ہم اور ہمارا خاندان

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا بنیادی کام ہے اسلام کو فروغ دینا، اس کو سر بلند کرنے اور اس کو عملاً انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں میں جاری و ساری کرنے کی کوشش کرنا تاآنکہ اللہ کا یہ دین یعنی اسلام اس دھرتی پر قائم ہوجائے کیوں کہ

’’دین تو بس اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔‘‘ (آل عمران:۹)۔

یہ منزل یقینا دور ہے اور سفر بھی آسان نہیں، اس لیے کہ حق کو غالب کرنے کے لیے حق و باطل کے درمیان طویل کشمکش ہوگی۔

ہماری تحریک وہی ہے جو اللہ کے رسولﷺ نے آج سے کوئی ساڑھے چودہ سو برس پہلے شروع کی تھی۔ جو طریقہ کار آپﷺ نے اختیار کیا اور سرگرمیوں کا آغاز و اختتام جس طرح آپﷺ نے کیا اسی طرح ہم کو بھی کرنا ہوگا، جس طرح سے لوگوں کو آپﷺ نے ساتھ لیا ایسے ہی لوگوں کو ہمیں بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ آپؐ کو حکم ہوتا ہے۔

’’آپ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے اور جو لوگ ایمان لاکر آپ کی اتباع کر رہے ہیں ان کے لیے اپنے بازو جھکا دیجئے۔‘‘

چناں چہ آغاز رسالت ہی میں خاندان کے جو لوگ آپ سے ذہن و مزاج کے لحاظ سے قریب تر تھے آپ نے ان تک اللہ کا دین اور اس کا پیغام پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں آپ کی بیوی ام المومنین حضرت خدیجہؓ، آپؐ کے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ جو آپ کی فیملی کیخردتھے، اور آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ جن کی حیثیت بھی گھر کے ایک فرد ہی کی تھی، پہلے مرحلے میں ایمان لاکر آپ کی تحریک کے کارکن بن گئے اور اقامت دین کی جدوجہد میں تام آخر ساتھ دیتے رہے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ کے خاندان کے حضرت جعفرؓ جو آپ کے چچا زاد بھائی تھے اور خود آپ کے چچا حضرت حمزہؓ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے اور اسلام کے مخلص کارکن بن کر اس کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کر کے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

کسی بھی نظریاتی اور انقلابی تحریک کو سب سے بڑا سپورٹ اگر کہیں سے مل سکتا ہے تو وہ خاندان اور اہل خاندان ہی ہوتے ہیں۔ یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ فیملی کے تعاون کے بغیر کوئی بھی تحریک انقلابی کارنامہ انجام نہیں دے سکتی۔ آپ حضرت ابراہیمؑ کی سرگزشت اٹھا کر دیکھ لیجئے یقینا ان کے باپ اور خاندان کے دیگر لوگوں نے نہ صرف یہ کہ ساتھ نہیں دیا بلکہ گھر سے بے گھر ہونے پر مجبور کیا، لیکن ہجرت کے بعد جس خاندان کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ڈالی تھی اس میںبیوی، اور بیٹے نے جس اخلاص کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا اور جس طرح ہر موڑ پر ہاتھ بٹایا اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تحریک کو زبردست قوت ملی۔ بے آب و گیاہ میدان میں بیوی، بچوں کو چھوڑنا معمولی بات نہیں تھی، لیکن بیوی کو کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ آج عالی شان مکان میں بھی ہمارے لیے بیوی اور بچوں کو تنہا چھوڑ کر کسی ملی اور اجتماعی کام کے لیے اکٹھا ہونا مشکل ہوتا ہے۔ باپ کا ایک اشارہ ملتا ہے بیٹا قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور آج ایک داعیِ دین باپ اپنے بیٹے سے یہ بھی نہیںکہہ سکتا کہ بیٹا ہمارے رب کا یہ حکم ہے۔ بلکہ دعاۃ کے گھر کے بچے یہ کہتے ہیں کہ فریضہ دعوت سے وابستہ ہوکر ہمارے والد صاحب نے اوریہ نقصان ہم لوگوں کو پہنچایا۔

دین اسلام سے وابستگی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جہاں اس کی سرگرمیوں میں عامۃ المسلمین اور عامۃ الناس کو شمولیت کی دعوت دیں وہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی اس کا دست و بازو بنانے کی کوشش کریں۔ ورنہ اسلامی کاز میں نہ صرف یہ کہ خیر و برکت نہیںہوگی بلکہ اس وابستگی سے نفاق کی بو آئے گی۔

ہمارے سامنے حضرت ابو بکر صدیقؓ کا خاندان ہے۔ ہجرت کا موقع ہے ’’حضورﷺ غار ثور میں ہیں، حضرت ابوبکرؓ آپ کے ساتھ ہیں، حضرت ابو بکرؓ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ دن بھر مکہ میں قریش کی خفیہ سرگرمیوں کا پتہ لگاتے اور ان کی سازشوں اور منصوبوں سے شام کو آپ کو باخبر کرتے ہیں، حضرت ابو بکرؓ کی بیٹی حضرت اسماءؓ گھر سے کھانا پکار کر غار میں پہنچاتیں۔ حضرت ابوبکرؓ کے غلام فہیرہؓ دن بھر بکریاں چراتے اور شام کو غار کے پاس لے آتے اور آپ دونوں کو دودھ پلاتے۔ اس طرح پورا خاندان مل کر اسلام کی تحریک کو فروغ دینے میں لگا رہا۔ دین کے ایسے ہی کارکن کو صدیق کا لقب مل سکتا ہے۔ ایسے ہی مخلص کارکن کو نبی کی جانشینی نصیب ہوتی ہے اور زبان رسالت مآب سے جنت کی بشارت دی جاتی ہے۔ ایسے ہی کارکن کی بدولت تحریک کے قائد اول کے وصال کے بعد بھی تحریک پھیلتی پھولتی رہتی ہے۔

خاندانی سپورٹ کسی بھی تحریک کے فروغ میں ہر زمانے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس سے قطع نطر کہ افراد ِ خاندان کو اس تحریک اور تحریک کے نصب العین سے کوئی مطلب بھی ہے یا نہیں۔ اس کی زندہ مثال خود آپﷺ کے چچا ابو طالب ہیں جنہیں آپﷺ کی تحریک اور تحریک کے نصب العین سے کوئی سروکار نہیں تھا لیکن بھتیجے کی حمایت میں آپ نے تادم آخر ساتھ دیا، راستے میں آنے والی رکاوٹ کو آگے بڑھ کر دور کیا۔ دشمنان اسلام نے ابو طالب سے ایک نہیں کئی بار بھتیجے سے دستبردار ہونے کو کہا لیکن ابو طالب کا آپﷺ کے ساتھ کیا برتاؤ رہا، تاریخ کے اوراق گواہ ہیں ابو طالب نے کہا: ’’میری ہمدردیاں تمہارے ساتھ ہیں، جب تک جان میں جان ہے، کوئی تمہارا بال بیکا نہ کرسکے گا۔ بھتیجے! جاؤ جو دل چاہے کہو اور جو جی میں آئے کرو۔ جب تک جان میں جان ہے میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ نبی اکرمﷺ کے دشمنوں کا جب مطالبہ ہوا کہ بھتیجے کو ہمارے حوالے کردو اس وقت ابو طالب نے اہل خاندان کے سامنے تقریر کی: ’’بھائیو! یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ سب محمد کے پیچھے پڑے ہیں۔ انکی جان لینے پر تل گئے ہیں۔ یہ ہماری عزت کا مسئلہ ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک کھلا ہوا چیلنج ہے۔ ہرگز ہرگز ان کی یہ تمنا بر نہ آئے۔ ہم سب مل کر اس کا ساتھ دیں۔‘‘ چناںچہ پورے خاندان نے شعب ابی طالب میں آپﷺ کا ساتھ دیا۔ بلاشبہ خاندان ہی وہ ادارہ ہے جس سے کام لیا جائے تو یقینا یہاں سے مضبوط سہارا اور پختہ کار افراد ملیں گے جو ہر آن اور ہر لمحہ ہمارا ساتھ دیں گے۔

حضرت طفیل بن عمرو الدوسیؓ کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ یمن کے رہنے والے تھے، وہاں کے ایک قدیم اور طاقت ور قبیلے ’’دوس‘‘ کے سردار تھے، بڑے تاجر اور نامور شاعر ہونے کے ناطے دور دور تک ان کی شہرت تھی۔ مکہ جاکر انہوںنے اسلام قبول کیا۔ یمن واپس ہوئے اور سب سے پہلے اپنے والد کو اسلام کی دعوت دی، وہ مسلمان ہوگئے۔ بیوی بھی مسلمان ہوگئیں، اس طرح پہلے گھر کو مسلمان کیا اور میاں بیوی اور والد سب نے مل کر قبیلہ میں دعوت کا کام شروع کیا، لیکن جیسی کامیابی چاہ رہے تھے وہ نہ ملی۔ فوراً بھاگے ہوئے مکہ آئے اور رسول اللہؐ کو رپورٹ دی اور ان کے حق میں بد دعا کی گزارش کی لیکن آپؐ نے بد دعا نہیں دی بلکہ طفیل کو کچھ ہدایت دے کر واپس بھیج دیا۔ جب طفیل بن عمرو وہاں سے ہدایات لے کر گھر لوٹے اور پھر جس آدمی کو سمجھ اور پرکھ کر اسلام کی طرف بلایا وہ کلمہ پڑھتا ہوا اسلام کے دائرے میں آگیا اور تھوڑے ہی دنوں میں قبیلے کے زیادہ تر لوگ مسلمان ہوگئے اور ابھی حضرت محمدؐ کا ایک دورہ بھی نہیں ہوا کہ دیکھتے دیکھتے پورا یمن حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ کس کی بدولت؟ دین کے ایک بے لوث غلام اور کارکن طفیل بن عمرو الدوسی کی بدولت، کس کے سہارے؟ ’’خاندان‘‘ کے سہارے۔

غور طلب پہلو یہ ہے کہ آج ہمارا ماحول ہمارے لیے سد راہ بن رہا ہے۔ بعض داعیانِ دین کی راہ میں ان کی بیویاں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں تو کسی کے بچے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں تو کہیں خاندان کے دیگر افراد اس راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنا جانشین تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو اتنا پڑھایا کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، لکچرر بن گئے، لیکن تحریک اسلامی کا ایک سبق نہ پڑھا سکے کہ وہ ہمارے دینی وارث بن سکیں۔ اسلامی خاندان میں اولاد کی آرزو محض اس لیے نہیں ہوتی ہے کہ خاندان کا نام باقی رہے اور اولاد مادی وراثت پائے بلکہ اولاد کی طلب کی اصل وجہ حضرت زکریا علیہ السلام کے الفاظ میں یہ ہے کہ دینی وراثت باقی رہے، ہماری اولاد ہماری دینی وراثت اور تہذیب کی حفاظت کرے۔

ترجمہ: ’’میرے رب تو اپنے پاس سے مجھے ایک وارث عطا فرما جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی وراثت بھی پائے اور پروردگار تو اسے مقبول بندہ بنا۔‘‘ (مریم:۶)

حضرت زکریا علیہ السلام کو اپنی دنیوی جائداد کی وراثت کی فکر نہیں تھی، بلکہ انہیں فکر تھی تو دین حق کی، اللہ کی تعلیمات کی، اسلامی روایات کی کہ میرے بعد اس کا محافظ، اس کا علمبردار اور اس کی اشاعت کرنے والا وارث میسر آئے، حضرت لقمان حکیم نے بھی اسی غرض کے لیے اپنے بیٹے کو نصیحت کی:

ترجمہ: ’’بیٹا! نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر اورجو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔‘‘ (لقمان:۱۷)

آج اگر ہمیں اولاد سے مایوسی ہوتی ہے تو اس کی معقول وجہ ہے۔ ہم دنیا کو ’’نماز قائم کرنے اور اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے رکنے کا‘‘ کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی کام کرنے کا ہے لیکن اپنی اولاد کو کیریر بنانے کا حکم دیتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ وہ کام ہے جو کرنے کا ہے۔ اگر نماز چھوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر امتحان میں فیل ہوجائے تو ناراضگی قابل دید ہوتی ہے، اگر یہی اولاد بڑھاپے میں سہارا نہیں بنتی ہے تو اس میں شکایت کی کیا بات ہے؟ اگر آپ کو دینی کام کے لیے کارکن نہیں مل رہے ہیں تو تعجب کی کیا بات ہے؟ کیوںکہ ہم اسلام کی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے محلہ محلہ کارکن کی تلاش کرتے ہیں اور اپنے خاندان کو بھول جاتے ہیں۔ ہم عامۃ الناس کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے اہل و عیال کو فراموش کر جاتے ہیں۔ جب کہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے:

ترجمہ: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘ (التحریم:۶)

اگر فی الواقع اسلام کا راستہ وہی ہے جسے ہم نے اور آپ نے اختیار کیا ہے، یہی جہنم سے نجات کا راستہ ہے اور یہی راستہ جنت کو لے جاتا ہے تو ہمیں سب سے پہلے اپنے خاندان کے افراد کو اس راہ پر لگانا ہوگا کہ یہی عین سنت ہے جیسا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہر دل عزیز، محسن و غم گسار چچا ابو طالب سے کہا تھا: ’’چچا جان! آپ کا مجھ پر سب سے زیادہ حق ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
رضوان احمد اصلاحی، پٹنہ

Leave a Reply