2

شادی کی تیاری

اے ہے، کچھ خیال بھی ہے۔ آپ تو دن بھر بس دوستوں میں جھک مارتے رہتے ہیں۔ دوستوں سے فرصت ملی تو کتابوں میں سردے لیا۔ کچھ اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہے؟‘‘

’’کیوں کیا بات ہوگئی ہے۔ خیر تو ہے؟‘‘

’’آپ کو گھر کا کچھ خیال ہو، تو آپ کا دھیان ادھر آئے۔‘‘

’’ادھر کس طرف، بات کیا ہے؟‘‘

’’گھر کے مالک کو کچھ تو گھر کا خیال ہونا چاہیے۔‘‘

’’کون گھر کا مالک؟ یعنی آپ کا مطلب ہے کہ میں اس گھر کا مالک ہوں۔ سبحان اللہ! یہ خبر تو آج پہلی دفعہ سن رہا ہوں۔ ضرور کوئی ہنگامی حالت ہے جو اتنی انقلابی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔‘‘

’’آپ تو ایسے ہی بات سے بات نکالتے رہتے ہیں۔ کام کی بات نہیں کرتے۔‘‘

’’اچھااب خدا کے لیے بتاؤ بھی بات کیا ہے آخر؟‘‘

’’بیٹی جوان ہوگئی ہے اور آپ کو کچھ فکر ہی نہیں۔‘‘

’’بیٹی جوان ہوگئی اور مجھے فکر نہیں۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا، اس میں فکر کی کون سی بات ہے؟‘‘

’’یعنی آپ کو اس میں فکر کی کوئی بات ہی نظر نہیں آتی؟‘‘

’’فکر کی آخر کون سی بات ہے جو بیٹی کی جوانی کے کارن مجھے لاحق ہوجانی چاہیے۔ فکر تو تب تھی جب وہ چھوٹی بچی معصوم اور ناسمجھ تھی۔ اسے اپنے برے بھلے کی تمیز نہ تھی۔ اب تو اللہ کے فضل سے وہ اپنا خیال خود رکھ کر اپنے برے بھلے کو خود سمجھ سکتی ہے۔ اب فکر کی کون سی بات ہے؟‘‘

’’بات آپ کے پلے نہیں پڑ رہی، بڑے دانشور بنے پھرتے ہیں۔ اجی بیٹی کے لیے کوئی مناسب سا رشتہ تلاش کریں۔ گزرتے وقت کا پتا نہیں چلتا، یہ کام وقت پر ہونا چاہیے۔‘‘

’’یہ بھی ایک ہی کہی۔ رشتہ بیٹی کو درکار ہے اور تلاش ہم کریں۔ ہم نے تو اپنا رشتہ بھی تلاش نہیں کیا تھا، تم تو اچھی طرح جانتی ہو۔‘‘

’’اب مذاق کی بھی کوئی حد ہے یا نہیں؟ آپ کو سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے۔‘‘

’’کون سا مسئلہ؟‘‘

’’یہی بیٹی کے لیے کسی مناسب رشتے کی تلاش۔‘‘

’’میں مذاق نہیں کر رہا۔ تلاش تو اس چیز کی ہوتی ہے جو کم ہو یا کم یاب ہو۔ جہاں تک کنوارے یا شادی کے خواہش مند نوجوانوں کا تعلق ہے، ان سے تو شہر بھرا پڑا ہے۔ یہ مخلوق اتنی وافر ہے کہ ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ بس اسٹاپوں اور لڑکیوں کی درس گاہوں کے سامنے تو ان کی باقاعدہ نمائش لگی رہتی ہے۔‘‘

’’میرا خیال ہے ڈھیر ساری کتابیں پڑھ پڑھ کر آپ کا دماغ چل گیا ہے، جو ایسی بے تکی ہانکے جاتے ہیں۔‘‘

’’بے تکی! تم ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو، میں نے کون سی غلط یا خلاف واقعہ کہہ دی۔ جو کچھ میں نے کہا، کیا وہ حقیقت نہیں ہے؟ نوجوان بلکہ ہر عمر کے مرد ہر جگہ موجود ہیں۔

’’ہائے اللہ! آپ کی یہ گفتگو کوئی سن لے تو کیا کہے؟‘‘

’’ظاہر ہے وہی کہے گا جو اس کے دماغ میں آئے گا جیسے تم کچھ کہہ رہی ہو اور میں کچھ کہہ رہا ہوں۔ وہ جو کسی شاعر نے کہا تھا:

’’میں کیا کہہ رہاہوں تو کیا کہہ رہی ہے

’’اچھا یہ تو بتاؤ یہ مسئلہ آج یکایک پیدا کیسے ہوگیا۔ ہماری بیٹی تو کب سے گھر میں موجود ہے؟‘‘

’’کئی دنوں سے سوچ رہی تھی اس بارے میں آپ سے بات کروں۔‘‘

’’حالاں کہ اس بارے میں تمھیں اپنی بیٹی سے بات کرنی چاہیے تھی۔‘‘

’’کیا بات؟‘‘

’’یہی کہ وہ شادی کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔‘‘

’’اچھا!… تو کیا وہ اپنے منہ سے بول کر کہے گی کہ میری شادی کرو؟‘‘

’’کیا وہ گونگی ہے؟‘‘

’’خدا نہ کرے یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟‘‘

’’میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ جب اپنے نئے کوٹ کے لیے منہ سے بول کر کہہ سکتی ہے بلکہ ضد کرسکتی ہے تو شادی کے لیے کیوں نہیں کہہ سکتی۔ چلو مجھ سے نہ سہی کم از کم تم سے تو کہہ سکتی ہے بلکہ آج کل بعض روشن خیال لڑکیاں تو اس معاملے میں اتنی خود کفیل ہوتی ہیں کہ ماں باپ سے بھی کچھ کہنے سننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں۔ ماں باپ کو بسا اوقات اس وقت پتا چلتا ہے جب ان کی شادی ہوچکی ہوتی ہے بلکہ کئی والدین کو تو اس خبر کا پتا اخبار کے ذریعے لگتا ہے۔‘‘

’’ہائے اللہ بدشگونی کی باتیں منہ سے نہ نکالیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسی بات ہو۔‘‘

’’یعنی خدا نہ کرے کہ شادی ہو۔‘‘

’’آپ یہ اوٹ پٹانگ باتیں ہی کرتے رہیں گے یا اس بارے میں کچھ طے بھی ہوگا۔‘‘

’’سب سے پہلے تو یہی طے ہونا چاہیے کہ کیا لڑکی شادی کرنا چاہتی ہے یعنی اسے کسی جیون ساتھی کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے یا نہیں؟‘‘

’’شادی کی ضرورت کے بارے میں بھی کوئی شک ہے؟‘‘

’’کیوں نہیں، ہر انسان کا مزاج اور اس کی ضروریات ایک سی نہیں ہوتیں۔ ہوسکتا ہے تمہاری بیٹی شادی کے بجائے کوئی معقول کام کرنا چاہتی ہو!‘‘

’’کئی معقول کام ہوسکتے ہیں۔ مثلاً مزید تعلیم حاصل کرنا، ملازمت کرنا، اپنے ماں باپ کی خدمت کرنا اور پھر مسئلے کے ایک نہایت اہم پہلو کی طرف تو ابھی تک ہماری توجہ ہی نہیں گئی۔ کیا تم سمجھتی ہو کہ ہماری بیٹی شادی کے قابل ہے؟‘‘

’’تو کیا آپ اپنی لڑکی کو لولی لنگڑی سمجھتے ہیں؟‘‘

’’خدا نہ کرے جو ہماری بیٹی لولی لنگڑی ہو۔ ہماری بیٹی تو ماشاء اللہ بذی ذہین اور خوب صورت ہے، مگر ذہین او رخوب صورت ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ شادی کے قابل بھی ہے۔‘‘

’’آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘

’’میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کیا اس نے شادی کی تیاری کرلی ہے؟‘‘

’’شادی کی تیاری تو ہم والدین کو کرنی ہے۔‘‘

’’کیوں کیا ہماری شادی ہو رہی ہے؟‘‘

’’میرا مطلب جہیز وغیرہ کی تیاری اور دوسرے انتظامات سے ہے۔‘‘

’’جہیز اور دوسرے انتظامات، ان کا شادی سے کیا تعلق؟ یہ تو محض شادی کی ظاہری رسوم ہیں۔ میرا مطلب شادی شدہ زندگی سے ہے، اس کی مکمل تیاری لازمی ہے ورنہ ناکامی کا سو فیصد امکان ہے اور یہ تیاری شادی سے بہت پہلے ہونی چاہیے۔ جیسے امتحان کی تیاری بہت پہلے سے شرو کی جاتی ہے۔‘‘

’’میں شادی کی بات کر رہی ہوں، آپ امتحان کی ہانکنے لگے۔‘‘

’’تم نے شادی کو کبھی امتحان نہیں سمجھا، تم میں یہ سوچنے کی اہلیت ہی نہیں۔ اسی لیے تو تم ساری زندگی ذلیل و خوار ہوتی رہی ہو۔‘‘

’’مجھے ذلیل و خوار تو آپ کرتے رہے ہیں۔‘‘

’’تو تمہاری بیٹی کو اس کا خاوند کرے گا۔‘‘

’’خدا نہ کرے میری بیٹی کو آپ جیسا خاوند ملے۔‘‘

’’خدا نہ کرے کسی کی قسمت میں تمہارے جیسی بیوی ہو۔‘‘

’’اس ساری بک بک کا مقصد کیا ہے؟‘‘

’’مقصد یہ ہے کہ کیا ہماری بیٹی شادی کے لیے تیار ہے؟‘‘

’’تمہارا کیا خیال ہے ابھی اس کی عمر شادی کی نہیں؟‘‘

’’عمر سے کیا ہوتا ہے، اس سے بیوی بننے کی صلاحیت خود بخود تو پیدا نہیں ہو جاتی۔ اب صرف اس بنا پر کہ بچہ پندرہ سال کا ہونے لگا ہے، اس کے ہاتھ میں میٹرک کی سند تو نہیں تھما دی جاتی۔‘‘

’’ہماری بیٹی تو بی اے کرچکی ہے۔‘‘

’’بی اے سے شادی کا کیا تعلق ہے۔ بی اے کرنے سے تو انسان محض چند کتابیں پڑھ لینے اور اپنے خیالات غلط سلط زبان میں بیان کرنے کے قابل ہو جاتا ہے بلکہ بی اے تو شادی کی ضد ہے، تم جانتی ہو بی اے کے معنی ہیں بیچلر یعنی کنوارا۔ بی اے کی سند تو حقیقت میں کنوار پنے کی سند ہے یعنی یہ شخص جو بی اے ہے، کنواری زندگی گزارنے کے قابل ہوگیا ہے یہ تو گویا الٹا شادی کے لیے نااہل ہونے والی بات ہوئی۔‘‘

’’اوئی اللہ! اس بکواس سے میر اسر پھٹ رہا ہے۔ شادی ہوگی تو شادی کی تیاری بھی ہوجائے گی۔‘‘

’’محترمہ! ذرا بتاؤ تو سہی تم شادی کی تیاری سے کیا مطلب لے رہی ہو۔ آخر ایک عدد شادی تم نے بھی تو کر رکھی ہے۔‘‘

’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا، اس موضوع پر آپ سے بات چھیڑ کر میں کس مصیبت میں گرفتار ہوگئی ہوں۔‘‘

’’وہی مصیبت جس میں تم سے شادی کر کے میں گرفتار ہو گیا ہوں۔‘‘

’’آپ تو ساری زندگی یہی رونا روتے رہیں گے۔ بات بیٹی کی شادی کی ہو رہی ہے اور آپ اپنی شادی کا غم غلط کر رہے ہیں۔‘‘

’’تیار، تیار۔۔۔ تیاری۔۔۔ یہ کیا فضول رٹ لگا رکھی ہے۔‘‘

’’محترمہ! دیکھو، تھوڑی دیر کے لیے بازار جانا ہو تو اس کے لیے بھی تیاری کرنی پڑتی ہے اور یہ تو زندگی بھر کا سفر ہے اس کے لیے تو بڑی لمبی چوڑی تیاری کی ضرورت ہونی چاہیے۔‘‘

’’ہماری بیٹی اب شادی کی اور کیا تیاری کرے، وہ شادی کے لیے نہایت موزوں ہے۔‘‘

’’میں نے تو اسے شادی کی تیاری کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

’’کیا مطلب؟ خدا کے لیے ذرا صاف صاف بتائیے آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘

’’مطلب صاف ہے، میں حیران ہوں کہ تمہارے پلے کیوں نہیں پڑ رہا۔ میں نے اپنی بیٹی کو کبھی باورچی خانے میں کام کرتے نہیں دیکھا۔ کھانا وہ نہیں پکا سکتی، برتن بھی اس نے کبھی صاف نہیں کیے، کپڑے بھی نوکرانی سے دھلواتی ہے، آج تک غالبا اپنا کوئی لباس اس نے خود نہیں سیا، سوئیٹر بنتے میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا، درزیوں کے ہاں چکر لگا کر اپنے جوتے البتہ گھساتی رہتی ہے۔ جب صورت حال یہ ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس نے ابھی شادی کی تیاری کے سلسلے میں سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں۔‘‘

’’میں لڑکی کو دلہن بنانے کی بات کر رہی تھی نوکرانی بنانے کی نہیں۔‘‘

’’گھر کی بیگم جب تک یہ سارے کام خود سلیقے سے کرنا نہ جانتی ہو، نوکروں سے کام نہیں لیا جاسکتا۔ اور پھر آج کل نوکر ملتے کہاں ہیں، نوکر رکھ کون سکتا ہے؟‘‘

’’آپ کی تو ذہنیت ہی ایسی ہے۔ آپ نے تو مجھے بھی ساری زندگی نوکر سمجھا اور نوکرانیوں جیسا سلوک کیا ہے۔ اب میری بیٹی کو بھی نوکرانی بنانے پر تلے ہوئے ہو۔ میری طرح یہ کسی کنگال کے پلے کیوں بندھنے لگی۔ چھوڑو ان فضول باتوں کو بہت ہوچکی۔ میں تو چلی۔ آپ اپنی ہانکتے رہیے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
جمیل یوسف

تبصرہ کیجیے