بچے اور سیرتِ نبوی ﷺ

صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین اپنے بچوں میں نبی کریمﷺ کی محبت راسخ کرنے کے لیے قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ سیرت النبی کا درس دیتے تھے۔ چناںچہ حضرت زین العابدینؓ فرماتے ہیں۔ ’’ہم آپؐ کے مغازی کی تعلیم اس طرح حاصل کرتے تھے، جس طرح قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔‘‘

سمعانی کہتے ہیں: ’’والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو آپ کی سیرت سے روشناس کرائیں۔ انہیں بتائیں کہ آپ مکہ میں پیدا ہوئے، قیامت تک آنے والے تمام جن و بشر کی طرف مبعوث ہوئے اورمدینہ منورہ میں ان کا روضہ اقدس ہے۔ ان کی اطاعت واجب ہے۔ ان کے ساتھ محبت جزوِ ایمان ہے۔‘‘ (نہج التربیۃ النبویۃ للطفل)

ذیل میں عظیم مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کے بچپن کا ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سیرت النبیﷺ کا مطالعہ کرنے سے انسانی شخصیت پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں اور نبی کریمؐ کی محبت دل میں جاگزیںہوتی ہے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اپنی کتاب ’’الطریق الی المدینۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’میں ایک ایسی عظیم کتاب کے متعلق گفتگو کروں گا، جس کی عظمت میرے قلب و جگر میں موجزن ہے، جس کے مصنف کے لیے دعا گو ہوں، اس کتاب کا نام ’’سیرت رحمۃ للعالمین‘‘ ہے، جس کے مصنف قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ ہیں۔ اس کتاب کے حصول کا ایک دلچسپ واقعہ ہے، وہ یہ کہ میرے والد محترم وفات پاچکے تھے، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔ میرے بڑے بھائی میری کفالت و تربیت فرماتے تھے۔ ان کی بھرپور کوشش ہوتی کہ میں بچپن ہی سے مطالعے کا خوگر بنوں۔ وہ میرے مطالعے کے لیے سیرت کی کتابوں کو منتخب فرماتے۔ سب سے پہلے انہوں نے جو کتاب پڑھنے کے لیے مجھے دی وہ ’’سیرت خیر البشر‘‘ تھی۔

سیرت کی کتب کے مطالعہ سے سیرت سازی، عقیدے کی پختگی، اخلاق کی درستی، کردار کی بلندی اور ایمان کی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ ایک دن میری نظر ایک کتاب پر پڑی، جس کے اوپر لکھا تھا ’’رحمۃ للعالمین‘‘ مجھے کتابوں کی فہرست دیکھنے اور کتاب کے متعلق اشتہارات پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ پڑھنے کا شوق دل میں موج زن ہوا۔ کتاب منگوانے کے لیے خط لکھا۔ مگر قیمت ادا کرنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ کیوں کہ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا۔ دس سال میری عمر تھی۔ رقم وغیرہ کا انتظام کم ہی ہوتا تھا۔ ایک دن ڈاکیا کتاب لے کر ہماری بستی کی ڈاک کے ساتھ حاضر ہوا۔ کتاب کو تو دیکھا، مگر اس کو وصول کرنے کے لیے میرے پاس رقم نہیں تھی۔ امی جان سے طلب کی۔ مگر انہوں نے معذرت کرلی، حالاں کہ وہ اپنے یتیم بچے کی ہر خواہش کو پورا کرنے کے لیے حتی الامکان کوشش فرماتیں۔ مگر اس وقت ان کے پاس رقم نہیں تھی۔ اس مرحلے میں مجھے کوئی سفارشی و مددگارنہیں ملا۔ مگر جس نے غزوۂ بدر میں چھوٹے عمیر بن وقاصؓ کو غزوہ میں شرکت کی درخواست پر اس کی دل داری کی، اس کی تمنا کو پورا کرکے شامل غزوہ ہونے کی اجازت دی، یقینا وہی انسانوں کے آنسوؤں کا مداوا، اللہ کے نیک بندوں کی درخواستیں سننے والا ہے۔

میری حالت کو دیکھ کر میری رحم دل و شفیق والدہ کا دل نرم ہوا، میرے لیے کتاب خریدنے کا انتظام فرمایا، میں نے کتاب وصول کرلی اور پڑھنا شروع کردی۔ یہ کتاب میرے دل پر اثر انداز ہونے اور میرے دل کو حرکت دینے لگی۔ ایسی عظیم اور پر کیف حرکت جیسے پرسرور رات میں ہر شاخ جھومنے اور حرکت کرنے لگتی ہے۔ فاتحین اور بڑے بڑے بہادروں پر لکھی گئی کتب اور سیرت پر تحریر کردہ کتب کے درمیان یہی عظیم فرق ہے کہ فاتحین پر لکھی گئی کتب دل پر حملہ آور ہوتی ہیں اور سیرت طیبہ پر مشتمل کتابیں دل کو سرور و فرحت بخشتی ہیں۔

کتاب کے مطالعے کے دوران میں عجیب لذت سے سرشار ہوا۔ وہ ایسی لذت تھی، جو دیگر تمام لذتوں سے مختلف تھی، جن سے میں بچپن میں آشنا تھا۔ اس کی لذت سخت بھوک کے وقت لذیذ کھانے کی طرح تھی۔ میں اس کا اعترا ف کرتا ہوں کہ اس لذت کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ البتہ یہ کہہ سکتاہوںکہ یہ لذت روحانی قسم کی لذت تھی۔ جیسے بڑے روحانی لذت کا شعور رکھتے ہیں، بچے بھی اس دولت سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

اس کتاب میں، میں ان مسلمانوں کی خبریں بھی پڑھتا رہا، اسلام لانے پر مشرکین جن کو عذاب میں مبتلا کرتے تھے۔ وہ (مسلمان) انتہائی ثابت قدمی، صبر و استقامت اور پامردی کے ساتھ برداشت کرتے تھے۔ بلکہ میں یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں کہ وہ لذت و سرور کے ساتھ برداشت کرتے تھے۔ میں جانتا ہوں، اس کی لذت عظیم ہے، جس سے بڑے بڑے اغنیا، اقویا اور صالح کہلانے والے لوگ بھی واقف نہیں ہیں۔ حق پر چلنے والے اس لذت سے سرشار ہوتے ہیں۔ مجھے اس لذت کی شیرینی اب بھی محسوس ہوتی ہے۔ میرا نفس چاہتا ہے کہ وہ لذت ایک مرتبہ اور نصیب ہوجائے۔

اس کتاب میں، میں نے آپﷺ کی ہجرت کا واقعہ بھی پڑھا، جس میں آپؐ کے مدینہ منورہ میں داخل ہونے کا قصہ بڑا پرکیف ہے کہ ہر قبیلہ بڑے اخلاص، محبت اور تمنا کے ساتھ یہ درخواست کر رہا ہے کہ یا رسول اللہ! میزبانی کی عظیم سعادت سے ہمیں نواز دیجئے۔ آپؐ فرماتے جاتے کہ اونٹنی کو اپنے حال پر چھوڑ دیں، یہ مامور من اللہ ہے، اونٹنی چلتے چلتے اس مقام پر جاکر بیٹھ جاتی ہے، جہاں آج کل مسجد نبوی کا دروازہ ہے، جو اس وقت عظیم سعادت مند، رسول اللہؐ کی میزبانی کے شرف سے مشرف ہونے والے صحابی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا گھر تھا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی فرحت و سرور اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ میں یہ واقعات پڑھتا گیا اورمجھے ایسا لگتا رہا، گویا میں اس منظر کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں اور لذت و سرور سے معمور ہوں۔میں اس کتاب میںغزوۂ احد کا وہ عجیب واقعہ بھی پڑھتا رہا، جس میں قربانی دینے کی مثال کائنات عالم میں کوئی پیش نہ کرسکا، جس میں وفا، اخلاص، شجاعت و بہادری، ایمان، یقین اور اخلاق کی عظیم مثالیں تھیں۔ مجھے ایک صحابیؓ کے قول سے بھی بڑی لذت محسوس ہو رہی تھی کہ جس میں انہوں نے فرمایا تھا: ’’میں احد پہاڑ کی طرف سے جنت کی کوشبو سونگھ رہا ہوں۔‘‘ میں کتاب میں حضرات صحابہ کرامؓ کی محبت وقربانی کے قصے پڑھ کر کبھی اشک بار اور گریہ کناں ہوتا، تو کبھی فرحت و سرور میں جھوم جاتا۔

ہمیں اپنے بچوں کو سیرت رسولِ اکرمﷺ سے ضرور روشناس کرانا چاہیے اور اس کے لیے سیرت کی کتب کو منتخب کرنا چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حافظ محمد اقبال

Leave a Reply