لفافہ

حجاب کے نام

مطالعہ سیرت

ماہ دسمبر کے شمارے میں گوشۂ سیرت دیکھ کر احساس ہوا کہ ربیع الاول کا مہینہ آنے والا ہے۔ اور اس مہینے میں سیرت پاک کے جلسوں کا موسم ہوتا ہے۔ جلسے منعقد ہوتے ہیں، مجلسیں سجائی جاتی ہیں، درود و سلام کی محفلیں ہوتی ہیں اور حضور پاکؐ سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ کی ذات گرامی کا ذکر اور درود و سلام باعث گیر و برکت ہیں، جن پر اللہ اور اس کے ملائکہ درود و سلام بھیجتے ہیں ان کی عظمت کا کیا کہنا۔ مگر یہ سب دیکھ کر دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے ایک درد اور کسک کی کیفیت ہوتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ ذات جس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے لاکھوں مصیبتیں اٹھائیں، طائف میں پتھر کھائے، مکے کی گلیاں عذاب بن گئیں اور بالآخر اپنا پیارا وطن چھوڑنا پڑا۔ کیوںکہ وہ انسانوں کو توحید کی دعوت دیتے تھے او رلوگ اسے ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ انسانوں کو جہنم کے عذاب سے بچانا چاہتے تھے اور لوگ اسی کی طرف بھاگے جاتے تھے۔ ان انسانوں کے لیے آپ کا تڑپنا اور آپ کا درد اور ان کو سمجھانے بجھانے کی کوششیں؟ ہزاروں زندگیاں قربان ہوں اس ذات پر اور درود و سلام ہو!

آپ کی پاک زندگی کا ذکر اور ہماری نفاق اور بے دینی سے بھری زندگی، آپ کا دین کی دعوت کے لیے دن رات دوڑنا اور ہماری بے فکری، آپؐ کا دن کو دوڑ بھاگ کرنا اور رات کے آدھے حصے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونا اور ہمارا ٹی وی دیکھتے ہوئے سو جانا اور فجر کا غائب ہو جانا، اور فجر ہی کیا اس نماز سے غافل رہنا جو آپؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آہ! کیا یہ محبت کے دعوے اور کہاں یہ بدعمل اور بے عمل زندگی۔ آپ سے محبت کے دعوے اور آپ کے بتائے راستے سے دوری۔ کیسی محبت ہے یہ اور کہاں کا آپ کی غلامی کا دعویٰ۔

پورے مسلم سماج کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ رسولؐ سے محبت اور آپ کی سنت سے دوری، آپ کے بتائے ہوئے راستے کو عملاً چھوڑ دینا، یہ دو رنگی نہیں تو اور کیا ہے؟

اے ہمارے رب ہمیں اس نفاق کی دَل دَل سے نکالنے کا سامان فراہم کردے اور ہمیں اپنے پیارے رسول کے طریق زندگی کو اپنانے کی توفیق عطا فرما۔

قارئین حجاب اسلامی! آئیے عہد کریں کہ ہم رسول پاکؐ سے محبت کے دعوے کا ثبوت اپنی عملی زندگی میں آپ کے راستے کو اختیار کر کے دیں گے۔ اور اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو تمام محفلیں اور سجاوٹیں بے کار اور آخرت کی ذلت و رسوائی کا سامان ہوں گی۔ سوچئے اور رسولؐ کے سچے محبت کرنے والے بنئے!

محمود خضر، زکریا اسٹریٹ، کولکاتہ

بیٹی بولتی ہے

حجاب اسلامی کا تازہ شمارہ ملا۔ شیخ سمیہ تحریم کی تحریر ’’بیٹی بولتی ہے‘‘ بہت پسند آئی ہے۔ دراصل یہ جذباتی تحریر ہے، مگر اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی فکری تربیت میں ان کے والدین کا غیر معمولی رول ہے۔

یہ تحریر پڑھ کر ان کے بارے میں جاننے کا اشتیاق ہوا۔ اس سے پہلے بھی میں ان کی تحریریں پڑھتی رہی ہوں اور مجھے اچھی لگتی ہیں۔ براہِ کرم ان کا تعارف کرائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کے زور اور فکری پختگی میں روز افزوں ترقی دے۔ آمین

عبد الصمد، گونڈہ (یوپی)

[عبد الصمد صاحب! سمیہ تحریم اورنگ آباد کے شیخ امتیاز صاحب کی بیٹی ہیں۔ جو کامیاب انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ معروف کالم نگار بھی ہیں۔ سمیہ ابھی MBBS کی طالبہ ہیں۔]

پردہ کی اہمیت

دسمبر کا حجاب اسلامی ملا۔ تمام مضامین اچھے لگے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں کا رول بہت اچھا لگا۔ اسی طرح برطانیہ میں حجاب کی مقبولیت بھی پسند آیا۔ یہ مضمون موجودہ زمانے میں جدید تعلیم یافتہ خواتین و طالبات کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ خاص طور پر ان خواتین و طالبات کے لیے جو کسی نہ کسی حد تک حجاب کو اپنے لیے شرمندگی او رپسماندگی کا سبب تصور کرتی ہیں۔

اس مضمون سے یہ بات بہت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اگر پردہ کرنے والی مسلم خواتین شعور اور شرح صدر کے ساتھ اس کا استعمال کریں تو ہرگز ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں ہر طرف خواتین کو جنسی ہراسانی اور تشدد کا سامنا ہے، پردہ ان کے لیے تحفظ کا حصار فراہم کرتا ہے۔

اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اس کی اہمیت اور ضرورت کو بہ آسانی دیگر خواتین کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین اسے روایت کے طور پر نہیں بلکہ اللہ و رسولؐ کے حکم کی شعوری اتباع کی فکر کے ساتھ اپنائیں۔

ڈاکٹر کوثر تسلیم

مراد آباد (یوپی)

ایک اہم مسئلہ

نومبر کا حجاب اسلامی سامنے ہے۔ حجاب اسلامی خواتین کا وہ منفرد رسالہ ہے جو انہیں صحت مند فکر اور دینی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس وقت خواتین کے جو بھی رسائل مارکیٹ میں ہیں ان میں دینی شعور اور صحت مند اسلامی فکر کا فقدان ہے۔ بلکہ میں کہہ سکتی ہوں کہ وہ وہی کچھ پیش کر رہے ہیں جو مغربی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ اردو زبان میں ہیں اور ضرورت کے لیے دین کا سہارا لیتے ہیں۔

حجابِ اسلامی میں ایک چیز کی کمی کا احساس ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ابھی تک حجابِ میں مسلم سماج کے اہم اشوز زیر بحث نہیں آئے ہیں اور انہیں آنا چاہیے تھا۔ مثال کے طور پر انٹر ریلجن شادیاں، مسلم لڑکے غیر مسلم لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں تو ان کا نام روایتی طور پر بدل دیا جاتا ہے اور انہیں مسلمان تصور کیا جاتا ہے حالاں کہ ذہن و فکر اور معاشرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اسی طرح مسلم لڑکیاں بھی غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کرتی ہیں اور وہ بھی اسی رنگ میں رنگ جاتی ہیں۔ یہ ایک تکلیف دہ کیفیت ہے۔ ان باتوں سے جو معاشرہ پروان چڑھتا ہے وہ ایک ’’کوک ٹیل‘‘ ٹائپ ہوتا ہے۔ اور اس سے کوئی خیر کی توقع محال ہے۔ بلکہ وہ مسلم سماج میں انتشار اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

ایسے میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کے اندر دین کا پختہ شعور پیدا کریں کہ وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں برائی کی زد سے محفوظ ہوجائیں۔ اس قسم کی معاشرتی برائیوں پر کھل کر بحث کرنے کی اور مسلم سماج کو خبردار کرنے کی ضرورت ہے۔lll

ڈاکٹر حرا تمکین (بذریعہ ای-میل)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply