دعا

وہ بہت اداس بیٹھی اس خاتون کا درس سن رہی تھی… وہ سورہ فاتحہ پر درس دے رہی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے قرآن سے شغف نہ تھا وہ بہت اہتمام سے دل سے روزانہ قرآن کی تلاوت معہ ترجمہ کرتی۔ سورہ فاتحہ کی فضیلت اسے پتہ تھی، ترجمہ بھی بہت آسان تھا… اللہ ہی کے لیے تعریف، اسی کی عبادت، اسی سے مدد، سیدھے راستے پر ہدایت کی دعا، انعام یافتہ لوگوں کا راستہ، مغضوب و ضالین کا نہیں۔‘‘ اس نے خاموشی سے ان خاتون کو دیکھا جو اب آخری آیت کی تشریح کر رہی تھی… عام حالت میں تو بھی وہ دھیان سے سن لیتی لیکن اس وقت اس کے دل و دماغ پر پریشانی کی کیفیت طاری تھی…

زندگی بھی عجیب چیز ہے۔ کچھ وقت آرام سے گزرا نہیں کہ ایک نئی مشکل، ایک نئی تکلیف، ہر لمحہ آزمائش۔ بچپن ہی ہوتاہے جو آرام سے گزر جاتا ہے پھر طالب علمی کے زمانے سے قبر میں پہنچنے تک بس آزمائشیں۔ بڑے مشکل اوقات ہوتے ہیں جو مشکل سے ہی کٹتے ہیں۔ امی کہا کرتیں کہ بیٹے دنیا میں بہت غم ہیں، اپنا غم تو سب سے کم۔ وہ کہا کرتیں کہ یہ سوچ مشکل کو آسان کرتی ہے مگر انہیں کون بتائے کہ مشکل تو بس مشکل ہوتی ہے چاہے بڑی ہو یا چھوٹی اور اپنی تکلیف اور مشکل تو انسان کو آسمان سے اونچی اور زمین سے وسیع لگتی ہے… آخر سکون کیسے ملے؟ زندگی آسان کیسے ہو؟ یہ جو زندگی کی آزمائشیں ہیں اس میں حوصلہ کہاں سے ملے؟ لوگ کہتے ہیں دعا کرو… میں تھک گئی ہوں دعا کر کے کچھ نہیں ہوتا…

’’تو دراصل سورہ فاتحہ ایک دعا ہے جو ہم روزانہ دن میں پانچ وقت پڑھی جانے والی نماز میں ہر رکعت میں اللہ سے مانگتے ہیں، تو اس کے مطلب اور تشریح کو دماغ میں رکھ کر دل سے، مکمل دلی کیفیت کے ساتھ اللہ سے اہدنا کی دعا کریں…‘‘ وہ اپنے آخری الفاظ کہہ رہی تھیں اور ساتھ میںکچھ اور بھی کہہ رہی تھیں لیکن وہ تو بس ایک جملے پر اٹک گئی تھی…

’’مکمل دلی کیفیت…!‘‘

’’کون ہوتا ہے جو دعا بغیر دلی کیفیت کے مانگتا ہے؟ ہر شخص دل سے ہی دعا مانگتا ہے…‘‘ وہ اپنی ہی سوچوں میں گھری اپنے ہاتھوں کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس بات سے بے خبر کے سب خواتین و لڑکیاں دھیرے دھیرے اٹھ کر چلی گئیں صرف وہ ہی تنہا رہ گئی تھی اور اس بات سے بھی بے خبر کہ سارے درس کے دوران اُن خاتون نے بہت بار اس کا بہت گہری نظروں سے جائزہ لیا تھا، اس کی غائب دماغی اور اکتائی ہوئی کیفیت کو محسوس بھی کیا تھا…کسی کے کھنکھارنے کی آواز پر وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے نکل آئی، سر اٹھایا تو وہ خاتون اسے ہی دیکھ رہی تھیں…

’’آپ کہتی ہیں مکمل دلی کیفیت سے دعا مانگی جائے تو قبول ہوجاتی ہے۔ میں نے بہت بار بہت دل سے گڑگڑا کر دعا مانگی… لیکن میری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔‘‘ اس نے بنا کسی تمہید کے نم آنکھوں کے ساتھ جو دل میں تھا وہ کہہ دیا۔ اب بھی وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھے جا رہی تھی… خاتون کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی، نہ جانے کیوں؟

’’آج کا درس کس سورہ پر تھا؟‘‘

اس نے اچنبھے سے انہیں دیکھا، یہ تو اس کے سوال کا جواب نہ تھا مگر پھر بھی اس کی زبان سے نکل ہی گیا ’’سورہ فاتحہ پر۔‘‘

’’اس سورہ کا نام سورہ فاتحہ کیوں ہے؟‘‘ انہوں نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور پوچھا۔ اس نے دل ہی دل میں خود کو ہی بر ابھلا کہہ دیا۔ یہ خاتون اس کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر چکی تھیں اور ایک ٹیچر کی طرح آج کے درس پر سوال جواب کر رہی تھیں، مگر اب کیا کیا جاسکتا تھا ’’چھیڑا ہے تو سن‘‘ والا معاملہ…

’’کیوں کہ اس سورہ سے قرآن کا افتتاح ہوا ہے، قرآن کا آغاز ہوا ہے۔‘‘

’’ہاں وہ تو ہے کہ یہ قرآن کے آغاز میں رکھی گئی ہے اسی لیے اسے سورہ فاتحہ کہا گیا ہے لیکن یہی سورت آغازِ قرآن میں کیوں ہے؟‘‘

اس کا جی چاہا، مشیت خداوندی کہہ دے مگر دماغ نے سوال کوڈ کرلیا تھا اور جواب تیار تھا۔

’’کیوں کہ یہ ایک دعا ہے، ایک جامع دعا، سمندر کو کوزے میں بند کرنے والی دعا۔‘‘ اس نے جواب دے کر خاموش نگاہوں سے انہیں دیکھا… وہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں…

’’قرآن کا آغاز ایک دعا سے کیوں کیا گیا … کبھی سوچا ہے؟‘‘

اب اس کی دلچسپی پیدا ہوئی۔۔۔ دماغ نے سوال پھر تیزی سے کوڈ کیا مگر جواب اتنی تیزی سے نہیں۔ سچ ہے بات تو سوچنے والی تھی، اس نے بھی تھوڑا سوچ کر جواب دیا۔۔۔

’’مجھے زیادہ نہیں پتہ، لیکن میں نے پڑھا تھا کہ قرآن کا آغاز سورہ فاتحہ یعنی دعا سے کیا گیا ہے اور سورہ فاتحہ اور قرآن کا تعلق دعا اور جواب دعا کا سا ہے۔ بندہ نے اھدنا دعا مانگی اور اللہ نے جواب میں سارا قرآن رکھ دیا کہ یہ ہے صراطِ مستقیم…‘‘ اس نے یہ کہہ کر دادا صاحب نظروں سے انہیں دیکھا لیکن وہ تو اب گردن جھکائے خاموشی سے ہاتھ میں پکڑے قرآن پر بڑی محبت سے ہاتھ پھیر رہی تھی… کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد انہوں نے جواب دیا…

’’بالکل سچ …میں نے اس سورہ سے ایک اور بات سیکھی ہے…‘‘

’’ایک اور بات!‘‘ اس نے زیر لب بڑبڑایا وہ کیا ہوسکتی… حمد، شکر، رحمن اور رحیم ذات، یوم جزا کا مالک، اس کی عبادت، اسی سے مدد، ہدایت کی دعا، صراطِ مستقیم کی چاہت، انعام کا راستہ، ذلت و گمراہی سے بچنے کی دعا… اور کیا ہوسکتا ؟ اس کی الجھن اس کے چہرے پر نظر آرہی تھی…

’’قرآن سرچشمہ ہدایت ہے…‘‘ دھیمی د ھیمی آواز میں انہوں نے کہنا شروع کیا: ’’معجزات، برکات رحمتوں، نعمتوں سے لبریز کتاب، جس کے معجزے تاقیامت نہ کم ہوں گے نہ ختم ہوں گے۔ زندگی بنانے والی، سنوارنے والی، جنت کے ابدی سکون، آسائشوں، نعمتوں کی طرف رہ نمائی کرنے والی، جہنم کی ہولناکیوں، عذاب اور پریشانیوں سے بچانے والی…‘‘

وہ ان کی بات سن رہی تھی لیکن اس کی الجھن ختم نہیں ہوئی تھی مگر ابھی ان کی بات ختم بھی تو نہیں ہوئی تھی نا!

’’اور یہ سب ایک دعا کے جواب میں ملا ہے… دعا ہی وہ چیز ہے جو زندگی میں معجزات، برکات، نعمتوں و رحمتوں سے ہمارا دامن بھرتی ہے، جو زندگی میں پریشانی، دکھ، تکلیف اور سختیوں سے ہمیں بچاتی ہے۔‘‘

وہ سمجھتی تھی کہ انہوں نے اس کا سوال سنا ہی نہیں لیکن بات دعا تک تو آپہنچی تھی۔ ’’قرآن نے اپنا آغاز ایک خوب صورت دعا سے کر کے یہ پیغام دیا کہ جب بندہ دعا کرتا ہے تو وہ رب کس طرح جوابِ دعا کے طور پر معجزہ ہاتھوں میں تھما دیتا ہے…

پھر مجھے اپنی ذات اور اپنی زندگی بس دعا اور جوابِ دعا کی طرح لگی، زندگی میں دعاؤں ہی نے تو ہمیں تھام رکھا ہے۔‘‘

’’دعا کیا کرتی ہے؟‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔’’دعا آنے والی مصیبت کو روکتی ہے۔‘‘

’’اور جو مصیبت آچکی …!‘‘ اس کی الجھن سوالوں میں بدل رہی تھی۔ ’’اس کو ہلکا کرتی ہے…‘‘

’’بہت بار جب میری دعائیں قبول نہیں ہوئیں تو میں نے سوچا کہ شاید یہ سب قسمت میں ہی لکھا ہو … اور پھر ویسے بھی انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی قسمت اور تقدیر لکھی جاچکی ہے پھر دعامانگ کر کیا فائدہ…‘‘ اُف یہ انسان … کیسی الجھنیں دماغ میں پال رکھتا ہے وہ خاتون ہلکے سے مسکرائی…

’’ایسا ہی ایک سوال کسی شخص نے ایک بزرگ سے کیا تھا کہ جب قسمت میں سب پہلے سے لکھا جاچکا تو دعا کیوں مانگی جائے، تو اُن بزرگ نے جواب دیا تھا… ہوسکتا ہے وہ چیز تمہاری قسمت میں یوں لکھی ہو کہ جب تم دعا مانگو، اسے مانگو تب تمہیں عطا کی جائے۔‘‘ وہ خود بھی دھیمے سے مسکرا دی… کیا ہی خوب صورت جواب تھا۔

’’لیکن دعا تو ہر مسئلہ کا حل ہے نا! دعا کے جواب میں معجزات ہوتے ہیں نا! ایک نئی الجھن۔

’’اگر کسان یہ دعامانگے کہ اے اللہ میرا کھیت خوب سرسبز، لہلہاتا ہو، اناج، سبزی اور پھل خوب خوب پیدا ہوں اور وہ دعا کرے اور بس دعا ہی کرے… لیکن اس نے بیج ہی نہ بویا ہو اور پانی ہی نہ دیا ہو اور …انتظار ہی نہ کیا ہو تو…؟‘‘

’’تو پھل، سبزی کہاں سے آئے گی؟‘‘ بے اختیار اس کی زبان سے پھسلا۔ ’’اور اگر آجائے تو…؟‘‘

’’جادو…‘‘ اس نے بے ساختہ کہہ دیا۔

’’جب کہ جادو جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی…‘‘ انہوں نے یہ کہہ کر اسے دیکھا۔ وہ اب بھی کنفیوژڈ تھی… کچھ تھا جو کلیئر نہ تھا… ’دعا‘ پر شک نہیں تھا… مگر یقین کی کیفیت بھی نہ تھی۔

’’جنگ بدر پتا ہے؟‘‘ پھر ایک سوال… یہ خاتون اس کے سوالوں کے سیدھے سیدھے جواب کیوں نہیں دے رہی تھی… مگر اب جب کہ اس کی دلچسپی بن ہی گئی تھی اور الجھن بھی ختم ہونا چاہتی تھی سو وہ پھر سے اس سلسلہ میں آگئی…

’’ہاں اسلام کی پہلی جنگ…‘‘

’’معجزہ کہلاتی ہے نا!…‘‘

’’ہاں… معجزہ ہی تو تھی… کہاں ایک بڑی اور مسلح فوج دوسری طرف معمولی ہتھیار اور روزہ دار صرف ۳۱۳ مسلمان اور کہاں اعلیٰ قسم کے جنگجو، جنگی ہتھیاروں سے لیس، گھوڑ سوار، ساز و سامان کے ساتھ ان سے کئی گنا زیادہ تعداد میں کفارِ مکہ… اور پھر اِن ۳۱۳ کی فتح …! تاریخ داں اسے معجزہ ہی کہتے ہیں… معجزہ…‘‘

’’میں اِسے معجزہ نہیں سمجھتی!…‘‘

وہ تو شاکڈ ہوگئی… حیرت و صدمہ کی ملی جلی کیفیت لیے وہ انہیں دیکھنے لگی، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اِسے معجزہ کہے گا؟… لیکن یہ …

’’میں اِسے جواب دعا سمجھتی ہوں…‘‘

’’رات کی تاریکی میں دل کی تمام کیفیات، آنسووں کے ساتھ اللہ کے حضور آخر الزماں نبیؐ نے دعا مانگی… اور صبح دن کے اجالے میں فتح نصیب ہوئی… یہ دعا اور جوابِ دعا ہے…‘‘

وہ خاتون سانس لینے کو رکی… اِسی وقفے میں اس نے تیزی سے کہہ دیا۔

’’وہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ دعا سے معجزات ہوا کرتے ہیں…‘‘ وہ خاتون ہلکے سے مسکرا دی…

’’تم بھول رہی ہو اس دعا اور جوابِ دعا کے درمیان جنگ بھی ہے، میدانِ جنگ کے مناظر ہیں، روزہ دار، قلیل تعداد، بے خوفی سے لڑتے، نتائج کی پرواہ کیے بغیر شہادت کے جام پیتے ۳۱۳ مسلمان کفار کے بیچ گھستے چلے گئے اور حاصل ہونے والی فتح نے اس جوابِ دعا کو معجزہ بنا دیا…‘‘ وہ جیسے سانس لینا بھی بھول گئی … مجسمہ سی بن گئی…

’’یہ سچ ہے کہ دعا حادثات، واقعات و اسباب کی دنیا میں بھی معجزات برپا کردیتی ہے لیکن اس دعا اور جوابِ دعا کے درمیان ایک پل ہے… میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ حضرت محمدؐ ہمارے لیے بہترین اسوہ ہیں۔ آپؐ کی ساری زندگی مشعل راہ ہے تو جنگِ بدر سے کیا سبق لوں؟… ہر کوئی اپنے حالات اور اپنے ذہن کے مطابق تجزیہ کرتا ہے…

میں نے سوچا کہ ایک طرف مشکلات تھیں، کفارِ مکہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے تمام ساز و سامان کے ساتھ نکل پڑے تھے…

بالکل ویسے ہی جیسے کبھی کبھی زندگی ہم سے سب کچھ چھیننے لگتی ہے، کچھ مشکلات، تکالیف اور برا وقت یوں آتا ہے جیسے اب سانسیں چھین کر لے جائے گا، پریشانی، مشکلات و مایوسی کی دلدل…

اس مشکل کے لیے اسباب بھی تھے کہ کفار مکہ پر بند باندھ دیا جائے، انہیں بتا دیا جائے کہ چاہے وہ مٹھی بھر ہی کیوں نہ ہوں مگر انہیں کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے… انہیں سمجھا دیا جائے کہ اب انہیں روکنا ممکن نہیں…

اور یہی ہر مشکل کا حل ہوتا ہے کہ مشکلات کو بتا دیا جائے کہ ہم اشرف المخلوقات کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرے… زندگی ہم کو سات مرتبہ گرائے تو ہم آٹھویں مرتبہ اسی مقام پر کھڑے ہوں گے، اسی جذبہ کے ساتھ … عزم، حوصلے، پوری طاقت، قوت و صلاحیت سے اسباب کا استعمال کرنا…

اور پھر دلی کیفیات کے ساتھ آسمانوں کے مالک سے دعا کی شکل میں مدد طلب کرنا… اور ایک ہزار فرشتوں کی صورت میں اللہ رب العزت کی مدد کا وعدہ سچ ہوتا ہے۔ جب مشکلات کو اسباب سے لڑا دیا جائے اور آسمانوں کے مالک سے دعا کی جائے تو مدد آتی ہے… غیبی مدد…‘‘

اسے لگ رہا تھا ایک نور ہے جو دھیرے دھیرے اس کے اطراف میں پھیل رہا تھا… وہ نور جو اسے گھیرے کھڑی مشکلات کو دھیرے دھیرے اس سے دور کر رہا تھا… اسے اندھیرے سے نکال رہا تھا…

’’مطلب جب بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ بندے کی پکار سنتا ہے۔‘‘ اس نے خود اپنی آواز سنی۔

’’ہاں اور اس کا جواب دیتا ہے…‘‘

’’اور اِس دعا اور جوابِ دعا کے درمیان ایک پل ہے…‘‘ بات اب اس کے سمجھ میں آگئی تھی۔

’’ہاں… نہیں ہے انسان کے لیے سوائے اس کے جس کی وہ محنت کرے۔۔۔‘‘

’’کوئی اور شک!؟۔۔۔‘‘

’’نہیں کوئی شک باقی ہی نہ رہا…‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے…

اس خاتون نے بڑی محبت سے قرآن پر ہاتھ پھیرا اور وہ چلی گئی…

کیوں کہ اب اس کے چہرے پر صرف سکون تھا۔۔۔

زندگی کے سفر میں دعا ہتھیار تھی… اسے اب دعا کرنی تھی… دلی کیفیات کے ساتھ… ایک پل ہے اسے پار کرنا ہے… عزم و حوصلہ کے ساتھ، قوت و دا نائی کے ساتھ اور سب سے اہم صبر کے ساتھ…

اور پھر جوابِ دعا کا تو اللہ کا وعدہ ہے

اور اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے…

اور کیا خوب ہی وعدہ ہے…

’’میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں جب وہ پکارتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہوں۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

Leave a Reply