حضرت محمد ﷺ کی رواداری

حیات طیبہ کو پیش کرنے والوں نے حضرت محمدؐ کی زندگی کی ایک ایک بات کو تاریخ کے صفحات پر کھول کر رکھ دیا ہے۔ حضورؐ کے اس دنیا میں تشریف لے آنے کے بعد سے آپؐ کے واپس تشریف لے جانے تک کے حالات کا بہ غور مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہ رہ سکیں گے کہ حضورؐ کی زندگی سراسر عفو و در گزر، انسانی ہمدردی و خدمت اور رواداری کا ایک لامتناہی تسلسل ہے۔ حضورؐ نے دیگر مذاہب کے لوگوں اور اپنے دشمنوں تک سے رواداری کا جو سلوک کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

نبوت سے پہلے کے دور میں اہل عرب کی قبائلی جنگوں اور آپسی لڑائی سے سینکڑوں گھرانے برباد ہوگئے تھے۔ بات بات پر تلواریں نکالنا اور قتل و سفاکی ان کے موروثی اخلاق بن گئے تھے۔ ان حالات کے پیش نظر زبیر بن عبد المطلب نے جنگ و جدال اور ظلم و ستم کے خاتمہ کے لیے تمام قبائل کے درمیان ایک امن معاہدے کے لیے کوششیں کیں تو رسول اللہؐ نے اس معاہدے میں بڑھ کر حصہ لیا۔ تاریخ اسے حلف الفضول کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آپؐ عہد نبوت میں فرمایا کرتے تھے کہ ’’معاہدے کے مقابلے میں اگر مجھ کو سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تو میں نہ بدلتا اور آج بھی ایسے معاہدے کے لیے کوئی بلائے تو میں حاضر ہوں۔‘‘

آج کی نام نہاد مہذب قومیں اور ترقی یافتہ ممالک انسانیت کی حفاظت کے لیے اور انسانی رواداری کے لیے آئے دن معاہدے کرتے ہیں مگر انکی حیثیت مفاد پرستی اور خوش نما کاغذی کاروائی سے زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن حضورؐ کے معاہدے کا ایک ایک لفظ عمل کی کسوٹی پر پورا اترتا تھا۔

جب اسلام آیا تو اسلامی اصولوں پر حکومت الٰہیہ کی بناء ڈالی۔ جس میں انسان خلیفۃ اللہ کی حیثیت سے اس حکومت کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری سے نوازا گیا۔ اور یہ حکومت بنی نوعِ انسان کے لیے امن و امان اور عدل و انصاف کی ضامن بن گئی۔ اور وہ امتیازات جو سرمایہ داری کے اصولوں پر قائم تھے، حرف غلط کی طرح مٹ گئے۔ اور انسان آپس میں ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنے لگے۔ غیر مذاہب کے افراد کے ساتھ ہمدردانہ و روادارانہ سلوک کیا جانے لگا اور انہیں ان کے ذاتی قانون ہی کے مطابق اپنے مقدموں کے فیصلے کرنے کا حق دیاگیا۔ اور ان کے مذہبی پیشواوں کے ساتھ رواداری اور احترام کو ملحوظ رکھا گیا۔ یہی نہیں بلکہ غیر مذاہب کے افراد کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی گئی اور ان کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا گیا تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض دفعہ مسجد کی عمارت کو صرف اس لیے ڈھایا گیا کہ یہ دوسروں کی زمین پر بغیر معاوضہ دیے بنائی گئی تھی۔

ہجرت سے قبل جب حضورؐ قبائل میں دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ کی غرض سے تشریف لے جاتے تو کافر آپؐ کا پتھروں سے استقبال کرتے۔ ایک دفعہ جب آپؐ طائف کے لوگوں کو دین حق کی دعوت دے رہے تھے تو ان کے زخموں سے بے ہوش ہوگئے۔ اس دن آپؐ نے اہل طائف کی طرف سے اتنی تکلیف سہنے کے باوجود ان کے حق میں بد دعا نہیں کی۔ یہی اہل طائف جب جنگ حنین کے بعد معافی کی درخواست لے کر آپؐ کے پاس آئے تو آپؐنے سب کو معاف فرما دیا۔

دوسرا واقعہ وہ ہے جب کہ حضوؐر کو ہجرت کی اجازت مل گئی۔ آپؐ ادھر ہجرت کی تیاری میں مصروف ہیں تو دوسری طرف حضور نے ہجرت سے پہلے حضرت علیؓ کے سامنے سارا مال رکھ کر انہیں ہدایت فرمائی کہ فلاں مال فلاں شخص کا ہے اور فلاں مال فلاں شخص کا ہے۔ اور صبح سارا مال پہنچا دینا۔ جب کہ وہی اہل قریش آپؐ کے قتل کی سازش میں مصروف تھے۔

حضورؐ اکثر یہودی ہمسائیوں کی خاطر مدارات کرتے اور بہ نفس نفیس ان کے بیماروں کی عیادت کرتے۔ ان کے جنازے گلیوں سے گزرتے تو آپؐ بیٹھے ہوئے ہوتے تو اٹھ کر کھڑے ہوجاتے تھے۔

فتح مکہ کے دن جب ان مہاجر مسلمانوں نے جو کفار قریش کے مظالم سے تنگ آکر مدینہ منورہ ہجرت کرگئے تھے اور جن کی زمینوں اور مکانوں پر مشرکین نے قبضہ کرلیا تھا، اپنے مکانوں اور زمینوں کی واپسی کے لیے حضورؐ سے درخواست کی تو آپؐ نے ان کی اس درخواست کو نامنظور کر دیا۔ کیوں کہ ایک بار راہِ خدا میں وہ لوگ اپنی زمینیں اور مکانات سے دست بردار ہوچکے تھے پھر کیسے وہ دوبارہ اس کو حاصل کرسکتے تھے۔

حضورؐ کی ساری حیات طیبہ کو سامنے رکھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے مزدوروں، غرباء اور محنت کش عوام سے حتی کے دشمنوں سے بھی ہمدردی اور رواداری کا جو سلوک کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

حضورؐ کا غلاموں پر ایک احسان عظیم ہے۔ آپؐ ان سے جس ہمدردی و محبت سے پیش آئے تھے تاریخ عالم میں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ آپؐ کی بعثت سے قبل غلاموں سے جو سلوک روا رکھا جاتا تھا اس کو سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آپؐ نے اپنے اعمال اور اقوال سے اس طبقہ کی زندگی یکسر بدل دی۔ یہ آپؐ کی رواداری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپؐ نے اس کو ایسی اچھی شکل میں ڈھال دیا کہ غلامی کا تصور یک لخت ختم ہوکر رہ گیا۔ چناںچہ ابوذر غفاریؓ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’تمہارے بھائی تمہارے خدمت گار ہیں۔ خدا نے انہیں تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ بس جس شخص کا بھائی اس کے قبضے میں ہو اس کو چاہیے کہ جو خود کھائے وہی اس کو بھی کھلائے اور جو خود پہنے وہی اس کو بھی پہنائے اور تم ان سے اس کام کو نہ کہو جو ان سے نہ ہوسکے اور اگر تم اس کام کے لیے ان سے کہو تو خود بھی ان کی مدد کرو۔‘‘

حضورؐ طبقۂ مزدور و محنت کش عوام اور غرباء سے جس ہمدردی سے پیش آئے تھے، تاریخ میں ایسی مثالیں ملنی مشکل ہیں۔ ان واقعات میں ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمارے اطراف جو متمدن اقوام ہیں ان پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان کمزور طبقات سے ہمدردی کے بلند و بانگ دعووں کی حقیقت کیا ہے۔ ان کے قول و فعل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس تناظر میں حضور پاکؐ کی زندگی اور آپ کی سیرت طیبہ کی عظمت بھی ثابت ہوتی ہے اور مسلم سماج سے اس نمونہ کو پیش کرنے کا تقاضا بھی ثابت ہوتا ہے کہ آج دنیا اس کی حاجت مند ہے۔

حضورؐ جنگی قیدیوں کے ساتھ بھی خوش خلقی سے پیش آتے تھے۔ چناں چہ جنگ بدر کے قیدیوں کا کہنا ہے کہ اہل مدینہ نے ان کو اپنے بچوں سے بڑھ کر رکھا تھا۔ جنگ بدر کے بعد غزوہ بنو المصطلق میں سو سے زیادہ مرد و عورتیں قید ہوئے تھے۔ وہ بس بلا کسی معاوضے کے آزاد کردیے گئے اور ان میں سے ایک خاتون جویریہؓ کو حضورؐ نے ’’ام المومنین‘‘ ہونے کا درجہ عطا فرمایا۔ حدیبیہ کے میدان میں بھی اسّی جنگی قید ہوئے تھے۔ ان کو بھی حضورؐ نے بلا کسی شرط و جرمانہ کے آزاد فرما دیا تھا۔ اسی طرح جنگ حنین میں چھ ہزار مرد و خواتین کو بھی بلا کسی شرط و جرمانے کے آزاد فرما دیا تھا۔ ایک اور واقعہ یہ ہے کہ جب حملہ آور احد کے میدان میں قید کرلیے گئے تو حضورؐ کو رات میں نیند نہیں آئی اور آپؐ اضطراب سے ادھر ادھر کروٹیں بدلتے رہے۔ ایک انصاری نے عرض کیا کہ ’’حضورؐ کو کچھ تکلیف ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ مگر عباس کے کراہنے کی آواز میرے کان میں آرہی ہے، اس لیے مجھے چین نہیں پڑتا۔‘‘ انصاری وہاں سے چپکے سے اٹھے اور جاکر عباس کی مشکیں کھول دیں اس پر عباس آرام سے سو گئے۔ انصاری پھر حاضر خدمت ہوئے۔ حضورؐ نے پوچھا کہ ’’اب عباس کی آواز کیوں نہیں آرہی ہے‘‘ انصاری نے کہا کہ میںنے ان کی مشکیں کھول دی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جاؤ سب قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرو‘‘ جب حضورؐ کو اطلاع دی گئی کہ سب قیدی آرام سے سو رہے ہیں تو آپؐ کا اضطراب کم ہوا اور آپ بھی سوگئے۔ حضورؐ نے جنگ کے قیدیوں کے ساتھ جو رواداری اور حسن سلوک کو روا رکھا تھا وہ ہمارے لیے سبق آموز ہے۔

حضورؐ اپنے دشمنوں، قیدیوں اور خدمت گاروں سے برابری کا سلوک کرتے تھے۔ انہیں کھلاتے، پہناتے، انہیں تکلیف اور مصیبت سے بچاتے تھے۔ یہ حضورؐ کا طریقہ کار تھا۔ مگر افسوس ہے کہ آج ہم ان کے نام لیوا اسلام کے شیدائی حضورؐ کی تعلیمات سے کوسوں دور دنیا کی رنگ رلیوں اور لہو و لعب میں گھر کر رہ گئے ہیں۔ آج ایسے بہت سے مسلم گھرانے ملیں گے جہاں پر ان کے ہم مذہب چھوٹے چھوٹے بچے ملازم ہیں۔ جو دن رات اپنے ان مالکوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں، مگر ان میں کتنے ایسے مسلم حضرات ہیں جو ان بچوں کی حفاظت، صحت، لباس اور تعلیم کا خیال رکھتے ہیں۔ کتنے ایسے بندے ہیں جن کے دلوں میں ان بچوں کے لیے شفت، محبت اور ہمدردی کے جذبات موجزن رہتے ہیں۔ اور کتنے ایسے ہیںجو ان سے ان کی طاقت سے کم کام لیتے ہیں۔

حضورؐ نے اُن کفار و مشرکین کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کیا تھا، جنہوں نے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے اپنا سارا زور لگایا اور اپنی ناپاک کوششوں میں برابر شب و روز منہمک رہے۔ لیکن حضورؐ نے ان سب کو معاف کر دیا۔ حضورؐ کی رواداری کے یہ واقعات انسانیت پر ایک احسان عظیم ہیں۔ حضورؐ کی رواداری کے اس نظارے سے قریش مکہ کی آنکھیں چکا چوند ہوئیں اور وہ دائرۂ اسلام میں جوق در جوق داخل ہونے لگے۔

یہ سب اس رواداری ہی کے کرشمے تھے جس کو حضورؐ نے ہمیشہ اپنوں کے ساتھ، غیروں اور دشمنوں کے ساتھ روا رکھا۔ یہ ان ہی تعلیمات کا اثر ہے، جس کو حضورؐ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

یہ چند واقعات تھے جن کے لفظ لفظ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت للعالمین ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ جس سے آپ کے روادارانہ سلوک کا پتہ چلتا ہے۔ اور یہ واقعات ہمارے معاشرے، تہذیب اور تعلقات کو درست اور استوار کرنے کے لیے مصلح و رہبر کا کام دیتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
قانتہ صدیقہ (حیدر آباد)

Leave a Reply