درود

درود و سلام کی فضیلت

’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر برابر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

 اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے ہمیں دین اسلام کی نعمت سے سرفراز کیا اور مزید یہ کہ حضرت محمدؐ کی امت میں شامل کیا، اللہ تعالیٰ نے محمدؐ کو ساری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپؐ نبوت سے سرفراز کیے جانے سے قبل بھی امین اور صادق کے القاب سے مخاطب کیے جاتے تھے۔ حضورؐ نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق گزاری اور لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے۔

یہ حقیقت ہے کہ آپ کے بے پایاں احسانات اور بے انتہا رحمت و شفقت کا ہم بدلہ نہیں دے سکتے۔ اگر کچھ کرسکتے ہیں تو صرف یہ کہ عقیدت و محبت اور فدا کاری و جاں نثاری کے گہرے جذبات کے ساتھ آپ کے حضور میں درود و سلام کے تحفے پیش کریں۔آپ کی سنت اور آپ کے لائے ہوئے دین کو اپنی زندگیوں میں جاری کریں کیوں کہ نبیؐ نے ہماری ہدایت کی خاطر شب و روز جو لرزہ خیز تکلیفیں اٹھا کر ہم تک دین کی روشنی پہنچائی اور ہماری ہدایت کے لیے گھل گھل کر جس طرح اپنی جان ہلکان کی ہم اس بے مثال احسان کا کوئی بدلہ نہیں دے سکتے۔ پروردگار تو ان پر اپنی بے حد و حساب رحمتیں انڈیل دے۔ ان کے درجات کو بلند فرما دے ان کے دین کو باطل کی یلغار سے سلامت رکھ اور فروغ دے اور آخرت میں انہیں مقربین سے بڑھ کر اپنا تقرب عطا فرما۔

لہٰذا قرآن پاک میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود و سلام بھیجتے ہیں تو اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو! اور قرآن پاک میں ایک دوسرے مقام فرمایا جا رہا ہے کہ ’’نبیؐ سے اونچی آواز مین بات نہ کیا کرو اور نہ ان کو ایسے پکارو جیسے تم آپس میں دوسرے سے بات کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو بلکہ ان سے ادب سے بات کیا کرو۔‘‘ (الحجرات) اور ایک حدیث پاک میں ہے کہ حضورؐ نے مسجد نبوی کے ممبر کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھا تو فرمایا: آمین دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا آمین اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا آمین۔ صحابہؓ کرام نے پوچھا اے اللہ کے رسولؐ آپ نے آمین کس بات پر فرمایا تو حضوؐر نے فرمایا میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل آئے اور کہا کہ تباہ و برباد ہو وہ شخص جس نے اپنے والدین کو پایا اور ان کی خدمت کر کے اپنے آپ کو جنت کا حق دار نہ بنایا تو میں نے کہا آمین۔ دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا تباہ و برباد ہو وہ شخص کہ جس کے سامنے میر انام لیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ میں نے کہا آمین۔

تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل نے کہا۔ تباہ و برباد ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کرائی، میں نے کہا آمین۔

دیکھئے یہ بربادی کی دعا کی جا رہی ہے اور آمین بھی رحمت للعالمین کی زبان سے۔ لہٰذا لازم ہے کہ جب بھی محمدؐ کا نام آئے تو ہمیں چاہیے کہ درود پڑھیں۔ زیادہ بڑا نہیں تو چھوٹا ہی جیسے ’صلی اللہ علیہ وسلم‘ کہنا چاہیے۔

درود کی فضیلت بھی بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعبؓ سے نبیؐ نے فرمایا: ابی؟ اگر تم اپنے سارے اوقات درود و سلام میں لگا دو تو خدا دنیا و آخرت میں تمہاری کفالت اپنے ذمہ لے لے گا۔ (مسند احمد)

حضرت انس بن مالکؒ کا بیان ہے کہ نبیؐ نے فرمایا جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے۔ فرشتے اس پر درود بھیجتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے۔ (احمد ابن ماجہ) اور آپؐ نے اس شخص کو بخیل قرار دیا جو آپؐ کا ذکر سنے اور آپؐ پر درود نہ بھیجے، فرمایا: وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (ترمذی)

نیز آپؐ نے اس شخص کو آخرت میں اپنی معیت اور صحبت کا سب سے زیادہ مستحق قرار دیا ہے جو سب سے زیادہ آپؐ پر درود و سلام بھیجے۔ اور جو درود شریف ہم نماز میں پڑھتے ہیں جسے درود ابراہیمی کہا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اسے افضل قرار دیا ہے:

ترجمہ: ’’خدایا تو رحمت نازل فرما محمد پر اور محمد کی آل پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم کی اولاد پر۔ بے شک تو بڑا ہی پاکیزہ صفات والا ہے اور عظمت والا ہے۔

خدایا! برکت عطا فرما محمدؐ کو اور محمد کی آل کو جس طرح تونے برکت عطا فرمائی ابراہیم کو اور ابراہیم کی آل کو بے شک تو بڑا ہی پاکیزہ صفات والا اور عظمت والا ہے۔

نیز نبیؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔ اس روز درود میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ درود میرے حضور میں پیش کیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ)

ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک بار درود بڑھتا ہے اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہے۔ دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کردیے جاتے ہی۔ دس مرتبہ اللہ رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں آپؐ کے طریقوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین lll

شیئر کیجیے
Default image
صبیحہ انجم مومناتی

تبصرہ کیجیے