2

بلبلوں کی گواہی

ساون کی بارش زور و شور سے جاری تھی۔ چھاجوں پانی برس رہا تھا۔ میں بالکونی میں کھڑی اس بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ پرنالوں سے دھواں دھار گرتے پانی اور گلیوں میں جھیلوں کا سا سماں تھا۔ اس میں جمع شدہ پانی میں جب مزید بارش کے قطرے گرتے تو بڑے خوب صورت ٹوپیاں نما بلبلے بنتے جنہیں دیکھ کر مجھے اپنے نانا جان سے سنا ہوا ایک سچا واقعہ یاد آگیا۔ آئیے آپ کو بھی سناؤں۔

میرے نانا جان اپنے زمانے میں پولیس انسپکٹر تھے۔ وہ دور آج کے دور سے خاصا مختلف تھا یعنی بے ایمانی اور رشوت تقریباً نا ہونے کے برابر تھی۔ پولیس بھی اپنا کام بڑی محنت اور تندہی سے کرتی تھی۔ ہر مقدمے کو حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جاتی۔ کچھ ایسے ہوتے جو بھرپور کوشش کے باوجود نامکمل رہتے۔ بہرحال ایسے معاملات بھی اس زندگی کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ واقعہ ان ہی کی زبانی سنیے:

اس زمانے میں میری تعیناتی علی پور کے قصبے میں تھی۔ ساون کے موسم میں ایک چھٹی والے دن میں اپنے گاؤں روانہ ہوا۔ راستے میں اچانک تیز سی کالی گھٹا اٹھی جس نے سارے عالم کو منٹوں میں تیرہ و تار کر دیا۔ چونکہ راستہ کچا تھا اور جابجا گڑھے بھی تھے لہٰذا تانگہ چلنا محال ہو گیا۔ کوچوان مجھے کہنے لگا: ’’صاحب یہاں قریب ہی ایک زمین دار کا ڈیرہ ہے۔ کچھ دیر وہاں بیٹھ کرروانہ ہوتے ہیں تاکہ راستے کا پانی کم ہوجائے۔‘‘

میں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ یوں ہم اس ڈیرے پر جا رکے۔ میں چوں کہ سادہ کپڑوں میں اور بھیگا ہوا بھی تھا اس لیے زمین دار اور اس کے حواریوں نے مجھ پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ وہ اپنے غیر مناسب مشاغل یعنی پینے پلانے میں مصروف رہے۔ میں نے بھی اپنا تعارف کروانا غیر ضروری سمجھا اور دروازے کے پاس ہی بیٹھ کر ان کی باتیں سننے لگا۔ وہ نشے کی ترنگ میں اپنی اپنی بڑائیاں ہانک رہے تھے۔

ان میں سے ایک بولا: ’’یار انسان بھی کتنا بھولا ہے۔ مشکل میں کیسے کیسے ساتھی ڈھونڈتا ہے۔‘‘

’’دوسرا بولا: ’’کیا مطلب؟‘‘

پہلے نے کہا: ’’یہ بارش دیکھ کر مجھے میرا دشمن یاد آرہا ہے جسے آج سے دو سال پہلے میں نے قابو کر کے اپنے ڈیرے پر موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ ایسی ہی بارش ہو رہی تھی۔ دور ونزیک کوئی بھی نہ تھا۔ اتفاق ہی سے وہ میرے ہاتھ آگیا۔ جب میں اسے مارنے لگا، تو وہ منت سماجت کرنے لگا کہ وہ بے گناہ ہے اور اس نے میرے خلاف کوئی جرم نہیں کیا لیکن مجھے یقین نہ آیا۔ بالآخر اس نے موت کو بالکل نزدیک دیکھ کر کہا، اے بلبلو! گواہ رہنا کہ میں بے گناہ مارا جا رہا ہوں۔‘ اب دیکھو کہ یہ بلبلے بھلا اس کی کیا گواہی دے سکتے ہیں۔ تھانہ وہ بے وقوف انسان۔‘‘

یہ سن کر باقی لوگ بھی ہنسنے لگے کہ واقعی کتنا احمق تھا وہ مرنے والا۔ چونکہ مرنا مارنا ان لوگوں کا معمول تھا اس لیے اچنبھے کے بجائے وہ لوگ مذاق اڑانے لگے۔ میرے نانا کہتے ہیں: ’’بارش رکنے کے بعد میں گاؤں چلا گیا لیکن چھٹی گزار کر جب میں تھانے واپس پہنچا تو متعلقہ ریکارڈ نکال کر چھان بین کی۔ سرا مجھے مل گیا گیا تھا اس لیے اس ناحل شدہ کیس کو حل کرنے یں زیادہ دقت نہ ہوئی۔‘‘

کچھ ہی دنوں بعد وہ زمین دار جیل میں تھا اور اس پر قتل کا مقدمہ چلا جس میں اسے سزائے موت ہوئی۔ ان بلبلوں نے واقعی اس بے گناہ کی گواہی دے دی تھی۔ میں جب بھی بارش میں بلبلے دیکھتا ہوں تو مجھے یہ واقعہ بے اختیار یاد آجاتا ہے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
ام جمیلہ

تبصرہ کیجیے