حمد

کبھی یہ در کبھی وہ در یہی اپنی کہانی ہے

ترا اک در ذرا چھوٹا تو کیسی سرگردانی ہے

سبھی فرعون اور شداد یکسر ہوگئے غارت

’’زمین و آسماں پر صرف تیری حکمرانی ہے‘‘

خدا وندا سوا تیرے نہ کوئی ملجا و ماویٰ

کسے جاکر دکھاؤں جو مرا دردِ نہانی ہے

ڈبو دیتیں ہمیں تو کفر اور الحاد کی موجیں

نکل آئے ہیں اس طوفاں سے تیری مہربانی ہے

ترے ہی نور سے معمور ہیں کون و مکاں یارب

ترا ہی تذکرہ قلب و نظر کی شادمانی ہے

ہیں روشن چاند اور سورج، منور کہکشاں تارے

کہ اِن میں بالیقیں مولا تری ہی ضو فشانی ہے

مجھے دنیا سے کیا مطلب خفا ہو یا کہ ہو راضی

رضاؔ کے واسطے تیری رضا میں کامرانی ہے

شیئر کیجیے
Default image
محمد انصاری رضاؔ

Leave a Reply