عملی زندگی کے دو نقطے

کیا کھائیں گے؟ ٹی وی یا انٹرنیٹ پر کیا دیکھیں گے؟کیا خریدیں گے؟ کسے دوست رکھیں گے؟ کسے شریک حیات بنائیں گے؟ ہمارے ان سب فیصلوں پر معاشرہ اپنا اثر ڈالتا ہے، ہمیں متاثر کرتا ہے۔ اسے ہم سوشل کنڈیشنگ کہتے ہیں۔ یہ عمل دنیا اور زندگی کا نظام چلانے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن جب ہم بالکل سوسائٹی کے محتاج بن کر رہ جائیں، ہر وہ چیز فالو کرنے لگیں جو ہمارے ارد گرد موجود لوگ کر رہے ہوں تو یہ رویہ خطرناک ہے۔ یہ رویہ ہماری بہتری اور ترقی کے امکانات روک دیتا ہے۔ سافٹ ڈرنگ، جنک فوڈ، سب کھا پی رہے ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بھی انہیں اپنا لائف اسٹائل بنالیں۔ آپ کسی صحت مند غذا کے حق میں بھی فیصلے کرسکتے ہیں ۔ بے کار ٹی وی پروگرام کے آگے بیٹھ کر سب وقت برباد کر رہے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ بھی ایسا کرتے رہیں۔ آپ کوئی مفید کام بھی کرسکتے ہیں، جیسے کوئی اچھی کتاب پڑھنا۔

خوش گوار زندگی کیا ہوتی ہے؟ میڈیا یا معاشرہ اس کا ایک تصور آپ کو دیتا ہے، ضروری نہیں وہ ٹھیک بھی ہو۔ لہٰذا جیسا سب کر رہے ہوں، ضروری نہیں کہ آپ بھی وہ سب کریں۔ آپ اپنے لیے بہتر فیصلے کرسکتے ہیں جن سے آپ کی زندگی بہتر ہو، آپ جذباتی، معاشی یا سماجی حوالے سے بہتر ہوں۔ مثال کے طور پر آپ یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آپ کے لیے ظاہری شکل صورت سے زیادہ اہمیت انسان کے کردار کی ہے، جب آپ ایسا سوچیں گے تو معاشرے یا میڈیا کو اپنے لیے چیزیں اور معیارات متعین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس طرح ان بنیادی فیصلوں سے آپ اپنے معیارِ زندگی کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔

زندگی، خوشی اور شکر

اگر آپ آج خوش اور موجودہ حالات پر شکر گزار نہیں ہیں تو آنے والے دنوں میں بھی آپ کو خوشی ملنے کا امکان کم ہے۔ خوشی کا احساس ہی مزید خوشی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اپنے پاس موجودنعمتوں کی قدر کریں، شعوری کوشش کریں اور اپنا جائزہ لیں کہ زندگی میں کیا اچھا چل رہا ہے۔ یہ شکر گزاری کا جذبہ اور سوچ آپ کو منفی سوچ سے بچاتا ہے اور آپ کے لیے مزید ترقی ممکن بناتا ہے۔ ہمارے لوگ انتظار کی کیفیت میں ہی زندگی گزار دیتے ہیں۔ وہ آج خوش نہیں ہوں گے بلکہ خوش ہونے کے لیے حالات کے پرفیکٹ ہونے کا انتظار کریں گے۔ ہم اپنے لیے ایسا کام یا پیشہ منتخب کرلیتے ہیں جو ہمیں ناپسند ہوتا ہے۔ وہ صرف ہمارے معاشی مسائل کا حل ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں خوشی ملتی ہے یا نہیں، یہ ہم سوچتے ہی نہیں۔ ہم ہر وقت اس کام سے فرار کا راستہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ہم نے بچوں پر یہ سوچ مسلط کردی ہے کہ وہ پڑھائی خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے کرتے ہیں۔ ہمیں بچوں کو سکھانا ہے کہ پڑھائی گریڈ یا نمبروں کے لیے نہیں، یہ صرف اچھی ملازمت کے حصول کے لیے بھی نہیں بلکہ علم اس لیے حاصل کریں کہ یہ طاقت ہے جو آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ تعلیم آپ کو مضبوط بنائے گی، آپ کی نشو و نما کرے گی، آپ کی شخصیت اور کردار کو نکھارے گی، آپ کی خوبیوں میں اضافہ کرے گی۔ جب آپ بچوں کو یہ سوچ اور رویے دیں گے تو وہ اپنی پڑھائی اور تعلیم کے دنوں سے بھی لطف اٹھائیں گے۔

خوشی کے متعلق یہ رویہ ہی غلط ہے کہ اسے کسی آنے والے وقت سے جوڑ دیا جائے۔ خوشی کو موجودہ لمحے میں ہی تخلیق کیا جاتا ہے۔ خوش ہونے کو ملتوی نہ کریں، زندگی کو ملتوی نہ کریں۔ اپنی زندگی میں آپ جو تبدیلی چاہتے ہیں، اس کے لیے دل و جان سے کوشش کریں۔ زندگی کے ہر شعبے کے حوالے سے اہداف متعین کریں جیسے خاندانی اور سماجی زندگی، تعلیمی اور پیشہ وارانہ زندگی کے متعلق اہداف۔ ان پر دیانت داری سے کام کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں۔ اس طرح آپ اس سفر سے بھی لطف اندوز ہوں گے، آپ صرف منزل پر پہنچ کر خوش ہونے کا نہیں سوچیں گے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خوشی یا کامیابی اصل میں منزل نہیں بلکہ سفر کا نام ہے۔ خوشی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا سیکھیں۔ ہر وقت بارٹر سسٹم کے تحت نہ چلیں کہ میں دے کیا رہا ہوں اور بدلے میں مجھے کیا مل رہا ہے۔ جب دوسروں کی زندگیاں آپ کی وجہ سے بہتر ہوتی ہیں تو آپ کی اپنی زندگی کی کوالٹی بھی بہتر ہوتی ہے۔lll (عاطف مرزا کے مضمون سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
عاطف مرزا

Leave a Reply