کاش

مئی کی شدید گرمی، دوپہر کا وقت اور شہر کی مصروف ترین سڑک پر ایک مزدور اپنی دو پہیوں والی بنڈی پر اپنی قوت سے زیادہ لادے ہوئے جا رہا تھا۔ تھوڑی دور جاکر سڑک کے ٹرن پر قابو نہ رکھ سکا اور سارا سامان دھڑام سے گر گیا۔ وہ غریب مزدور جس کے جسم پر میلی کچیلی بنیان جو پسینے میں شرابور تھی، للچائی ہوئی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا شاید کوئی مدد کو پہنچے۔ ٹو وہیلر والے اسٹائل سے کٹ مارتے ہوئے اور موٹر کار والے کچھ بڑبڑاتے آہستہ آہستہ نکل گئے۔ دور کھڑا ٹرافک پولیس کانسٹبل حسب روایت گالیوں کی بوچھار کر رہا تھا، اتنے میں کیا دیکھتے ہیں دو نہایت ہی خوب صورت نوجوان جن کے سروں پر ٹوپی، چہروں پر داڑھی اور پیشانی پر نماز کا نشان جو خوب صورتی کو دو بالا کر رہا تھا بجلی کی طرح اس غریب کی مدد کو لپکے۔ راہ گیر کچھ نرم گالیاں اور کچھ طنزیہ تیر برساتے رہے۔ وہ نوجوان پلک جھپکتے میں پچیس پچیس کلو چاول کے تھیلے انگلیوں پر نچاتے ہوئے گاڑی پر سلیقہ سے لاد کر خود کھینچتے ہوئے سڑک کی دوسری جانب لے گئے۔ وہ مزدور بے چارہ چلتے ہوئے کبھی آسمان کی طرف کبھی ان نوجوانوں کی طرف دیکھتا ہوا ڈھیر ساری دعائیں دیتا رہا اور یوں کہا ’’بیٹا بھگوان تمہارا بھلا کرے آپ دونوں بھگوان کی طرف سے لاچار کی مدد کو پہنچے، بھگوان تمہارا لاکھ لاکھ بھلا کرے۔ بابا میں مجبور اور کیا دے سکتا ہوں۔ تب ایک نوجوان نے کہا، انکل ہمیں معاف کرنا ہمیں مدد کو پہنچنے میں جو ایک منٹ کی دیر ہوئی۔ انکل ہوسکے تو ہمارے لیے دعا کیجیے کچھ ہی دنوں میں ہمارا امتحان آنے والا ہے شاید آپ کی دعا کے اثر سے ہمیں کامیابی نصیب ہو۔

چند ہی دنوں کے بعد شہر کے تمام اخبارات میں ان دو نوجوانوں کی فوٹوز ان کے تعارف کے ساتھ شائع ہوئیں۔ ایک شہباز میڈیسن میں دوسرا شہباز انجینئرنگ میں ٹاپ رینک پر تھے۔

کاش ہر نوجوانوں میں ایسا جذبہ ہو؟ lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

Leave a Reply