ہدایاتِ نبوی ﷺ کا سرچشمہ

سنت اس عمل کو کہتے ہیں جو صحیح سند کے ساتھ حضوراکرمﷺ سے ثابت ہو۔حضور اکرمﷺ کی مبارک سنت کی پیروی کی قرآن کریم نے یوں تاکید فرمائی۔

’’جو کچھ رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے تم کو روک دے، اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو۔‘‘ (الحشر:۷)

دوسری جگہ فرمایا:

’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی۔‘‘ (آل عمران:۸۰)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’یعنی حضورﷺ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے یہ تو وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔‘‘ (النجم:۳)

نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ بے شمار ابدی او رلازوال نصیحتوں سے بھری ہوئی ہے مگر اس مقام پر ہم نے اختصار کے پیش نظر اس بحرِ بے کراں میں سے صرف چند احادیث صحیحہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

رجوع الی اللہ

حضرت عرباض بن ساریہؓ بیان کرتے ہیں:

ایک روز حضور اکرمﷺ ہمارے ساتھ نماز ادا فرما چکنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور نہایت موثر انداز میں تقریر فرمائی جسے سن کر سامعین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دلوں میں رقت اور کپکپی پیدا ہوگئی۔ اس حالت کو دیکھ کر ایک صاحب نے عرض کیا ’’یا رسول اللہؐ! جس انداز میں آپ نے وعظ فرمایا ہے گویا کہ یہ آپ کا آخری وعظ ہے… تو اسی طرح ہمیں کوئی اور نصیحت فرمائیں۔‘‘

حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے امام یا خلیفہ کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ میرے بعد جو لوگ زندہ رہیں گے وہ بہت سے اختلافات دیکھیں گے۔ اسی لیے تمھیں چاہیے کہ ان اختلافات کے وقت میری سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرو ۔میری سنت اور میرے خلفاء کے طریقے کواچھی طرح مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھو، نئے نئے کاموں سے بچو، کیوں کہ شریعت کے معاملات میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’اے بیٹے! اگر تجھ سے ہوسکے کہ صبح اس حال میں کرے کہ کسی کے متعلق تیرے دل میں کوئی کینہ نہ ہو اور شام بھی اسی حالت میں کرے تو اس پر ضرور عمل کر۔‘‘

مزید فرمایا: ’’اے بیٹے! اور یہ بات جو ابھی بیان کی گئی ہے میری سنت ہے۔ (یعنی میرے صبح و شام اس طرح گزرتے ہیں کہ میرے دل میں کسی کے متعلق کوئی کینہ نہیں ہوتا) جو میری سنت سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔‘‘

نماز کی تاکید

حضرت ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل (حضورﷺ) نے مجھے نصیحت فرمائی:

’’اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرانا، چاہے تیرے ٹکڑے کردیے جائیں یا تجھے جلا ڈالا جائے اور جان بوجھ کر فرض نماز ترک نہ کرنا ، اس لیے کہ جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کردی اللہ پر اس کی کوئی ذمے داری نہیں، شراب نہ پینا، کیوں کہ شراب ہر برائی کی جڑ ہے۔‘‘

حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا۔

۱- نماز میں جب اس کا وقت آجائے۔

۲- جنازے میں، جب سامنے آجائے۔

۳- اور بے خاوند والی عورت کے نکاح میں، جب اس کا مناسب رشتہ مل جائے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا:

’’دنیا میں مسافر یا ایک رہ گزار کی طرح رہو۔‘‘

اور حضرت ابن عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جانو اور موت سے پہلے زندگی کو غنیمت جانو۔‘‘

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ وصال سے تین دن پہلے میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

’’تم میں سے ہر شخص کو اس حالت میں موت آنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔‘‘

تسبیح و استغفار

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک روز ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپؐ نے فرمایا:

’’کیا تم میں سے کوئی آدمی ہر روز ہزار نیکیاں کمانے کی طاقت رکھتا ہے۔‘‘

اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب نے سوال کیا: ’’یہ کس کے بس میں ہے کہ روزانہ ہزار نیکیاں کما سکے؟‘‘

اس پر حضورﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ہر روز سوبار سبحان اللہ پڑھے اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کے ہزار گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘

حضرت ابوذرٍ بیان کرتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قدسی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

٭ ’’اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر بھی اس بات کو حرام کرلیا ہے کہ میں کسی پر ظلم کروں اور میں نے تمھارے اوپر بھی حرام کر دیا کہ تم ایک دوسرے پر ظلم کرو۔ اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔‘‘

٭ اے میرے بندو! تم سب کے سب گم کردہ راہ ہو سوائے اس کے جسے میں راہ دکھاؤں، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمھیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔‘‘

٭ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں پس مجھ ہی سے رزق طلب کرو، میں تم کو دوں گا۔‘‘

٭ اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہناؤں، سب مجھ سے لباس، مانگو، میں تمہیں لباس عطا کروں گا۔‘‘

٭ اے میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہوں پس تم مجھ سے معافی مانگو میں تمہیں معاف کردوں گا۔‘‘

٭ اے میرے بندو! تمہارے بس میں نہیں کہ مجھے کوئی نقصان پہنچا سکو اور نہ تم مجھے کوئی فائدہ ہی پہنچا سکتے ہو۔

٭ اے میرے بندو! اگر تمہارے تمام اگلے پچھلے لوگ اور تمام انس و جن تم میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار انسان کی طرح بھی ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت مین ذرا سا بھی اضافہ نہیں ہوسکتا۔

٭ اے میرے بندو! اگر تمہارے تمام اگلے پچھلے لوگ اور تمام انسان اور تمام جن تم میں سے سب سے زیادہ گنہگار انسان کی طرح بھی ہوجائیں تو میری سلطنت میں اس سے کوئی نقص نہیں آسکتا۔

٭ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے لوگ اور تمام انسان اور تمام جن ایک میدان میں جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے سوال کرے اور میں ہر ایک کو اس کے مطالبے کے مطابق دیتا جاؤں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں ہوسکتی، جتنی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکال لینے سے اس کے پانی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

٭ اے میرے بندو! تمہارے اعمال میرے پاس محفوظ ہیں، جب تم میرے پاس آؤگے تو میں ان کا پورا پورا بدلہ تمہیں دوں گا۔ پس اس وقت جو بھلائی پائے وہ کہے ’الحمد للہ‘ اور جو بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
عاصم نعمانی

Leave a Reply