پیاس بجھاتے چلو! (قسط-۱۹)

فضا آپو سو چکی تھیں لیکن اسے بہت دیر تک نیند نہیں آئی تھی اور صبح کو جب وہ اٹھی تو حیدر مرتضیٰ تازہ اخبار پر نظریں ڈال رہے تھے۔ آمنہ کچن میں کام کررہی تھیں۔ کوکر نے سیٹی دی اور ابلے ہوئے آلوؤں کی خوشبو لاؤنچ تک کو مہکا گئی۔ جہاں تپائی پر رکھا حیدر مرتضیٰ کا موبائل اسکرین ’’فضا کالنگ‘‘ کا اشارہ دیتا جلنے بجھنے لگا تھا۔

’’ہاں بیٹے۔‘‘

’’السلام علیکم چاچو صبح بخیر۔‘‘ دوسری جانب سے چہکتی آواز آئی۔ ساتھ ہی پیچھے سے کچھ کچن کی کھٹ پٹ سنائی دے رہی تھی۔ ’’جلدی آجائیں گرما گرم ناشتہ آپ کا انتظار کررہا ہے۔‘‘

’’ارے میں تو ابھی تمھیں فون ہی کرنے لگا تھا کہ تم سب لوگ ناشتے کے لیے ہمارے ہاں آجاؤ تمہاری چچی تیاری کرچکی ہیں۔‘‘

ان کی گفتگو سن کر آمنہ کچن سے نکل کر اندر آگئیں۔ حیدرمرتضیٰ نے فون اسپیکر پر کردیا۔ اور آمنہ کو دیکھتے ہوئے موبائل میں بولے۔ ’’وہ آلو چڑھا چکی ہیں۔‘‘ حیدر مرتضیٰ کے ہاتھ میں موجود موبائل سے فضا کی آواز ابھر رہی تھی۔

’’بالکل نہیں، ہرگز نہیں۔ آپ چچی سے کہیں کہ وہ ابلے ہوئے آلو ساتھ لے کر یہاں پہنچیں آپ کے لیے آلو کے پراٹھے بھی بنادوں گی لیکن آج سب لوگ ناشتہ تو فضا کے ہاتھوں کا ہی کریں گے پلیز چاچو۔‘‘

’’ٹھیک ہے بھئی، جیسی فضا کی مرضی۔‘‘

آمنہ کچھ کہنا چاہ رہی تھیں کہ حیدر مرتضیٰ نے اشارے سے روکا اور فضا کو آنے کا عندیہ دے کر فون بند کردیا۔

فضا آپو نے بہت محنت سے ناشتہ تیار کیاتھا۔ اڈلی، بھنا ہوا قیمہ، انڈوں کا سالن اور آلو کے پراٹھے۔ ٹیبل پر فائزہ کے علاوہ دونوں گھروں کے تمام افراد موجود تھے۔ فائزہ کا کالج صبح کا ہوتا تھا۔ وہ اس وقت کالج گئی ہوئی تھی۔ مہران کا کالج ٹائمنگ آج کل تھوڑا تبدیل ہوا تھا۔ اسے گیارہ بجے جانا تھا سو وہ بہت ہی اطمینان سے ایک ایک چیز سے انصاف کررہا تھا۔ جبکہ صبا کے سامنے پرہیزی ناشتہ پیش کیا گیا تھا جسے وہ عدم دلچسپی سے کھارہی تھی دوسرے لفظوں میں زہر مار کررہی تھی۔ دادی نرم اور اسفنجی اڈلی سے کھوپرے کی چٹنی کے ساتھ لطف اندوز ہورہی تھیں۔ وہ اس وقت چائے نہیں پیتی تھیں۔ ٹیبل پر ان کے سارے بچے حاضر تھے، ایسے میں انہیں اپنی لاڈلی پوتی کی کمی بہت محسوس ہوئی۔ ’’فائزہ کو آج کالج جانے سے روک لینا تھا۔ صبح وہ کچھ خاموش سی لگ رہی تھی شاید اس کی طبیعت…‘‘

’’جی رات کو میں نے دونوں کی طبیعت صاف کردی تھی۔‘‘ فضا دادی کی بات کو اچک کر بولیں ’’اچھا خاصا ڈانٹا ہے دونوں بہنوں کو۔ اسی لیے اس کا تھوڑا اثر ادھر بھی نظر آرہا ہے۔‘‘ صبا کی طرف اشارہ کیا۔ صبا لاتعلق سی بیٹھی تھی۔ سب سے بے نیاز، اپنی پلیٹ پر جھکی ہوئی۔

’’اس لڑکی سے سخت نالاں ہوں میں۔ روئے گی اس کی ساس میرا نام لے کر۔‘‘ تائی جان کچھ تلملائی ہوئی تھیں۔

تائی جان کی یہ بڑبڑاہٹ کسی اور نے سنی ہو یا نہ سنی ہو لیکن صبا نے بہ خوبی سنی تھی۔ (رات کو فضا آپو نے کیا کوئی کسر چھوڑی تھی جو امی بھی اب شروع ہوگئی تھیں)۔

اس نے کوفت سے سوچا— ایک بیمار جسم ذہن پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ لاغر اور کمزور وجود میں قوتِ برداشت کم ہوتی ہے۔ ذرا ذرا سی بات بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہی کچھ اس کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ ورنہ صبا تو بہت دھیمے مزاج کی لڑکی تھی لیکن مسلسل کسی نہ کسی وجہ سے بیمار رہنے کے باعث اس کے مزاج میں برہمی پیدا ہورہی تھی۔ کل رات فضا آپو جس طریقے سے اسے گھڑک رہی تھیں کہ ’’سسرال میں ایسے نہیں چلتا، ویسے نہیں چلتا۔‘‘ … سن کر وہ آنکھوں میں نمی لیے بھاری دل کے ساتھ سوئی تھی۔ بچپن سے لے کر شادی تک ایک لڑکی کو صرف اور صرف سسرال کے لیے تیار کیا جاتا ہے گویا وہ ایک محاذ ہے جہاں اسے جاکر جنگ کرنی ہے اور لازماً فتح ہی حاصل کرنی ہے۔ حتی کہ بیمار ہونے پر بھی سسرال کے طعنے! یعنی کہ سسرال میں ’بیماری‘ بھی قابلِ اعتراض ہوگی اور لڑکی کو بیمار ہونے تک کی اجازت نہ ہوگی۔

ویسے بھی اس کی ماں کیا کسی ساس سے کم تھیں۔ اس نے تاسف سے سر جھٹکا۔ امی صرف اسی وقت صبا کی تعریف کرتی تھیں جب انہیں فائزہ کو نیچا دکھانا ہوتا تھا یا اس کے پھوہڑ پن کی نشان دہی کرنی ہوتی تھی۔

صبا کے ڈھیلے ڈھالے انداز میں ناشتہ کرنے پر تائی جان مسلسل اسے گھور رہی تھیں چونکہ رات کو بھی اس سے کچھ کھایا نہیں گیا تھا اور ابھی بھی وہ بہت بے دلی سے لقمے لے رہی تھی، اس لیے یہ لاپرواہ انداز انہیں کھولا رہا تھا۔ صبا نے ان کی گھوریوں کی تپش کو محسوس کرکے ایک نظر انہیں دیکھا اور آنسوؤں کا گولہ نوالے کے ساتھ نگلنے لگی۔

مہران، حیدرمرتضیٰ کو اپنی کوچنگ کے متعلق بتا رہا تھا۔ حیدر مرتضیٰ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھے اور اس کی کوچنگ کی تفصیلات، ٹائم، علاقہ، فیس وغیرہ کے بارے میں چھوٹے چھوٹے سوالات بھی کررہے تھے۔

ناشتہ ختم کرکے انھوںنے ٹشو سے ہونٹ تھپتھپائے۔

’’بہت خوب، آج تو تم نے زبردست ناشتہ کروادیا ہے فضا۔‘‘

اپنی جاب کے پہلے ہی دن کی یہ خوبصورت شروعات انہیں تروتازہ کرگئی تھی۔ ’’آپ کی جاب لگ گئی چاچو!‘‘ ہلکی سی پرجوش چیخ فضا کے منہ سے نکلی تھی۔ گھر کے تینوں بچے (صبا، فضا اور مہران) سر پرائزڈ تھے اور سارے بڑے مسکرا رہے تھے۔

’’جی ہاں۔‘‘

’’پھر تو آج پارٹی ہوجائے۔‘‘ اس پورے عرصے میں صبا پہلی مرتبہ مسکرائی تھی۔

’’پارٹی تو ہوگئی ہے۔‘‘ انھوں نے ٹیبل پر پڑے لوازمات کی طرف اشارہ کیا۔

’’البتہ تمہارے ٹھیک ہوجانے کے بعد عنقریب ایک گرینڈ پارٹی کا انعقاد ضرور کریں گے ان شاء اللہ یہ آپ کے حیدر چاچو کا وعدہ ہے۔‘‘

’’آپ آج سے جوائن کررہے ہیں چاچو۔‘‘

مہران نے اشتیاق سے استفسار کیا۔

’’نہیں، آج صرف کمپنی میں وزٹ دینا ہے اور اگلے پیر سے باقاعدہ جوائن کرلینا ہے۔‘‘

’’کمال ہے، اس خوشی کے موقع پر فائزہ آپو کالج گئی ہیں؟‘‘ مہران کو تعجب ہورہا تھا۔

’’جی ہاں کیونکہ فائزہ حیدر جانتی ہیں کہ خوشی ہو یا غم، انسان پر ایک جیسے اثر انداز ہونے چاہئیں اور ان سے روز مرہ کے کام affectedنہیں ہونے چاہئیں۔‘‘

گھر سے باہر نکلنے سے پہلے دادی کے سامنے سر جھکا کر دعائیں لیتے ہوئے ان کا ذہن ’فائزہ حیدر‘ کی طرف ہی تھا۔

٭٭

ایس۔اے کالج کے گیٹ کے باہر سواریوں کا شوروغل تھا۔ ایس اے کالج (سیتا بائی آرٹس) سے متصل RLTسائنس کالج تھا۔ دونوں عمارتوں سے نکلنے والے طلباء و طالبات کی ملی جلی آوازیں روزانہ کے معمول کے مطابق، کالج ختم ہونے کے بعد کی وہی چہل پہل اور رش نظر آرہا تھا۔ ایک گھنٹہ بعد فائزہ RLTکالج کے گیٹ سے چند لڑکیوں کے ساتھ باہر نکلی۔ آج پریکٹیکل کی وجہ سے ایک گھنٹہ تاخیر سے چھٹی ہوئی تھی اور ہر ہفتہ اس دن اس کی وین اس کے علاوہ باقی اسٹوڈینٹس کو لے جاتی تھی۔ وہ اپنی سہیلیوں (ہرشا، پریتی اور ویشالی) کو رخصتی سلام کرتی پیدل آگے بڑھ گئی۔ ادھر ادھر سواری کی تلاش میں آنکھیں گھماتے ہوئے وہ ذرا مدھم قدموں سے چل رہی تھی۔ یوں اکیلے چلنا اسے کوفت میں مبتلا کرتا تھا۔

’’آٹو رکشا۔‘‘ ایک آٹو والے کو رکوایا۔

’’کہاں جائیں گی؟‘‘ آٹو والے نے اس کی نقاب میں جھلکتی آنکھوں میں جھانکا۔

اس کے سر کے پیچھے سے فائزہ دیکھ سکتی تھی کہ آٹو رکشا میں جابجا مختلف دیوی دیوتاؤں کی چھوٹی بڑی تصاویر چپکی ہوئی تھیں۔خود ڈرائیور کے ماتھے پر لمبا سا ٹیکہ اور پیشانی پر زعفرانی رومال پٹی کی طرح بندھا ہوا تھا۔ معاً اسے لگا کہ اس کا سفید رومال نارنجی رنگ میںتبدیل ہورہا ہے۔ اس کا دل متلایا۔ گھبراہٹ ہوئی اور دفعتاً وہ پیچھے ہٹی۔ وہ رکشا کم اور چھوٹا موٹا مندر زیادہ نظر آرہا تھا۔

’’گورکشن روڈ(Gaurakshan)؟‘‘ اس نے جان بوجھ کر مخالف سمت والے علاقے کے متعلق پوچھا کیونکہ یہاں سے سواری موڑنا اور بالکل الٹی جانب پلٹانا بہت مشکل ہوتا تھا۔ فائزہ کو پتہ تھا رکشا ڈرائیور ادھر جانے سے منع کردے گا اور حسبِ توقع وہ انکار میں سر ہلاتا آٹو آگے لے گیا۔ اچھا ہوا فائزہ کو رد کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئی ورنہ وہ اپنے انکار کی کیا توجیہ پیش کرتی اور آٹو والا اسے پاگل سمجھتا کہ خود ہی رکشا روکا اور خود ہی بیٹھنے سے منع کردیا۔

وہ کافی دیر تک پیدل چلتی رہی۔ سینے پر بوجھ پڑا تھا۔ دل پریشان تھا۔ دماغ الجھا ہوا تھا۔

آجکل یوں تنہا سڑک پر چلنا کتنا غیر محفوظ تھا۔ حالانکہ اس کے شہر میں عرصے سے کوئی فرقہ وارانہ واردات نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسا حادثہ ہوا تھا جو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں مختلف علاقوں میں وقوع پذیر ہونے کی خبریں دیکھنے کو مل رہی تھیں۔ لیکن مسلسل موصول ہونے والے ان ناخوشگوار واقعات کی خبروں نے ہندوستان کے ہر شہری کو کہیں نہ کہیں خوفزدہ ضرور کردیا۔ اور ایسی پوسٹس پھیلانے والوں کو اللہ ہدایت دے جو سماجی رابطوں کی سائٹ سے ہر اچھی بری خبر کو فارورڈ کرنا فرض تصور کرتے تھے۔ خود کو کمپوز کرتی دل مضبوط کرتی وہ چلتی جارہی تھی۔

’’نہیں فائزہ نہیں … تم حیدرمرتضیٰ جیسے بہادر مجاہد کی بیٹی ہو، تمہیں ایسے حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے…‘‘ اس نے خود کو تسلی دی۔

راستے کے ایک کنارے بوڑھا فقیر اپنی بوسیدہ گٹھری لیے بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں نان کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا جسے وہ اپنے پوپلے منھ سے کھا رہا تھا۔ فائزہ کے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ اپنا ٹفن وہ صاف کرچکی تھی حتیٰ کہ ایک چاکلیٹ تک نہ تھا۔ اس نے پیٹھ پر لدے وزنی بیگ کو اتارا۔ کافی بھاری بستہ تھا۔ اس کی چھوٹی بڑی جیبیں ٹٹولیں۔ لیکن کچھ نہیں تھا جو اس بوڑھے کو دے سکتی۔ ہاں مگر ایک بہت خاص چیز تھی جو شاید کھانے سے بھی زیادہ ضروری تھی۔ اس نے پانی کی لمبی سی بوتل بیگ سے کھینچ نکالی۔ آدھی بوتل سے کم پانی تھا مگر شکر کہ تھا تو صحیح۔ اس نے وہی باٹل فقیر کے حوالے کی۔ جسے اس بزرگ نے ’’بھگوان تمہارا بھلا کرے‘‘ کہہ کر لے لیا۔

’’بھگوان؟؟‘‘ فائزہ نے ڈھیروں افسوس سے اسے دیکھا۔ یہ بوڑھا اب عمر کے بالکل آخری پڑاؤ میں تھا نہ جانے کب زندگی کا چراغ بجھ جائے… مگر یہ انجان انسان تو اپنے پیدا کرنے والے سے ہی نا آشنا تھا اور اگر یہ ایسے ہی لا علم اور اپنے غلط عقیدے پر مرگیا تو… اسے جھرجھری آگئی۔

’’محمد علی روڈ؟‘‘ ایک رکشا اس کے بالکل قریب آکر رکا تھا۔

’’ہاں، ایک سواری‘‘۔ اپنا بھاری بستہ اور تھکا ہوا وجود لیے وہ آٹو میں بیٹھ گئی۔

دماغ پھر فضا آپو کی کل رات سنائی گئی کہانی اور ابو کی طرف چلا گیا۔ ابو کے متعلق نہ جانے کتنی باتوں سے وہ ناواقف تھی۔اور ان پر کس کا قرض تھا یہ بھی اب تک پتہ نہیں چل پایا تھا حالانکہ انھوںنے تو انکار کردیا تھا کہ وہ کسی کے مقروض نہیں لیکن نہ جانے کیوں فائزہ کو پہلی بار زندگی میں ایسا لگا کہ ابو اس سے کچھ چھپا رہے ہیں۔ خیر اس نے سوچوں سے ذہن کو جھٹکا۔ گھر آگیا تھا۔

رکشے سے اتر کر وہ خوش باش نظر آنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس کے ابو اسے خوش دیکھنا چاہتے تھے اور اگر وہ ایسا چاہتے تھے تو فائزہ بھی انہیں خوش ہی نظر آنا چاہتی تھی۔

ہاتھ منھ دھونے کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کررہی تھی۔ کچن میں جاکر امی کو سلام کیا تو انھوں نے اسے چائے کی چھوٹی سے ٹرے تھمادی۔ گھر میں کسی مہمان کی آمد کا اندازہ تو اسے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ہوگیا تھا۔ وہ مہمان خانے میں گئی۔ انور انکل آئے ہوئے تھے۔ ابو کے دوست۔ بلکہ بچپن کے دوست ، جن کی خاطر ابو نے رمیش نامی لڑکے کی پٹائی کردی تھی۔

سینٹر ٹیبل پر مٹھائی کا ڈبہ کھلا ہوا پڑا تھا اور یہ مٹھائی یقینا اس کے والد کی نوکری لگنے کی خوشی میں لائی گئی تھی۔

حیدرمرتضیٰ اور انور انکل ایک ہی صوفے پر آس پاس بیٹھے ہوئے تھے، لیکن دونوں کا رخ ایک دوسرے کی جانب تھا— روبرو— دونوں دوست کسی بات پر ہنس رہے تھے اور یوں ہشاش بشاش بہت اچھے لگ رہے تھے۔ جب آپ کے ارد گرد کوئی ہنستا مسکراتا ہے نا تو آپ بھی اپنے آپ مسکرانے لگتے ہیں۔ یہ خوشی کی لہریں! مثبت سوچ کی انرجی چیز ہی ایسی ہوتی ہے۔ یہ دھیرے دھیرے پھیلتی ہے اور آس پاس کے ماحول پر بہت پوزیٹیو اثرات چھوڑتی ہے۔

حالانکہ فائزہ ان دونوں کی گفتگو سے انجان تھی اور ان کی ہنسنے کی وجہ سے بھی لا علم تھی، پھر بھی جانے کیوں اس کی بھی بانچھیں کھل گئیں۔ اس نے پورے چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے انہیں سلام کیا۔ اور چائے کی ٹرے تپائی پر رکھی۔ ’’واہ ہماری بیٹی تو بہت بڑی ہوگئی ہے۔‘‘

انور انکل ہر سال ابو کی آمد کے موقع پر ہی ان کے گھر آیا کرتے تھے۔ اور ہر دفعہ یہ جملہ ضرور کہتے۔ ’’تم بہت بڑی ہوگئی ہو۔‘‘

’’یہ! اس مبارک موقع پر خود بھی کھاؤ اور اپنی امی کو بھی کھلاؤ۔‘‘ انور انکل نے مٹھائی کا ڈبہ دکھایا۔ ’’اور اپنی امی کو ہمارا سلام اور حیدر کے جاب ملنے کی مبارکباد بھی پیش کردینا۔‘‘

’’جی ضرور۔‘‘ ڈبہ ہاتھ میں لے کر مہمان گاہ سے نکلتے وقت اس نے ان دونوں پر نظر ڈالی۔ حیدرمرتضیٰ چھیالیس برس کے تھے اس کے باوجود صرف 40، 42کے لگتے تھے۔ داڑھی کے بھی صرف اکا دکا بال سفید ہوئے تھے اور سر تو پورا کالا تھا۔ ان کے نزدیک بیٹھے ان کے ہم عمر انور انکل ان سے کم از کم دل سال بڑے دکھائی دے رہے تھے۔ سر کے بال کافی کم ہوگئے تھے اور داڑھی بھی تقریباً سفید ہوچکی تھی۔ جبکہ اس کے ابو آج بھی جینٹل مین لگتے تھے۔ وہ تفاخر کے احساس کے ساتھ باہر آئی تھی۔

’’بس کچھ خود ترسی کی کیفیت ہے یا احساس کمتری سمجھ لو۔ کیونکہ سعودی حکمرانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا ہم پر الزام لگاتی ہے کہ ہم بیرونی افرادی قوت کے طفیل ترقی کررہے ہیں۔ اب وہ یہ تاثر زائل کرنا چاہتے ہیں۔ وہاں جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں کہ بیرونی افرادی قوت (یعنی غیر سعودی لوگ) خود ہی مجبور ہوکر وہاں سے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں اور ان پر زبردستی نکالنے کا الزام نہ آئے۔ باقی لوگوں کو مختلف حربے استعمال کرکے نکالا جارہا ہے۔‘‘

وہ چائے اور دیگر لوازمات کے خالی برتن اٹھانے دوبارہ آئی تو حیدر مرتضیٰ انور انکل سے کہہ رہے تھے۔ ہر کوئی ابو سے سعودی عرب اور وہاں کے جاب چھوڑنے کی کہانی جاننا چاہتا تھا اور حیدر مرتضیٰ سب کو وہ کہانی سنا رہے تھے۔

’’سعودی حکومت کو لگتا ہے کہ یہ پیسہ جو بیرونِ ملک جارہا ہے یہ ان کا اپنا پیسہ ہے جو باہر نہیں جانا چاہیے، بلکہ اسے سعودی عربیہ میں ہی گردش کرنا چاہیے۔‘‘

’’لیکن اس کے باوجود بھی تو وہاں کی معاشی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ میں نے یہی سنا ہے۔‘‘ انور انکل کا انداز استعجابیہ تھا۔فائزہ تپائی سے ایک ایک برتن اٹھا کر ٹرے میں رکھتی جارہی تھی۔

’’ایسا ہی ہے۔‘‘ حیدرمرتضیٰ نے تائیداً کہا۔ ’’وہاں کا کنسٹریکشن ورک زبوں حالی کی زد میں ہے۔ دکانات اور مکانات کے لیے سعودی بینک شہریوں کو قرض دیتا تھا جو اب نہیں دے رہا۔ تعمیراتی کام کا جاری رہنا معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اور اس کے جمود کے اثرات ہر شعبے کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ ہوٹلنگ، ٹیلرنگ اور دیہاڑی کام سے منسلک روزگار بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اصل میں2014کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ آئی ہے شاید اسی لیے…‘‘

حیدر مرتضیٰ متاسف تھے۔ فائزہ جوٹھے برتن سمیٹ کر کچن لے گئی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمہ نسرین

Leave a Reply