تہذیبی جنگ اور ہماری خواتین

مرد اور عورتوں کی حیثیتوں کا جھگڑا غیر اسلامی اور مشرکانہ تہذیبوں کا پیدا کردہ ہے۔ الحمد للہ ہمارے یہاں سب اپنی اپنی جگہ صاحب حیثیت ہیں۔ محسن انسانیتؐ ہی محسن نسوانیت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اپؐ ہی نے خواتین کو شرفِ انسانیت سے سرفراز فرمایا۔ ورنہ مکہ کے مشرکانہ معاشرے ہی میں نہیں روم و یونان میں، مصر و ایران میں اور ہمارے ہندوستان میں بھی عورت کی حیثیت کسی کے ذاتی مال اور مویشی سے کچھ زیادہ نہ تھی۔

ہمارے دین نے فرد اور معاشرے کے حقوق و فرائض میں بھی توازن و اعتدال کی راہ دکھائی اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں مرد اور عورت کے مابین تعلقات میں بھی حق و انصاف کا راستہ بتایا۔ دنیا کی کسی بھی تہذیب اور اس کے تمدن کے اصل رنگ ڈھنگ دیکھنے ہوں تو صرف ان ہی دونوں معاملات کا ذرا غور اور تفصیل سے جائزہ لے لیجیے۔ آپ پر اس تہذیب و تمدن کی اصلیت کھل جائے گی۔ اقبال نے تہذیب مغرب کے انہی دونوں پہلوؤں کو اندر سے دیکھا اور بڑے غور سے دیکھا، پھر اس تہذیب کے متعلق اپنا فیصلہ سنا دیا:

’’چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر‘‘

آج بھی … ’نطر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی‘… مگر آج بھی انسانوں کی سب سے مظلوم صنف عورت ہی ہے۔ خواہ وہ ’مشرق‘ کے ممالک ہوں یا ’مغرب‘ کے فرانس، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا، ہر جگہ صنفی خوف و ہراس کا شکار صرف عورت ہے۔

بنی نوعِ نسواں کو اس عذاب سے نجات اگر دلا سکتی ہے تو عہد حاضر میں ’مسلمان عورت‘ ہی دلا سکتی ہے۔ اور الحمد للہ عالمی اسلامی تحریکوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، جو حیا اور حجاب کی علم بردار ہیں، عالمی پیمانے پر اپنی بہنوں کو ہوا و ہوس کی غلامی سے نجات دلانے کی تحریک برپا کیے ہوئے ہیں۔ یہ تحریک بڑی تیزی سے اُن معاشروں میں مقبول ہو رہی ہے، جہاں بہ ظاہر تو آزادیِ نسواں کا شور و شہرہ ہے، مگر ’اندرون‘ میں بڑے سے بڑے عہدے پر فائز عورت کی عزت و حرمت ’ دو پینی‘ کی بھی نہیں رہ گئی ہے۔

مغرب، جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، اب بے اولاد ہوتا جا رہا ہے۔ وہاں بوڑھوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور بچوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔ یورپ، امریکہ اور کنیڈا وغیرہ میں ہر طرح کے ادارے پھل پھول رہے ہیں اور ترقیوں پر ترقیاں کرتے چلے جا رہے ہیں، مگر خاندان، کا ادارہ بالکل تباہ و برباد ہوکر رہ گیا ہے۔ اس ’خاندانی تباہی‘ کا اصل سبب خواتین کی بے توقیری ہے۔ خواتین کو وہاں خوش نما اور نمائشی کھلونا تو بنا دیا گیا ہے مگر ان کے ماں، بہن اور بیٹی بننے کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ ’خاندان‘ ہی کسی تہذیب کی ’اکائی‘ ہوتا ہے۔ خاندنوں سے معاشرہ بنتا ہے اور معاشرہ پوری تہذیب کا عکاس ہوتا ہے۔ اقبال نے جو اہل مغرب کو متنبہ کیا تھا کہ: ’’تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی‘‘

تو یہ پیش گوئی اب پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔ خود اہل مغرب پر یہ خوف غالب آتا جا رہا ہے کہ ان کی تہذیب مغلوب ہونے کو ہے۔ ان کی نسلی بڑھوتری نہیں ہو رہی ہے۔

ہمارے یہاں جو ’خاندان‘ کا ادارہ قائم ہے اور ’خاندانی اقدار‘ ابھی تک برقرار ہیں تو اس کا ’سہرا‘ ہماری خواتین کے سر بندھتا ہے۔ ہماری عفت مآب خواتین نے ہمارے گھر آباد کر رکھے ہیں۔ وہ ہمارے خاندانوں کے تحفظ اور استحکام کی ضمانت ہیں۔ خاندان مضبوط ہے تو معاشرہ بھی مضبوط ہے۔ ہمارا معاشرہ اس وقت تک مضبوط رہے گا جب تک ہماری خواتین کو اُن کی اصل طاقت اور ان کا اصل اقتدار حاصل رہے گا۔ خواتین کو اسلامی تہذیب و تمدن نے جو مقام عطا کیا ہے، وہی ان کی اصل طاقت ہے اور گھر کا اقتدار ہی ان کا اصل اقتدار ہے۔ ہماری نسلیں ہماری خواتین کی تحویل میں ہیں۔ ہمارے بچوں کے ذہنوں پر پہلا نقش ہماری خواتین ہی بٹھاتی ہیں۔ ماں کی گود کے مدرسے میں جو نقش اول ثبت ہوتا ہے، وہی نقش آخر بھی ثابت ہوتا ہے۔ قبر میں اُترنے تک یہ نقش مٹائے نہیں مٹتا۔ اگر ہمیں اپنی امت کا تحفظ مطلوب ہے تو ہمیں اپنی خواتین کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا۔ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ خود خواتین سے بہتر کون کرسکتا ہے؟

جب ملک و قوم پر اور ملت و امت پر آزمائش کا وقت پڑتا ہے تو خواتین کو گھر سے باہر کے میدانِ عمل میں بھی اترنا پڑتا ہے۔ اب جب کہ ملت اسلامیہ، اپنی تہذیب و تمدن اور اپنی ثقافت کے دفاع کی جنگ لڑی جا رہی ہے تو خواتین و حضرات سمیت پوری اجتماعی قوت سے دفاع کرنا حکمت عملی کا تقاضا ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں عہد رسالت میں بھی ملتی ہیں۔

ترمذی شریف میں ہے کہ ام سلیمؓ اور انصار کی چند دوسری خواتین اکثر غزوات میں حضور کے ساتھ گئی ہیں۔ (باب: خروج النساء فی الغزو)۔ جنگ احد کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنی پیٹھ پر مشکیزے لاد لاد کر لاتی تھیں اور لڑنے والوں کو پانی پلاتی تھیں۔ (بخاری، بات غزوۃ النساء) سیدنا عمرؓ نے ایک اور صحابیہ کے متعلق رسول اللہﷺ کا یہ قول بیان فرمایا:

’’جنگ احد میں دائیں اور بائیں جدھر میں دیکھتا تھا ام سلیم میری حفاظت کے لیے جان لڑاتی ہوئی نظر آتی تھیں۔‘‘

جنگ احد ہی میں ربیع بنت معوذ اور ان کے ساتھ خواتین کی ایک جماعت زخمیوں کی مرہم پٹی میں مشغول تھی اور یہی عورتیں زخمیوں کو اٹھا اٹھا کر مدینہ لے جا رہی تھیں۔ (بخاری)۔ جنگ حنین میں ام سلیم رضی اللہ عنہا ایک خنجر ہاتھ میں لیے پھر رہی تھیں (اور اس وقت آپؐ حاملہ بھی تھیں، عبد اللہ بن ابی طلحہؓ پیدا ہوئے) رسول اللہؐ نے پوچھا یہ کس لیے ہے؟ فرمایا:

’’اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔‘‘ (مسلم)

قصہ مختصر یہ کہ اس وقت جب اسلام، ملت اسلامیہ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے خلاف ایک عالمی جنگ برپا ہے تو ہماری خواتین کو بھی اس میں اپنا حصہ بٹانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ مگر حیا اور حجاب کی ثقافت کی علم بردار خواتین سے بہتر بھلا اور کون جان سکتا ہے کہ یہ کردار کن حدود میں رہ کر سر انجام دینا ہے۔ حدود کی پامالی تو مردوں کے لیے جائز ہے نہ عورتوں کے لیے!lll

شیئر کیجیے
Default image
احمد حاطب

Leave a Reply