تربیتِ اولاد

ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ہی ذات کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی پورا کرے۔ کیوں کہ قرآن میں ارشادِ ربانی ہے:

ترجمہ: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو ایسی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

اس لیے ماں کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صالح تربیت کرے۔ حدیث میں ہے:

ترجمہ: ’’والدین کا بہترین عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت ہے۔‘‘ حضرت خدیجہؓ کو دیکھئے آپ اولاد کے دل میں اسلامی تعلیمات کے بیج بونے کی کوشش کرتیں۔ حضرت فاطمہؓ جب چار سال کی تھیں تو انہوں نے سوال کیا کہ خدا کی قدرتیں تو ہر وقت نظر آتی ہیں لیکن کیا خدا کا دیدار ہونے کی توقع ہے۔

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بڑا پیارا جواب دیا: جب ہم دنیا میں نیک اعمال کریں گے، خدا اور اس کے رسولؐ کا کہا مانیں گے تو یقینا کل قیامت کے دن اللہ کی خوش نودی کے مستحق ہوں گے۔ اور یہی اللہ کا دیدار ہوگا۔

بچوں کی تربیت میں چند ضروری احتیاطیں:

٭ بچوں کو بلا وجہ ڈانٹنا، ان کے کاموں میں وجہ بے وجہ عیب لگانا اور ان کی نالائقی کا رونا رونا انتہائی نامناسب ہے۔ بچوں کو ڈانٹ پھٹکار اور کوسنے دینا ان کی تربیت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کی وجہ سے بچے کا ذہن بغاوت پر آمادہ ہو جائے گا۔ اس طرح اس کی بہترین صلاحیتیں پست ہو جائیں گی اور اگر یہ محسوس ہو کہ اس کی صلاحیتیں غلط راستہ پر جا رہی ہیں تو حسن تدبیر سے ان کا رخ اچھے کاموں کی طرف موڑیں۔

٭ بچے کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی چاہیے۔ خود اعتمادی اس کی زندگی کا بہت بڑا وسیلہ اور ہتھیار ہے۔ خود اعتماد انسان زندگی کے ہر میدان میں کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ اور بے شمار امور وہ محض اپنی خود اعتمادی کی بنیاد پر حل کرلیتا ہے۔

٭ اولاد کو قائدانہ صفات سے متصف کرنے کی کوشش کی جائے کہ ان کے اندر حوصلہ اور فیصلہ لینے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ اور وہ درست نتائج اخذ کرسکیں اور ذہن و دماغ کی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کرسکیں۔

اولاد کے اخروی فائدے قرآن و حدیث میں بہت جگہ بیان ہوئے ہیں۔ جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اولاد والدین کی جنت یا جہنم ہوسکتے ہیں۔

آدمی اپنی اولاد کو کھلانے پلانے اور ان کی ضرورت کی تکمیل کے لیے جو جدوجہد کرتا ہے ان سب پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اجر مقرر فرمایا ہے۔ جب وہ اولاد کی تربیت کے لیے کوشش کرتا ہے وہ اس کے حسنات میں شمار ہوتے ہیں۔ جب آدمی مر جاتا ہے اور اس کی اولاد اس کے لیے دعائے خیر کرتی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔

مسلم کی حدیث ہے جس کا مفہوم اس طرح ہے۔

ترجمہ: ’’جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے لیکن تین باقی رہتے ہیں:

۱- صدقہ جاریہ۔ ۲- ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ ۳- نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

ابن ماجہ کی ایک اور حدیث ہے: ’’کسی وقت بندے کے درجات بلند کیے جائیں گے۔ وہ کہے گا کہ اے رب میرا یہ درجہ کیسے بلند ہوگیا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تیرے بیٹے نے تیرے لیے مغفرت کی دعا کی۔‘‘

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا یہ بڑی ذمہ داری کی بات ہے کہ آدمی اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے ورنہ جواب دہی سے اپنے آپ کو نہیں بچا پائے گا۔

اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ انسان اپنی اولاد کی تربیت کی ذمہ داری سے عہدہ بر آ نہیں ہوسکتا۔ اولاد کی تشکیل اور اس کے بنانے میں ماں باپ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے:

’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے والدین اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔‘‘

اگر اولاد کی تربیت اچھے طریقے سے نہ ہو تو یہ دنیا کے لحاظ سے بھی انتہائی خطرناک بات ہے اور اس پر آخرت میں بھی باز پرس ہو گی۔

حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واقعہ ہے کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سخت سے سخت کام لیتیں اور جب ان سے کہا جاتا کہ بچے سے اتنے سخت کام لے رہی ہوتو وہ جواب دیتیں کہ میں اسے نڈر بہادر اور عقل مند بنانا چاہتی ہوں۔ چناں چہ آگے چل کر ان کے بیٹے زبیرؓ نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ یہ ہوتی ہے ماں کی تربیت۔lll

شیئر کیجیے
Default image
یاسمین فردوس، آکولہ

Leave a Reply