زہر

شہر کی شاندار اور پاش کالونی کے، جہاں اکثر لوگ اپنی ہی زندگی جینے میں مگن رہتے ہیں، چوراہے پر اس کا عالی شان فلیٹ تھا جس میں وہ عرصے سے ہنسی خوشی اپنی زندگی مع اہل و عیال کے گزار رہا تھا۔ اس کی فیملی بیوی، بیٹا اور بیٹی پر مشتمل تھی۔

وہ ریٹائرڈ پروفیسر تھا۔ پنشن اچھی خاصی تھی، بیٹا بھی پرائیویٹ کمپنی میں اچھی جاب پر تھا۔ بیٹی کالج میں پڑھ رہی تھی۔ بیوی سلیقہ مند تھی اور گھر سنبھال رہی تھی۔ سب ٹھیک ٹھاک تھا۔ نہ معاشی پریشانی تھی نہ کسی کو کوئی روگ لگا ہوا تھا۔

ابھی ریٹائرمنٹ کو کچھ عرصہ ہی بیتا تھا کہ اسے ایک روگ لگ گیاـ۔ یہ روگ اچانک نہیں لگا بلکہ دھیرے دھیرے اس روگ نے اس کے ذہن و دل پر قبضہ جمایا تھا اور اس کے لیے اب یہ اذیت ناک مصیبت بن چکا تھا۔

ایک دن روگ کا تناؤ جب اس کے ذہن پر کافی بڑھ گیا تو اس کی نیند اچاٹ ہوگئی۔ وہ بستر پر کروٹیں بدلنے لگا۔ اس کا جی چاہنے لگا کہ وہ اپنے سر میں کھوپڑی کے اندر انگلیاں ڈال کر اس روگ کو باہر نکال کر پھینک دے۔ مگر وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ انسان اپنے وجود میں کتنا مجبور اور بے بس ہے! وہ بے بسی کے شدید احساس سے نبرد آزما اپنے سر کے بالوں کو مٹھیوں میں پکڑ کر دبانے لگا۔ پاس سوئی بیوی نے، جو اس کی کروٹوں سے جاگ گئی تھی، تکیے سے سر اٹھا کر پوچھا: ’’کیوں جی! کیا ہوگیا، سر میں درد ہے کیا؟‘‘

’’نہیں‘‘ وہ بیوی کی طرف کروٹ بدل کر بولا۔

’’پھر آپ سر کے بالوں کو مٹھیوں میں کیوں پکڑ رہے تھے؟‘‘

’’بس یونہی۔‘‘ وہ اپنی شریک حیات سے اپنی سوچ کی اذیت بھری دنیا چھپانے لگا جو خود بخود اس کے اندر نہیں بسی تھی بلکہ بسائی گئی تھی۔

’’نہیں، آپ چھپا رہے ہیں۔‘‘ بیوی اس کے سر کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے پائنتی دیوار پر آویزاں گھڑی دیکھ کر بولی۔ ‘‘رات کا ایک بج چکا ہے اور آپ سوئے نہیں، بولیے نا۔ بات کیا ہے؟‘‘ بیوی بضد ہوئی۔

’’کیا کروگی سن کر۔‘‘ وہ اپنے سینے میں سرد سانس کھینچ کر بولا۔

’’میں آپ کے سکھ دکھ کی ساتھی ہوں، کیا آپ کی پریشانی میری پریشانی نہیں! بولیے، کیا بات ہے، جس نے آپ سے نیند چھین لی۔ میں دیکھ رہی ہوں کچھ دنوں سے آپ خاموش بھی بہت رہنے لگے ہیں۔ کونسی فکر آپ کو کھائے جا رہی ہے۔‘‘ بیوی تکیے پر کہنی ٹکائے گال ہتھیلی پر رکھے نیم درواز ہوگئی۔

وہ چند لمحے بیوی کو تکتا رہا پھر ایک لمبی ٹھنڈی آہ کھینچی۔ ایک جانب رکھے گاؤ تکیے کو اٹھا کر سرہانے تکیے پر رکھا اور پھر اس سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

بیوی بھی اٹھ بیٹھی۔ ’’بولیے کیا بات ہے؟‘‘ بیوی نے پھر پوچھا۔

’’بات…، میں کیا بتاؤں تمہیں، شاید وہ تمہارے لیے اتنی پریشان کن بات نہ ہو لیکن میرے لیے نہایت تکلیف دہ بات ہے!‘‘

’’پہیلیاں مت بجھائیے، صاف صاف بتائیے!‘‘ بیوی کے لہجے میں بے قراری تھی۔

’’ماحول کتنا بدل گیا ہے۔ تم گھر میں رہنے والی عورت ہو، تمہیں اس کا پتہ نہیں، میں صبح مارننگ واک کے لیے جاتا ہوں۔ وہ لوگ جو میرے ساتھی تھے جو کبھی مجھ سے بڑی خوش اخلاقی سے ملا کرتے تھے، اب کنّی کاٹنے لگے ہیں، اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ وہ میری طرف دیکھتے تک نہیں، دھرم کے طعنے دیتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے صرف اپنا حلیہ بدلا ہے، مگر میں، میں ہی ہوں نا، حلیہ سے کیا انسان بدل جاتا ہے۔ دھرم کی راج نیتی کرنے والوں نے کتنا زہر بھر دیا ہے لوگوں کے ذہنوں میں!‘‘ وہ جواب طلب نگاہوں سے بیوی کی طرف دیکھنے لگا… بیوی خاموش اسے تک رہی تھی۔ کچھ توقف کے بعد اس نے بیوی سے پوچھا: ’’میں جو کہہ رہا ہوں کیا وہ غلط ہے، ٹی وی پر دیکھتی نہیں تم؟‘‘

’’ہاں! وہ تو ہے، مگر ہمیں اس سے کیا لینا دینا، دھرم کے نام پر سیاست کرنے والے جانیں! آپ نہ کوئی سماج سدھارک ہیں نہ نیتا۔‘‘

’’بات سماج سدھارک اور نیتا کی نہیں ہے۔ نیتا کا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی سیاست کی دکانیں چلاتے رہتے ہیں۔ پستے غریب لوگ ہیں اور مرتا ہے عام آدمی۔ بھیڑ ہتیہ میں مرا ہے کوئی نیتا؟‘‘

’’یہ باتیں سماج سدھارک کے سوچنے کی ہیں، آپ کیوں اتنا سوچ رہے ہیں؟‘‘

’’میں اس لیے سوچ رہا ہوں کہ میں ایک عام آدمی ہوں، میرا ایک بیٹا، ایک بیٹی اور بیوی ہے اور دھرم کے نام پر ہنسا اور ہنسا کے نام پر دھرم کو ٹکائے رکھنے کی سیاست کا بازار گرم ہے۔ کل اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ، میرے اور تمہارے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جانتی ہو، ہمارا اپنا گھر اپنے لیے غیر محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ کیوںکہ دنگوں کی راج نیتی شروع ہے۔ نفرت کی سیاست جاری ہے اور سماج میں خوف و دہشت پھیلانے والے گروپس اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘

شوہر کی باتیں سن کر بیوی کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

’’ہاں… آپ سچ کہہ رہے ہیں، ٹی وی ڈیبیٹ میں نفرت کی باتیں، تہذیب کی ساری حدوں کو توڑتے، اپ شبد۔‘‘ اخباروں میں بلاتکار، قتل و غارت گری، بھیڑ ہتیہ کی خبریں پڑھ کر میں بھی کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اپنے بچوں کا کیا ہوگا؟ وہ اپنے شوہر کی طرف سوالیہ نگاہوں سے تکنے لگی۔ شوہر بھی استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور ان کے درمیان خوف زدہ، دہشت بھری خاموشی تھی۔

چند لمحے خاموشی کے بیتے۔ بیوی نے شوہر کے کھچڑی بالوں والے سر میں انگلیاں ڈالیں اور کہنے لگی ’’کل ہم اپنے بیٹے اور بیٹی سے اس پر چرچا کریں گے۔ انہیں سمجھائیں گے کہ ایسے ماحول میں کس طرح رہا جاسکتا ہے، اب سوجاؤ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے شوہر کے سرہانے سے گاؤ تکیہ کھینچا اور بازو میں رکھ دیا۔ ’’ہوں…‘‘ ایک لمبی؟؟ شوہر کے لبوں سے نکلی اور وہ تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔

بیوی شوہر کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرنے لگی اور شوہر بیوی کے سر میں ہاتھ گھمانے لگا۔ پائنتی دیوار پر لگی گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کی ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ منٹ اور گھنٹے کی سوئیاں وقت کے دائرے میں ہولے ہولے کھسک رہی تھیں۔ سیلنگ فین اپنی رفتار سے گھوم کر کمرے کو ہوا سے بھر رہا تھاـ۔ پاس کھڑکی میں لگے کولر سے کمرہ سرد ہوچکا تھا۔ رات کے دو بج گئے تھے۔

’’سوجائیے! ‘‘بیوی نے شوہر کے بالوں میں انگلیاں سرسراتے ہوئے خاموشی توڑی۔

’’ہاں، تم بھی سوجاؤ۔‘‘ شوہر نے بیوی کے سر میں ہولے ہولے انگلیاں گھما کر ہاتھ کھینچ لیا اور آنکھیں موند لیں۔

زیرو بلب کی مدھم روشنی میں فطرت نے ان کی پراذیت سوچ سے تنے ذہنوں پر تھپکیاں لگائیں اور وہ دونوں سوگئے۔

دوسرے دن حسب معمول ان کی بیٹی ساڑھے سات بجے کالج چلی گئی اور تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد بیٹا کندھے پر بیگ لٹکائے بائیک پر سوار ہوکر ڈیوٹی پر چلا گیا۔ اس کا فیلڈ ورک کا جاب تھا۔ وہ قریب کے شہروں میں بائیک سے جاتا تھا اور دور کے شہروں میں بس یا ٹرین سے۔

’’سنوجی!‘‘ بیٹے کے جانے کے بعد وہ اپنی بیوی سے مخاطب ہوا۔

’’کیا؟‘‘

’’تم نے بیٹے کے ٹیفن کیریئر میں کیا رکھا؟‘‘

’’انڈے کی بھجیا، چکن کے پیس اور پراٹھے۔‘‘

’’اب آئندہ مت رکھنا۔ شاکا ہاری لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ اگر کسی شاکا ہاری کو پتہ چل گیا کہ اپنا بیٹا انڈا اور چکن کھا رہا ہے تو اسے مار نہ بیٹھے۔ زمانہ ایسا ہی آرہا ہے۔ بیف پر کتنے لوگوں کو پیٹا جا رہا ہے۔ مارا جا رہا ہے۔

’’جانتی ہوں بھئی…، آپ بھی نا بہت سین سیٹیو ہوگئے ہیں۔‘‘

جواب میں وہ خاموش نہیں رہا۔ ’’بھئی احتیاط ضروری ہے۔ آئندہ اس کے ٹیفن کیریئر میں کوئی سبزی وغیرہ رکھ دیا کرو، ہمیں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں یہ اب حکومت طے کر رہی ہے۔ دیش بھکتی کا چولا پہن کر کچھ غنڈوں نے بیف کھانے والوں کا جینا حرام کر رکھا ہے، عام آدمی کی جانیں جا رہی ہیں۔‘‘

بیوی کچھ نہ بولی، ریموٹ لے کر صوفہ پر بیٹھ گئی اور دیوار پر لٹکا ایل ای ڈی اسکرین والا ٹی وی آن کر دیا۔

نیوز شروع تھی۔

شہر کے قریبی قصبہ میں دنگا ہوگیا۔ کچھ ہندوؤں نے مسلمانوں پر اور کچھ مسلمانوں نے ہندوؤں پر پتھراؤ کیا، جس سے دونوں سمودائے کے لوگ زخمی ہوئے کسی کے ہتاہت ہونے کی ابھی خبر نہیں ہے۔ ہاں قصبہ کے کچھ گھروں کو جلانے اور دکانیں لوٹنے کی خبریں بھی مل رہی ہیں۔ پولس نے حالات پر قابو پالیا ہے۔ استھتی تناؤ پوڑن مگر نینترن میں ہے۔ گئو رکھشکوں نے ٹرک کو نہیں جلایا کیوں کہ وہ ہندو کا تھا۔ یہ پتہ گئو رکھشکوں نے ٹرک کے کیبن میں لگے ہندو دھرم کے دیوی دیوتاؤں کی تصویریں دیکھ کر لگالیا تھا۔

خبر دیکھ کر میاں بیوی کے چہروں پر تناؤ بڑھ گیا تھا۔ ’’کیوں جی! اپنا بیٹا تو ادھر نہیں گیا؟‘‘ بیوی کے لہجے میں لرزش آگئی تھی۔

’’اگر ادھر گیا ہوگا اور میری بات پر عمل کیا ہوگا تو اس کا کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ شوہر کا لہجہ پر اعتماد تھا۔

’’کونسی بات؟‘‘ بیوی نے بے تابی سے پوچھا۔

’’میں نے اس سے کہا تھا گھر سے نکلتے وقت اپنے بیگ میں دورومال رکھ لیا کرو، میں نے اسے دو رومال لاکر بھی دیے تھے۔ ایک بھگوا، دوسرا سیاہ چوکڑی والا جو اکثر ٹی وی اسکرین پر آتنگ وادی ملزم کے چہرے پر لپٹا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ تناؤ کے وقت ہندو ایریے میں جاؤ تو بھگوا رومال گلے میں ڈال لیا کرو اور مسلمان علاقے میں جوکڑی والا رومال کندھے پر لٹکا لیا کرو، کسی طرح جان بچ جائے گی۔ کیا تم نے اس کے بیگ میں دو رومال دیکھے؟‘‘ اس نے بیوی سے پوچھا۔

’’نہیں!‘‘

نفی میں جواب سن کر شوہر کی پیشانی پر شکن آگئی تھی اور بھوئیں سکڑ کر قریب آگئی تھیںـ۔ فون تو لگاؤ اسے!‘‘

بیوی نے موبائل فون کان سے لگایا۔ اطلاع سوئچ آف کی ملی۔ ’’بیٹے کا فون بند ہے!‘‘ وہ پریشان ہوکر شوہر سے بولی۔

’’ہشت!‘‘ باپ جھنجھلا کر رہ گیا۔ بے تاب ہوکر بیوی سے کہا ’’بیٹی سے کانٹیکٹ کرو۔ پوچھو کب آرہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ صوفہ سے اٹھا اور ہاتھ پیچھے باندھ کر ڈرائنگ روم میں ٹہلتے ہوئے زیر لب بڑبڑانے لگا ’’الیکشن قریب آگئے ہیں، ووٹروں کے ’’دھروی کرن‘‘ کے لیے دنگے کی راج نیتی والے اس شہر میں بھی دنگا کروا سکتے ہیں سالے! ’’طیش سے اس کی مٹھیاں بھنچ گئی تھیں۔

بیوی، بیٹے سے بات کر کے شوہر سے مخاطب ہوئی، بیٹی کے پریڈ آف تھیـ وہ کالج سے نکل گئی۔، آتی ہی ہوگی۔‘‘

’’کب نکلی، کب آئے گی؟‘‘ نہایت بے قراری سے اس نے بیوی سے پوچھا۔

اس کی بے قراری کو محسوس کرتے ہوئے بیوی شانت لہجے میں کہنے لگی‘‘ آپ اتنا کیوں پریشان ہو رہے ہیں جی! اوپر والے پر بھروسہ رکھیے، بیٹی بھی خیریت سے گھر آجائے گی اور بیٹا بھی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ڈرائنگ روم سے نکلی اور شوہر کے لیے پانی کا گلاس لے آئی۔ ’’لیجیے، پانی پی لیجیے!‘‘

وہ صوفہ پر بیٹھ گیا۔ ایک سانس میں گلاس بھر پانی حلق کے نیچے اتار لیا اور خالی گلاس بیوی کو تھما دیا۔ اسی وقت مین گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔ ڈرائنگ روم کی کھڑکی سے انھوں نے دیکھا، بیٹی کندھے پر بیگ لٹکائے گھر میں داخل ہو رہی تھی۔

میاں بیوی کے چہرے کھل اٹھے، دونوں ڈرائنگ روم سے نکل کر باہر آگئے۔ ’’کیوں بیٹی خیریت تو ہے!‘‘ ماں نے پوچھا۔

’’ہاں کیوں کیا ہوا؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں۔‘‘ بیٹی ماں باپ کے چہروں کا جائزہ لے کر بولی اور کندھے پر لٹکا بیگ دیوار میں لگی کھونٹی میں لٹکا دیا۔

’’نہیں… ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ باپ نے فی الوقت بیٹی کو پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا، ’’جاؤ فریش ہوکر آؤ۔‘‘

بیٹی کھونٹی میں لٹکا بیگ لے کر اپنے روم میں چلی گئی۔ کچھ دیر بعد باہر آئی ’’کیا ہوا ڈیڈی؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں!‘‘

جواب میں اس نے اپنی بیٹی کو وہ خبر تفصیل سے بتا دی جو ٹی وی اسکرین پر دیکھی تھی۔ خبر سن کر بیٹی کے چہرے کی شگفتگی یکلخت غائب ہوگئی۔ بے ساختہ اس نے پوچھا ’’بھیا کہاں گئے!‘‘

’’وہ بتا کر نہیں گیا، بری فکر ہو رہی ہے۔ شہر کے حالات بگڑتے دیر نہیں لگتی!‘‘

’’ہاں ڈیڈی!‘‘ بیٹی کے لہجے میں لرزش آگئی تھی۔ ماں مین گیٹ پر نظریں ٹکائے کھڑی تھی ’’ڈیڈی! ٹی وی آن کیجیے۔‘‘

ڈیڈی نے ٹی وی آن کیا، اسکرین پر مری ہوئی گائے کو دکھایا جا رہا تھا۔ پاس ہی ٹرک کھڑا تھا اور ٹرک کے بازو ٹرک ڈرائیور کی فوٹو دکھائی جا رہی تھیـ۔ چہرہ پر ڈاڑھی، سر میں ٹوپی اور گلے میں سیاہ چوکڑی والا رومال۔

سین بدلا: گاؤ رکھشکوں کا طیش تفصیل سے بتایا جا رہا تھا۔ ہتیا بھرے نعرے، جلتے ہوئے مکانات ایک دوسرے پر حملہ کرتے لوگ۔

سین بدل رہا تھا اور ٹی وی رپورٹر کا لہجہ بھی ’’دنگے کی آگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ لگتا ہے شہر کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لے گی۔ مگرپولس دنگے پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔‘‘ رپورٹر بتا رہا تھا۔

ٹی وی کی رپورٹ دیکھ کر بیٹی نہایت خوف زدہ ہوگئی تھی۔ باپ نے سوچا دوسرے چینل سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اس لیے اس نے چینل بدلا۔ مگر یہ کیا! چینل ایکسیڈنٹ میں مری ہوئی گائے کا حمایتی نکلا۔ ٹی وی چینل کا رپورٹر ایکسیڈنٹ کی تصویریں دکھا کر بھڑاس نکال رہا تھا ’’دیکھئے! ایکسیڈنٹ میں مری گاؤ ماتا کو جو قانون کا پالن کرتے ہوئے اپنی سائیڈ سے جا رہی تھی کہ ایک تیز رفتار ٹرک نے ٹریفک کا نیئم توڑ کر بڑی بے رحمی سے اس کاؤ ماتا کو کچل دیا۔ ٹرک ڈرائیور کی تصویر دیکھیے اور اس کے آتنگ کو گاؤ ماتا کو کس بے دردی سے اس نے کچل دیا ہے۔

ٹی وی اسکرین پر مری ہوئی گائے کو روڈ کے بائیں طرف دکھایاجا رہا تھا اور ٹرک ڈرائیور کی تصویر دکھا کر دنگے کی آگ میں گھی ڈالنے کا کام جاری تھا۔ ’’ڈیڈی! پہلی خبر میں گائے روڈ کے درمیان مری پڑی تھی اور اس چینل پر لیفٹ سائڈ کیسے آگئی؟‘‘

’’بیٹی اب نیوز دکھانے کے طریقے اتنے بدل گئے ہیں کہ جھوٹ پکڑنا مشکل ہوگیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹی وی آف کر دیا۔

’’ابھی تک نہیں آیا بیٹا!‘‘ وہ بے تاب ہوکر ڈرائنگ روم سے باہر نکلا۔ بیٹی بھی ہمراہ تھی۔ ماں مین گیٹ پر کھڑی تھی، تینوں کے اندر بے قراری تھی۔ سب کی نگاہیں اس روڈ پر جمی ہوئی تھیں جس روڈ سے بیٹا آیا کرتا تھا۔

’’وہ آرہے ہیں بھیا!‘‘ بیٹی اچھل کر چہکی۔

ماں باپ چشمے کی اوٹ سے دیکھنے لگے۔ بیٹا بائک پر سوار گلے میں کیسری رومال ڈالے آرہاتھا۔

’’دنگائیوں سے بچ کر آیا ہے میرا بیٹا! ‘‘ باپ بیٹے کے گلے میں کیسری رومال دیکھ کر بڑبڑایا۔

بیٹا مین گیٹ کے قریب آچکا تھا۔ ماں نے گیٹ کھولا۔ بیٹا اندر داخل ہوا اور جیسے ہی بائک سے اترا باپ نے اسے اپنے سینے سے ایسا لگایا جیسے اپنے اندر بھر لینا چاہتا ہو۔ ’’ہم بہت پریشان تھے بیٹا۔ بہت پریشان!‘‘ ماں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔

’’میں یہ کیسری رومال سے بچ گیا نہیں تو گاؤ رکھشک مجھے چھوڑتے نہیں۔‘‘ بیٹا یہ کہتے ہوئے ڈرائنگ روم میں آکر صوفہ پر بیٹھ گیا۔ بہن پانی بھرا گلاس لے آئی جسے اس نے ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔ ’’بیٹا شہر کا ماحول کیسا ہے؟‘‘ باپ نے پوچھا:

’’شہر میں تناؤ آچکا ہے، وہ تو میں کسی طرح جان بچا کر آگیا۔‘‘

بیٹے کا یہ جملہ سنتے ہی باپ فورا اٹھا۔ مین گیٹ مقفل کر کے ڈرائنگ روم میں آیا ’’یہ دنگوں کی راج نیتی، یہ وحشی پن، یہ درندگی، یہ حیوانیت ہمیں جینے نہیں دے گی۔‘‘ ’’ہاں ڈیڈی، آپ سچ کہہ رہے ہیں، آج میں اپنی جان بچا کر آگیا لیکن ماحول ایسا ہی بگڑتا رہا تو میرے کل کی کوئی گارنٹی نہیں۔‘‘

’’دنگا اگر سارے شہر میں بھڑک گیا تو ہم اس گھر میں بھی محفوظ نہیں رہ سکتے!‘‘ باپ نے پیشین گوئی کی۔

بیٹی کے چہرے پر تناؤ بڑھ گیا، ماں بدحواس ہوگئی۔

’’سٹی نیوز تو لگا کر دیکھو!‘‘ بیوی کی زبان تالو سے چپک رہی تھی۔

شوہر نے ٹی وی آن کیا، سٹی نیوز چینل لگایا۔

شہر میں دنگے کی آگ بھڑک گئی تھی، مسلم علاقے پر ہندو حملہ آور تھے اور ہندوؤں کے محلے پر مسلم۔ آگ زنی، سنگ باری، لاٹھی، برچھے، تلواریں، ترشول سے انسان پر انسان حملے کر رہا تھا۔ شہر پر وحشیوں اور درندوں کا راج تھا۔

ماں، باپ، بیٹی، بیٹا آنکھیں پھاڑے ٹی وی اسکرین پر دنگے کی سین دیکھ رہے تھے۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں۔ دہشت و خوف سے اندر ہی اندر ان کے وجود اس بکرے کی طرح لرز رہے تھے، جس کے گلے پر قصاب نے چھری چلا دی تھی۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔

’’ڈیڈی!‘‘ بیٹی اندر تک کانپ گئی ’’بند کردیجیے ٹی وی میں یہ سب نہیں دیکھ سکتی۔

باپ نے فوراً ٹی وی آف کر دیا۔

’’کیا دنگائی ہماری کالونی میں بھی آسکتے ہیں!‘‘ بیوی نے لرزتے لہجے میں پوچھا۔

’’کیوں نہیں؟‘‘

’’ہماری کالونی میں تو سب دھرم، سب ذاتوں کے لوگ رہتے ہیں!‘‘

’’تو کیا ہوا، دنگائی دھرم، ذات کے نام پر مارکاٹ تو کرتے ہیں لیکن در حقیقت ان کے پاس ذرہ برابر بھی دھرم نہیں ہوتا، صرف دھرم کا لیبل رہتا ہے۔

’’ڈیڈی، اگر ہماری کالونی پر حملہ ہوجاتا ہے تو ہمارے پاس تو اپنے بچاؤ کے لیے ہتھیار بھی نہیں۔‘‘ بیٹے کا انداز خوف زدہ تھا۔

’’ہم اپنا بچاؤ کیسے کریں گے ڈیڈی!‘‘ بیٹی پر دہشت طاری تھی۔

’’کیا کریں گے جی ہم!‘‘ بیوی نے سہم کر پوچھا۔

وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیے اور انہیں گھٹنوں میں دبائے بالکل ساکت، سر جھکائے کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا پھر سر اٹھا کر ایک طائرانہ نظر اپنے اہل و عیال پر ڈال کر نہایت گمبھیر لہجے میں کہنے لگا ’’اگر دنگا کنٹرول نہیں ہوتا ہے اور دنگائی ہماری کالونی پر حملہ کردیتے ہیں تو میرے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ دنگائیوں کا اپنے گھر پر دھاوا بولنے سے پہلے ہم سب زہر کھاکر مرجائیں۔ دنگائیوں کے ہاتھوں مرنے سے یہ بہتر ہے۔ یہ میری اپنی سوچ ہے کہ میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ دنگائی میرے سامنے میری بیٹی کو ننگا کر کے اس کی عزت لوٹے اور پھر اسے مار ڈالے۔ مجھ سے یہ سہنے کی شکتی نہیں کہ میری بیوی یعنی تمہاری ماں کو برہنہ کر کے دنگائی اس کی جان لے لے ار میرے بیٹے! دنگائی میرے سامنے تیرا سرتن سے جدا کردے اور میں بے بس کی طرح یہ سب دیکھتا رہوں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا، اس لیے ایسی زندگی جینے سے بہتر ہے کہ اسے ٹھوکر مار دی جائے!‘‘

شوہر کے الفاظ بیوی کے کانوں میں چنگاریاں بن کر اترے اور بیٹی اور بیٹے کے ذہنوں میں آتش پارے بن گئے۔ ان کے اندر باغی جذبات کا ایندھن دہک اٹھا، ’’ہاں، آپ سچ کہہ رہے ہیں ڈیڈی!‘‘

’’آپ سچ کہہ رہے ہیں جی! مگر زہر ہے کہاں ہمارے پاس!‘‘ بیوی نے پوچھا۔

’’ہے نا، اپنے گاؤں کے کھیت میں کپاس کی فصل پر چھڑکاؤ کرنے کے لیے میں ’’کرشی کیندر‘‘ سے زہر کی بوتل خرید لایا تھا۔ بہت پاور فل ہے، فصل کو نقصان پہنچانے والے تمام قسم کے کیڑے ایک فوارے میں فوراً ختم ہوجاتے ہیں۔ میں نے بوتل کمپاؤنڈ کے کونے میں رکھی ہے۔ ابھی لے آتا ہوں ’’یہ کہہ کر شوہر فوراً اٹھا اور کمپاؤنڈ کے کونے سے زہر کی بوتل اٹھا لایا اور ٹی ٹیبل پر رکھ کر کہنے لگا ’’ہم اس کا استعمال ابھی نہیں کریں گے۔ سورج غروب ہونے تک اگر دنگے کی آگ بجھی نہیں اور ہماری کالونی کے قریب پہنچ گئی تب ہم زہر پی کر اپنی دہشت بھری زندگی سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔‘‘

باہر سورج اپنی تمازت سمیٹے مغرب کی سمت غروب ہونے جا رہا تھا۔ کمرے پر سکوت طاری تھا، سب کے چہرے دہشت زدہ تھے۔ ’’ٹی وی آن کر کے سٹی نیوز تو دیکھو، کیا پوزیشن ہے!‘‘ بیوی شوہر سے بولی۔

شوہر نے ریموٹ کا بٹن دبایا، ٹی وی اسکرین روشن ہوگیا۔ سٹی نیوز چینل پر ہنسا بھرے نعروں کا شور تھا۔ آگ و خون کی ہولی کے سین دکھائے جا رہے تھے اور ٹی وی رپورٹر بتا رہا تھا ’’دنگا شہر کے بہت سارے علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ پولس بل ناکافی ہے۔ دنگائیوں نے پرامن علاقوں پر بھی دھاوا بول دیا ہے۔‘‘

نیوز دیکھ کر اس کی اور اس کے اہل و عیال کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں۔ خوف سے ماں، بیٹی اور بیٹا اندر ہی اندر کانپ رہے تھے۔

’’ڈیڈی! ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ بیٹا اور بیٹی بولے۔

’’میرا دل بھی بیٹھا جا رہا ہے جی!‘‘ بیوی آواز میں لرزش تھی۔

’’گھبراؤ مت، جب ہم نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر گھبرانا اور ڈرنا کیا! نیوز میں دنگے کی خبریں جن علاقوں کی بتائی جا رہی ہے وہ ہماری کالونی کے آس پاس کا ہی علاقہ ہے۔ وقت ہمارے پاس کم ہے، اس مختصر وقت میں کیوں نہ ہم بے خوف ہوکر جئیں۔ کھائیں، پئیں اور ایک دوسرے سے آخری بارجی بھر کے پیار کر کے زہر پی کر ہمیشہ کی نیند سوجائیں۔ چلو سب اٹھو، وقت ہمارے پاس کم ہے، چلو جلدی فٹافٹ میں کچن سے جو بھی بنا ہے لے کر ڈرائننگ ٹیبل پر سجا دیتا ہوں۔‘‘

شوہر کچن میں گھسا، دال، سبزی، اچار، روٹی، چاول وغیرہ ڈائننگ ٹیبل پر رکھ آیا۔

ڈرائنگ روم میں بیوی، بیٹی، بیٹا اسی پوزیشن میں بیٹھے تھے جس پوزیشن میں وہ انہیں چھوڑ کر کچن میں گیا تھا۔

’’ارے! تم لوگ اٹھے نہیں، میں کہہ رہا ہوں، ہمارے پاس وقت کم ہے، بلوائی ہمارے گھر پر دھاوا بولیں اس سے پہلے ہمیں مر جانا ہے۔ چلو، اٹھو، ہم ایک ساتھ آخری بار کھانا کھالیں‘‘ وہ اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر التجا آمیز لہجے میں بولا۔ پھر اپنی بیٹی اور بیٹے سے مخاطب ہوا، میرے جگر کے ٹکڑو اٹھونا، میں آخری بار تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی تھی۔

بیوی کی آنکھیں بھر آئیں۔ بیٹی اور بیٹے کی پلکوں سے بھی آنسو ٹوٹ پڑے۔ ’’ہمیں بھوک نہیں ہے ڈیڈی!‘‘

’’ہاں… میری بھوک بھی مر گئی۔‘‘ بیوی نے ڈبڈبائی آنکھوں سے شوہر کی طرف دیکھا۔ ’’آخری بار میرے ہاتھوں سے چند لقمے تو کھالو۔‘‘ وہ اپنے اہل و عیال سے التجا کرنے لگا۔ ’’کھانے میں زہر ملا دیجیے! ہم کھالیںگے!‘‘ بیوی کی آنسو بھری آنکھوں میں سرخ ڈورے نمایاں ہوگئے تھے۔

’’نہیں… میں یہ نہیں کرسکتا، میری خواہش ہے کہ میں آخری بار تم سب کو اپنے ہاتھوں سے چند لقمے کھلاؤں اور اس کے بعد زہر پی کر بستر پر ہمیشہ کی نیند سوجاؤں، میں اپنا بستر بڑے کمرے میں بچھا کر آتا ہوں۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اپنے بستر بھی اسی کمرے میں بچھا سکتے ہو ہم ایک ساتھ جئے ہیں، مریں گے بھی ایک ساتھ۔‘‘

وہ ڈرائنگ روم سے نکلا اس کے پیچھے اس کی بیوی اور بیٹا بھی باہر آئے۔

وہ اپنے کمرے میں گھسا، پلنگ پر بچھا بستر اٹھا کر بڑے کمرے میں لے آیا۔ بیوی بھی اس کے پیچھے ہی گدا، تکیہ اور کمبل اٹھا لائی۔ دونوں نے پاس پاس اپنے بستر بچھا لیے۔ بیٹی اور بیٹا بھی اپنے کمروں سے بستر لے آئے انھوں نے بھی ماں باپ کے بازو بستر لگا دیے۔

اس کام سے فارغ ہونے کے بعد بیوی شوہر سے نہایت کرب ناک لہجے میں مخاطب ہوئی، چلیے آپ اپنی آخری خواہش پوری کرلیجیے!‘‘

ماں، باپ، بیٹی، بیٹا ڈائننگ ٹیبل کے گرد کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ شوہر نے بیوی، بیٹی، بیٹے کو چند لقمے کھلا کر اپنی آخری خواہش پوری کرلی۔ پھر بیوی، بیٹی اور بیٹے نے اس کے منہ میں نوالے دالے۔

پوری فیملی چند لقمے کھا کر بڑے کمرے میں آگئی۔ سب کے ہاتھوں میں پانی بھرے گلاس تھی اور اس کے دوسرے ہاتھ میں زہر کی بوتل۔

کمرے میں موت کا ساسناٹا طاری تھا۔ وہ زہرکی بوتل اور گلاس فرش پر رکھ کر اپنی بیٹی کی طرف بڑھا اور اسے گلے لگا لیا۔ بیٹا بھی اس سے لپٹ گیا۔ ماں بھی اولاد سے چمٹ گئی۔ سب آپس میں مل کر رونے لگے۔ سسکیوں کے درمیان وہ درد بھری آواز میں بولا: ’’دنگائیوں کا وحشی پن اور ان کی درندگی سہنے کی مجھ میں شکتی نہیں ہے اس لیے میں…‘‘ ’’میں نہیں، ہم کہیے! بیوی ساری کے آنچل سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی، ایسی خوفناک، دہشت بھری زندگی ہم نہیں جی سکتے!‘‘

’’ہاں ڈیڈی، ہم زہر پینے کے لیے تیار ہیں، ڈال دیجیے ہماری گلاسوں میں زہر!‘‘

بیوی نے بھی اپنا گلاس بڑھا دیا۔ اس نے زہر کی بوتل کا کارک کھولا۔ پہلے اپنے گلاس میں زہر ڈالا پھر اپنی بیوی، بیٹا اور بیٹی کے گلاس میں۔

’’چیئرس!‘‘ گلاس آپس میں ٹکرائے اور پھر سب نے زہریلا پانی حلق کے نیچے اتارنے میں دیر نہیں کی۔

اس کے بعد اس نے گھر کے سارے بلب آف کردیے اور پھر وہ چاروں ہمیشہ کی نیند سونے کے لیے اپنے اپنے بستروں پر کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے۔

رات گزر گئی، صبح کے سورج کی روشنی سے کمرہ بھر گیا۔ کمبل سے باہر نکلے اس کے چہرے پر روشنی پڑی تو یکدم اس کی آنکھوں کے پٹ کھل گئے۔

’’ارے…! میں مرا نہیں؟ بے محابا وہ اٹھ بیٹھا اپنے جسم کو ٹٹول کر بڑبڑایا ’’میں زندہ ہوں! کیسے میں بچ گیا؟ کیا میں نے زہر کم پیا تھا۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا!‘‘ بے اختیار اس نے اپنی بیوی کو ہلایا۔ بیوی ہڑبڑا کر جاگ گئی۔ حیرت زدہ شوہر کو دیکھنے لگی پھر فورا ً اٹھ بیٹھی۔ چند لمحوں تک اس پر سکتہ طاری رہا… شوہر سے پوچھا ’’میں کیسے زندہ بچ گئی اور تم بھی! ہم دونوں نے تو زہر برابر پیا تھا… اپنے بچے!‘‘

دونوں بدحواس اپنے اپنے بستروں سے اٹھ کر بچوں کی طرف لپکے۔

بیٹی اور بیٹا سر سے پاؤں تک کمبل اوڑھے اپنے اپنے بستروں پر پڑے تھے۔ ماں باپ نے دیوانہ وار اُن کے بدن پر تنے ہوئے کمبلوں کو جیسے ہی کھینچا، دونوں اٹھ بیٹھے۔ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر بھونچکے ہوکر اپنے والدین کو آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگے۔ ماں باپ نے بے اختیار انہیں اپنی بانھوں میں بھر لیا۔

’’تم بھی زندہ ہو… ہم بھی مرے نہیں، یہ اوپر والے کی لیلا ہے!’’ باپ کے لہجے سے خوشی چھلک پڑی تھی۔

’’نہیں ڈیڈی!‘‘ بیٹا جمائی لے کر کچھ دیر خاموش سر جھکائے بیٹھا رہا پھر سوچ کر بولا: ’’اصل بات یہ ہے دیش میں اب اتنا نقلی پن آچکا ہے کہ اب مرنے کے لیے زہر بھی اصلی نہیں رہا۔ بہت کچھ بدل گیا… بہت کچھ…‘‘

’’خیر، یہ باتیں جانے دو، دنگائی ہمارے گھر تک نہیں آئے اور ہم زندہ سلامت ہیں یہ ہمارے لیے کافی ہے۔ پولس نے شاید دنگے پر قابو پالیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بڑے کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم میں گیا۔ ماں، بیٹی اور بیٹا بھی اس کے پیچھے آئے۔

اس نے ٹی وی آن کیا۔ سٹی نیوز چینل پر دنگے کی خبریں جاری تھیں۔ ’’شہر میں کافی جانی و مالی نقصان ہونے کے بعد بالآخر پولس نے دنگے پر قابو پالیا۔ رات بارہ بجے سے سارے شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

ٹی وی نیوز دیکھ کر سب کے چہروں پر زندگی کی چمک لوٹ آئی۔ بیوی نے چٹکی لی ’’کیوں جی! اگر زہر اصلی ہوتا تو!‘‘

اب اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق

Leave a Reply