مومن کی شعوری منزل: آخرت

اسلام کا تصور آخرت انسان کی سوچ میں بلندی، اس کے فکر و خیال میں وسعت وکشادگی اور زندگی خوب صورتی اور عظمت عطا کرتا ہے۔ اس کے سبب حق کے معاملے میں سختی و ثابت قدمی اورتقویٰ و پرہیزگاری آتی ہے اور اسی سے انسان کے عمل میں اخلاص ،پابندی و پختگی پیدا ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یقین آخرت کے بغیر اسلامی زندگی کاتصور نہی کیاجا سکتا او رجو لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے ہیں دراصل وہ زندگی کی عظمت اور اہمیت سے ہی ناواقف ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن مجید میں عقیدئہ آخرت پر اس قدر زور دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو اس لئے نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ دنیا میں کچھ برس زندگی گذارے اور پھر فنا ہو جائے اس کے بعد چاہے ان کی یا د باقی رہے یا وہ بھی ختم ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے تو انہیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ان کا وجود ہمیشہ باقی رہے گویا تصورِ آخرت انسانی زندگی کو ہمیشگی عطا کرتا ہے اور زندگی کی عظمت ہے۔ جو لوگ زندگی کی عظمت کو سمجھتے ہیں در اصل وہی خیر اور شر یعنی بھلائی اور برائی سے حقیقی معنی میں واقف ہیں۔ جو لوگ یہیں مرکر ختم ہوجانے کا تصور رکھتے ہیں، ان کے نزدیک تو سب کچھ یہی زندگی ہوئی اور جب یہی زندگی ہے تو پھر عیش کیوں نہ کیا جائے۔ پریشانیاں اور مصیبتیں کیوں جھیلی جائیں۔ عیش کرنا ہے چاہے کسی کی دولت لوٹ کر ہو یا کسی کو قتل کر کے۔ اس تصور کے مطابق تو ہر وہ چیز اچھی ہوگی جو اس زندگی کو سامان عیش دے اور ہر بھلائی بے معنی ہوگی جس سے دوسروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔

اسی تصور کی بنیاد پر اسلام اس زندگی کو دار العمل یادار الامتحان قرار دیتا ہے۔ ہم یہاں کی اس عارضی زندگی میں جو کچھ کر رہے ہیں اس کا ویسا ہی بدلہ ہمیں دائمی زندگی میں ملے گا اور وہ بدلہ جہنم یا جنت کی صورت میں ہوگا۔ ہمارا دین ہمیں آخرت یعنی دائمی زندگی کی بھرپور تیاری کی تلقین کرتا ہے اور آخرت کے لیے بڑے سے بڑے دنیاوی فائدے کو ٹھکرانے کا اہل بناتا ہے۔ کیوں کہ آخرت ہی ان کی شعوری منزل ہے۔

ہمارے اسلاف آخرت کی اس شعوری منزل سے اچھی طرح واقف تھے اور اس کے لئے تیاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ ابوالعلاء معرّی نے ایک بزرگ فقیہ کے مرثیہ میں کتنی عمدہ بات کہی تھی۔

’’لوگ دارالعمل سے منتقل کیے جاتے ہیں یا سعادت و کامرانی کی منزل تک،یا بدبختی و نامرادی کے گھر تک۔‘‘

اور جیسا کہ امام ابن قیمؒ اپنے مشہور قصیدے میں صالح مومن کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ایسے باغات میں تمہارا خیر مقدم کیا جائے گا جو تمہارا پہلا ٹھکانا رہ چکے ہیں اور اب وہیں تمہارا قیام ہوگا۔‘‘

ایک انسان اپنا مستقبل موت کے پہلے تک کے وقفہ کو مانتا ہے اور اسی کے لئے جدوجہد کرتا ہے،محنت کرتا ہے،پیسے اکٹھا کرتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے تاکہ اسکو اچھی نوکری ملے اور اپنے بچوں کا مستقبل سنوار سکے،بڑھاپا آسانی سے گزر جائے لیکن ایک مسلمان کے لئے مستقبل کیا ہے؟ اس کی نظر میں مستقبل کا مطلب موت کے بعد کی زندگی ہے۔ جہاں اسکو لوٹ کر جانا ہے جہاں اسکو ہمیشہ ہمیش رہنا ہے۔وہ اسی کے لئے تیاری اور جدوجہد کرتا ہے اور اپنے لئے آخرت میں گھر تعمیر کرتا ہے۔ کیوں کہ مستقبل کی اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ آخرت میں انسان اسی گھر میں رہیگا جو اسنے دنیا میں رہتے ہوئے قائم کیا ہوگا۔

لوگوں کو ہر گھنٹے ہزاروں انسانوں کی موت بھی آخرت پر غور کرنے کیلئے اور آخرت کی تیاری کرنے کے لئے آمادہ نہیں کرتی ہے آخر ایسا کیوں ہے؟ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ہمارا مستقبل کیا ہے ؟’کل‘ ہے یا آخرت کے بعد کی زندگی۔ ہم کس کے لئے تیاری کر رہے ہیں موت کے پہلے کے لئے یا موت کے بعد کے لئے، جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ دنیا مسافر خانہ ہے اور ہمارا جسم ایک سواری اور ہماری روح سوار ہے اور ہماری منزل آخرت ہے ۔رفتہ رفتہ ہم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں ہر آنے والا کل ہمیں ہماری منزل کے قریب لے جا رہا ہے ۔جس انسان نے دنیا میں صبرو شکر سے کام لیا ہوگا وہی آخرت کی ابدی نعمتوںسے بہر مند ہوگا۔

ابن کثیر نے طبرانی سے نقل کی ہے کہ ’’جنت میں مومن عورتیں حوروں سے افضل ہوںگی۔‘‘حضرت ام سلمہ ؓنے دریافت کیا کہ کس وجہ سے فرمایا ’’ اپنے روزہ نماز اور عبادات کی بدولت۔ ‘‘

بہت سے لوگ زندگی کی مصروفیات ،خواہشات کے دبائو اور موجودہ زندگی کے نشہ میں اس طرح سرشار رہتے ہیںکہ وہ صرف دنیا سنوارنے میں ہی لگے رہتے ہیںانہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ہمیں دوبارہ اٹھایا جانا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آنے والے کل میں مردہ ہونے والا انسان آج کے مردے کا جنازہ اٹھا رہا ہے لیکن اسکی خود فریبی موت کے جلوس سے بھی کوئی عبرت حاصل نہیں کرتی۔ کتنے سربراہ اس دن عام فقیروں کی طرح اٹھائے جائیںگے کیوںکہ انہوں نے اس دن کی کوئی تیاری نہیں کی ہوگی اور کتنے آج کے گمنام اور بے چارے قیامت کے دن سر بلند ہوگے۔ یہ وہ دن ہوگا جب جورو ظلم کا خاتمہ ہوگااور حق کا چہرہ روشن ہوگا۔

’’یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخراس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیںگے ؟ـکہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دیگا اورزمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دیگا کہ اس میں کوئی بل سلوٹ نہ دیکھو گے۔‘‘(طٰہٰ:104,105)

’’اس دن جب زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے اورسب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے۔ (ابراہیم:148)

پھر جب تمام لو گ واحد قہار کے سامنے اپنا اپنا نامئہ اعمال لے کر کھڑے ہوجائیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بنی آدم تین اقسام میں منقسم ہونگے۔

’’تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جائوگے دائیں بازو وا لے سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا اور بائیں بازو والے تو بائیں بازو الوں(کی بدنصیبی) کا کیا ٹھکانااور پھر آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیںوہی تو مقرب لوگ ہیں نعمت بھری جنتوں میں رہیںگے۔(الواقعہ:7,12)

سورہ واقعہ کی تفسیر کے مطابق اس دن انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوںگے ۔

1: نیکیوں میں سبقت کرنے والے

2: دائیں جانب والے

3: بائیں جانب والے یعنی جہنم والے

نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کو جوسب سے بڑا امتیاز حاصل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ سے قربت ہوگی اسی کو ہم بڑی خوش نصیبی کہہ سکتے ہیںاس لئے کہا گیا ہے کہ :

’’اور آگے والے تو آگے والے ہی ہیں وہی تو مقرب لوگ ہیں نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔‘‘(واقعہ:10,12)

سابقین لوگ بغیر احساس کے ہر دم اللہ تعالیٰ کی پاکی و بزرگی بیان کرنے میں فرشتوں کے شریک ہوںگے۔

شب و روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں دم نہیں لیتے۔ (انبیاء:20)

اگر ان میں کوئی شخص ایسا ہوگا جو تلاوت قرآن اور ،قرآن کی تعلیم و اشاعت کو ہی اوڑھنا بچھونا بنائے رہا ہوگا تو اس کے لئے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قرآن پڑھنے والے سے قیامت کے دن کہا جائیگا کہ پڑھتے رہو اور اوپر چڑھتے جائو اور اسی طرح ٹھہرٹھہر کر پڑھو جیسے دنیا میں پڑھا کرتے تھے۔(ترمذی)

اہم بات یہ ہے کہ جنت کے لوگ اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے باوجود بیکار نہیں بیٹھیں گے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذکر و شکر کی توفیق ملے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خوش بخت ہوںگے لیکن اس سے بھی زیادہ خوش بختی یہ ہوگی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دن رات سلام پہنچے گا۔اور وہ اس سے سرگوشیاں کیا کریں گے:

’’اور اگر وہ اصحاب یمین یعنی دائیں جانب والوں میں ہوگا تو اس سے کہا جائے گا کہ سلام ہے تجھے تو اصحاب یمین میں سے ہے ‘‘(90-91)

سابقین کے لئے خاص قسم کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں اور دائیں جانب والے لوگو ں کے لئے جو زیادہ تعداد میں ہونگے دوسری نعمتیں ہوں گی۔

’’وہ اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بہت۔‘‘

اب رہے بائیں جانب والے لوگ تو یہ وہ فاسقین اور جھٹلانے والوں کا گروہ ہوگا جنہوں نے دین سے دشمنی کی ،دنیاوی زندگی میں مگن رہے اور رسولوں کی مخالفت کی، وہ آخرت کے علاوہ دنیاوی زندگی کو ہی ترجیح دیتے رہے ان کو دیے جانے والے عذاب کا ذکران الفاظ میں کیا گیا ہے:

’’اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو تو اس کی تواضع کے لئے کھولتا ہوا پانی اور جہنم میں جھونکا جانا ہوگا۔ ‘‘ (الواقعہ:92,94)

’’اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوںگے۔‘‘

‘‘(الواقعہ:42)

’’پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو! تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔‘‘)الواقعہ(52-51

’’اور جنہیںایسا گرم پانی پلایا جائیگاجو انکی آنتیں تک کاٹ دے گا۔‘‘(سورہ محمد:15)

بائیں جانب والے لوگوں کو آخر یہ عذاب کیوں دیا جائیگا ؟کیونکہ انہوں نے دنیا میں کوئی نیک کام نہیں کیا تھا اور نہ ہی آخرت کے لئے تیاری کی تھی وہ جانتے ہوئے بھی یہ بھول گئے تھے کہ ان کو ایک دن اپنے خدا کے سامنے کھڑے ہوکر جواب دینا ہوگا اور دنیا میں وہ صرف اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی ہوگی ۔دنیا وہ صرف لذت پرستیوں کے پیچھے ہی بھاگتے پھرتے تھے۔

’’ان سے کہا جائیگا کہ یہ تمہارا انجام اس لئے ہوا ہے کہ تم زمین پر غیر حق پر مگن تھے اور پھر اس پر اتراتے تھے۔(المومن:75)

وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا اسنے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے ۔ پلٹنا کیسے نہ تھا اس کا رب اسکے کرتوت دیکھ رہاتھا۔(الانشقاق:15,13)

یومِ آخرت کا انکار کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائیگا ،یہ نظریہ آج مشرق و مغرب دونوں پر حاوی ہے ۔اور یہی گناہوں میں پڑنے اور اس میں غرق ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ رک کر سوچنے کا مقام ہے کہ ہم اپنی جگہ کس گروہ کے ساتھ بنا رہے ہیں؟ دائیں جانب والے لوگوں کے ساتھ یا پھر بائیں جانب والے گروہ کے ساتھ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شیرین رحمانی (جبل پور)

Leave a Reply