کامیاب شخصیت کے فکری عناصر

الف: ایک شخص گاؤں سے اپنے رشتے دا رکو گھر دکھانے کے لیے لایا۔ شہری نے اسے اپنا مکان دکھایا۔ دیہاتی کے لیے سب چیزیں حیران کن تھیں، مگر جب شہری نے اسے غسل خانہ دکھایا تو ا سکی حیرانی اور بھی بڑھ گئی اور وہاں کوئی بالٹی ڈرم اور مٹکے وغیرہ نظر نہ آئے جن میں پانی بھرا ہوتا۔ وہ یہی سوچتا رہا کہ بظاہر یہ لوگ اتنے ترقی یافتہ ہیں مگر پانی کے بغیر کیسے گزارا کرتے ہوں گے؟

دیہاتی کے ذہن میں تہذیب و تمدن کی ایک علامت، پانی کا استعمال تھا۔وہ اسے وہاں نظر نہیں آیا اس لیے فوراً ہی حیرانی میں مبتلا ہوگیا۔ اس کی نظر ان پائپ لائنوں اور نلوں کی طرف نہیں گئی جنھیں عقل نے سہولت کا ذریعہ بنایا تاکہ پانی بھرنے کی تکلیف سے انسان بچ جائے۔ بعض لوگوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہی سوچ میں گم ہوتے ہیں او ران کے نزدیک ان کا اپنا طریقہ کار ہی سب سے بہتر ہوتا ہے۔ وہ عموماً باقی لوگوں کو کم ترسمجھتے ہیں۔ آپ اپنی سوچ اس جال سے باہر آنے کی کوشش کیجیے۔

ب: ایک امریکی وسط ایشیا کے کسی علاقے میں گیا۔ وہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچی تھی۔ علاقے کے باسی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ اس رہائشی نے امریکی سے مٹی کے تیل سے چلنے والے اپنے فانوس کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ کیا امریکہ میں یہ چیز استعمال ہوتی ہے؟ امریکی نے جواب دیا کہ کہیں کہیں اور بہت کم۔ ایشیائی باشندہ یہی سمجھا کہ امریکہ اتنا پسماندہ ہے کہ وہاں روشنی کا یہ ذریعہ ابھی پہنچا ہی نہیں اور اسے امریکیوں کی غربت پر افسوس بھی ہوا، مگر صورت حال یہ تھی کہ اس شخص نے مٹی کے تیل سے جلنے والے فانوس ہی کو ترقی کی علامت سمجھا اور امریکہ میں اسی کی موجودگی کے متعلق سوال کیا تھا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں بجلی اور توانائی کا استعمال ہو رہا تھا۔

ہم میں سے اکثر لوگوں کا معاملہ بھی مختلف نہیں ہے۔ سب کے اپنے ترقی کے تصورات ہیں اور وہ انہی سے دوسروں کو ناپتے ہیں۔ وہ نظارہ اور مشاہدہ نہیں کرتے، بس اپنے ہی قفس میں بند رہتے ہیں اور اسی کو کائنات سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس ذہنی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کریں اور اقدار کو ناپنے کے پیمانے تبدیل کریں۔

ج: کہتے ہیں کہ جب آٹو موبائل موٹر گاڑی ایجاد ہوئی تو اس زمانے میں امریکہ ہی کا ایک دیہاتی جاگیردار نیویارک شہر پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں گاڑیاں (جو ابھی ابتدائی مراحل میں تھیں اور گھوڑا گاڑی سے مشابہت رکھتی تھیں) کافی تیزی سے سفر کر رہی ہیں۔ اس دیہاتی نے معلومات حاصل کیں کہ وہ اتنی تیز کیسے چلتی ہیں؟ لوگوں نے بتایاکہ ان میں طاقت ور انجن نصب ہے۔ اس شخص نے معلوم حاصل کر کے کسی فیکٹری سے ایسا ہی انجن خریدلیا، اپنے دیہات واپس آیا، اس انجن کو اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق اپنی گھوڑا گاڑی میں جوڑ دیا اور اسے مع گھوڑا چلانے کی کوشش کی۔ گھوڑا اپنی عمومی رفتار سے بھاگنے لگا اور دیہاتی پریشان تھا کہ انجن لگنے کے باوجود اس کی گھوڑا گاڑی میں وہ تیزی پیدا نہیں ہوئی جو نیویارک میں اس کے مشاہدے میں آئی تھی۔

وہ شخص در اصل نیویارک کی گاڑی کی ہیئت اور ترکیب کا مطالعہ نہیں کرسکا کہ انجن لگانے کے لیے گھوڑے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ گاڑی کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ گھوڑا گاڑی اور موٹر گاڑی دو مختلف نظاموں کی شکلیں ہیں۔ ایک کے نظام کو دوسرے میں لگا کر کام نہیں چلا جاسکتا۔

کچھ یہی کیفیت ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو مغرب اور امریکہ ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور ان کی چند چیزوں کو ہمارے معاشرے میں پیوست کرنے کی کوش کرتے ہیں جب کہ دونوں معاشروں کی بنیادیں بالکل مختلف ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں عقل کے استعمال کی ضرورت ہے۔

فکری طو رپر شخصیت کی تعمیر کے لیے ہمیں درج ذیل عناصر کی ضرورت پڑتی ہے:

عقل انسانی

یہ انسان کے بڑے بڑے مسئلے حل کردیتی ہے۔ کسی زیر تعمیر گیراج کی دیوار میں ایک سوراخ تھا۔ اتفاق سے پرندے کا ایک بچہ اس سوراخ میں گر گیا۔ سوراخ تقریبا اڑھائی فٹ گہرا، چار انچ لمبا اور ڈیڑھ انچ چوڑا تھا۔ گیراج کی تعمیر میں مصروف مزدور بہت پریشان ہوئے کہ اب اس پرندے کے بچے کو باہر کیسے نکالا جائے؟

ایک دس سالہ لڑکا وہاں کسی کام سے پہنچ گیا۔ اس نے یہ منظر دیکھا تو کچھ دیر دماغ لڑانے کے بعد ریت کا ایک ڈولچہ لیا اور مٹھی بھر کے تھوڑی تھوڑی ریت وقفے وقفے سے سوراخ میں گراتا گیا۔ سوراخ جیسے جیسے ریب سے بھرتا گیا، بچہ اوپراٹھتا آیا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد اس لڑکے کی ذہانت سے بچہ باہر نکل آیا۔

اس لڑکے نے یقینا اپنے ذہن کے ذریعے بہت سارے حل تلاش کیے ہوں گے۔ مندرجہ بالا عقلی ترکیب کے استعمال نے اسے کامیابی عطا کی۔ در حقیقت عقل سلیم کا استعمال بہت سارے مسائل حل کردیتا ہے۔

ایک او رمثال، ایک شخص پیاس کے باعث بہت پریشان تھا۔ اسے کنواں نظر آیا مگر وہاں ڈول نہیں تھا۔ وہ نیچے اترا، پانی پیا اور باہر نکل آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کے مارے زبان نکالے کھڑا ہے۔ اسے احساس ہوا کہ کتے کو بھی میری طرح پیاس لگی ہوگی۔ اس نے عقل استعمال کی اور دوبارہ کنویں میں اترا، اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھرا، اسے دانتوں سے پکڑ کر اوپر لے آیا او رکتے کو پانی پلایا۔ روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس نیکی کے باعث بخش دیا۔ اس شخص نے کیا کیا؟ اسے احساس تھا کہ ایک جاندار پیاسا ہے، اسے ہمدردی ہوئی اور اس نے عقل کو استعمال کیا، یوں کامیابی کی بشارت ہوگئی۔

نبی کریمﷺ نے اپنے ابتدائی زمانے میں حجر اسود کا مسئلہ چادر کے ذریعے حل کر کے ایک بہت بڑی ممکنہ جنگ کو ختم کیا اور ہر ایک کو مطمئن، شریک اور خوش کر کے سب کی جیت کا تصور دیا۔ انسان نے عقل کے استعمال سے نئی نئی غذاؤں کے راز دریافت کیے، نت نئے ریشوں سے لباس بنائے، بڑے بڑے پل، فلک بوس عمارتیں، کارخانے، گھر بنائے اور مختلف مقاصد کے لیے بے شمار چیزیں پیدا کرلیں۔

اس نے زمین سے معدنی چیزیں نکالیں اور انھیں لوہے، ایلومینیم، سیسے، تانبے، ٹین اور دوسری دھاتوں کی شکل دی۔ یہ دریافت کیا کہ ایندھن محفوظ طریقوں سے کیوں کر جلایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ عقل کے استعمال کی بدولت ہی ہوا۔ عقل کے استعمال سے لاتعداد مسائل حل ہوتے ہیں۔ نصب العین اور مقاصد زندگی کو سامنے رکھ کر اور اپنی ذات کے مفاد کو بیچ میں لائے بغیر یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے ذہن سے عقل سلیم کو جنم دیں۔

عقل معیار ہے!

یہ سب سے بڑی بخشش اور اللہ کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ اسی سے نیکیوں کے اصول بنتے ہیں، انجام کا لحاظ کیا جاتا ہے باریکیوں کو سمجھا جاتا ہے اور فضائل حاصل کیے جاتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کسی شخص کے اسلام کو اس وقت تک بلند مرتبہ نہ کر سمجھو جب تک کہ اس کی عقل کی گرفت کونہ پہچان لو۔‘‘ ابو زکریا کا قول ہے کہ جنت میں ہر مومن اپنی عقل کے مطابق لذت حاصل کرے گا۔ حضرت امام احمد بن حنبل کا مقولہ ہے کہ عقل انسان کی ایک طبعی صفت ہے جو اس کی ماہیت کے ساتھ جڑی ہوئی شے ہے۔ محاسبیؒ سے ایک روایت ہے کہ عقل ایک نو رہے۔ ایک تعریف یہ ہے کہ عقل ایک قوت ہے جس کے ذریعے معلومات کی حقیقتوں کو جدا جدا کیا جاتا ہے۔

ذہانت، فہم اور ذکاوت

ذہن وہ آلہ ہے جو خیالات حاصل کرنے کے لیے مستعد اور تیا رہوتا ہے۔ فہم کی تعریف یہ ہے کہ کسی قول کو سنتے ہی اس کے معنی کا علم ہوجائے۔ ذکاوت فہم کی قوت کی تیزی کا نام ہے، اس کے معنی سمجھ کی پختگی کے بھی ہیں۔

عقل کی تکمیل کے لیے ضروری صفات:

علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ایک عاقل کی عقل کو اس کی مناسب موقع پر خاموشی، سکون، نیچی نظر اور برمحل حرکات سے پرکھا جاسکتا ہے۔ عقل مند اپنے فیصلے میں خواہ وہ کھانے پینے کے معاملے میں ہو یا کسی قول و فعل کے معاملے میں، اسی امر کو اختیار کرے گا، جو انجام کے اعتبار سے اعلیٰ ہوگا۔ جس چیز سے نقصان ہوگا اس کو ترک کر کے اسی کام کی تیاری کرے گا، جس کا پورا ہونا ممکن ہوگا۔

حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آں حضورﷺنے لوگوں سے فرمایا: ’’کیا میں عاقل کی علامتیں بتاؤں؟ وہ یہ ہیں کہ جو اپنے سے بڑے کے ساتھ تواضع سے پیش آئے، چھوٹے کو حقیر نہ سمجھے، اپنی گفتگو میں بڑائی کے اظہار سے بچے، لوگوں کے ساتھ معاشرت میں آداب معاشرت کو ملحوظ رکھے اور اپنے اور خدا کے درمیان تعلق کو سخت اور مضبوط رکھے تو وہ عقل مند ہے۔ وہ دنیا میں اس تعلق کو ہر نقصان سے بچاتا ہے۔

وہب بن منبہ سے منقول ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ’’اے بیٹے! انسان کی عقل کامل نہیں ہوتی جب تک اس میں دس صفات نہ پیدا ہوجائیں:

کبر یعنی نخوت و غرور سے محفوظ ہو، نیک کاموں کی طرف پورا میلان ہو، دنیاوی سامان میں سے صرف بقدر بقائے حیات پر اکتفا کرے، زائد کو خرچ کردے، تواضع کو بڑائی سے اچھا سمجھے، اپنی انا قربان کرنے کو عزت و سربلندی پر ترجیح دے، سمجھ کی باتیں حاصل کرنے سے زندگی بھر نہ تھکے، اپنی کسی حاجت کے لیے تحکم و بدمزاجی نہ اختیار کرے، دوسرے کے تھوڑے احسان کو زیادہ سمجھے اور اپنے بڑے احسان کو کم سمجھے اور ایک خصلت جو بڑی بلند اور نیک نام ہے یہ کہ تمام اہل دنیا کو اپنے سے اچھا سمجھے اور اپنے آپ کو سب سے برا سمجھے۔ اگر کسی کو اپنے سے اچھا دیکھے تو خوش ہو اور اس بات کا خواہش مندہو کہ اس کی عمدہ صفات خود بھی اختیا رکرے اور کسی کو بری حال میں پائے تو خیال کرے کہ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم کو کیا خبر۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نجات پاجائے اور میںہلاک ہوجاؤں۔ جب یہ صفات پیدا ہوجائیں تو سمجھو عقل مکمل ہوگئی۔‘‘

مکحول سے حضرت لقمان کا یہ قول مروی ہے جو انھوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ’’انسان کے شرف و سرداری کی بنا حسن عقل پر ہے۔ جس کی عقل اعلیٰ درجے کی ہوگی وہ اس کے تمام گناہوں کو ڈھک کر اس کی تمام برائیوں کی اصلاح کردے گی اور اسی کو رضائے الٰہی حاصل ہوگی۔‘‘ کسی کا قول ہے کہ برائی کی بات یہ ہے کہ کسی برے شخص کی عقل زبان سے بڑھی ہوئی ہو، یہ نہیں کہ زبان عقل سے بڑھی ہوئی ہو۔

مثبت اندازِ فکر

حسن ظن، خوش گمانی اور مثبت اندازِ فکر شخصیت کی تعمیر و ترقی کے لیے اہم ہیں۔ فکر کا یہ انداز انسان کو مایوسی سے بچاتا اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ ایک گلاس میں نصف پانی ہو اور باقی خالی ہو تو مثبت فکر انسان کے لیے وہ آدھا بھرا ہوا ہے، جب کہ منفی فکر انسان کے لیے آدھا خالی ہے۔ اول الذکر شخص کی یہ سوچ زندگی کے عمومی معاملات پر حاوی ہوتی ہے۔ وہ تلخ و نامساعد حالات میں بھی امید اور اچھائی کا پہلو تلاش کرتا ہے۔ وہ ہر مشکل کو موقع سمجھتا ہے، اور اسی سے اپنا راستہ تلاش کرتا ہے۔ دوسری طرف منفی فکر کا انسان عموماً قنوطیت، مایوسی اور احساسِ کمتری کا شکار رہتا ہے۔ ہر معاملے کے برے پہلو سے اس کی فکر اور قوت عمل میں کمزوری آتی ہے اور اولو العزم نہیں رہتا۔ مثبت اندازِ فکر انسان میں قوت پیدا کرتا ہے۔ اس قوت کے ذریعے وہ اندھیرے میں بھی ستاروں کی روشنی سے اپنا راستہ تلاش کرتا ہے۔

شکر

اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو اس کی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کیا جائے۔ ہر وہ انسان جس نے کسی چیز کو ایسے کام میں استعمال کیا، جس کے لیے وہ پیدا نہیں کی گئی تو اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران یعنی ناشکری کی۔ شریف انسان سے رذیل کام لینا بھی کفرانِ نعمت ہے۔ بہترین صلاحیتوں کے افراد سے معمولی کام لینا بھی کفرانِ نعمت ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہمیں جو وسائل (انسانی اور مادی) دیے گئے ہیں، ان کا صحیح انداز سے جائزہ لیں اور انھیں ان کے اوصاف، قوتوں اور قابلیتوں کے مطابق استعمال کریں۔ یہ شکر کی عملی کیفیت ہے۔ دل کا شکر یہ ہے کہ نیکی اور بھلائی کا ارادہ کرے اور تمام مخلوق کا بھلا چاہے۔ زبان کا شکر یہ ہے کہ اللہ کی تعریف کرتا رہے۔ اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں، ان کا احساس کرے۔ ایک قول ہے :

’’نعمت ایک جنگلی جانور ہے، اسے شکر کی زنجیروں سے باندھ کر رکھو۔‘‘ مثبت انداز فکر ، حسن ظن اور شکر قوت عمل پیدا کرتے ہیں، انھیں اپنے مزاج کا حصہ بنا لیجیے۔

احساس وجود

اپنے وجود کا احساس اور اس کے تقاضوں کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ ہر انسان سونے اور چاندی کی کان کے مانند ہے۔ بات اسے استعمال اور اخذ کرنے کی ہے۔ اس سے انسان صاحب زر، زیور اور زیرک بن سکتا ہے لیکن وجود کا احساس غصے اور سختی کے ساتھ حکم دینے سے نہیں کرایاجاسکتا، تاہم ہم جو کرنا چاہتے ہیں، اس میں کامیابی ضروری ہے۔ ہمیں دوسروں کے سامنے فورا جھک نہیں جانا چاہیے۔ ہماری جو معلومات ہیں اور جس چیز کو ہم صحیح سمجھتے ہیں اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔ جب پھول اپنی خوشبو پھیلا سکتے ہیں، پانی زمین نرم کرسکتا ہے، ہوا پتوں کو ہلا سکتی ہے تو پھر ہم اپنے اخلاق اور قوت نافذہ سے اپنے اردگرد اور معاشرے میں تبدیلی کیوں نہیں لاسکتے؟ دوسری طرف اگر اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو پھر بحث ہٹ دھرمی کی علامت ہے اور ایسے موقع پر غلطی کے اعتراف میں ہی عظمت ہے۔

تجزیاتی صلاحیت

حالات و واقعات کا تجزیہ کرنا ان کے اسباب پر غور کرنا، نتائج کی جانب دیکھنا اور اس کے مطابق لائحہ عمل تیا رکرنا بہت ضروری ہے۔ اسے ہی تجزیاتی صلاحیت کہتے ہیں۔ کسی بات کے مثبت اور منفی پہلو پر غور کرنا اور اپنے نصب العین اور مقصد زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ضروری ہے۔

ارادہ اور عزم

اپنے ارادے اور عزم کو بلند رکھئے، اپنے عزائم کو صالح بنائیے اور ان کی عملی تنفیذ یا عمل درآمد کی کوشش کیجیے۔ محض عزم باندھنے اور عمل نہ کرنے سے دنیا میں کوئی کام نہیں ہوتا۔ مشکلات سے ڈرنا نہیں چاہیے، یہ تو انسان کو بنانے کے لیے آتی ہیں۔ ناکامیوں اور اندھیروں سے گھبرانا نہیں چاہیے یہ تو ستاروں کی چمک کے لیے ضروری ہیں۔ شاہراہ حیات پر جب سرخ سگنل نظر آئے تو اسے ناکامی مت سمجھئے، چند لمحے آرام کیجیے اور سبز سگنل کا انتظار کیجیے۔ ان لمحوں میں قوت جمع کرنے کی کوشش کیجیے۔ مشکلات ہمیشہ نہیںرہتیں یہ تو قرب خداوندی کا باعث ہوتی ہیں۔ حبس سے مت گھبرائیے یہ تو بارش کی علامت ہے۔ بس عزم کیجیے اور اپنے مقاصد حاصل کیجیے۔

رابندر ناتھ ٹیگور نے عزم کی یہ مثال دی ہے ’’شام کا وقت تھا اور سورج غروب ہو رہاتھا۔ ڈوبتے ہوئے سورج نے پوچھا کہ ہے کوئی جو میری جگہ لے؟، کسی جھونپڑے میں ایک دیا ٹمٹما رہا تھا۔ اس نے جواب دیا ہاں میں کوشش کروں گا اور اس نے اس گھر کی کائنات کو روشن کر دیا۔‘‘

آپ اپنی مقدور بھر کوشش کیجیے، ضرور کیجیے اور نتائج کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیجیے۔ نیت صاف ہو، محنت صحیح رخ پر ہو اور وفاداری ہو تو پھر نتائج جو مطلوب ہیں وہی سامنے آتے ہیں بلکہ ان سے بہتر اور اگر کسی وجہ سے نہ بھی مل سکیں تو آخرت کو کتنی دیر ہے۔ جس کی رضا کے لیے محنت کی ہے اس کے ہاں تو اجر باقی ہے اور وہ تو اپنے ظرف کے مطابق اجر و دیتا ہے۔

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے

قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کی

جوکھم

دنیا میں ہر کام کرنے میں جوکھم ہے۔ ہم میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ ہم اس جوکھم کا اندازہ لگالیں اور اپنے معاملات کی تیاری اس کے مطابق کریں۔ چھٹی حس ذہنی صلاحیتوں میں ایک اہم حس ہے۔ قد آور شخصیات میں یہ حس کار فرما ہوتی ہے۔

فرض کیجیے آپ سو رہے ہیں اور اتفاق سے چولھے میں آگ روشن رہ گئی۔ ایک شرارہ اڑا اور اس نے مکان کو جلا ڈالا۔ ایسی حالت میں آپ کا یہ عذر نہیں سنا جائے گا ’’اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ میں نیند کی حالت میں کس طرح چنگاریاں اور شرارے اڑنے سے روک سکتا تھا؟‘‘ آپ سے کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم تھا کہ آپ عنقریب سونے والے ہیں، نیند کی تیاری کرچکے ہیں اور اس بات کا علم تھا کہ اس حالت میں حواس کا شعور معطل ہو جاتا ہے، اس لیے ضروری تھا کہ بیداری حواس کے وقت ان ذرائع کا سد باب کرتے جن کی وجہ سے نیند کے وقت یہ حادثہ پیش آیا، یعنی اول آگ بجھاتے اور پھر سوتے۔

تدبیر یہ ہے کہ اونٹ کو کھونٹے سے باندھیں اور اس کے بعد توکل کریں۔ کھونٹے سے باندھے بغیر اونٹ کو کھلا چھوڑ دیں گے تو یہ آپ کی نادانی ہوگی اور آپ غیر ضروری جوکھم سے اپنا اور نہ معلوم کس کس کا امتحان لینے کی کوشش کریں گے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد بشیر جمعہ

Leave a Reply