قصہ ایک ماں کا

ہم اپنی ناکار کردگی کا ازالہ اپنی باتوں ہی سے تو کرتے ہیں۔ سو، اس روز بھی نوحہ گراں کردار نے اپنی گفتار کی محفل سجا رکھی تھی۔ وہاں بات ہو رہی تھی اس پر کہ آخر کیا بات ہے کہ ہماری قوم کے اندر ’لین دین‘ کے معاملات میں حلال و حرام کی ذرا بھی تمیز باقی نہیں رہی۔ اربوں اور لاکھوں روپیوں کے غبن کا موقع تو جنہیں ملتا ہے، انہیں ملتا ہے۔ مگر جن کے بس میں ہزاروں کا مال ہڑپ کر لینا یا سینکڑوں میں دغا دے ڈالنا ہے، وہی نہیں بلکہ جن کو فقط چند روپیوں کا ہیر پھیر کرلینے کا موقع میسر آجاتا ہے، وہ بھی اس موقعے سے فائدہ اٹھانے سے ذرا نہیں چوکتے۔ کوئی چھوٹا موٹا دکان دار ہو، کوئی پھیری والا ہو، کسی بس کا کنڈیکٹر ہو کہ کسی ٹیکسی یا رکشے کا ڈرائیور، جس کو جتنی رقم جس ناجائز طریقے حاصل کرلینے کا داؤ لگ جائے، وہ یہ داؤ ضرور لگاتا ہے۔ پھر ہم گاہک، مسافر یا صارفین بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ہم بھی کوشش یہی کرتے ہیںکہ سودے بازی ہوجانے کے بعد بھی، سودے کی جو مجموعی رقم بنی ہے، اس میں سے کچھ نہ کچھ مال ما رہی لیں:

’’ارے میاں پانچ سو پچاس روپے بنے ہیں نا؟ بس پانچ سولے لو، پانچ سو۔ بس اب بات ختم کرو۔ صرف پچاس روپے کے لیے ضد نہ کرو۔ لو! رکھو جیب میں، اچھا خدا حافظ۔‘‘

پس، خدا ہی حافظ ہے ہم لوگوں کا جو نہیں سوچتے کہ روپے پیسے ہی نہیں، باقی سب کچھ بھی یہیں رہ جائے گا۔ ساتھ جائیں گے تو اعمالِ صالحہ جائیں گے یا آگ کے وہ انگارے جو باطل مال کو شیر مادر کی طرح ہڑپ کرلینے کے گناہ سے ہم خود دہکائیں گے۔

اس محفل میں جب ان اہل کمال سے ’شیر مادر‘ کی مثال سنی تو ہمیں ایک ’ماں‘ کا قصہ یاد آگیا۔ ہماری تاریخ ایسے بہت سے قصوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسی ماؤں کے قصوں سے جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو سچ بولنے، قناعت کے ساتھ گزر بسر کرنے، غیرت کے ساتھ زندہ رہنے اور عزت کے ساتھ بلکہ شہادت کی موت مرنے کی تلقین کی۔ یہ وہ مائیں تھیں جنہوں نے ایک طرف شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ جیسے راہ نما، راہِ حق کے راہیوں کو دیے تو دوسری طرف شیر میسور فتح علی ٹیپو سلطان جیسے جگمگاتے ہیرے بھی اس امت کی تاریخ میں پرو دیے۔ یہ وہ سپوت تھے جنہوں نے اپنی ماؤں کے دودھ کی لاج رکھی اور اپنا یہ قول اپنے خون کی سرخی سے لکھ کر سچ ثابت کر دکھایا:

ہزار سال کی گیدڑ کی زندگانی ہیچ

ملے تو شیر کا اک لمحہ حیات بہت

آخر یہ مائیں ہی تو ہیں جو رزقِ حلال سے پال پوس کر اپنے بچوں میں شیران غاب کے تیور پیدا کرتی ہیں۔ ان میں وقار کے ساتھ جینے کا حوصلہ اور شجاعت کے ساتھ باطل سے نبرد آزما رہنے کا ولولہ پھونک دیتی ہیں۔ اور یہ ماؤں کی تربیت خام ہی تو ہے، جو انہیں فیصلہ کن مواقع پر بھی ایک ٹیلی فون کال سے ڈر کر کسی گیدڑ کی طرح بزدلی اور عافیت کے بھٹ میں گھس جانے کو دانش مندی کا تقاضا بتاتی ہے۔

مگر آج ہم آپ کو تاریخ کی گھاٹیوں میں نہیں گھمائیں گے۔ آج جو قصہ ہمیں یاد آیا ہے، وہ قصہ تو اسی زمانے اور اسی ملک کا قصہ ہے۔ اسی وطن کے گنجان آباد اور بھتہ خوری سے برباد شہر کی ایک غریب ماں کا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ ماں شہر کی کسی پاش کالونی میں رہتی ہو یا کسی جھگی جھونپڑی میں۔ اسی طرح اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کوئی امیر زادی ہے یا محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کاپیٹ پالتی ہے۔

ہاں فرق اس سے پڑتا ہے کہ آج بھی ایسی مائیں موجود ہیں۔۔۔ اور مزید فرق پڑ جائے۔۔۔ اگر تمام مائیں ایسی ہوجائیں ۔۔۔ یا کم از کم ماؤں کی اکثریت ایسی ہوجائے۔

یہ قصہ ہے ایک پروفیسر صاحب کا سنایا ہوا۔ پروفیسر صاحب ہمارے پرانے دوست ہیں۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ ہر دن کی طرح ان پروفیسر صاحب کو اس دن بھی کلاس لینی تھی۔ اس دن شاید انہیں دیر ہوگئی تھی، سو کالج پہنچنے کی جلدی تھی۔ پس تھوڑے فاصلے کے لیے بھی انہوں نے آٹو رکشا پکڑ لیا۔ پہلا اچنبھا انہیں اس وقت ہوا جب آٹو ڈرائیور نے سودے بازی کرنے کے بجائے میٹر کے مطابق چلنے پر اصرار کیا (ورنہ بالعموم یہ اصرار خود مسافر کرتا ہے، اور اس کا اصرار، بوجہ گرانی پٹرول، فی الفور رد کر دیا جاتا ہے)۔ خیر پروفیسر صاحب کرایہ میٹر کی صواب دید پر چھوڑکر رکشے میں بیٹھ گئے اور رکشے کے ساتھ ساتھ اچھلتے کودتے اپنے کالج کی سمت سفر کی منزلیں مارنے لگے۔ راستے بھر کے دھچکے کھانے کے بعد آخری دھچکا اُن کو اس وقت پہنچا جب انہوں نے اتر کر آٹو کا میٹر دیکھا۔ میٹر دیکھتے ہی ان کا اپنا میٹر گھوم گیا۔ چیخ کر بولے: ’’میاں اپنے رکشے کا میٹر فوراً ٹھیک کراؤ۔‘‘

ڈرائیور نے بھی قدرے ترشی سے جواب دیا:

صاب! ہمارا میٹر بالکل ٹیک ہے! خود آپ کا میٹر گھومتا پڑا ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنی بات پر اصرار جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’ٹھیک نہیں ہے۔ میں اکثر آئی آئی چندریگر روڈ سے یہاں تک کا سفر کرتا ہوں۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تمہارا میٹر بالکل غلط ہے۔‘‘

بات بڑھ گئی تو ڈرائیور نے یہ بک بک جھک جھک ختم کرنے کے لیے کہا:

ارے صاب! اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارا میٹر خراب ہے تو آپ ہم کو دس روپے کم دے دیں۔

اب انکی حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا۔

’’دس روپے کم؟؟؟… ارے میاں تمہارے میٹر نے تو دوسروں کے مقابلے میں پہلے ہی پندرہ روپے کم بنائے ہیں۔

اب ذرا ڈرائیور کی جان میں جان آئی۔ پر، اب بھی اس کا اصرار یہی تھا کہ اس کا میٹر صحیح ہے۔ دوسروں کے میٹر غلط ہیں۔ سبھوں نے اپنے میٹر تیز کروا رکھے ہیں۔ جلدی جلدی رقم کے اعداد گرانے کے لیے میٹروں میں ڈبل گراریاں، لگوا رکھی ہیں۔ پس پروفیسر صاحب کے پرزور اصراور پر بھی اس نے زائد کرایہ نہیں لیا۔ کرایہ ادا کر کے کالج کے گیٹ کی سمت بڑھتے ہوئے پروفیسر صاحب نے اسے مشورہ دے ڈالا:

’’میاں تم بھی اپنا میٹر تیز کر والو۔ جب سب نے اپنے میٹر تیز کرا رکھے ہیں تو آخر اکیلے تم ہی کیوں نقصان اٹھاؤ؟‘‘ رکشا ڈرائیور نے کہا:

’’ارے صاب! ہمارے کو اگر میٹر تیز کروانا ہو تا تو ہم تو پہلے ہی دن سے اس کو راکٹ کروالیتے!‘‘

پروفیسر صاحب نے چلتے چلتے پوچھ لیا:

’’تم نے اپنا میٹر کیوں تیز نہیں کروایا؟‘‘

ڈرائیور نے جو جواب دیا اس کا مفہوم یہ تھا:

’’پروفیسر صاحب! یہ بڑی لمبی کہانی ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بہت جلدی میں ہیں۔ آپ کے پاس اتنا وقت کہاں ہوگا کہ ہم غریبوں کی کہانی سن سکیں۔‘‘

یہ سنتے ہی صحافی، ادیب، ماہر ابلاغیات عامہ اور افسانہ نویس پروفیسر کے اندر کا متجسس کہانی نگار ٹھٹک کر رک گیا۔ انہوں نے تعجب سے رکشا ڈرائیور کو دیکھا اور ہمہ تن گوش ہوگئے۔ پھر بہت اصرار کر کر کے اس کی کہانی، خود اس کی زبانی سننے لگے۔ وہ بولتا رہا اور آخر کار کہانی کے اختتام تک آپہنچا:

’’… تو صاحب جب میرا باپ فوت ہوگیا تو گھر کی ساری ذمہ داری میرے اوپر آن پڑی۔ میری ماں نے کسی طرح کچھ رقم جوڑ جاڑ کر مجھے یہ پرانا آٹو رکشا دلوا دیا اور مجھ سے کہا اب تو گھر کا بڑا ہے۔ اب تو ہی کما کر مجھے او راپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو کھلائے گا۔ پھر، جب میں پہلی بار آٹو رکشا لے کر گھر سے نکل رہا تھا تو میری ماں نے مجھے اپنے پاس بلایا، میرے سر پر ہاتھ پھیرا، میرا ماتھا چوما اور مجھ سے ایک ایسی بات کہی جو تیر کی طرح میرے دل کے اندر تک اتر گئی۔ ماں کہنے لگی:

’’بیٹا! جب تو میرے پیٹ میں تھا تو اس وقت اگر میں ایک لقمہ بھی کھاتی تھی تو کھانے سے پہلے سوچتی تھی کہ یہ لقمہ حلال ہے یا حرام؟ جو ننھی سی جان میرے پیٹ مین پل رہی ہے، اسے میں حلال کھلا رہی ہوں یا حرام؟ تو بیٹا! جب تو میرے بس میں تھا تو میں نے حرام کا ایک ذرہ بھی تیرے جسم میں نہیں جانے دیا۔ میرے لال! اب میںتیرے بس میںہوں۔ اب یہ تجھ پر منحصر ہے کہ تو مجھے حرام کھلاتا ہے یا حلال؟‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
احمد حاطب صدیقی

Leave a Reply