حضرت زینب بنت علیؓ

ربیع الاول ۱۱ہجری میں رحمت عالمﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اآپؐ نے اپنی لخت جگر سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا سے فرمایا کہ اپنے بچوں کو بلا لاؤ۔ سیدہ نے تعمیل ارشاد کی اور اپنے تمام بچوں کو حضورﷺ کے پاس لے گئیں۔ بچوں نے اپنے شفیق نانا کو بے چین دیکھا تو بے اختیار رونے لگے، اُن میں سے ایک چھ سالہ بچی کو تو اتنا صدمہ ہوا کہ اس نے حضورؐ کے سینہ مبارک پر اپنا سر رکھ دیا اور سسکیاں بھرنے لگی۔ سرورِ عالمﷺ نے اس بچی کی پیشانی چومی اور اپنا دست شفقت اس کے سر پر پھیر کر دلاسا دیا۔ یہ وہی بچی تھی جو چھ سال پہلے شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے گھر پیدا ہوئی تھی تو رحمت عالمِؐ مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے۔ تین دن بعد آپ تشریف لائے تو سیدھے سیدہ فاطمۃ کے گھر تشریف لے گئے۔ اس بچی کو گود میں لیا اور بہت دیر تک روتے رہے۔ پھر دہن مبارک میں کھجور چبائی اور لعاب مبارک بچی کے منہ میں ڈالا۔ اس کے بعد حضوؐر نے اس بچی کا نام زینب تجویز کیا اور فرمایا: ’’یہ ہم شبیہ خدیجہؓ ہے۔‘‘

چھ سال بعد آج یہی زینبٍ اپنے شفیق نانا سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ رہی تھی۔ چھ سال کی معصوم جان کے لیے یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا، لیکن اسے کیا خبر تھی کہ آئندہ زندگی میں اس پر اس قدر قیامتیں ٹوٹنے والی ہیں کہ اس کی کنیت ہی ام المصائب (مصیبتوں کی ماں) مشہور ہوجائے گی۔ یہی زینبٍ جنہیں زینب کبریٰ بھی کہا جاتا ہے، تاریخ اسلام ایسی میں عظیم الشان شخصیت ہیں جن کے علم و فضل ذہانت و فطانت، فصاحت و بلاغت، حق گوئی و بے باکی، تسلیم و رضا اور صبر و استقامت کے واقعات سے تاریخ کے اوراق تاابد جگمگاتے رہیں گے۔

ایک دن حضرت حسینؓ او رحضرت زینبٍ میں معصومانہ لڑائی ہوگئی۔ سیدۃ النساءؓ نے انہیں کلام مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں اور فرمایا: ’’بچو لڑائی سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔‘‘

دونوں بچے خوفِ خدا سے کانپ اٹھے اور عہد کیا کہ آئندہ کبھی آپس میں نہ لڑیں گے۔ سیدہ فاطمۃ الزہراؓ بہت خوش ہوئیں اور انہیں سینے سے لگا لیا۔

رسولِ اکرمﷺ بھی حضرت زینبؓ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ کئی مرتبہ حسینؓ کی طرح وہ بھی حضور کی دوش مبارک پر سوار ہوئیں۔ سرورِ عالمﷺ حجۃ الوداع کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے تو حضرت زینب بھی آپؐ کے ساتھ تھیں۔ اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی اور یہ ان کا پہلا سفر تھا۔

۱۱ ہجری میں سرور عالمﷺ نے رحلت فرمائی تو سیدہ زینبؓ کی عمر چھ برس کے لگ بھگ تھی۔ چھ ماہ بعد وہ ماں کی آغوش شفقت سے بھی محروم ہوگئیں۔ان حادثوں نے ننھی زینبؓ کو سخت صدمہ پہنچایا۔ شفیق نانا اور جاں نثار ماں کی جدائی سے وہ اور ان کے دوسرے بہن بھائی سبھی غم و الم کی مورتیں بن گئے۔ سیدنا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اب بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام خود سنبھالا اور کچھ مدت کے بعد ان کی نگرانی کے لیے ام البنین بنت خزام کلابیہ سے نکاح کرلیا۔

ان کا نکاح حضرت عبد اللہ ابن جعفر طیارؓ سے ہوا، جو حضرت علی کے بھتیجے تھے اور حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد سرورِ عالمﷺ نے خود عبد اللہ کی پرورش و تربیت فرمائی تھی اور حضور کے وصال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ ان کے نگراں و سرپرست تھے۔ وہ بڑے پاکیزہ اخلاق کے حامل تھے۔

حضرت زینبؓ کی ازدواجی زندگی نہایت خوش گوار تھی، وہ اپنے شوہر کی بے حد خدمت گزار تھیں اور عبد اللہ بھی ان کی دل جوئی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ اگرچہ گھر میں لونڈیاں بھی تھیں اور خادم بھی لیکن وہ گھر کا کام کاج زیادہ تر خود اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ حضرت عبد اللہ بن جعفر فرمایا کرتے تھے: ’’زینبؓ بہترین گھر والی ہے۔‘‘

٭٭

۳۷ ہجری مین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے عہد خلافت میں کوفی کو اپنا مستقر بنایا تو حضرت زینبؓ اور حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ بھی مدینہ منورہ سے کوفہ آگئے۔ کوفہ میں حضرت زینبؓ نہایت تندہی سے درس و تدریس اور وعظ و ہدایت کے کام میں مشغول ہوگئیں۔ کوفہ کی خواتین اکثر سیدہ زینبؓ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور نہ صرف ان کے پند و نصائح سے مستفیض ہوتیں بلکہ ان سے قرآن کریم کے معانی و مطالب بھی پوچھا کرتیں۔ ایک دفعہ سیدہ زینبؓ چند عورتوں کے سامنے سورہ کہیعص کی تفسیر بیان کر رہی تھیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ وہاں تشریف لائے اور بڑے غور سے اپنی لخت جگر کی تقریر سنتے رہے۔ جب ان کا بیان ختم ہوا تو امیر المومنینؓ نہایت مسرور ہوئے اور فرمایا:

’’جانِ پدر! میں نے تمہارابیان سنا اور مجھے خوشی ہوئی کہ تم کلام الٰہی کے مطالب نہایت عمدہ طریقے سے بیان کرسکتی ہو۔‘‘

جلد ہی حضرت زینبؓ کے علم و فضل کی شہرت دوردور تک پھیل گئی۔ یہ ان کی زندگی کا بہترین دور تھا لیکن افسوس کہ سکھ اور اطمینان کا یہ زمانہ بہت مختصر ثابت ہوا۔ ۱۷؍ رمضان المبارک۴۰ ہجری کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ مسجد کوفہ میں بارگاہِ رب العزت میں سجدہ ریز تھے کہ ایک بدبخت خارجی عبد الرحمن بن ملجم نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا اور اپنی زہر آلود تلوار کے بھرپور وار سے امیر المومنین کو شدید زخمی کر دیا۔

اسی زہر آلود تلوار کے زخم سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ۲۱؍ رمضان المبارک ۴۰ہجری کو جام شہادت پی کر خلد بریں پہنچ گئے۔ اپنے عالی رتبہ اور معدن علم و فضل باپ کی شہادت سے حضرت زینبؓ پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا لیکن ابھی ان کی قسمت میں اور بڑے بڑے صدمے لکھے تھے۔ ۴۹ہجری یا ۵۰ ہجری میں انہیں اپنے برادرِ بزرگ سیدنا حضرت امام حسنؓ کی شہادت کا صدمہ سہنا پڑا۔ اس وقت وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھیں۔

ذی الحجہ۶۰ہجری میں سیدنا حضرت امام حسینؓ نے اہل کوفہ کی دعوت پر اپنے اہل و عیال اور جاں نثاروں کی ایک مختصر جماعت کے ساتھ مکہ سے کوفہ کا عزم کیا، حضرت زینبؓ بھی اپنے دو نوخیز فرزندوں کے ہمراہ اس مقدس قافلے میں شامل ہوگئیں۔ حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ اگرچہ خود اس قافلے میں شریک نہ ہوسکے لیکن انھوں نے حضرت زینبؓ اور اپنے بچوں کو امام حسینؓ کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو کربلا کا دلدوز سانحہ پیش آیا جس میں حضرت زینبؓ کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے، بھتیجے، بھائی اور ان کے متعدد ساتھی شامی فوج سے مردانہ وار لڑتے ہوئے ایک ایک کرکے شہید ہوگئے۔ اس موقع پر سیدہ زینبؓ نے جس حوصلے، شجاعت اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

۱۰؍ محرم کو جب تمام جاں نثارانِ اہل بیت ایک ایک کر کے دوش رسولؐ کے سار پر قربان ہوگئے تو جوانانِ اہل بیت کی باری آئی۔ ہم شبیہ پیغمبرؐ حضرت علی اکبر بن حسینؓ دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے تو حضرت زینبؓ ’’یا ابن اخاہ‘‘ کہتی ہوئی خیمے سے باہر دوڑیں، انھوں نے اس بھتیجے کو بڑے ناز و نعمت سے پالا تھا۔ وہ ان کی کون آغشتہ لاش سے چمٹ گئیں۔ حضرت حسینؓ نے انہیں وہاں سے اٹھا کر خیمہ کے اندر بھیجا ار جوان فرزند کی لاش اٹھا کر خیمے کے سامنے لے آئے۔

علی اکبرؓ کے بعد عبد اللہ بن مسلم بن عقیلؓ احمد بن حسنؓ ابو بکر عبد اللہ بن حسنؓ، جعفر بن عقیلؓ، عمر بن علیؓ، عثمان بن علیؓ ار دوسرے نوجوان سوائے سات نفوس کے ایک ایک کر کے نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اب حضرت زینبؓ نے اپنے نوخیز فرزندوں عونؓ اور محمدؓ کو رزم گاہ میں بھیجنے کے لیے سیدنا حسینؓ سے اجازت چاہی۔ انھوں نے اجازت دینے میں تامل کیا لیکن حضرت زینبؓ نے اس قدر اصرار کیا کہ وہ بادلِ نخواستہ انہیں میدانِ جنگ میں بھیجنے پر مجبور ہوگئے۔ زینبؓ کے دونوں لال اس شان سے لڑے کہ شجاعت بھی آفرین پکار اٹھی۔ آخر شامیوں نے انہیں نرغے میں لے کر تلواروں اور نیزوں کا مینہ برسا دیا اور دودمانِ ہاشمی کے دونوں نونہال جام شہادت پی کر خلد بریں میں پہنچ گئے۔ دکھیاری زینبؓ ارو مظلوم ماموںؓ کے قلب و جگر کے ٹکڑے اڑ گئے لیکن آسمان کی طرف نظر کی اور خاموش ہوگئے۔

٭٭

۱۲؍ محرم الحرام ۶۱ ہجری کو قافلہ حسینی کے پسماندگان کو جن میں کچھ خواتین بچے اور زین العابدین بیمار تھے، شامی فوجی اسیر کر کے کوفہ کی طرف لے چلے۔ شہداء کے لاشے ابھی میدان کربلا میں بے گور و کفن ہی پڑے تھے۔ جب یہ ستم زدہ قافلہ ان کے پاس سے گزرا تو اہل قافلہ فرطِ الم سے نڈھال ہوگئے۔ اس موقع پر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جذباتِ غم ان الفاظ میں ڈھل گئے۔

’’اے محمد مصطفیﷺ! آئیے دیکھئے آپ کے حسینؓ کا خون آغشتہ لاشہ چٹیل میدان میں پڑا ہے۔

اس کا جسم پارہ پارہ کر دیا گیا ہے۔

آپؐ کے گھرانے کی لڑکیاں رسیوں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ آپؐ کی ذریت قتل کر کے گرم، ریت پر بچھا دی گئی ہے اور اس پر خاک اڑ رہی ہے۔

اے میرے ناناؐ! یہ آپ کی اولاد ہے جسے ہنکایا جا رہا ہے۔ ذرا حسینؓ کو دیکھیے اس کا سر کاٹ دیا گیا ہے اس کا عمامہ اور چادر چھین لی گئی ہے۔‘‘

زینب کبریٰ رضی اللہ عنہا کا نوحہ سن کر دوست دشمن سبھی روتے تھے۔

جب اسیران حق کا لٹا ہوا قافلہ کوفے میں داخل ہوا تو اہل کوفہ ہزاروں کی تعداد میں انہیں دیکھنے کے لیے جمع ہوگئے۔ ان میں سے بعض کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بے وفا کوفیوں کے ہجوم کو دیکھ کر شیر خدا کی بیٹی کو تاب ضبط نہ رہی، ان لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

’’لوگو! اپنی نظریں نیچی رکھو، یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی لٹی ہوئی اولاد ہے۔

اس کے بعد انھوں نے اہل کوفہ کے سامنے ایک عبرت انگیز خطبہ دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خود حیدر کرارؓ تقریر فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

’’اے کوفیو، اے مکارو، اے عہد شکنو! اپنی زبان سے پھر جانے والو، خدا کرے تمہاری آنکھیں ہمیشہ روتی رہیں۔ تمہاری مثال ان عورتوں کی سی ہے جو خود ہی سوت کاتتی ہیں اور پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہیں۔ تم نے خود ہی میرے بھائی رشتۂ بیعت جوڑا اور پھر خود ہی توڑ ڈالا۔ تمہارے دلوں میں کھوٹ اور کینہ ہے۔ تمہاری فطرت میں جھوٹ اور دغا ہے۔ خوشامد، شیخی خوری اور عہد شکنی تمہارے خمیر میں ہے۔ تم نے جو کچھ آگے بھیجا ہے وہ بہت برا ہے۔ تم نے خیر البشرصلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند کو جو جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، قتل کیا ہے، خدا کا قہر تمہارا انتظار کر رہا ہے۔

آہ اے کوفہ والو! تم نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، جو منہ بگاڑ دینے والا اور مصیبت میں مبتلا کر دینے والا ہے۔ یاد رکھو! تمہارا رب نافرمانوں کی تاک میں ہے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔‘‘

اس خطبہ کو سن کر کوفیوں کو اس قدر ندامت ہوئی کہ ان میں اکثر کی روتے روتے گھکی بند گئی۔

٭٭

دوسرے دن کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد نے دربار منعقد کیا اور اسیرانِ اہل بیت کو اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضرت زینبؓ بہت خستہ حال تھیں۔ ابن زیاد نے پوچھا ’’یہ عورت کون ہے؟‘‘

ایک لونڈی نے کہا: ’’زینب بنت علیؓ ہیں۔‘‘

ابن زیاد نے کہا: ’’خدا کا شکر ہے جس نے تمہیں رسوا کیا اور تمہارے اجداد کو جھٹلایا۔‘‘

حضرت زینبؓ نے نہایت بے باکی سے جواب دیا ’’خدا کا شکر ہے جس نے اپنے رسول محمدؐ کے ذریعے ہمیں عزت بخشی۔ انشاء اللہ فاسق رسوا ہوں گے اور جھٹلائے جائیں گے۔‘‘

ابن زیاد نے کہا: ’’تم نے دیکھا تمہارے بھائی اور اس کے ساتھیوں کا کیا حشر ہوا؟‘‘

حضرت زینبؓ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے انہیں درجہ شہادت پر فائز کیا، عنقریب وہ اور تم داورِ محشر کے سامنے جمع کیے جاؤگے، اس وقت تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس کا کیا حشر ہونا ہے۔

ابن زیاد جھلا کر بولا: ’’بنی ہاشم کے سب سے سرکش آدمی کے قتل سے میرا دل ٹھنڈا ہوگیا ہے۔‘‘

حضرت زینبؓ کو ابن زیاد کے اس طرح اظہار مسرت کرنے پر بڑا دکھ ہوا۔ ان کا آبگینۂ دل حوادثِ کربلا سے ٹوٹ چلا تھا، بے اختیار رو پڑیں اور فرمایا: ’’خدا کی قسم تو نے ہمیں اپنے گھروں سے نکالا، ہمارے ادھیڑوں کو قتل کیا، ہماری شاخوں کو کاٹا، ہماری جڑوں کو اکھاڑا، اگر اسی سے تمہارا دل ٹھنڈا ہونا تھا تو ہوگیا۔‘‘

ابن زیاد سے کوئی جواب نہ بن پڑا، اب اس کی نظر حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ پر پڑی، پوچھا: ’’لڑکے تم کون ہو؟‘‘

’’انھوں نے جواب دیا ’’علی بن حسینؓ۔‘‘

ابن زیاد نے عمربن سعد سے پوچھا: ’’اسے کیوں نہیں قتل کیا؟‘‘

اس نے جواب دیا: ’’بیمار ہے۔‘‘

ابن زیاد نے کہا: ’’اسے میرے سامنے قتل کرو۔‘‘

حضرت زینبؓ یہ حکم سن کر تڑپ اٹھیں اور بولیں: ’’ابن زیاد! کیا تو ابھی تک ہمارے خون سے سیر نہیں ہوا؟ کیا اس نقاہت اور بیماری کے مارے ہوئے مصیبت زدہ بچے کو بھی ماروگے؟ اگر اسے قتل کرنا ہے تو اس کے ساتھ مجھے بھی مار ڈال۔‘‘

یہ کہہ کر آپ حضرت زین العابدین سے چمٹ گئیں۔ ابن زیاد کے دل میں کچھ خیال آگیا اور اس نے حکم دیا کہ اس لڑکے کو عورتوں کے ساتھ رہنے کے لیے چھوڑ دو۔ چند دن بعد ابن زیاد نے شہدا کے سروں اور اسیرانِ اہل بیت کو فوج کے پہرے میں یزید کے پاس دمشق روانہ کر دیا۔

٭٭

طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد اسیرانِ اہل بیت دمشق پہنچے تو تین چار دن کے بعد انہیں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔ ایک سرخ رنگ کے شامی نے فاطمہ بنت حسینؓ کی طرف اشارہ کر کے کہا: ’’اے امیر المومنین یہ لڑکی مجھے دے دیجیے۔‘‘

حضرت زینبؓ تڑپ اٹھیں اور بولیں ’’خدا کی قسم! یہ لڑکی نہ تجھے مل سکتی ہے نہ یزید کو جب تک کہ اللہ کے دین کو ترک کرنے کا اعلان نہ کردے۔ پیغمبرؐ کے خاندان میں کسی کو تو یا تیرا بادشاہ لونڈی نہیں بنا سکتا۔‘‘

شامی نے دوبارہ یہی سوال کیا لیکن یزید نے اسے روک دیا۔

جب امام حسینؓ کا سر اقدس یزید کے سامنے پیش کیا گیا تو خواتین اہل بیت رونے لگیں۔ حضرت زینبؓ نے سر اقدس کی طرف مخاطب ہوکر کہا: ’’اے حسینؓ! اے محمد مصطفیؐ کے دل بند، اے دوش پیغمبرؐ کے سوار، اے فاطمہ زہرا کے لخت جگر اے جنت کے جوانوں کے سردار۔‘‘

یزید نے پوچھا: ’’یہ عورت کون ہے؟‘‘

اسے بتایا گیا کہ حسینؓ کی چھوٹی بہن زینب ؓ ہیں۔

یزید نے حضرت زینبؓ سے مخاطب ہوکر کہا: ’’کیا تمہارا بھائی یہ نہیں کہتا تھا کہ میں یزید سے بہتر ہوں اور میرا باپ یزید کے باپ سے بہتر تھا۔‘‘

حضرت زینبؓ نے دلیری سے جواب دیا: ’’بے شک میرا بھائی سچ کہتا تھا۔‘‘

یزید نے کہا: ’’میری عمر کی قسم، حسین کے نانا میرے دادا سے بہتر تھے۔ حسینؓ کی ماں میری ماں سے بہتر تھیں، رہا میرا باپ اور حسینؓ کا باپ تو سب کو معلوم ہے کہ خدا نے کس کے حق میں فیصلہ دیا۔‘‘

اس پر حضرت زینبؓ یزید اور اس کے اہل دربار کو مخاطب کر کے ایک درد ناک تقریر کی انھوں نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

’’اے یزید! گردش، افلاک اور ہجوم آفات نے مجھے تجھ سے مخاطب ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ یاد رکھ! رب العزت ہم کو زیادہ عرصے تک اس حال میں نہ رکھے گا اور ہمارے مقاصد ضائع نہ کرے گا۔ تو نے ہمیں نہیں بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے۔ آہ! تیرے آدمیوں نے دوشِ رسولؐ کے سوار اور اس کے بھائیوں، فرزندوں اور ساتھیوں کو نہایت بے دردی سے ذبح کردیا۔ انھوں نے پردہ نشینانِ اہل بیت کی بے حرمتی کی۔ اے کاش تو اس وقت شہیدانِ کربلا کو دیکھ سکتا تو اپنی ساری دولت و حشمت کے بدلے ان کے پہلو میں کھڑا ہونا پسند کرتا۔ ہم عنقریب اپنے نانا کی خدمت میں حاضر ہوکر ان مصائب کو بیان کریں گے، جو تیرے بے درد ہاتھوں سے ہمیں پہنچے ہیں اور یہ اس جگہ ہوگا جہاں اولادِ رسولؐ اور ان کے ساتھی جمع ہوں گے۔ ان کے چہروں کا خون اور جسموں کی خاک صاف کی جائے گی اور وہاں ظالموں سے بدلہ لیا جائے گا۔ حسینؓ اور ان کے ساتھی مرے نہیں، اپنے خالق حقیقی کے پاس زندہ ہیں اور وہی ان کے لیے کافی ہے۔ وہ عادل حقیقی نبیؐ کی اولاد اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے والوں سے ضرور بدلہ لے گا، وہی ہماری امیدہے اور اسی سے ہم فریاد کرتے ہیں۔‘‘

حیدر کرارؓ کی بیٹی کی گرج سن کر یزید اور اس کے درباری سکتے میں آگئے۔ یزید کو خوف محسوس ہوا کہ کہیں لوگ خاندانِ رسالت کی حمایت میں میرے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ اس نے خواتین اہل بیت کو اپنے خاص حرم سرا میں ٹھہرایا اور جہاں تک ہوسکا ان کی دل جوئی کی کوشش کی۔ چند دن بعد اس نے حضرت نعمان بن بشیر انصاریؓ کے زیرِ حفاظت قافلہ اہل بیت کو مدینہ منورہ روانہ کر دیا۔ جب قافلہ چلنے لگا تو حضرت زینبؓ نے فرمایا: ’’محملوں پر سیاہ چادریں ڈال دو تاکہ دیکھنے والوں کو پتہ چل جائے کہ یہ سیدۃ النساء کی دل فگار اولاد ہے۔‘‘

حضرت نعمان بن بشیرؓ نے جہاں تک بن پڑا۔ ان مصیبت زدہ مسافروں کی مدد کی اور راستے میں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچنے دی۔ جب یہ قافلہ کربلا پہنچا تو وہاں بزرگ صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؒ اور بنو ہاشم کے کچھ لوگ مدینہ منورہ سے آئے ہوئے تھے۔ انہیں دیکھ کر حضرت زینبؓ نے فرطِ الم میں پکارا، اے بنی ہاشم! تمہارا چاند غروب ہوگیا۔ اے میرے نانا کے صحابی تو نے جس بچے کو کبھی اپنے آقا کے درشِ مبارک پر سوار کیا تھا اس کا جسم اطہر گھوڑوں کے سموں سے پامال کر دیا گیا۔‘‘

اس کے بعد اس قدر روئیں کے غش آگیا۔ اس موقع پر موجود دوسرے سب لوگ بھی رونے لگے۔ جب قافلہ مدینہ منورہ پہنچا تو دن ڈھل چکا تھا۔ فاتح خیبرؓ کی غیور بیٹیوں، زینبؓ اور فاطمہؓ نے حضرت نعمان بن بشیرؓ کو ان کے حسن سلوک کے عوض اپنی چوڑیاں اتار کر پیش کیں اور ساتھ ہی معذرت کی کہ اس وقت ہمارے پاس اور کچھ نہیں کہ آپ کی خدمت کا معاوضہ دیں۔

نعمانؓ اشک بار ہوگئے اور کہا: ’’اے بناتِ رسولؐ! خدا کی قسم میں نے جو کچھ کیا ہے صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کے لیے کیا ہے۔ یہ چوڑیاں لے کر میں اپنا اجر ضائع نہیں کروں گا، خدا کے لیے انہیں اپنے پاس ہی رکھیے۔‘‘

اس دن سارا مدینہ منورہ سوگوار تھا۔ ہزاروں لوگوں نے روتے ہوئے ان مصیبت زدہ مسافروں کی پیشوائی کی۔ حضرت زینبؓ روضۂ نبوی پر حاضر ہوئیں تو ان کی چیخیں نکل گئیں اور زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے۔

’’اے میرے پیارے نانا جانؐ! میں آپؐ کے فرزند اپنے بھائی حسینؓ کی شہادت کی خبر لائی ہوں۔ آپ کی اولاد کو رسیوں سے باندھ کر کوفہ اور دمشق کی گلیوں میں پھرایا گیا ہے۔‘‘

اس وقت روضۂ نبویؐ کے قریب جتنے لوگ موجود تھے سب حضرت زینبؓ کے الفاظ سن کر رونے لگے۔ پھر وہ اپنی والدہ ماجدہ سیدۃ النساء فاطمہ زہرا کے مزار پر گئیں اور اس درد سے روئیں کہ پتھروں کے کلیجہ بھی پانی ہوگیا۔ اس کے بعد وہ اپنے خاندان کے دوسرے لوگوں سے ملیں، انہیں اپنی رودادِ غم سنائی اور سب کو صبر کی تلقین کی۔

بے پناہ مصائب نے حضرت زینبؓ کے دل و جگر کے ٹکڑے اڑا ڈالے تھے۔ کربلا سے واپس آنے کے بعد کبھی کسی نے ان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیںدیکھی۔ ایک روایت کے مطابق انھوں نے ۶۲ھ میں مدینہ منورہ ہی میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی اور یوں یتیمان اہل بیت کی سرپرست، شہدائے کربلا کی یادگار اور دشمنوں کو عذاب الٰہی سے ڈرانے والی بے مثال خطیبہ، اپنے محبوب اور مظلوم بھائی سے جنت الفردوس میں جاملیں۔

ایک دوسرا روایت کے مطابق حضرت زینبؓ اپنے شوہر حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کے ساتھ شام چلی گئیں۔ دمشق کے پاس حضرت عبد اللہ کی کچھ زمین داری تھی، وہاں پہنچنے کے بعد بیمار ہوئیں اور وہیں رحلت فرمائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
طالب ہاشمی

Leave a Reply