نربھیا کیس سے اٹھے سوالات

اب سے پورے تین سال پہلے دہلی میں ہوئے نربھیا گینگ ریپ کیس نے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ ۱۶؍دسمبر کی شب ایک لڑکی کے ساتھ چلتی بس میں نہ صرف چھ افراد نے گینگ ریپ کیا تھا بلکہ اس کے ساتھ جنسی حیوانیت اور تشدد کے بعد اسے نیم مردہ حالت میں سڑک پر پھینک دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہونے والی حیوانیت اور درندگی اس قدر شدید تھی کہ تمام تر علاج ومعالجے کے باوجود وہ بچ نہ سکی اور موت کے منھ میں چلی گئی۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے جن افراد کو اس جرم میں گرفتار کیا تھا ان میں دیگر کئی افراد کے ساتھ ایک ۱۵؍سال کا لڑکا بھی تھا، اور کہاجاتا ہے کہ اسی نے اس لڑکی کو بس میں بٹھایا تھا۔ جبکہ اس کے ساتھ زیادتی میں دیگر افراد بھی شریک تھے مگر اس پورے کیس میں جو بات ابھر کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ تمام زیادتوں، جسمانی تشدد اور جسم میں سلاخیں گھسانے کا جرم اسی نوجوان پر ڈال دیا گیا تھا۔ پولیس کی رپورٹ اور تفتیش میں یہ بات کہی گئی کہ وہی اس پورے کیس میں آگے آگے تھا اور اسی نے زنا کے بعد جسمانی تشدد کیا۔ دیگر مجرمین کا جرم اور اس میں ان کی شرکت اگرچہ برابر کی تھی مگر پورے کیس میں جو بات زیر بحث آئی اور آج بھی ہے وہ وہی لڑکا ہے جس کی عمر ۱۵ سال تھی اور بچوں کی جیل میں، جسے ’سدھار گرہ‘ یعنی اصلاح کا مرکز کہا جاتا ہے، رکھا گیا تھا۔ اس سدھار گرہ میں مجرم کو قانون کے مطابق صرف ۱۸؍سال کی عمر تک ہی رکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے وہ گزشتہ دنوں رہا کردیا گیا۔

جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا اس وقت بھی سوالات اٹھائے گئے تھے کہ گینگ ریپ اور قتل کا مجرم نوجوان بالآخر تین سال بعد بغیر کسی سزا کے رہا ہو جائے گا آخر اس کو سزا کیا ملے گی۔ اس سے پورے ملک کے عوام نے یہ محسوس کیا کہ ملک میں جووینائل جسٹس کا جو نظام ہے وہ کارگر نہیں کہ سنگین سے سنگین جرم کرنے والا اگر اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہے تو اٹھارہ سال کا ہونے تک کی مدت سدھار گرہ میں گزار کر بالآخر سڑکوں پر آزاد گھومتا پھرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مظلوم کی زندگی چلی گئی اور ظالم اپنی تمام تر سنگینی جرم کے باوجود محض چند سال کی مدت سدھار گرہ میں گزار کر آزاد ہوجائے گا۔ چنانچہ ملک کے عوام، دانشوران اور مظلوم کے سرپرستوں نے اس بات کا احساس کیا کہ اس پورے عمل سے مظلوم کو انصاف تو نہیں ملا اور اسی کے نتیجے میں جووینائل جسٹس نظام کی ناکامی کو محسوس کیا گیا۔

تین سال قبل جب یہ واقعہ ہوا تھا ،اسی وقت سے سماجی خدمت کے میدان میں کام کرنے والے، ماہرین سماجیات اور قانون دانوں نے اس نظام پر سوالات اٹھائے تھے اور اس بات کا اظہار کیا تھا کہ اس نظام میں بنیادی قسم کی تبدیلی اگر نہ کی گئی تو نابالغوں کے جرائم میں بھی اضافہ ہوگا اور مظلومین کو انصاف ملنے کی امید بھی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ جووینائل جسٹس سسٹم میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں گی کہ نابالغ مجرم جرم کرنے کے بعد مناسب سزا پاسکیں گے اور مظلوم کو انصاف ملنے کی امید بڑھے گی مگر تین سال گزرجانے کے باوجود اس نظام کی اصلاح کی جانب کوئی قدم نہ اٹھایا جاسکا۔ حکومت نے عوام کو ’لولی پاپ‘ دینے کی کوشش کی اور بلوغت کی عمر جو ابھی ۱۸ سال ہے اسے کم کرکے ۱۶ سال کرنے کی تجویز دی جو بعد میں واپس لے لی گئی اور معاملہ وہیں کا وہیں رہا۔

اب جبکہ مجرم اٹھارہ سال سے تک کی عمر سدھار گرہ میں گزار کر آزاد کردیا گیا ہے، ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں شدید قسم کی بے چینی نے سراٹھایا ہے اور عوام اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، میڈیا میں بحث چل رہی ہے اور ریاستی و مرکزی حکومتوں پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور ان سے سوال کیا جارہا ہے کہ تین سال کی طویل مدت میں حکومتی سطح پر اس نظام کی اصلاح کی کیا کوشش ہوئی۔

گزشتہ تین سالوں میں دہلی میں بھی نئی سیاسی پارٹی نے اقتدار سنبھال لیا اور مرکز میں بھی حکومت بدلے تقریباً دوسال کا عرصہ گزرگیا مگر اس سمت میں ایک قدم بھی آگے نہ بڑھایا جاسکا۔ جبکہ مرکز اور ریاست دونوں ہی جگہ پر حکومت کرنے والوں نے خواتین کے تحفظ کو اپنے انتخابی ایجنڈے میں شامل کیا تھا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس مدت میں مختلف اداروں کے ذریعہ اس مسئلے پر حکومتوں کو سفارشات اور تجاویز بھی پیش کی گئی تھیں اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ معاملہ سرکاری فائلوں میں دب جانے کے سبب نظر انداز ہوگیا۔

نربھیا گینگ ریپ کیس تو اتفاق سے اپنی سنگینی اور راجدھانی کا معاملہ ہونے کے سبب میڈیا میں زیر بحث آکر ایک نمائندہ کیس بن گیا ورنہ آج بھی اس ملک میں نونہال بچیوں کے ساتھ حیوانیت کے واقعات اخبارات کو سیاہ کیے رہتے ہیں اور کتنے مجرم محض کم عمری کا فائدہ اٹھا کر اپنے جرائم کی قرار واقعی سزا پانے سے بچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم نابالغوں کے جرائم میں ہوش ربا اضافے کو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرہ کہاںجارہا ہے اور ہمارا عدالتی نظام کس قدر کمزور اور لاچار ہے۔ آج جنسی جرائم سے لے کر لوٹ مار، پھروتی کے لیے اغوا اور قتل تک کے معاملات میں نوعمروں کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔ یہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے کہ اس پر اگر قابو نہ پایا گیا تو ملک عن قریب نابالغوں کے جرائم کی آماجگاہ بن جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ نابالغوں کے جرائم کے بڑھتے تناسب کے سامنے بند باندھنے کی سنجیدہ اور کارگر جدوجہد کی جائے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمیں اپنے سماج اور معاشرے کو بچانا ہے اور اپنی نئی نسل کو بھی جرائم کی راہ کے بجائے تعمیر اور ترقی کی راہ پر لگانا ہے۔

ہمارے خیال میںاس سلسلے میں تین جہتوں میں کوششیں شروع کی جانی چاہئیں:

پہلی جہت گھر، خاندان اور تعلیمی ادارے ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے ساتھ ذہن سازی بھی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کی طرف بڑھ رہا ہے اور والدین بچوں کی تربیت اور تعمیری ذہن سازی سے غافل ہوتے جارہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا تعلیمی نظام جن افکار و نظریات کی ترویج کا ذریعہ بن رہا ہے وہ نئی نسل میں جرائم کے رجحان میں اضافہ کا سبب ہے۔ تعلیمی اداروں میں تہذیب و تمدن اور اخلاق و کردار سے آزاد زندگی کا جو تصور دیا جارہا ہے وہ اپنے آپ میں فساد کا سبب ہے۔ لہٰذا جہاں والدین اپنی اولاد کی تربیت تعمیرِ اخلاق و کردار کو سامنے رکھ کر کریں وہیں تعلیمی اداروں میں مغربی تہذیب و ثقافت کے بجائے مشرقی تہذیب پر مبنی ماحول ہونا چاہیے جہاں مذہبی اخلاقیات پر زور ہو اور جو آزادیٔ بے مہار کی اجازت نہیں دیتا۔

دوسری اہم جہت پولیس اور انتظامیہ ہے جو جرائم کو ختم کرنے کے بجائے جرائم کو چھپانے کی اور مظلوم کی حمایت کے بجائے ظالم کو بچانے کی مختلف وجوہات سے کوشش کرتی ہے۔ یہ کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ ملک میں پولیس کی امیج جرائم کو ختم کرنے والے ادارے کے بجائے مجرمین کی مربی اور ان کے سرپرست کی بنتی جارہی ہے۔ اس امیج اور اس طرزِ عمل کا خاتمہ اگرنہ کیا گیا تو جرائم پر قابو پانا ناممکن ہے۔

تیسری جہت عدالتی نظام ہے جو اپنی سست روی کے سبب اپنا وقار و احترام کھوتا جارہا ہے اور انصاف بھی بے معنی ہوتا جارہا ہے۔ نچلی عدالتوں میں دلائل و شواہد کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اور مجرمین کس طرح چیزوں کو مینیج کرکے عدالتی نظام کو ہیک کرلیتے ہیں اس پر سنجیدگی سے سوچنے اور ٹھوس قانونی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سمت میں سنجیدہ کوششوں کا مطلب ہے کہ ہم اپنے سماج، اپنی نئی نسلوں اور نصف انسانیت یعنی خواتین کا حقیقی تحفظ چاہتے ہیں — اور — حقیقی تحفظ کا جوموثر نقشۂ کار ہے اسے لوگ فنڈامنٹلزم یا بنیاد پرستی کہہ کر رد کردیتے ہیں حالانکہ سماج کے باشعور اور کبھی کبھی قانون کے نافذ کرنے والے تھک ہار کر اسی کو مسائل کا حل کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply