مشورہ حاضر ہے!

نیند نہیں آتی

گزشتہ دو سالوں سے میں بے خوابی کا شکار ہوں۔ شروع شروع میں نیند اچاٹ ہوئی، تو ڈاکٹر کے پاس گیا، جس نے گولیاں لکھ دیں۔ پہلے آدھی گولی کھاکر سوجاتا تھا، ایک ماہ بعد پوری گولی کھانے لگا۔ یونہی سال گزر گیا۔ اب یہ حال ہے کہ دو گولیاں بھی کھالوں، تو نیند نہیں آتی۔ دن میں تھوڑا بہت اونگھ لیتا ہوں۔ میری عمر پہنتالیس سال ہے۔ دیسی اور انگریزی دوائیاں کھاکھا کر پریشان ہوگیا ہوں۔ بیوی علیحدہ ناراض رہتی ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ بھائی کے ساتھ اپنا کاروبار ہے۔ دوچار گھنٹے کے لیے دکان پر چلا جاتا ہوں ورنہ کھانے کے لالے پڑجاتے۔ بچے پڑھ رہے ہیں۔ پتا نہیں مجھے نیند کیوں نہیں آتی۔ مجھے مشورہ دیجیے کہ میں کیا کروں اور کیسے اپنی نیند پوری کروں؟ نیند کی کمی سے میری صحت خصوصا یاد داشت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔

٭اللہ تعالیٰ نے آرام کے لیے نیند رکھی ہے اور گہری نیند صحت کی علامت ہے۔ جب یہ اچٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ بے خوابی اور ڈپریشن اس دور کے خاص الخاص تحفے ہیں جو عموما امرا کو دبوچتے ہیں۔ آپ نے کڑا کے کی سردی میں پیدل راہ پر سوتے مزدورں کو دیکھا ہوگا۔ اسی طرح سخت گرمی کے دنوں میں باغوں میں جاکر لوگ مزے سے سوجاتے ہیں، انہیں تپش کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ نیند آور دواؤں سے شروع شروع میں اچھی نیند آتی ہے مگر کب تک، دوا کی مقدا ربڑھتی اور نیند کم ہوتی جاتی ہے۔ تاہم مختلف لوگوں میں نیند کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سات آٹھ گھنٹے کی نیند لیتے ہیں اور کچھ تین چار گھنٹے سوکر تازہ دم ہوجاتے ہیں۔ میں لاہور میں ایک ڈاکٹر صاحب کو جانتی ہوں، جنھوں نے ہفتہ میں چھ دن جاگنے کا وتیرہ بنا رکھا ہے۔ وہ صرف اک دن یعنی چوبیس گھنٹے سوتے ہیں اور پھر پورا ہفتہ چاق و چوبند رہتے ہیں۔

آپ کی عمر ابھی اتنی نہیں کہ آپ بے خوابی کے مریض بن جائیں۔ اپنی غذا پر خاص توجہ دیجیے۔ سوچیے کہ دو سال پہلے کوئی ذہنی پریشانی تو لاحق نہیں ہوئی تھی؟ غصہ یا اشتعال، قبض اور معدے کی گرانی تو نہیں ہوتی؟ بہرحال نیند کی گولیاں کھانی چھوڑ دیجیے۔ جب نیند ہی نہیں آتی تو کھانے سے کیا فائدہ؟ ان کے ضمنی اثرات بھی صحت پر برا اثر ڈال سکتے ہیں۔ مثلاً جسم میں کھجلی، بدہضمی اور بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) ہوسکتا ہے۔ ہماری صحت کے لیے وٹامن، کیلشیم، میگنیشیم اور جست ضروری ہیں۔ ان کی کمی سے بے خوابی جنم لیتی ہے۔ آپ اپنے ڈاکٹر سے پوچھ کر وٹامن اور معدنیات تجویز کرائیے۔

دوسری بات یہ کہ کولا مشروبات، الکحل، کافی، چاکلیٹ اور تلی ہوئی بازاری چیزوں سے پرہیز کیجیے۔ صبح کے ناشتے میں تازہ پھل اور جوکا دلیہ کھائیے۔ دوپہر کے کھانے میں ایک پیالی دہی لیجیے۔ تازہ سبزیوں کا سلاد، پکی ہوئی سبزی اور گوشت کا شوربہ آپ کے لیے اچھا ہے۔ عصر کے وقت سات انجیر آدھی پیالی پانی میں بھگودیں۔ سونے سے پہلے انجیر کھاکر پانی پی لیں اور نیم گرم دودھ کا ایک پیالہ پی کر بستر پر لیٹئے۔ آج کل قرآن پاک کی تلاوت کے کیسٹ بازار میں دستیاب ہیں۔ آپ وہ سنین یا دعاؤں کی کوئی کتاب پڑھیے۔ ان میں بے خوابی دور کرنے کی دعائیں ملتی ہیں۔ پہلو کے بل لیٹ کر گہری سانسیں لیجیے، چت نہ لیٹئیے۔ سانس روکنے سے جسم میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع ہوجاتی ہے اور نیند آتی ہے۔ اپنی غذا اور معمولات میں تبدیلی کرنے سے آپ کی تکلیف دور ہوسکتی ہے۔

مجھے سردی بہت لگتی ہے

میری عمر پچاس سال ہے۔ موٹی اونی جرابیں پہننے کے باوجود میرے پاؤں یخ رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹانگوں کے ساتھ پیروں کا وجود ہی نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے نہ دل کی تکلیف ہے اور نہ ذیابیطس۔ کھاتا پیتا ہوں، ہاضمہ درست ہے، بلغمی مزاج ہے یعنی بلغم بہت بنتا ہے۔ آپ اس خرابی کے سلسلے میں مجھے مشورہ دیجیے۔ دوائیاں کھاکھا کر تنگ آگیا ہوں، اب میں کوئی دوا نہیں کھاسکتا۔ دوائیں دیکھ کر طبیعت متلا جاتی ہے۔

٭ کچھ لوگوں کو سردی بہت لگتی ہے۔ جون جولائی میں بھی انکے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ کرم کیا کہ اور کوئی مرض لاحق نہیں۔ آپ ایک کام کیجیے: غذا سے اپنا علاج کیجیے۔ کھجور اور چھوہارے طاقت بخش ہیں اور ان کی حدت سے جسم میں گرمائش آتی ہے۔ آپ بازار سے اچھی قسم کے چھوہارے منگائیے اور پانچ چھ عدد صبح پانی میں بھگو دیجیے۔ پانی اتنا ہو کہ چھوہارے خوب پھول جائیں۔ رات کو آدھ کلو دودھ میں انہیں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے دیجیے۔ چوتھائی چمچی پسی ہوئی سونٹھ، دار چینی کا ایک درمیانہ ٹکڑا، پسی سات کالی مرچیں اور گڑ کا چھوٹا ٹکڑا بھی دودھ میں ڈال دیجیے۔ خوب اچھی طرح پک جائے تو ایک بڑی پیالی اس مشروب کو گرما گرم پی لیجیے اور چھوہارے چبا کر کھالیں۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ ایک تو آپ کے جسم میں حرارت پیدا ہوگی، بلغم دور ہوگا، تازہ خون بنے گا اور ہاتھ پاؤں کی ٹھنڈک دور ہوجائے گی۔

احتیاط:

یہ صرف ان لوگوں کے لیے مفید ہے جنہیں بلند فشار خون، ذیابیطس اور معدے کی گرانی نہ ہو اور سردی بہت لگتی ہو۔

آج کل نوجوانوں کو اپنی باڈی بنانے کا بڑا شوق ہے۔اس سلسلے میں میرے پاس بہت سارے خط آے ہیں۔ جو نوجوان خون کی کمی کا شکا رہوں اور توانا رہنا چاہیں وہ رات کو دودھ میں پانچ چھوہارے بھگودیں۔ صبح اسے جوش دے کر پکا کر پی لیں اور چھوہارے کھالیں۔ پکاتے وقت اس میں دار چینی کا ایک ٹکڑا ضرور ڈال لیں، اس سے جسم میں طاقت آئے گی۔ جن لوگوں کا مزاج سرد ہو، یہ نسخہ ان کے لیے بہتر ہے۔ موسم میں کھجور ضرور کھانی چاہیے، اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت میں بہت خواص رکھے ہیں۔ آج کل کھجور کی مٹھائی، کیک اور شربت بنتے ہیں۔ کھجور کی گٹھلیاں نکال کر اندر بادام کی گری رکھی جاتی ہے۔ پھر طشتری پر سجا کر اور ناریل کا برادہ چھڑک کر چاندی کے ورق، لگائے جاتے ہیں۔ کھچور اچھی طرح مسل کر اس میں ویفز بسکٹ کا چورا ملا کر مٹھائی کی شکل دی جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کو کھجور سے بنی مٹھائی اور چیزیں کھلائیں تاکہ ان کی نشو و نما بہتر ہو۔

گوری رنگت

یہ میرا تیسر اخط ہے۔ میں نے بازار سے تین کریمیں خرید کر انہیں ملا کر اپنے چہرے پر لگایا۔ پہلے ہفتے رنگ صاف ہوا پھر دانے نکل آئے۔ اب آپ مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں۔ کیا کوئی ایسی کریم نہیں جسے لگاتے ہی میرا رنگ گورا ہوجائے۔ چھائیاں نہ پڑیں اور بال بھی نہ ہوں۔

٭ نہ جانے آج کل کی لڑکیاں گوری رنگت پر کیوں مرتی ہیں۔ میں نے بہت سی سانولی سلونی لڑکیاں دیکھی ہیں جن کے مقابلے میں گوری لڑیاں اچھی نہیں لگتیں۔ ایک زمانے میں بہت زیادہ گوری لڑکیوں کو پھیکا شلجم کہا جاتا تھا اور سانولی رنگت دیکھ کر کہتے ’’کیا پیاری شکل ہے‘‘ نمک نے اس کی ملاحت اور خوب صورتی کو نمایاں کر دیا ہے۔ یعنی سانولی سلونی لڑکیوں کو زیادہ پسند کیا جاتا تھا۔

اب یہ تو مقدر کی بات ہے کہ کسی کا رنگ سانولا، کوئی کالا اور کوئی گورا ہے۔ ایک بات میں آپ کو بتاؤں کہ ساری خوبیوں میں لڑکی کا سلیقہ رہنے کا طریقہ، تمیز و تہذیب اور اخلاق نمایاں ہوتا ہے۔ اگر آپ سلیقہ مند ہیں تو رنگ کی طرف سے بے فکر ہوجائیے۔ پہلے زمانے میں صرف ابٹن ہوتا تھا۔ چنبیلی کی کھل میں ہلدی، اگر، چندن اور دوسری جڑی بوٹیاں ملائی جاتیں، گلاب اور موتیے کا عطر ڈالتے۔ اس ابٹن کی خوشبو مہینوں تک نہیں جاتی تھی۔ اس کے لگانے سے نہ دانے نکلتے نہ الرجی ہوتی۔ آج بھی بازاری ابٹن ملتے ہیں مگر وہ بات نہیں۔ آپ بادام کی کھل منگا کر اسے بھگوئیے اور اس سے منہ ہاتھ دھوئیے۔ چنے کی دال دودھ میں بھگو کر پھر پیس کر چہرے پر اچھی طرح ملیے۔ رات کو سوتے وقت گھیکوار کا گودا چہرے پر اچھی طرح لگا کر سوجائیے۔ صبح اٹھ کر بیسن سے منہ دھولیجیے، رنگ نکھر جائے گی۔

عموماً لڑکیاں مجھے خطوط میں لکھتی ہیں کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ بازار سے مہنگی کریمیں خرید سکیں۔ میں یہی جواب دیتی ہوں کہ بازاری کریمیں نہ خریدئیے، ان سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ بعض دفعہ لگانے سے چہرے پر ایسے دانے نکلتے ہیں جو دواؤں سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے، بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

سب سے بہتر چنے اور مسور کی دال کا ابٹن ہے۔ آپ اسے پیس کر چہرے پر لگا سکتی ہیں۔ پھر گھیکوار کا گودا، دودھ کی بالائی اور لیموں کا رس ہے۔ یہ چیزیں گھر میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں، خریدنی نہیںپڑتیں۔ کنو، مالٹے اور لیموں کے چھلکے اور بیج بھی ہیں، انھیں سکھا کر پیس کر پانی میں بھگوئیے، چہرے پر دس منٹ کے لیے لگائیے پھر ابٹن کی طرح ہاتھ سے مل کر اتار دیجیے، چہرہ چمک جائے گا۔ یاد رہے کہ ہفتہ میں دوبار سے زیادہ نہ لگائیے آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

بد دعا لگ گئی

زندگی میں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو پہلی نظر میں دل کو بھا جاتے ہیں۔ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا۔ انتہائی ذہین، پڑھے لکھے اور خوب صورت استاد سے واسطہ پڑا۔ اس کی شرافت اور سادگی نے مجھے بڑا متاثر کیا۔ میں انجانے میں اس کے قریب ہوتی گئی۔ لیکن جب اس نے بتایا کہ اس کی منگنی ماں باپ نے کردی ہے تو مجھے بڑا عجیب سا لگا۔ غصہ بھی آیا حالاں کہ اس نے کبھی مجھ سے شادی یا محبت کی بات نہیں کی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ اب تم سے کبھی نہیں ملوں گی۔ میںنے پھر اسے یہ بد دعادی کہ تمہارا یہ خوب صورت چہرہ اور پرکشش آنکھیں جنہیں دیکھ کر لوگ پاگل ہوجاتے ہیںخدا کرے یہ چہرہ بگڑ جائے تاکہ کوئی تمہیں دیکھ کر متاثر نہ ہو۔ کاش تم مرجاؤ، میں نہیں چاہتی تم اس دنیا میں زندہ رہو۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قبولیت کی وہ گھڑی تھی اور وہ لمحہ کسی جذب کی کیفیت سے بھرپور تھا۔ اب مجھے پتا چلا کہ اسے دھوکے سے بلا کر چہرے پر گولیاں مار کر ختم کردیا گیا ہے۔ جب سے میں ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں۔ قرآن پڑھ لوں تو سکون وقتی طو رپر مل جاتا ہے لیکن پھر وہی بے قراری اور کرب!

میری شادی کی تیاری زوروں پر ہے لیکن میرا کوئی ایسا ساتھی یا سہیلی نہیں جسے اپنا دکھ بیان کرسکوں۔ آپ میرا پورا خط نہ شائع کیجیے۔ بس مجھے جواب دے دیجیے کہ میں کیا کروں؟

٭ بی بی آپ کا تفصیلی خط میرے سامنے ہے۔ ماشاء اللہ آپ بہت پڑھی لکھی اور ذہین ہیں۔ زندگی کے تمام معاملات سمجھتی ہیں۔ـ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ کانٹے کی طرح دل میں کھب جاتی ہیں پھر دماغ میں بھی کھلبلی سی مچی رہتی ہے۔ آپ کے ذہن پر بددعا سوار ہوگئی ہے۔ شاید اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ منہ سے کبھی غلط بات نہیں نکالنی چاہیے خصوصا کسی کو بددعا نہ دو۔

موت اور زندگی اللہ کے اختیار میں ہے، کسی انسان کے نہیں۔ آپ نے تو غصہ میں آکر بد دعای تھی اس بات کو اپنے ذہن پر مسلط نہ کیجیے۔ قرآن پڑھ کر بخش دیجیے اور مغفرت کی دعا کیجیے۔ پھر آپ کا اس کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہنس کر دوسرے سے بات کرلے، تو وہ سمجھتا ہے کہ بس یہ ہمارا اپنا ہے حالاں کہ ایسا ہونا ضروری نہیں۔ حقیقت اور خیالوں کی دنیا میں بڑا فرق ہے۔ آپ نے اپنا پتا بھی نہیں لکھا ورنہ میں آپ کو براہ راست جواب دیتی۔ آپ اپنے ذہن سے ساری باتیں جھٹک دیجیے اور ایک نئی زندگی کو اپنانے کے لیے تیار ہوجائیے۔ گھر میں شادی کی تیاریاں ہیں، ان میں حصہ لیجیے۔ آپ کے دواخانے میں اگنیشیا ۲۰۰ ایا IM ہوں گی، وہ کھا لیجیے سکون ملے گا۔

بقول آپ کے اس نے کبھی آپ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی وعدہ کیا پھر آپ کیوں اس سے توقعات قائم کرکے بیٹھ گئیں۔ غلطی آپ کی ہے اور پھر بد دعا بھی دے دی حالاں کہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا اور آپ کی بددعا آخر اسے کیوں لگتی؟ اس نے تو آپ کا کوئی نقصان نہیں کیا تھا اور نہ ہی آپ کے ساتھ کوئی فریب کیا۔ بہرحال اب تو کہانی ختم ہوگئی۔ آپ ساری باتیں ذہن سے جھٹک دیجیے، اسی میں آپ کے لیے بہتری ہے۔ آپ اب کسی کو بد دعا نہ دیجیے گا، آپ کے لیے یہ سبق ہے جو تمام زندگی آپ کو یاد رہے گا۔

کچنار کے فائدے

ہمارے گھر میں دو تین کچنار کے پیڑ ہیں جن میں کلیاں لگتی ہیں پھر پھول بن جاتے ہیں۔ ہم لوگوں کو اس کے پکانے کا طریقہ بھی نہیں آتا اور نہ ہی اس کے فوائد معلوم ہیں۔ یہ گھر ہم نے نیا خریدا ہے۔ آپ مجھے اس کے متعلق بتائیے۔

٭ زینب بی بی! کچنار تو بہت اچھی سبزی ہے۔ اس کی کلیاں مہنگی ملتی ہیں اور بہت مزے کی پکتی ہیں۔ کچنار قیمہ اور کچنار گوشت عام طو رپر پکایا جاتا ہے۔ بکرے کا گوشت بھون کر اس میں کچنار کی کلیاں ڈالتے ہیں، پہلے ڈنڈیاں توڑ لینی چاہئیں پھر دہی ڈال کر بھون کر پھر تھوڑا سا گھی ڈال کر بھون لیں۔ اس کے بعد تھوڑا سا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں۔ کلیاں گل جائیں تو ادرک کاٹ کر ڈالیے، دو تین ہری مرچ ملائیے اور گرم مسالہ پسا ہوا چھڑک کر اتار لیجیے۔

اس میں گھی زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ کچنار میں نمکیات اور وٹامن سی زیادہ ہے۔ سرد اور خشک مزاج ہے، اسی لیے گھی پڑتا ہے۔ یہ بہت مفید سبزی ہے۔ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا ہے۔ سنگرہنی کے مریض کچنار کھائیں تو فائدہ ہوگا۔ جن خواتین کو ماہانہ ایام کثرت سے آتے ہوں، انہیں چاہیے کہ کچنار کا سالن اپنی روز مرہ غذا میں شامل رکھیں۔ اس سے خون میں کمی ہوگی۔

کچھ بچوں کو کانچ نکلنے کی شکایت ہوتی ہے، گوشت میں کچنار پکاکر انھیں کھلانے سے یہ تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ مرغی یا بکری کے گوشت میں پکاکر بچوں کو سینڈوچ بنا کر کھلائیے، وہ شوق سے کھالیں گے۔

نیم کی چھال کی طرح کچنار کی چھال بھی جراثیم کش ہے۔ اس کے ٹکڑے کر کے، پانی میں اچھی طرح پکاکر زخموں، کیل مہاسوں اور پھوڑے پھنسی کو صبح شام دھویا جائے تو وہ جلدی مندمل ہوجاتے ہیں۔

کچنار سے فساد خون کا علان کیا جاتا ہے۔ اکثر حکیم کچنار کے پھول، ساہترہ اور منڈی بوٹی وغیری کو پانی میں بھگو کر اس کا عرق کشید کرلیتے ہیں اور اس عرق کو صبح شام پلاکر علاج کرتے ہیں۔ میں نے کچنا رکے موسم میں اکثر طبیبوں کو کچنا رکے پھول اکٹھے کرتے دیکھا ہے۔ ان سے پوچھا تو بتایا کہ وہ اسے بہترین مصفی خون سمجھتے ہیں۔ وہ ان پھولوں کو سکھاکر پیس کر رکھ لیتے ہیں۔ خون کی خرابی کے جو مریض آئیں، انھیں یہ سفوف دیتے ہیں، جسے وہ صبح شام شہد میں ملا کر کھاتے ہیں، یوں خون صاف ہوجاتا ہے۔

کچھ لوگ کچنا رکے پتے سکھا کر پوٹلی بنا کر رکھ لیتے ہیں اور پانی میں ابال کر اس سے غسل کرتے ہیں جس سے ان کی تھکن دور اور جسم تر و تازہ رہتا ہے۔

خونی بواسیر کے لیے ٹوٹکہ

تروتازہ کچنا رکی کلیاں لیجیے اور ڈنڈیاں توڑ کر صاف کرلیں۔ انھیں سائے میں سکھاکر پیس کر رکھ لیجیے۔ جتنا سفوف ہو اتنی ہی پسی ہوئی مصری ملائیے۔ ایک ماشہ یہ سفوف روزانہ تازہ مکھن کے ساتھ چاٹیے ، دس سے پندرہ روز میں خونی بواسیر ٹھیک ہوجائے گی۔

(نوٹ) جو لوگ یہ ٹوٹکہ استعمال کریں، صحت یاب ہونے پر مجھے ضرور بتائیں۔

کچنا رکے بیج پھلوں کے سر کے میں پیس کر زخموں اور پھنسیوں کے نشانوں پر لگائے جائیں تو وہ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ پھلوں کا سرکہ نقلی نہ ہو ورنہ نقصان ہوگا۔

زینب بی بی! کچنار کے فائدے آپ کو بتادیے، اب آپ مزے سے کچنار پکا کر کھاسکتی ہیں۔ کچنار قیمہ میں بھی پکتی ہے اور گوشت میں بھی۔ آپ اسے فریزر میں محفوظ بھی کرسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پھلوں، سبزیوں اور جڑی بوٹیوں میں گوناگوں خواص رکھے ہیں۔ موسم کے پھل، سبزیاں ضرور کھائیں۔ انسانی صحت کے لیے یہ بہت ضروری ہیں۔ کچنار کی پھلیوں کا اچار مزے کا ہوتا ہے۔

سرطان کا علاج

عبد النعیم اعوان کا خط آیا ہے۔ وہ جلد کے سرطان کا علاج پوچھتے ہیں۔

آج سے کئی سال پہلے میں نے پڑھا تھا کہ زمبابوے میں ایک خاتون مسز سیلی باغبان تھیں۔ دھوپ میں کام کرنے کے لیے باعث ان کی پیشانی پر داغ ابھر آیا۔ پتا چلا کہ یہ جلد کا سرطان ہے۔ انھیں ایک صاحب نے اس پر صبح شام گھیکوار کا گودا لگانے کو کہا، چار ماہ کے مسلسل استعمال سے وہ سرطانی داغ غائب ہوگیا۔ اب بھی وہ گھیکوار لگاتی ہیں۔

ہومیو پیتھک دوا ہے: ہائیڈرو کوٹائل۔ یہ بھی جلد پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔ آپ ساری باتیں تفصیل سے لکھئے اور جوابی پتا لکھا ہوا لفافہ بھی بھیجیے، اللہ کرم فرمانے والا ہے۔ علاوہ ازیں آپ صبح شام گھیکوار کا گودا لگائیے۔ پتہ دھوکر بیچ میں سے تراشیے، پیلے رنگ کا پانی نکلے گا۔ اسے ٹشو پیپیر سے صاف کردیجیے اور گودا متاثرہ حصے پر اچھی طرح لگائیے پھر اسے خشک ہونے دیجیے۔ اسی طرح شام کو لگانا ہے۔ اس کے مابعد اثرات نہیں نہ کوئی نقصان ہے، آپ بے فکر ہوکر لگا سکتے ہیں۔

ہر کام میں تاخیر

’’میرے ساتھ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ میں جو سوچتی ہوں وہ کرنہیںسکتی۔ میر اہر کام اول تو ہوتا نہیں اور ہوبھی تو بہت دیر لگتی ہے۔ پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ میں گھریلو خاتون ہوں۔ دو بچے ہیں۔ میں ملازمت بھی نہیں کرتی پھر بھی میرے ساتھ یہ مسئلہ کیوں ہے۔ مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں؟‘‘

٭ بی بی! آپ نے اپنے ذہن پر ’کام‘ کو سوار کرلیا ہے۔ ایک وقت میں ایک کام کیجیے۔ صبح اٹھ کر ایک کاغذ پر کاموں کی فہرست بنا لیجیے۔ مثلاً بازار جانا ہے، جو چیزیں خریدنی ہیں ان کی فہرست، خط لکھنے ہیں، فون پر رابطہ کرنا ہے، سلائی کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ آپ حیران ہوں گی کہ شام تک صرف ایک آدھ کام رہ جائے گا، باقی تمام کام آپ انجام دے لیںگی، جو کام کرلیں، کاغذ پر اسے کاٹ دیں۔ یہ کاغذ آپ اپنے کمرے میں کہیںلٹکا دیں تاکہ آپ کو کام کرنے میں آسانی ہو۔ جب میرے بچے چھوٹے تھے، تو میں شام کو صرف آدھ گھنٹہ کے لیے سلائی مشین لے کر بیٹھ جاتی تھی۔ اس آدھ گھنٹہ میں کافی کام ہو جاتا۔ کئی کپڑوں کی مرمت ہوجاتی اور چھوٹے موٹے کپڑے سل جاتے۔ آپ بھی وقت ضائع نہ کیجیے اور آج کا کام کل پر نہ چھوڑئیے۔ آپ خود حیران ہوں گی کہ آپ کے سارے کام ترتیب سے اور وقت پر ہونے لگے ہیں۔ آپ کو پھر یہ شکایت نہیں ہوگی کہ ہر کام تاخیر سے ہو رہا ہے۔

ہمارے ہاں خواتین کو سوائے کھاناپکانے کے اور کوئی کام نہیں ہوتا اور اسی میں دن گزر جاتا ہے جب کہ ایک ملازمت پیشہ خاتون نہ صرف گھر سنبھالتی ہے بلکہ باہر کے سارے کام بھی کر لیتی ہے۔ امید ہے آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

صحت خراب ہے!

ایک گم نام بی بی کا اور دوسرے بھی کئی خط لیکوریا کے بارے میں آئے ہیں۔ یہ بچیاں دور افتادہ گاؤں میں رہتی ہیں۔ ان کی صحت بہت خراب ہے اور وہ اس بیماری سے سخت پریشان ہیں۔ پوچھتی ہیں کیا اس کا علاج ہے؟

٭ ان بچیوں نے خواہ مخواہ اس بیماری کو اپنے اوپر سوار کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو آپ اپنی غذا میں سے گوشت، بادی اور ترش اشیا نکال دیجیے۔ دن میں دو تین پکے ہوئے کیلے ضرور کھائیے۔ کیلا ہرا اور کچہ نہ ہو، چتری والا ہو، گاؤں میں ڈھاک اور بڑ کے درخت ضرور ہوں گے۔ کسی بچے سے ڈھاک اور بڑکے نرم و نازک پتے (کونپلیں) تڑوالیں اور انہیں سائے میںخشک کرلیں۔ اس کے بعد ہم وزن پیس کر اس میں سفوف کے برابر چینی ملا کر رکھ لیں۔ روزانہ صبح ایک گلاس دودھ کے ساتھ ایک چمچہ یہ سفوف کھائیں اس سے بھی آرام آجاتا ہے۔

قریب کہیں ہمدرد دوا خانہ ہو تو آپ مستورین ایک چھوٹا چمچمہ کھانے کے بعد صبح شام لیں اور صبح نہار منہ سپاری پاک پاؤ دودھ کے ساتھ کھالیں۔ اس سے فرق پڑ جائے گا۔ تقریباً ایک ماہ یہ دوا استعمال کریں۔

بوجھ اٹھانے اور گرم اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔ املی کے بیج لے کر انہیں بھونیے اور ان کی گری نکال کر پیس کر رکھ لیجیے۔ اسی طرح ببول کی پھلیاں سائے میںخشک کر کے پیس کر رکھ لیجیے۔ دن میں دو تین بار چوتھائی چمچی پانی کے ساتھ کھا لیجیے۔ دن میں دو تین بار پانی سے پھانک لیجیے۔ ایک چوتھائی چمچی کھانی ہے۔ یہ سارے نسخے میں نے سب خواتین کی سہولت کے لیے لکھے ہیں جو عام ہیں اور آپ کو گاؤں سے باآسانی مل جائیں گے۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ کا نام لے کر دوا بنا کر کھائیے۔ وہ صحت دینے والا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply