں تصور کریں، جو ایک طویل عرصے سے بلڈ پریشر، شوگر، یا کسی اور بیماری کی دوائیں لے رہا ہو، اور پھر خود سے پوچھیں کہ کیا ان کی بیماری ختم ہوئی ہے؟ یا انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ ان کی بیماری اب کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی، اور صرف دواؤں پر ہی گزارا کرنا پڑے گا۔

دواؤں پر انحصار کم کرنے کا طریقہ

تجویز کردہ دواؤں پر انحصار کم کرنے کا ایک طریقہ ہے اور وہ ہے اچھی خوراک۔ دوائیں اور خوراک، دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں، یہ ہمارے خون میں شامل ہوکر ہمارے خلیوں تک پہنچتے ہیں، اس لیے جب کوئی کہتا ہے کہ خوراک سے بیماریاں دور نہیں ہوسکتیں، تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ خوراک میں غذائیت موجود ہوتی ہے جب کہ دواؤں میں وہ چیزیں نہیںہوتیں جن کی خلیوں کی تعمیر میں ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خوراک کے ساتھ نہ تو منفی اثرات کی ایک لمبی فہرست آتی ہے اور نہ ہی یہ جیب پر زیادہ بوجھ ہوتی ہیں۔

بیماری کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے خوراک اور دواؤں کو متوازن انداز میں لیا جانا چاہیے، لیکن اگر صرف دواؤں پر انحصار کرتے ہوئے خوراک، ورزش اور گہری نیند کو قربان کر دیا جائے تو یہ توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ خوراک اور جڑی بوٹیوں کے طبی فوائد کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور ورزش کو کبھی نہ بھولیں۔

اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں، تو آپ گھریلو دواؤں کے بارے میں بھی تحقیق ضرور کریں۔ مثال کے طور پر ہم سب ہی نے زخموں پر ہلدی ڈالنے کا سنا ہے۔ ہلدی اس لیے مدد دیتی ہے کیوں کہ اس میں Curcuminشامل ہوتا ہے، جو جلن کم کرتا ہے، جراثیم کش ہوتا ہے، اور درد میں فوری آرام پہنچاتا ہے۔ اگر کسی مصالحے، جڑی بوٹی، یا کھانے کی چیز پر کروڑوں ڈالر خرچ کر کے تحقیق نہیں کی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں فوائد موجود نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس جگہ تحقیق کرنے میں دلچسپی نہیں ہے۔

شکر ہے کہ قدرتی دواؤں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے سبب اب کمپنیاں قدرتی اجزا مثلاً Curcumin کی الزائمر اور آرتھرائٹس جیسی بیماریوں میں افادیت ثابت کرنے کے قابل بھی ہیں، اور آمادہ بھی۔

میں جانتی ہوں کہ دوائیں زندگیاں بچا سکتی ہیں، سنگین بیماریوں یا معذوریوں میں مبتلا لوگوں کو نارمل زندگی دے سکتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری آرام پہنچا سکتی ہیں۔ میں بھی دوالوں گی، جب اس کی ضرورت ہوگی، اور مجھے خوشی ہے کہ ایسی دوائیں موجود ہیں لیکن اپنی اس تحقیق کے بعد مجھے جدید مغربی دواؤں سے تھوڑی سی مایوسی ہوئی ہے اور ان کے بارے میں میرا رویہ تبدیل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے اب قدرتی دواؤں کی افادیت کا بھی اندازہ ہوا ہے۔ تو اگر آپ متبادل دوائیں استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اگر یہ آپ کی موجودہ دواؤں سے متصادم نہ ہو،جس کا امکان بہت ہی کم ہے، تو یاد رکھیں کہ اس کا خطرہ صرف اتنا ہے، جتنا آپ پر شہاب ثاقب گرنے کا۔

نوٹ: سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر دوائیں کم یا زیادہ ہرگز نہ کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر آمنہ فرید

Leave a Reply