اک شمع جلانی ہے! (قسط-۲۴)

منزل کو پائیں گے ہم بیڑہ اٹھا چکے ہیں

کچھ راستہ ہے باقی کچھ دور آچکے ہیں

ایک سفر تھا غافرہ کا یا ایک تمنا تھی جو پوری ہوئی تھی… ابتسام کے اس تحفہ نے اس کے لیے مقصد زندگی کو اور بڑا اور واضح کر دیا تھا اور آج کے معاشرہ کے حالات نے یہ کام اس کے لیے اہم بنا دیا تھا۔ غافرہ کا ذہن جہاں شکر کے جذبوں کو دل میں پروان چڑھا رہا تھا وہیں اس کام کے لیے تانہ بانہ بھی بن رہا تھا۔

٭٭

میں یہی پوچھتا رہتا ہوں زمانے بھر سے

جن کی تقدیر بگڑ جائے وہ کیا کرتے ہیں

اور پھر غافرہ کی مصروفیت میں زبردست اضافہ ہوگیا تھا۔ بڑی پھوپھو سے اکثر اس کی ملاقات دعوتوں اور خاندان کی تقریبات میں ہوتی رہتی تھی لیکن ان کی یہ سوشل ایکٹیوسٹ کے طور پر پہلی ملاقات تھی۔ غافرہ بہت جھجک رہی تھی۔ وہ اس سے عمر میں بہت بڑی اور تجربہ میں بہت آگے تھیں۔

’’بیٹی، نہ ہی شرماؤ اور نہ اتنا پریشان ہوؤ اور عمر کا تو سوچو ہی مت۔ ہمارا تجربہ اہم ہے تو تمہاری تعلیم۔ ہم تو خلوص دل سے لوگوں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں، لیکن ہم جیسی بہت سی عورتوں کا جو اِن معاملات میں ایکٹیو رہتی ہیں، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ ہمیں کم پڑھا لکھا کہہ کر ہماری بات کو ہلکا جانتے ہیں۔ وہی آپ کا زمانہ ’’ہمارا زمانہ… پرانا وقت اور آج کا وقت والی گردان۔ جب ابتسام نے مجھ سے بات کی تو میں نے فورا ہاں کردی کہ شاید اب تبدیلی آجائے۔‘‘ بڑی پھوپھو نے بڑی اپنائیت سے اس سے کہا تو وہ بھی قدرے مطمئن ہوگئی۔ چائے پیتے پیتے وہ اپنے تجربات شیئر کرنے لگیں۔

’’چلو اب تم بتاؤ تم نے کیا سوچ رکھا ہے۔ وہ کمپیوٹر اور آن لائن والی بات تو اپنے پلے نہیں پڑی… لیکن یہاں جو لوگ فون پر ڈسکس کریں گے ان کا کیا؟‘‘ انھوں نے غافرہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔

’’پھوپھو یوں اخبار مین اشتہار دینے یا سوشل میڈیا کی وجہ سے کوئی بھی اپنے پرسنل ایشوز کے لیے فون نہیں کرے گا۔ یوں بنا جانے بوجھے کوئی اپنے معاملات میں انٹرفیئر نہیں کرنے دیتا۔ اہم یہ ہے کہ ہم فیس ٹو فیس لوگوں سے ملیں۔ آپ جہاں بھی اس قسم کے مسئلوں کو حل کرنے جائیں تو پلیز مجھے بتا کر جائیں میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ۔ اس طرح دھیرے دھیرے تعارف تو ہوگا۔ یہ تو ہوگی پوسٹ میرج کونسلنگ…‘‘ پھر غافرہ اپنا پلان بتانے لگی۔

’’صرف میں ہی نہیں… میری جان پہچان والی اور بھی چند خواتین ہیں جو اسی طرح کی سوشل ایکٹیویٹی کرتی ہے میں اُن سے بھی تمہارا تعارف کرادیتی ہوں۔‘‘ بڑی پھوپھو نے سوچتے ہوئے کہا تو غافرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’یہ تو اور زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘

’’اور پری میرج (شادی سے پہلے) کونسلنگ کے لیے میں سوچ رہی ہوں کہ ہم آج سے چار ماہ بعد کا کوئی پروگرام رکھتے ہیں اور اس کی تشہیر ابھی سے شروع کردیں گے۔ دو تین گھنٹے کا ہی رکھیں گے اور ایک Specificٹارگٹ رکھیںگے مثلاً پانچ سو یا چھ سو افراد کا اور اتنے ہونے کے بعد پھر ہم رجسٹریشن بند کردیں گے اور پھر یہاں ہم اِن پانچ سو لڑکیوں کو جو ممکن ہے اپنی امی یا بہنوں کے ساتھ آئیں گی ان کی کونسلنگ کریں گے۔‘‘ غافرہ بہت ایکسائٹمنٹ سے بتا رہی تھی۔ وہ چشم تصور میں ان تمام کو ایک بڑے ہال میں بیٹھے خود کو بدلنے کے لیے تیار ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی مگر بڑی پھوپھو…

’’زمین پر آجاؤ بیٹا… پہلے تو کوئی سو دو سو بھی آجائیں تو اللہ کا شکر۔ کوئی نہیں آتا ایسے پروگراموں میں، کیوں کہ شادی سے پہلے تو سبھی شادی کے لڈو کھانے کے لیے نہ صرف بے تاب ہوتے ہیں بلکہ خیالی دنیا کے پاس بھی ہوتے ہیں۔ ناولوں میں ہونے والی داستانوں کو اصلی زندگی میںدیکھنے لگتے ہیں اور زندگی کو فلمی زندگی سمجھتے ہیں۔ وہ تو شادی کے بعد آنکھ کھلتی ہے۔‘‘ اور صرف خالہ دادی ہی نہیں اپنی خیالی دنیا بھی اسے یاد آئی تھی۔ بڑی پھوپھو نے سچ ہی کہا تھا۔

’’پھر بھی ہم کوشش کریں گے نا…‘‘ اس کے انداز میں اتنی بیچارگی تھی کہ بڑی پھوپھو کو ہنسی آگئی۔

’’غافرہ تم جو کچھ بھی کروگی اس میں ہم تمہارے ساتھ ہیں، لیکن تم ایک بات ذہن میں رکھو کہ یہاں تمہیں محنت صد فیصد کرنی ہوتی ہے اپنا وقت اور توانائی سب لگا دینا پڑتا ہے لیکن رزلٹ کے متعلق زیادہ نہیں سوچنا ہوتا۔ یہ لوگ اکثر اس کی مثال بن جاتے ہیں جن کے دلوں پر مہر، اور آنکھوں و کانوں پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ کوئی سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے اپنوں کے لیے زندگی بھر کے دکھ کا سامان کرتے ہیں اور انھیں خبر تک نہیں ہوتی۔ تم کتنے صبر سے ان کے مسائل ڈیل کرتی ہو اب یہ تمہارا امتحان ہے۔‘‘ بڑی پھوپھو نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بات ختم کی۔ حقیقت میں تو یہ انکا تجربہ تھا جو بول رہا تھا۔

غافرہ نے انھیں دو وقت بتا دیے تھے، جب وہ فری ہوتی تھی اور باقی پری میرج پروگرام کے لیے بہت کچھ سوچنا باقی تھا اور اس سلسلے میں اس کے ذہن میں ایک ہی نام آرہا تھا۔

’’رحمیٰ باجی‘‘وقت کے سفر میں بھلے ہی ان دونوں کی ملاقات قریباْ نہ کہ برابر ہوگئی تھی لیکن ہر ماہ دو ماہ میں فون پر بات ضرور ہوجاتی تھی۔ رحمیٰ اس وقت ہوسٹل کی سینئر موسٹ وارڈن بن چکی تھیں اور آج بھی لڑکیاں انہیں اپنا دوست مانتی تھیں۔ یہ ان کا ہی کمال تھا کہ وہ ان تمام لڑکیوں کے رابطے میں بھی تھیں جو اس وقت ہوسٹل چھوڑ چکی تھیں۔ وہ اکثر ان کے متعلق اسے بتاتی رہتی تھیں۔ اب غافرہ کا Next visit رحمیٰ باجی کے پاس ہونا تھا۔

٭٭

بات سجدوں کی نہیں خلوص دل کی ہوتی ہے اے دوست

ہر میخانے میں شرابی اور ہر مسجد میں نمازی نہیں ہوتا

رحمیٰ اسے ہوسٹل میں دیکھ کر حیران بھی ہوئیں اور خوش بھی ’’یا اللہ مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا۔ غافرہ! کتنی پیاری ہوگئی ہو تم سوبر سوبر سی۔‘‘ رحمیٰ باجی ہمیشہ کی طرح سادگی بھری اپنائیت اور بہت محبت سے ملیں۔

’’بس آپ کی یاد آئی تو چلی آئی‘‘ غافرہ نے خوشی سے انھیں گلے لگاتے ہوئے کہا تو انھوں نے اپنائیت سے اس کی پیٹھ پر ایک دھپہ لگایا۔

’’جھوٹ تو مجھ سے بولو ہی مت… صرف یاد آنے پر تم آہی نہیں سکتیں کوئی کام بھی ہوگا، مگر چلو خیر ہیَ ملتے رہنے کے لیے کوئی بہانہ بھی ضروری ہے۔‘‘ غافرہ ان کی بات پر خجل سی ہوتی اور پھر ہنس دی۔

’’کام تو بس بہانہ ہے آپ سے ملنے کا۔‘‘ اس نے بھی شرارت سے جواب دیا۔ کچھ دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد غافرہ نے اسے ابتسام کے تحفہ کے متعلق بتایا۔

’’ماشاء اللہ! بہت بہترین آئیڈیا اور خوب تر مصروفیت ہے، جو کچھ مدد میں کرسکوں تو مجھے بتانا۔‘‘ رحمیٰ ہمیشہ کی طرح مدد کے لیے تیار تھیں تب غافرہ نے اپنا پری میرج کونسلنگ کا پلان ڈسکس کیا۔

’’ہوں‘‘ رحمیٰ نے پر سوچ انداز میں اسے دیکھا۔‘‘

’’تم ابھی صرف دو سو، دو سو پچاس کا ہی ٹارگٹ رکھو جس میں سے قریباً ایک سو پچاس لڑکیاں تو میری طرف سے آہی جائیں گی۔ ہوسٹل میں کچھ ایک کو چھوڑ کر باقی سب Unmarriedہے اور کچھ منگنی شدہ ہیں۔ بس اپنا پروگرام ویک اینڈ پر مت رکھنا۔ زیادہ تر لڑکیاں گھر جاتی ہیں۔ ہوسٹل کی تقریباً سو لڑکیاں تو آرام سے آہی جائیں گی اور انھی کے توسط سے ان کے کالج وغیرہ کی بھی کچھ لڑکیاں آجائیں گی۔‘‘ رحمیٰ باجی نے ایک بڑی تعداد کی ذمے داری لے لی تو جہاں وہ خوش ہوگئی وہیں تھوڑی پریشان بھی کہ تعداد اتنی ہوگی بھی یا نہیں۔

’’جزاک اللہ رحمیٰ باجی… اگر آپ اتنی لڑکیوں کی تعداد کو لے کر کانفیسڈنٹ ہیں تو پھر ٹھیک ہے اب میں خود کو قدرے مطمئن محسوس کر رہی ہوں۔‘‘غافرہ ایک دم relaxہوگئی تو رحمیٰ باجی کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

’’مطمئن لوگ زیادہ نفع بخش نہیں ہوتے ہیں تم تعداد سے زیادہ پیغام پر فوکس کرو خواہ صرف دس لڑکیاں ہی کیوں نہ ہوں تمہارے پروگرام میں، لیکن اگر اُن میں سے کچھ ہی راہ پالیں اور تمہارے پیغام کو سنجیدہ لے لیں تو وہ پانچ سو پر بھاری ہوں گی۔‘‘ رحمیٰ باجی نے اسے اپنی ازلی نرمی سے سمجھایا اور غافرہ نے اسے ہمیشہ کی طرح جذب کرلیا اور اب یہاں سے شمع سے شمع جلنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے جا رہا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply