ضمیر کی بیداری

بڑے جی آپ میری طرف گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہیں کیا آپ کے گھر بہو بیٹیاں نہیں ہیں۔‘‘ کھچا کھچ بھری ہوئی ایک مسافر بس میں بہ مشکل تمام کھڑی ہوئی ایک خاتون نے داہنی طرف بیٹھے ہوئے ایک مسافر سے کہا۔

بیٹی میں دیکھ نہیں رہا ہوں بلکہ ڈر رہا ہوں کہیں تمہیں کوئی پریشانی نہ گھیر لے۔ ایسا قیمتی اور اتنا سارا زیور پہن کر سفر کرنا مناسب نہیں اور وہ بھی اکیلے۔‘‘

بڑے جی میرے ساتھ میرا چھوٹا بیٹا ہے اور ویسے بھی یہ دن ہے رات نہیں۔ خاتون نے بڑے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔

بات آئی گئی ہوگئی۔ بزرگوار اگلے اسٹوپج پر اتر گئے اور بس آگے چلی گئی۔ دو دن بعد یہی بزرگ رکشا میں بیٹھے ہوئے اسٹیشن جا رہے تھے دیکھا کہ ایک بھیڑ تیزی کے ساتھ اسپتال جا رہی ہے۔ بزرگوار کی طبیعت نہیں مانی۔ رکشا سے اترے اور بھیڑ کو چیرتے مریض کے پاس پہنچے۔ دیکھا وہی خاتون ہیں جو تین چار روز پہلے بس میں ملی تھی اور جس نے کہا تھا کہ بڑے جی آپ میری طرف گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہیں آپ کے گھر بہو بیٹیاں نہیں ہیں کیا؟

بزرگوار نے دیکھا کہ مریضہ کا چہرہ بری طرح لہولہان تھا پوچھنے پر بتایا کہ بس اسٹاپ پر یہ خاتون بس کے انتظار مین کھڑی تھی کہ موٹر سائیکل پر دو نوجوان آئے اور آن کی آن میں کانوں سے بندے کھینچ ایسے لے گئے جیسے چیل جھپٹا مار کر ہاتھ سے گوشت کی بوٹی لے جاتی ہے اور آناً فاناً غائب ہوگئے۔ لوگ کچھ دور دوڑے بھی شور بھی مچایامگر موٹر سائیکل کا کون مقابلہ کرسکتا تھا۔ بہرحال کسی طرح یہاں اسپتال لائے ہیں آگے پولس جانے یا اس کے گھر والے ہم تو اس مہیلا کا نام تک بھی نہیں جانتے۔

بزرگوار نے دیکھا کہ اسپتال کے عملہ نے فوراً ہی مریضہ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور بھیڑ کو ایک طرف ہٹ جانے کو کہا۔

بزرگوار کو آگے جانا تھا اور گاڑی کا بھی وقت ہو رہا تھا لہٰذا وہ مریضہ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈال کر اسٹیشن کو چل دیے۔

بزرگوار ٹرین میں دوران سفر سوچتے رہے خدا کا شکر ہے انسانیت ابھی زندہ ہے، اس میں شک نہیں معاشرہ بہت بگڑ گیا ہے۔ عزت آبرو جان و مال پر کب کون اور کہاں حملہ کردے کچھ پتہ نہیں، بگاڑ ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے مگر انسانیت اور رواداری بھی خاموش نہیں ہے بلکہ اپنا کام کر رہی ہے۔ اگر کچھ سرپھروں نے خاتون پر حملہ کیا تو اس خاتون کو اسپتال لانے والے اور اس کے عزیزو اقارب کو اطلاع دینے والے بھی تو اسی سماج کے لوگ تھے۔ مگر عورتیں بھی زیور اور اس کی نمائش کی بڑی دلدادہ ہوتی ہیں۔ سج دھج دکھاتی پھرتی ہیں اور جب کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو سر پیٹتی ہیں۔ گرانی نے سونے کے بھاؤ کیا بڑھائے ہیں چور اُچکوں کو پیتل بھی سونا نظر آتا ہے، سونا تو پھر سونا ہے اس پر ہاتھ مارنے کا موقع مل جائے تو کون چوکتا ہے۔ بہرحال بزرگوار راستے بھر یہی سوچتے رہے اور مریضہ کے لیے دعا کرتے رہے خدا وند اس کو جلد شفا عطا فرما۔

ایک دو روز بعد بزرگوار سفر سے لوٹے، سوچا چلو اسپتال ہوتے چلیں ہوسکتا ہے مریضہ ابھی اسپتال ہی میں ہوں، مل گئیں تو حال احوال بھی معلوم ہوجائے گا اور ہمیں بھی تسلی ہوجائے گی۔ حضرت اسپتال پہنچے۔ معلوم کیا کوئی کان والی مریضہ یہاں ہے فوراً ہی ایک خادمہ نے آگے بڑھ کر بتایا ہے، ان کا وارڈ نمبر تین اور بیڈ نمبر پانچ ہے مگر یہ ملنے کا وقت نہیں ہے۔ آپ صبح نو بجے آئیں۔ بزرگوار نے کہا، محترمہ ہم تو باہر سے آرہے ہیں سوچا ان کو دیکھتے چلیں ویسے ہم اس کے کوئی ناطے دار نہیں ہیں۔ آپ ملادیں تو اچھا ہے ورنہ جا رہے ہیں۔ ہاں یہ کچھ پھل ہیں یہ ان تک ضرور پہنچا دیں۔ خادمہ نے کچھ پھل اپنے پاس رکھے اور باقی کا تھیلا لے کر کہا آؤ میرے ساتھ آؤ۔ وارڈ نمبر تین اور بیڈ نمبر پانچ پر بزرگوار نے دیکھا مریضہ لیٹی ہے اور اب رو بہ صحت ہے۔ خادمہ نے مریضہ کے سرہانے تھیلا رکھتے ہوئے بتایا کہ بڑے میاں آئے ہیں تمہیں پوچھ رہے ہیں۔ بزرگوار نے سلام کیا چند منٹ بیٹھے لواحقین سے خیریت معلوم کی اور ایک پتلی سی کتاب دیتے ہوئے مریضہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دیتے ہوئے باہر نکل گئے۔

تین چار ماہ بعد ایک دن جب کہ نسیم صاحب اپنے کمرے میں صبح اخبار پڑھ رہے تھے ایک بچے نے آکر بتایا کوئی صاحب آئے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی عورت اور چھوٹا بچہ ہے۔ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ نسیم صاحب نے کہا معلوم کرو کیا نام ہے اور کیا کام ہے کہاں سے آئے ہیں؟ بچے نے بتایا عورت کہہ رہی ہے ہم کیول ملنے آئے ہیں اور ہمارا نام لکشمی ہے۔

نسیم صاحب کچھ نہ سمجھ سکے بہرحال کہا کہ بلا لو۔ اور پھر دیکھا سادے کپڑوں میں ایک نوجوان اجنبی خاتون ہے اس کے ساتھ اس کا خاوند اور چھوٹا بچہ ہے۔ اس سے پہلے کہ نسیم الدین کچھ کہتے دونوں نے آگے بڑھ کر نسیم الدین صاحب کے پاؤں چھوئے اور نمستے کی۔ نسیم الدین نے ان کو بڑی محبت سے کرسی پر بٹھایا اور کہا میں پہچانا نہیں۔ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ خاتون بولی۔ بڑے جی میں وہی ہوں جس کو آپ نے کافی دن ہوگئے بس میں ٹوکا تھا کہ ایسا قیمتی اور اتنا سارا زیور پہن کر اور وہ بھی اکیلے سفر کرنا اچھا نہیں ہے۔ آپ کے ٹوکنے کے تیسرے دن ہی وہ گھٹنا گھٹ گئی جس سے آپ نے مجھ کو ہشیار کیا تھا۔ میں گاؤں کے بس اسٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ موٹر سائیکل پر دو نوجوان آئے، مجھ سے کچھ بات کرنے لگے اور پھر میرے بندوں کو اتنی زور سے کھینچا کہ میری چیخ نکل گئی اور پھر مجھے نہیں معلوم کیا ہوا۔ شام کو جب مجھے ہوش آیا اور میری آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو اسپتال کے بستر پر پایا۔ میرے دونوں کانوں میں کئی ٹانکے لگے۔ سر میں بھی چوٹ آئی تھی کیوں کہ جیسا مجھے بتایا گیا میں زمین پر گر پڑی تھی۔ پانچ چھ دن بعد میں نے آپ کو اسپتال میں اپنے پاس دیکھا تھا پر میں بوجہ تکلیف کچھ بول نہیں سکی اس لیے کہ میرے سر میں بھی کافی چوٹ آئی تھی۔ بڑے جی میں آپ کی بڑی آبھاری ہوں اور یہ میرے پتی دیو بھی آپ کے بہت آبھاری ہیں۔ کیا اچھا ہوتا میں آپ کی بات مان لیتی۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ کا ٹوکنا مجھ کو بہت برا لگا تھا پر جب میرے ساتھ یہ گھٹنا گھٹ گئی تو مجھے ہوش آیا کہ بڑوں کی باتوں میں کتنا ستیہ اور بھار ہے۔ میں آپ سے ملنے اور آپ کا آشیرواد لینے ہی نہیں آئی اپنے کئے پر چھما مانگنے بھی آئی ہوں۔ آپ نے ہندی میں جو چھوٹی سی پستک دی تھی وہ بھی میں نے بڑھی بڑی اچھی لگی۔ سچ ہے ناری کی بڑائی شرم و حیا اور لجا ہی میں ہے۔ ناری کو عورت اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ اور یہ زیور یہ سج دھج تو اپنے گھر میں ہی ہونا چاہیے۔ میں اور میرے پتی آپ کے بڑے آبھاری ہیں کہ ہمارا آپ نے صحیح مارگ درشن کیا۔ یہ تھوڑا سا میٹھا ہے آپ اس کو سوی کار کرلیں۔

نسیم الدین ایسے ہوگئے جیسے ان کے منہ میں زبان ہی نہیں ہے، میرے اللہ میری ذرا سی کوشش کو تونے اتنا سراہا کہ اس عورت کی کایا ہی پلٹ گئی خدایا تو ہمیں فی الواقع انسانیت کا خیر خواہ ہونے کی توفیق عطا فرما۔

لکشمی اور اس کے پتی نسیم الدین کے بال بچوں سے بھی ملے اور ہاتھ جوڑ کر سب کو بڑے محبت بھرے انداز میں نمستے کرتے ہوئے رخصت ہوگئے۔

نسیم الدین صاحب دیر تک اپنے مہمانوں کو جاتا ہوا دیکھتے رہے اور سوچتے رہے جب ضمیر بیدار ہوتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد داؤد (نگینہ)

Leave a Reply