پیاس بجھاتے چلو! (قسط-20)

گھر کا ٹی وی اچانک خراب ہوگیا تھا۔ سو آج ’’امن ٹی وی اردو‘‘ پر دادی اپنا تلاوت مع ترجمہ والا پروگرام دیکھ نہیں سکی تھیں، جس کا انہیں بے حد ملال تھا۔ گو فائزہ نے انہیں یو ٹیوب سے وہ ایپی سوڈ انہیں داؤن لوڈ کر کے دکھا دیا تھا لیکن ٹی وی کے بڑے سے اسکرین کے مقابلے موبائل کے چھ انچی اسکرین پر انہیں کچھ مزہ نہیں آیا تھا۔ ان کا موڈ قدرے آف تھا۔ اب حیدر مرتضیٰ اسے کھولے بیٹھے تھے اور اس کی خرابی چیک کررہے تھے۔ یہ پرانے زمانے کا ڈبہ ٹی وی تھا، جسے فائزہ نے کئی بار ’’ایل سی ڈی‘‘ ٹی وی سے تبدیل کرنے کی رائے دی تھی لیکن دادی مانتی نہیں تھیں۔ وہ دادا کی اس نشانی سے دستبردار نہیں ہونا چاہتی تھیں۔ حالاں کہ فائزہ کی دانست میں وہ ٹی وی اپنی عمر سے کافی آگے چل چکا تھا اور آج یا کل کسی بھی وقت اس کا جنازہ نکل سکتا تھا لیکن دادی اس ٹی وی کی قیمت پر کسی چیز کے لیے راضی نہ تھیں، ایل سی ڈی کے لیے بھی نہیں۔

حیدر فرش پر ٹی وی کھولے بیٹھے تھے۔ فائزہ بھی وہیں موجود ان کے ماتحت کے فرائض انجام دے رہی تھی۔ وہ ٹول باکس لے کر آئی تھی۔ اس میں سے جو بھی چیز ابو کو درکار ہوتی وہ انہیں اٹھا کر دیتی جاتی۔ اس کی دائیں طرف ٹی وی ٹیبل پر ’’نوید ہندوستان‘‘ کا وہی خصوصی شمارہ رکھا تھا۔ ’’اس میگزین کے کچھ Contents تو اچھے ہیں لیکن کیا تم نے رمضان بخاری کا وہ مضمون پڑھا ہے ’’باطل تحریکات ایک جائزہ۔‘‘ فائزہ ایک دم متوجہ ہوئی تھی جب کہ حیدر کا لہجہ بہت سرسری سا تھا اور انداز اس سے بھی زیادہ سرسری اور قدرے لاپرواہ سا۔ مجھے تو بالکل پسند نہیں آیا۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی آر ایس ایس کے چاہنے والے نے لکھا ہے، جسے اپنی جماعت سے بہت محبت ہے۔‘‘

فائزہ خاموش رہی۔

’’ویسے بھی آج کل کسی اخبار کا اعتبار کرنا مشکل ہے کہ کون سچ لکھ رہا ہے، کون جھوٹ۔ جب تک ریڈر خود ہی تحقیق نہ کرلے۔‘‘

فائزہ نے اب بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وہ ابو کے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جو ایک بولٹ کو چھوٹے سے پیج کس سے کستے ہوئے اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھے۔

’’ایک اچھے رائٹر کا کبھی بھی یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ قاری کو ڈپریشن میں مبتلا کرے۔ بے شک حالات سے آگاہ کرنا ضروری ہے لیکن اس طرح نہیں کہ قاری مایوس ہوکر رہ جائے اور مجھے لگتا ہے کہ کسی بھی قلم کار کی اصل خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کا حل بھی پیش کرے۔ صرف مسائل کا انبار قارئین کے سامنے یہ رکھ دے۔‘‘

وہ بہت کھل کر تبصرہ کر رہے تھے اور فائزہ ان سے متفق تھی۔

’’اور یہ مضمون نگار صاحب تو خود ہی ان تحریکات سے مرعوب معلوم ہو رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ قارئین کو بھی رعب میں ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ ناکام اس لیے کہہ رہا ہوں کیوں کہ میں ان باطل قوتوں کے باطل پروپیگنڈے سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوسکا۔ ٹھیک ہے کہ مخالف کو کم نہیں سمجھنا چاہیے مگر یہ کیا کہ ایک معمولی سے سانپ کو اژدھا بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ یا لوگ خود ہی ایک معمولی مخالف کو ازخود اژدھا فرض کرلیں اور اس کے سامنے سرینڈر کردیں، بلکہ یہاں ان رمضان بخاری صاحب کا یہ کام تھا کہ اگر مخالف طاقتوں کو اتنا بڑا بنا کر پیش کر رہے ہیں تو اس کے مقابلے کی تدابیر بھی بتاتے۔ اس کے شر سے بچنے کے طریقے بتاتے… یہ کیا بات ہوئی کہ قارئین کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جائے۔ ویسے بھی ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کسی سے بھی مرعوب نہیں ہوتا اور نہ خوف زدہ ہوتا ہے۔ وہ کوئی عام سے لوگ ہوں گے جو اس طرح کا مضمون پڑھ کر مرعوب یا خوف زدہ ہوئے ہوں گے۔مجھ پر تو اس کا رتی برابر بھی اثر نہ ہوا۔ لاٹھیاں چلانا، کراٹے بازی کرنا یاہتھیار چلانا، ان میں سے ایسا کون سا کام ہے جو دوسرے نہیں کرسکتے۔ آج کل تو اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی جسمانی تربیت دی جاتی ہے۔ بلکہ علی پبلک اسکول میں تو گھڑ سواری بھی سکھائی جاتی ہے بچوں کو… تمہیں تو پتہ ہی ہوگا۔‘‘

وہ ہنوز سر جھکائے اپنے کام میں مشغول تھے۔ ٹی وی کے اندر کے دوباریک تاروں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھ رہے تھے۔ اور فائزہ ان کو کچھ رشک اور کچھ حیرت سے تک رہی تھی۔ جس تحریر نے کئی دنوں سے اس کی نیند اڑا رکھی تھی ابو اس کو ذرہ برابر بھی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا یہ جملہ تو ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا۔ ’’مسلمان کسی سے بھی مرعوب نہیں ہوتا اور نہ خوف زدہ ہوتا ہے۔‘‘

’’کیا تم نے اس میں عبد الباری وسیم صاحب کا مضمون پڑھا تھا۔‘‘ انھوں نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر اس سے پوچھا تھا پھر دوبارہ جھک گئے تھے۔

’’جی ان کا اداریہ پڑھا تھا اور ۲۰۱۴ کے بعد ملک کی صورتِ حال وہ بھی پڑھا تھا۔‘‘

اوں ہوں!… اس رسالے کے اخیر میں ان کا ایک اور آرٹیکل تھا ’’اب ہم کیا کریں۔‘‘

ابو کی بات سن کر اس نے ذہن پر زور ڈالا۔ اس نے اُن کی دو تحریریں پڑھی تھیں لیکن نوید ہندوستان میں ان کا کوئی تیسرا آرٹیکل بھی تھا؟

’’تمہیں پتہ ہے اللہ کے رسولؐ کا کیا طریقہ تھا؟ وہ مصیبت اور مشکل وقت میں خوش خبریاں سناتے تھے۔ یہ دور قلم کاروں، شعراء اور ادباء کے لیے سخت آزمائش کا دور ہے۔ ان پر ذمہ داری ہے کہ وہ امت کو اس نازک دور میں سنبھالیں، انہیں ہمت دیں اور امید دلائیں۔‘‘یہ تو اس نے پڑھا ہی نہیں تھا بلکہ سرے سے دیکھا ہی نہیں تھا۔

’’وہ اختتامی مضمون انھوں نے بہت اچھا لکھا ہے۔ اسے پڑھ کر انسان کو ایک امید بندھتی ہے۔ دل میں ایک امنگ پیدا ہوتی ہے اور یہی ان کی تحریروں کا خاصہ ہے۔ وہ اپنے قاری کو مایوسی سے نکال کر مثبت سوچ اور عزم و حوصلہ عطا کرتی ہیں اور جب تک کسی بھی تحریر میں کوئی حوصلہ افزا بات نہ ہو اور جب تک اس میں کرنے کا کام اور مسئلہ کا حل نہ بتایا جائے وہ تحریر ادھوری ہے۔‘‘

اللہ! ابو کتنی اچھی باتیں کرتے ہیں۔ اسے ان پر بے اختیار پیار آیا۔ ان کی باتوں سے اس کا دل یک دم پرسکون ہو جاتا تھا۔ کاش ابو بھی ایک رائٹر ہوتے تو ان کی پوزیٹیو نگارشوں سے عوام الناس کو کتنا فائدہ پہنچتا۔ اس کے اندر دفعتاً اس خواہش نے جنم لیا، لیکن وہ جانتی تھی یہ صرف خواہش ہی رہ جانی تھی۔ اس نے ابو کو کبھی کچھ لکھتے نہ دیکھا تھا۔ البتہ مطالعے کے وہ سب گھر والوں سے زیادہ شوقین تھے۔

’’ہوگیا آپ کا کام…؟‘‘ آمنہ اندر آئیں۔

’’ہاں تقریباً‘‘ انھوں نے ٹی وی کا پلگ لگایا بٹن آن کیا تو ٹی وی ’’ٹچ‘‘ کی آواز کے ساتھ چلنا شروع ہوگیا۔ اسکرین پر تصاویر نظر آنے لگی تھیں۔

’’سدھر گیا ٹی وی۔ مبارک ہو دادی۔‘‘ فائزہ نے خوشی خوشی ایک طرف بیٹھی سنترے چھیلتی دادی کو متوجہ کیا۔

’’ارے واہ چلو شکر ہے۔‘‘ صبح سے وہ پہلی بار اب مسکرائی تھیں۔

’’ہمارا سارا کام مکمل ہوگیا اور آپ اب تشریف لائی ہیں بیگم۔‘‘ انھوں نے ٹی وی پر کور چڑھاتے ہوئے کہا۔ دادی اپنے سنتروں والے ہاتھ دھونے جاچکی تھیں اور فائزہ ٹول باکس سمیٹ رہی تھی۔ ’’پہلے تو آپ ہر لمحہ ہمارے ساتھ رہتی تھیں۔‘‘

’’جی وہ اس لیے کیوں کہ اس وقت آپ صرف چند دنوں کی چھٹیوں پر گھر آتے تھے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ اب آپ کو کہاں جانا ہے۔ آپ تو اب ہمارے ساتھ ہمارے درمیان ہی رہنے والے ہیں۔‘‘

’’ایک دائمی جدائی بھی ہوتی ہے۔ بیگم صاحبہ جسے موت کہتے ہیں۔‘‘

’’توبہ۔‘‘ آمنہ نے صدمے اور ناراضگی سے انہیں دیکھا۔ فائزہ بھی باکس میں پانا ڈالتی مضطرب ہوگئی۔ ایک ثانیے کے لیے اس کا ہاتھ ٹھہر گیا۔

’’کیسی باتیں کرتے ہیں آپ؟‘‘ آمنہ دکھ سے بولیں۔

’’ہمارے یہاں موت کا تذکرہ اتنا ناپسند کیوں ہے؟ ان لوگوں کے اضطراب پر حید رمتعجب تھے۔ ’’موت کا انکار تو کافر بھی نہیں کرتا اور جس چیز سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنے والا ہی ہے تو اس میں ناراضگی اور دکھ کیسا ہے۔ بس یہ ایک وجہ ہے کہ ہمارے دلوں میں ’وہن‘ آگیا ہے۔ نہ ہم موت کے متعلق سوچنا چاہتے ہیں نہ ہی اس کا ذکر سننا پسند کرتے ہیں۔ بلکہ اگر ہمارے گھروں میں موت کا لفظ بھی کسی نے استعمال کرلیا تو اسے ڈانٹ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ ہمارے نزدیک ایک ناگوار شئے ہے۔ آخر…‘‘

’’دیکھیں…‘‘ آمنہ نے ان کی بات کاٹ دی۔‘‘ میں آپ کو صرف یہ یاد دلانے آئی تھی کہ آپا اور بھائی صاحب کو کال کرکے ان کو اپنی جاب کا بتا دیں۔ کیوں کہ شاید ابھی ان لوگوں تک یہ خبر نہیں پہنچی ہے۔‘‘

اپنی بات کے قطع کیے جانے پر حید رمرتضیٰ لحظہ بھر کے لیے خاموش ہوگئے تھے پھر نارمل انداز میں جواب دیا۔

’’ہاں! میں نے سوچا ہے کہ یہ خوش خبری انہیں فون کی بجائے روبرو دی جائے اس لیے شام کو ہم لوگ ان کے گھر چلیں گے۔‘‘

’’جیسی آپ کی مرضی۔‘‘ آمنہ خفا اور دلبرداشتہ سی کمرے سے باہر نکل گئیں۔ ان کے روکھے پن کو فائزہ نے پشت پر سے بھی محسوس کرلیا تھا۔

’’آپ کی امی تو رنجیدہ ہوگئیں۔‘‘ وہ فائزہ سے مخاطب تھے۔ کمرے کا ماحول یکلخت افسردہ ہوگیا تھا۔

’’مومن تو موت کے تذکرے سے ناراض نہیں ہوتا بلکہ ہمیں تو حکم ہے موت کو کثرت سے یاد کرنے کا۔‘‘

ان کا انداز استعجابیہ تھا۔ وہ کیا کہتی۔ اس کے اندر تو خاموشیاں اتر آئی تھیں۔

’’کیا تمہیں بھی …‘‘ انھوں نے غور سے اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھا۔ ’’موت سے ڈر لگتا ہے فائزہ؟‘‘

اس نے چونک کر نگاہیں اٹھائیں۔ ایک مشکل دن کے گرم اور طویل ترین المناک لمحات اچانک اُسے یاد آگئے تھے۔ سر پر قہر برساتا آسمان، دہکتی زمین، آگ اگلتا سورج اور ان قیامت خیز گھڑیوں کے مناظر جھکڑ کی طرح چلنے لگے تھے۔ اسے اڑتی دھول کا وہ بگولہ بھی یاد آگیا، جس نے اس کی سانسیں بند کردی تھیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین

Leave a Reply