کیا میں پاگل ہوں؟!

یہ اُس بھلے مانس کا معمول بن چکا تھا کہ جو بھی شخص اس کے سامنے سے گزرتا، وہ روک کر اس سے پوچھتا: ’’کیوں جی کیا میں پاگل ہوں؟‘‘

لیکن لوگ سنی ان سنی کر کے پاس سے گزرتے رہتے۔ نہ کوئی اس کی بات کو اہمیت دیتا نہ کوئی رک کر سوال کا جواب دیتا۔ وہ بے چارہ حسرت و یاس کی تصویر بنا خاموشی سے لوگوں کو تکتا رہتا۔

مجھے اس کی حالت پر ترس آتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ سوال مجھ سے کرتا، تو میں چند لمحوں کے لیے اس کے پاس ٹھہر جاتا اور اسے تسلی دیتا ’’نہ جی آپ ہرگز پاگل نہیں، آپ بالکل ٹھیک ٹھاک، عام قسم کے انسان ہیں۔‘‘

میرے جواب سے اس کا چہرہ دمک اٹھتا اور آنکھوں میں نور کی چمک اور تیز ہوجاتی۔ لیکن چند ثانیے بعد وہ پھر سے سنجیدہ ہوجاتا اور میرے کاندھوں کو مضبوطی سے تھام کر کرب ناک لہجہ میں کہتا: ’’اگر میں پاگل نہیں تو میرے ملنے والے اور جاننے والے میرے ہمسائے، دوست اور عزیز و اقارب سب مجھے پاگل کیوں کہتے ہیں؟ میری بات کو ٹھٹھا اور مذاق کیوں سمجھتے ہیں؟ میں جب کسی کو بھلائی کی بات کہوں تو وہ قہقہے لگاتے اور میرا منہ کیوں چڑاتے ہیں؟‘‘

میں اسے پھر تسلی دیتا ’’بات دراصل یہ ہے کہ آپ آج کے گئے گزرے دور میں لوگوں کو کھری کھری سناتے اور انھیں برائی سے روکتے ہیں، اسی لیے لوگوں کو آپ کی بائیں اجنبی لگتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک ایسی نہج پر چل نکلا ہے جس کے آگے تباہی ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ لوگ سچ اور حق کی باتوں کا برا مناتے ہیں۔ محبت، اخوت، رواداری دم توڑ رہی ہے۔ بھائی چارے کا جنازہ نکل چکا ہے۔ پرانی اقدار کو پامال اور حیا اور شرافت کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل بے راہ روی کی دلدل میں دھنس رہی ہے۔ منشیات کا عفریت اچھے اچھے خاندانوں کو نگل رہا ہے۔ ایسے ماحول اور گھٹن میں جب آپ کلمہ حق بلند کر کے لوگوں کو صحیح راستے پر گام زن کرنا چاہتے ہیں، تو لوگ آپ پر ہنستے اور قہقہے لگاتے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ آپ دوسرے حساس لوگوں کی طرح محض تماشائی بن کر تماشا دیکھتے جائیں اور اپنے ہونٹوں کو سی لیں۔ میں نہ تو آپ کا مذاقا اڑائے گا نہ آپ پر قہقہے لگیں گے۔‘‘

وہ میری بات سن کر مزید دکھی ہو جاتا اور کہتا: ’’میرے لیے یہ بھی ناممکن ہے کہ اپنے گھر کو جلتا دیکھوں اور کچھ نہ کروں، اپنے معصوم بچوں کو بے حیائی اور بے راہ روی کی راہ پر بے لگام چلتا دیکھوں اور خاموش رہوںـ۔ اپنی بچیوں اور بیٹیوں کو سر بازار ننگے سر، چست لباس پہن کر اٹکھیلیاں کرتا ہوا دیکھوں اور انھیں نہ ٹوکوں۔ تم ہی بتاؤ کیا ایسا کرنا میرے لیے ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔‘‘

میں اسے پھر تسلی دیتا اور کہتا ’’قبلہ! میں آپ کے دکھ اور کرب کو سمجھتا اور آپ کے جذبات کا احترام کرتا ہوں لیکن اس وقت ہمارا معاشرہ بے حسی کی لپیٹ میں آچکا ہے، کسی کو کسی سے نہ تو ہمدردی ہے نہ کوئی کسی کے دکھ درد کو سمجھتا ہے۔ ایسے حالات میں بھلا آپ تنہا کیا کرسکتے ہیں، سوائے اس کے کہ کڑھ کڑھ کر اپنا خون جلاتے رہیں۔ مجھے تو خدشہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی سوچ نہ بدلی تو یقینا ایک نہ ایک دن واقعی پاگل ہوجائیں گے۔‘‘

وہ میری بات سے بھنا اٹھتا اور زور سے کہتا: ’’نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا، میں پاگل ہرگز نہیں ہوسکتا۔ میں کوئی غلط باتیں تھوڑی کہتا ہوں، میں تو حق بات کہتا ہوں۔‘‘

میں پھر اسے سمجھاتا: ’’اس میں شک نہیں کہ آپ حق کا پرچار کرتے ہیں لیکن جب کوئی شخص حق بات سننے کو تیار ہی نہ ہو، تو آپ کیا کریں گے؟ لہٰذا میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی آنکھیں موند لیں، صرف اپنے مطلب سے غرض رکھیں اور دوسروں کے لیے خود کو ہلکان مت کریں۔‘‘

’’بھئی تم بھی عجیب آدمی ہو، کہتے ہو کہ دوسروں کے لیے پریشان نہ ہو۔ یہ دوسرے کون ہیں؟ یہ بھی تو میرے اپنے ہی ہیں۔ ان میں کوئی میرا بیٹا ہے، کوئی بھائی ہے، کوئی بھتیجا ہے، تو کوئی پوتا ہے۔ کسی سے روحانی و انسانی تعلق ہے تو کسی سے خاندانی رشتہ ہے۔ پھر انہیں غیر کیسے سمجھ لوں۔‘‘

میں پھر اسے سمجھاتا ہوں ’’قبلہ! آپ وہی کچھ کیجیے جو فی زمانہ دوسرے کر رہے ہیں۔ یعنی خاموشی اور مکمل خاموشی۔‘‘

وہ شخص میری باتوں سے تلملا اٹھتا اور جوش میں آکر کہنے لگتا ’’میں ہرگز ہرگز خاموش نہیں رہ سکتا۔ جب تک جان میں جان ہے جب تک منہ میں زبان ہے، جب تک میرے اوسان بحال ہیں۔ میں برائی کے خلاف بولوں گا، فحاشی او بے حیائی کے خلاف جہاد کرتا رہوں گا اور جھوٹ اور سچ میں فرق بتاؤں گا۔ میری مانو، تو میرا ہاتھ بٹاؤ، میرا ساتھ دو،۔ آؤ میں اور تم مل کر اس طوفان کے آگے بند باندھیں، ورنہ یہ ایک دن ہم سب کو بہاکر لے جائے گا۔ جاؤ کدال لے آؤ اور میرے ساتھ شامل ہوجاؤ۔‘‘

میں اس کی باتیں سن کر ہنس پڑتا اور کہتا: ’’بابا بھلا میں اور آپ اتنے بڑے سیلاب کے آگے کیسے بند باندھ سکتے ہیں؟‘‘

لیکن وہ ہار نہ مانتا اور کہتا ’’میرے عزیز، برخوردار، جب ہم کدال اٹھائیں گے تو تم دیکھ لینا کہ میری طرح حالات پرکڑھنے والے، اندر ہی اندر پیچ و خم کھانے والے، سب اپنے اپنے کدال اٹھا کر ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں گے۔ یہ مت سوچوکہ سچ کا سوچنے والے ختم ہوگئے ہیں یا حق بات کہنے والوں سے دنیا خالی ہوگئی ہے۔ غیور، باضمیر اور حساس لوگ اب بھی ہمارے ہاں موجود ہیں۔ البتہ فرق اتنا ہے کہ چور، لفنگے، بدمعاش اور ڈاکو اس قدر دلیر ہیں کہ شریف آدمی اپنی انا اور عزت بچانے کی خاطر پس پردہ چلے گئے ہیں۔ تم ایک دفعہ نیک کام میں بسم اللہ تو کرو، پھر دیکھو کیا ہوتا ہے۔‘‘

میں اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے کہتا ہوں ’’ہاں بابا ہاں۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ابھی جاکر کدال لاکر آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ بابا میری بات سے بے حد خوش ہوتا اور خوشی سے ناچنے لگتا۔

گویا یہ اس کا معمول بن چکا تھا کہ جو بھی اس کے پاس سے گزرتا وہ آگے بڑھ کر اپنا سوال دہراتا ’’کیوں جی کیا میں پاگل ہوں؟‘‘ لوگ سنی اَن سنی کر کے قریب سے گزر جاتے۔

ایک دن میں انتہائی پریشان تھا۔ میری بیوی ہسپتال میں داخل تھی۔ ڈاکٹر نے اتنامہنگا نسخہ لکھ کر دیا کہ گھر کا سارا سامان بیچ کر بھی میں دوائیں نہیں لاسکتا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر روؤں۔ ایک وہ ہیں کہ دنیا بھر کی آسائشیں اور نعمتیں ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہیں، ایک میں کہ بیوی کی دوا تک نہیں لاسکتا۔

میں اپنی سوچوں میں غلطاں چلا جا رہا تھا کہ بابا سامنے آگیا اور مجھے روک کر حسب معمول پوچھنے لگا: ’’کیوں جی کیا میں پاگل ہوں؟‘‘

’’جی ہاں آپ واقعی پاگل ہیں۔ نہ صرف خود پاگل ہیں بلکہ دوسروں کو بھی پاگل کردیں گے۔‘‘ میں نے ترش روئی سے جواب دیا۔

میرا غیر متوقع جواب سن کر بابا طیش میں آگیا اور چیخ چیخ کر کہنے لگا: ’’کیا کہا… میں پاگل ہوں۔ پاگل ہوگے تم، پاگل ہوگا تمہارا باپ۔ گدھا کہیں کا…‘‘ اچانک وہ اینٹ اٹھا کر مجھے مارنے کے لیے میرے پیچھے دوڑ پڑا۔ اس دوران محلے کے بچے جمع ہوگئے اور بابا کو دیکھ کر پاگل پاگل کا شور مچا دیا۔ اس کے بعد بابا واقعی پاگل ہوگیا لیکن اس میں ایک تبدیلی آئی ہے۔ اب وہ کسی سے نہیں پوچھتا کہ کیوں جی کیا میں پاگل ہوں بلکہ ایک چوراہے پر خاموش کھڑا آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔

لیکن اب اس کے ارد گرد لوگوں کا جمگھٹا رہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ بابا اس سے بات کرے، اس کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیشین گوئی کرے، اس کے حق میں دعا کے چند کلمات کہے، لیکن بابا خاموشی سے لوگوں کو تکتا یا فضاؤں میں گھورتا رہتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ وہ لوگوں سے باتیں کرنا اور انھیں اپنا دکھ درد سنانا چاہتا تھا لیکن لوگ سنی ان سنی کر کے قریب سے گزر جاتے۔ اب جب کہ اس نے خاموشی اختیار کرلی ہے، اپنے من کو سلا دیا ہے، اپنے آپ کو جلا کر راکھ کرلیا ہے، لوگ چاہتے ہیں کہ وہ ان سے باتیں کرے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پاگل بابا ہوا ہے یا وہ معاشرہ جس میں وہ رہتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابن الامام شفتر

Leave a Reply