تریاق

شہر میں خوف کی مارکیٹنگ کرنے والے، بھائی چارگی اور امن کے دشمن، ذہنوں میں نفرتوں کا زہر بھرنے والی تنظیمیں، دھرم و ذات کی آگ لگا کر سیاست کے چولھوں پر اپنی روٹیاں سیکنے والے نیتا، دیش بھکتی کا چولا پہن کر، دیش بھکتی کا سرٹیفکیٹ بانٹ کر، اکھنڈ بھارت کی بات کرکے دیش واسیوں کو ذاتوں، فرقوں، دھرموں کے خود ساختہ ترازو میں تول تول کر کھنڈت کرنے والے بہروپئے دیش بھکتوں کی آنکھوں کی کھٹک بن گئے تھے۔

وہ کسی پارٹی کے نیتا تھے نہ کسی تنظیم کے کارکن اور نا ہی کسی سماجک سنستھا سے اُن کا کوئی تعلق تھا۔وہ شہر کی جامع مسجد کے پیش امام تھے۔ ایسے خطیب کہ سارے لوگ اُن کے بیانات کو بغور سنتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے کیوں کہ اُن کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا۔ وہ متقی اور پرہیزگار شخص تھے، متحمل مزاج، راست گو، مسلمان ہی نہیں انسانیت کی سوچ رکھنے والے غیر مسلم بھی اُن کی عزت کرتے تھے۔ اُن سے محبت رکھتے تھے۔

ایسے شخص پر اُس وقت غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جب سارے شہر میں دنگا کرانے کی کوشش کی گئی۔دنگے کا ماحول پیدا کرنے والے وہی لوگ تھے جو نفرتوں کی راج نیتی کرتے ہیں۔

ہوا یہ کہ شرابی اور جواری آپس میں لٹر پڑے اُن میں ایک ہندو تھا اور دوسرا مسلمان۔ جھگڑا بازار کے چوراہے پر ہو رہا تھا۔ ہندو کی حمایت میں کچھ ہندو آگئے اور مسلمان کی طرف داری میں کچھ مسلمان۔ جھگڑا ہندو مسلم دنگا بن گیا۔ ایک ہندو مرگیا اور ایک مسلمان۔ حساب برابر۔

اسی راستے سے پیش امام صاحب کا فرزند سبزی کی تھیلی لیے گزر رہا تھا۔ حساب برابر کرنے والوں نے دیکھا۔

’’او، دیکھو کٹر پنتھی کا بیٹا!‘‘

آواز سن کر ایک دنگائی لاٹھی لے کر اس کی طرف لپکا اور پیچھے سے اس کے سرپر اس زو رسے وار کیا کہ پیش امام صاحب کا بیٹا تارکول کی سیاہ سڑک پر شاخ سے ٹوٹے سوکھے پتے کی طرح گر پڑا۔

کچھ مسلمان مارنے والے کی طرف بھاگے اور دو تین مسلمانوں نے پیش امام کے فرزند کو اٹھایا جس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ فوراً ایک نے رومال اس کے سر پر باندھا جو خون سے سرخ ہوگیا۔

پولیس آچکی تھی اور کفن جیسی سفید ایمبولینس بھی۔ پیش امام صاحب کے فرزند کو ایمبولینس میں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد اپنا نچلا لب پسار کر نفی میں سر ہلا دیا۔

پیش امام صاحب کے بیٹے کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔ مسلمانوں کے اندر طیش کی آگ دہک اٹھی تھی۔ سیکولر ہندوؤں کو بھی افسوس ہورہاتھا۔ ہاں، سماج میں زہر پھیلانے والے لوگ خوش ہو رہے تھے۔ وہ سارے شہر میں دنگے کی آگ بھڑکانے کے لیے منصوبے بنا رہے تھے۔ میٹنگیں لی جا رہی تھیں۔

٭٭

بیٹے کی موت کی خبر سن کر پیش امام صاحب پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اُن کا گھر ماتم کدہ بن گیا تھا، بیوی دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی اور بیٹی کی آنکھوں سے بھی آنسوؤں کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔

’’روؤ مت میری بیٹی!‘‘ پیش امام صاحب نے اپنی دختر کے سر پر ہاتھ رکھ کر بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’’صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں اسپتال سے آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ گھر سے نکلے۔ اُن کی آنکھوں میں بھی آنسوؤں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا جسے وہ اپنی پلکوں میں سنبھالے ہوئے تھے۔

گھر سے نکل کر انھوں نے ڈبڈبائی آنکھوں سے سامنے دیکھا بہت سارے لوگ اُن کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔

’’امام صاحب! ہم بدلہ لیں گے۔ ایک کے دس ماریں گے، دیکھنا کاٹ کے رکھ دیں گے، انھوں نے آپ کے بیٹے کو مارا ہے ہم اُن کے بیٹوں کو ماریں گے۔‘‘ لوگ طیش کا اظہار کر رہے تھے۔

پیش امام صاحب نے آنسو بھری نگاہوں سے لوگوں کی طرف دیکھ،ا جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اپنے پڑوسی سے غم زدہ لہجے میں مخاطب ہوئے ’’میں اپنے بیٹے کے دیدار کے لیے اسپتال جا رہا ہوں!‘‘

’’پیدل مت جائیے امام صاحب، میں اپنی کار لے آتا ہوں۔‘‘

پڑوسی کار لے آیا، اس میں پیش امام صاحب کے ہمراہ ان کے تین چار پڑوسی بھی بیٹھ گئے۔

کار اسپتال کی طرف جانے والی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ اس کے پیچھے بائیک پر سوار وہ لوگ تھے جو پیش امام صاحب کے دکھ میں شرکت کے لیے اُن کے گھر آئے تھے۔

جب کار اسپتال کے گیٹ کے سامنے رکی تو گیٹ پر پولیس والے کھڑے تھے۔ گیٹ کے سامنے لوگوں کا ہجوم تھا، جن میں مسلمان اور ہندو دونوں تھے۔ پیش امام صاحب کار سے اترے پولیس والوں نے انہیں گیٹ میں داخل ہونے دیا۔ باقی لوگوں کو روک لیا۔

گیٹ کے باہر لوگوں کے اندر غصے کی آگ دہک رہی تھی۔ نفرتوں کا جوالا مکھی پھٹنے کے لیے بے قرار تھا ’’ہم پیش امام صاحب کے فرزند کے قتل کا بدلہ لیں گے‘‘ مسلمانوں کے دلوں میں انتقام کے جذبات بھڑک رہے تھے اور کچھ ہندوؤں کے دل مسلمانوں کی زندگیوں کو جلا کر راکھ بنانے کے لیے دہکتی ہوئی بھٹی بن گئے تھے۔

شہر میں زہر پھیلانے والی تنظیموں کے کارکن دنگا کرانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ کچھ ٹی وی چینل شرابی اور جواری کے جھگڑے کو ہندو مسلم دنگے کا رنگ دے رہے تھے۔ شہر میں تناؤ پیدا ہوچکا تھا۔

اسپتال کے اندر سفید چادر والے بسترپر پیش امام صاحب کے اکلوتے لخت جگر کی لاش رکھی تھی۔ بیٹے کی لاش دیکھ کر اُن کا دل دہل گیا تھا۔ کلیجہ کانپ اٹھا تھا۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔

بیٹے کی ادھ کھلی آنکھوں سے بے نور پتلیاں جھانک رہی تھیں۔ پیش امام صاحب بیٹے کی مردہ آنکھوں میں آنسو بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے۔ ان کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ دھاڑیں مار کر روئیں مگر وہ اپنے ہونٹ بھینچے رنج، دکھ و غم کی اذیت کو اندر ہی اندر سہہ رہے تھے ۔ انہیں حضرت محمدؐ کی سیرت کے درد ناک واقعات و انسانیت سوز مظالم یاد آگئے تھے جن پر حضورؐ نے صبر کیا تھا۔ دشمنوں سے نرمی اور مہربانی کا سلوک کیا تھا۔ ان سے انتقام نہیں لیا تھا بلکہ انہیں معاف کر دیا تھا۔

سیرت نبوی کے واقعات یاد آتے ہی پیش امام صاحب نے ان اللہ مع الصابرین، آیت پڑھی اور اپنے بیٹے کی ادھ کھلی آنکھوں پر ہاتھ پھیر کر اس کی پلکیں بند کردیں اور پھر اپنی آنکھوں سے چھلکتے ہوئے آنسوؤں کو پونچھ کر اسپتال سے باہر آئے۔

گیٹ کے باہر کھڑے ہوئے لوگوں سے مخاطب ہوئے:

’’عزیزو! اسلام انتقام لینا نہیں سکھاتا۔ اسلام امن والا مذہب ہے اور حضرت محمدؐ رحمۃ للعالمین ہیں انھوں نے فرمایا:

’’تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘ برائی کا بدلہ اچھائی سے دو، نفرت کرنے والوں سے محبت کرو، دشمنوں سے نرمی اور مہربانی کا سلوک کرو، رنج، دکھ، تکلیف، مصیبت اور غم میں صبر کرو، قرآن میں تقریباً ایک سو دس باہر صبر کے الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ اللہ، ایشور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے یہ سورہ البقرہ کی ۱۵۳ ویں آیت میں لکھا ہے۔

عزیزو، مِتروا! ایشور اللہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ زیادتی، دنگا، فساد کرنے والے لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے کیوں کہ وہ غفور الرحیم ہے۔ وہ رحمن ہے۔ وہ کریم ہے، دیالو ہے، کرپالو ہے۔ وہ بلاوجہ قتل و غارت گری کرنے والوں کے بارے میں سورہ المائدہ کی آیت ۳۲ میں فرماتا ہے:

’’جس نے کسی انسان کو خوف کے بدلے یا زمین میں فساد (اُپدرو) پھیلانے کے لیے یا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ (ترجمہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ)

اس لیے میرے پیارے شہریو! انسانوں کی زندگی اجاڑنے کی بجائے اُن کی زندگیاں سنوارنے کے کام کرو۔ میں نہیں چاہتا جو زندگی بھر کا دکھ نفرتوں کی سوچ رکھنے والوں نے مجھے دیا ہے وہ کسی اور کو ملے۔ جس طرح میرے اکلوتے بیٹے کو قتل کیا گیا اسی طرح کوئی اور بھی قتل ہو۔‘‘

کچھ توقف کے بعد پیش امام صاحب پھر بولے ’’ایک بات اور میرے عزیزو! میں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کر دیا جس طرح میرے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہٍ کے قاتل ’’وحشی‘‘ اور اُن کے چچا کا کلیجہ چبانے والی ’’ہندہ‘‘ کو معاف کر دیا تھا۔‘‘

پیش امام صاحب کی آواز میں دنیا جہاں کا درد پنہاں تھا۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے اتنے آنسو چھلک پڑے کہ اُن کی داڑھی تر ہوگئی۔

پیش امام صاحب کی باتیں سن کر اسپتال کے گیٹ کے سامنے سارے لوگ جو انتقام کی آگ میں اندر ہی اندر جھلس رہے تھے۔ ہندو، مسلم سب رو پڑے۔ ندامت کے آنسوؤں سے اُن کے چہرے تربتر ہوگئے تھے۔ اب اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ نفرت کے زیر کا یہی تریاق ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق

Leave a Reply