خواتین کا برائیوں سے تحفظ

مصر اوریونان کی تہذیبوں میں اور عرب کے دور جاہلیت میںعورت کی حالت بہت خستہ رہی۔ اس کے ساتھ غلاموں سے بھی بدتر سلوک کیاجارہاتھا۔عورت کا جائیداد میںکوئی دخل نہیں رہا۔اس کو مشورہ دینے کاکوئی حق نہیں۔اگر اس سے کوئی غلطی ہوجاتی تو شوہر کوپوراحق تھا کہ وہ اس کوقتل کردے۔اگر عورت بیوہ ہوجاتی تو اس کے شوہر کی جائیداد ہڑپ کردی جاتی اور اس کو منحوس کہاجاتا۔عورت کو ہر وقت درندوں کی طرح مارا اور پیٹا جارہاتھا۔ بعثت رسول ﷺ کے بعد اسلام نے عورت کا مقام بہت اونچاکیا۔ عورت کو اس کے سارے حقوق دلادئے۔عورت کی حیثیت ایک ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کے درجوں میں نمایاں ہوگئی۔ ان سب درجوں میں عورت کی حیثیت ماں کے درجے میں سب سے زیادہ بلند ہوگئی۔

ایک عورت اپنے بچے کی تربیت ایک مدرسہ سے بدرجہازیادہ بہتر کرتی ہے۔ ماں کی تعلیم و تربیت سے بچہ کی نشوونما میں ایک مضبوط بنیاد حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا مستقبل شاندارہو جاتاہے۔اس مقصد کے لئے یہ لازمی ہے کہ بچے کی تربیت کرنے سے پہلے ماں اپنی خودکی صحیح تربیت کر ے تاکہ وہ اپنے بچے کی تربیت کی قابل بنے ۔

ہمارے یہاں بدقسمتی سے آج بھی لوگوں کا عام خیال ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم دینا بیکار ہے کیونکہ وہ شادی کے بعد اپنے سسرال چلی جائے گی اور ان کی اس تعلیم کا خرچ ضائع ہوجائے گا ۔ اس وجہ سے جیسے ہی لڑکیاں سن بلوغ کو پہونچ جاتی ہیں تو لوگ ان کی شادی کردیتے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ ان کے پوتاپوتی اور نواسہ نواسی کا مستقبل ان کی بچیوں کے ہاتھ میںہی ہے۔

جنوبی ایشیاء کے ممالک کے مسلمانوں میںتعلیم کی قلت کے دوبڑے اسباب ہیں:ایک اہم سبب یہ ہے کہ ان کی مالی حالت اتنی خراب ہے کہ بچوں کی تعلیم کا خرچ برداشت کرنا ان کی حیثیت سے باہر ہے۔ہمارا مالدار طبقہ اپنی مالی محبت اور کنجوسی کی وجہ سے ان خستہ حالت مسلمانوں کی مدد نہیں کرتا جس کی وجہ سے غریبوں کی حالت کبھی بہتر نہیں ہوتی۔دوسراسبب ان کا یہ دقیانوسی خیال کہ لڑکیوں کوپڑھانا فضول ہے۔

ہمارے سماج میں مغربیت کا اتنا گہرا اثر ہے کہ لڑکیوں کو انجنئیرنگ، طب اور قانون کی تعلیم کے لئے الگ کالج نہیں ہیں۔ مخلوط تعلیم کی وجہ سے ہمارا سماج بہت بڑے نقصان کا شکار ہو رہا ہے۔

مغربیت کی نقالی نے ہمارے سماج کو کافی حدتک مؤثرکردیاہے۔ہماری لڑکیاں اور عورتیں پردہ کرنا تو درکنار اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھنا بھی انہیں بہت بھاری لگتاہے۔ آج کل اوڑھنیاں صرف ان کے گلے کی زینت بن کر رہ جاتی ہیں۔ بعض عورتیںاور لڑکیاں فیشن میں مغربی لوگوں سے بھی سبقت لے جاتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ان عورتوں پر سخت وعید کی ہے جو خوشبو لگاکر گھر کے باہر نکلتی ہیں اور غیر مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

مسلم صحیح میں حدیث بیان کی گئی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں، لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہیں اور مردوں کی طرف متوجہ رہتی ہیں ان کے سر بختی اونٹ کے ٹیڑھے کوہان کی طرح ہیں۔ وہ نہ تو جنت میں جائیں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی۔

ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ محوگفتگو تھے کہ حضرت اسماء ؓ تشریف لائیں۔ وہ نہایت مہین کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور حکم دیا کہ فوراً اپنے کپڑے بدلیں۔اور فرمایا کہ اپنے بدن کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی کو نہ دکھائیں۔

سور النور کی آیت ۳۱ میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان عورتوں سے کہوکہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہرنہ کریں۔سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنی گریبانوں پراپنی اوڑھنیاں اوڑھے رہیں اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا اپنے ایسے نوکرچاکر مردوں کے جوشہوت والے نہ ہوںیا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔اور اس طرح زورزور سے پاؤں مارکر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہوجائے۔اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کروتاکہ تم نجات پاؤ۔ ‘‘

اس آیت اور اس واقعے پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ جو لڑکی پردہ کی پابند رہتی ہے وہ نہ صرف برے لوگوں کی نظروں سے دورہوتی ہے بلکہ اپنی عفت و پاک دامنی کا خیال رکھتی ہے۔

ہم جب اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ برائیوں کا ایک طوفان ہے جس میں ہم اور ہمارے بچے جی رہے ہیں۔ ایسے میں ان کے دین و اخلاق کی حفاظت ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ برائیوں کے طوفان میں ان کی حفاظت کے لیے ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر مسلسل سوچتے رہنا چاہیے۔ ذیل میں چند باتوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے:

۱۔ ہمیں بچوں کی جتنی بھی اونچی دنیوی تعلیم دینی ہو دیں مگر اس بات کا خیال رہے کہ سب سے پہلے انہیں دینی تعلیم سے مستفید کریں۔

۲۔لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیںتاکہ وہ آگے چل کر اچھی مائیں ثابت ہوں۔ لڑکیاں جس قدر اعلی تعلیم حاصل کریں گی اتنی وہ اپنے بچوں کو بہترتعلیم دے سکیں گی۔

۳۔اگر لڑکیوں کو مخلوط تعلیم دینے کی ضرورت پڑے تو اس بات کا خاص اہتمام کریں کہ وہ لڑکوں سے کافی محتاط رہیں اور اپنی عفت و پاک دامنی کی حفاظت کریں۔

۴۔ عورتیں مغربیت کی نقل کرنے سے گریز کریں اور پردے کا سختی سے اہتمام کریں۔

۵۔ لڑکیوں اور لڑکوں میں یہ شعور پختہ کردیں کہ وہ انٹرنیٹ ، فیس بک، ٹویٹر (Twitteer)، لینکڈ ان (Linked in ) وغیرہ کا صحیح استعمال کررہی ہیں۔

۶۔ اگر عورتوں کو ملازمت کرنے کی اشد ضرورت پڑجائے تو وہ ایسی جگہ نوکری تلاش کریں جہاں صرف عورتیں ہوں یا نہیں تو وہاں مرد گنے چنے ہوں تاکہ وہ ان مردوںکے ظلم اور فحاشی سے محفوظ رہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلیم شاکر چنئی

Leave a Reply