سر کی خشکی سے نجات کیسے؟

خشکی ایسی بیماری ہے جس کے باعث انسان کو کبھی کبھی شرمندگی سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے، جب آپ کو اپنے شانوں پر بھوسی جیسے چھلکوں کا چھڑکاؤ نظر آئے یا سر میں بار بار کھجلی محسوس کرتی ہوں تب خصوصا محفل میں اطمینان سے بیٹھنا آپ کے لیے دشوار ہو جاتا ہے۔ تقریبآ ہر مرد و عورت کو اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں خشکی سے سابقہ پڑتا ہے۔

اٹھارہ سال کی عمر سے زیادہ کے تمام مرد و خواتین میں بیس فیصد اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے پانچ فیصد اس کے شدید حملے کا شکار ہوتے ہیں اور ان کے سر سے بے تحاشا بھوسی جھڑتی ہے۔ شانوں اور قمیص کے کالروں پر ننھے ننھے سفید چھلکوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ ایسا مسئلہ ہے، جس سے وہ برسوں نبرد آزما رہتے ہیں، جب کہ بعض لوگوں کے سر میں یہ بیماری وقتا فوقتا پیدا ہوتی رہتی ہے۔

اب تک قطعیت کے ساتھ علم نہیں ہوسکاکہ خشکی پیدا ہونے کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ مردہ خلیوں کا جھڑتے رہنا اور ان کی جگہ نئے خلیوں کا پیدا ہوتے رہنا ایسا عمل ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے اور یہ انسان کے پورے جسم میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس توازن میں کوئی بگاڑ پیدا ہو جائے تو اس کے نتیجے میں بھوسی جیسے سفید چھلکے بننے لگتے ہیں جو خشکی کہلاتے ہیںـ۔ اگرچہ اس عمل کے اسباب واضح نہیں، تاہم وراثتی عنصر، ذہنی دباؤ اور غذا، سب اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کرتے ہیں۔

خشکی کے سلسلے میں کئی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اکثر اوقات اسے خشک سر کی بیماری کہا جاتا ہے حالاں کہ اسے سر کی خشک جلد کے ساتھ منسوب کرنا غلط ہے۔ بلکہ روغن دار کھوپڑیوں میں خشکی جلد پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق خشکی موسمی اثرات رکھتی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے جسم میں روغنی مادے پیدا کرنے والے غدود خاص کردار ادا کرتے ہیں۔

جلدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خشکی دراصل جلد کے چھلکے اترنے کا عمل ہے۔ ایک عام کھوپڑی میں انداز ہر مربع سینٹی میٹر میں تقریبا تین ہزار سات سو خلیے ہوتے ہیں لیکن خشکی سے متاثرہ کھوپڑی میں ان کی تعداد پچیس ہزار تک جا پہنچتی ہے اور ان لوگوں میں تو یہ تعداد ۶۷ ہزار تک پہنچ جاتی ہے جو جلد کی سوزش کا شکار ہوتے ہیں۔

دیکھا گیا ہے کہ خشکی کے عروج کے دوا دوا رہیں پانچ اور دس سال کے درمیان اور پھر دس اور بیس سال کے دوران۔ ان دونوں مرحلوں میں چربیلے غدود سب سے زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں خشکی زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ اس دوران بہت ساری ہارمونی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں۔

کیا ایسی اشیا موجود ہیں جو خشکی میں اضافہ کرتی ہیں؟ جی ہاں، جلدی امراض کے ماہرین اس سلسلے میں مندرجہ ذیل چیزوں کا ذکر کرتے ہیں:

٭ ہیئر اسپرے اور جیل کا زیادہ استعمال

٭ بالوں کو رنگنے والی اشیا کا نامناسب استعمال

٭ برقی ہیئر کرلرز کا بہت زیادہ استعمال

٭ سرد موسم اور گھر کے اندر خشک گرمائش

٭ سر پر منڈھ جانے والی ٹوپیاں اور اسکارف

٭ شیمپو کرنے یا بالوں کو ملنے میں بے احتیاطی

خشکی کے کئی علاج موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی مستقل علاج نہیں کیونکہ آپ خواہ کتنی ہی وجہ اور محنت کے ساتھ اس کا علاج کریں، یہ مسئلہ بار بار پریشان کرتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ در اصل کبھی نہ کبھی کسی وجہ سے یہ چھوت دوبارہ چمٹ جاتا ہے۔ بہرحال علاج کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہے۔

٭ اپنے بالوں کے برش اور کنگھوں کو روزانہ دھوئیے۔

٭ اگر ممکن ہو تو تکیے کے غلاف کو روزانہ بدل دیجیے۔ انھیں پانی میں ابال کر دھوئیے اور یہ عمل خشکی کے ختم ہونے تک جاری رکھئے۔

٭ چوں کہ خشکی اور کیل مہاسوں کے درمیان تعلق ہے، اس لیے اگر آپ دونوں تکالیف میں بیک وقت مبتلا ہیں تو اپنے تولیے یا منہ پونچھنے والے کپڑے روزانہ تبدیل کریں اور انھیں ابال کر دھوئیں۔

صابن، کاسمیٹکس، الکحل یا جسم پر منڈھے ہوئے جدید وضع کے لباس کا زیادہ استعمال بھی خشکی کی پیداوار اسی طرح بڑھاتا ہے، جس طرح نمی، پسینہ، ہارمونی تبدیلیاں اور ذہنی دباؤ اس میں اضافہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خشکی پر روز اول ہی سے قابو پانے کی کوشش کریں۔ اس غرض سے خشکی روک شیمپوؤں کا استعمال مناسب ہے۔ اگر پھر بھی خشکی رہے اور تکلیف میں کوئی افاقہ نہ ہو، تو جلدی امراض کے کسی ماہر سے رجوع کیجیے۔ وہ آپ کو کھانے یا لگانے والی دوا دے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں جس کی مدد سے مردہ کھال کے جھڑنے کا عمل روکا جاسکے، لیکن اگر سر کا مساج کیا جائے اور اس کے بعد برش کر کے یا بالوں کو دھوکر چھلکوں کو نکال دیاجائے تو خشکی کو نظروں سے پوشیدہ رکھا جاسکتا ہے۔

خشکی دور کرنے والا شیمپو اسی وقت موثر ثابت ہوتا ہے جب اسے دو تین منٹ تک بالوں میں لگایا جائے۔ یاد رہے اگر آپ کو صحیح علاج فوری طور پر دستیاب نہیں، تب بھی اپنی کوششوں کو ترک مت کیجیے۔ کیوں کہ جو علاج کسی ایک شخص کے لیے موثر ثابت ہوسکتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ دوسرے شخص کے لیے بھی اتنا ہی زیادہ موثر ثابت ہو۔

آیورویدک ماہرین کے مطابق خشکی تیل کی کمی نیز غذا بخش اجزا کی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ مزید برآں ایسے کنگھیوں کے استعمال سے بھی جنم لیتی ہے جو پہلے سے چھوت کا شکار ہوں۔

اگرچہ سردھونے کے بعد تیل لگانا چاہیے، تاہم فیشن کے دلدادہ بہت سے لوگ سردھونے سے پہلے اس میں تیل لگاتے ہیں۔ جلدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ بالوں میں تیل رات کے وقت لگایا جائے۔

خشکی کے آیورویدک طریقہ علاج میں یہ طریقے شامل ہیں:

٭ آملہ لگائیے جس میں وٹامن سی وافر ہوتا ہے۔

٭ ناریل تیل (یہ سوزش دور کرنے میں مدد دیتا ہے)

٭ تلوں کا تیل جو جلد سے متعلق ہر تکلیف میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

٭ آملہ، سکاکائی اور ریٹھوں کو ساری رات بھگو کر رکھیے اور پھر اسے سر پر لگا کر دھوئیے۔ یہ مرکب عمدہ کنڈیشنز کا کام دیتا اور سر صاف کرتا ہے۔

خشکی کے علاج کے لیے کچھ گھریلو نسخے بھی درج ذیل ہیں:

٭ سر پر تھوڑا سا کیسٹر آئل مَلیے۔ پانچ منٹ تک انتظار کیجیے اس کے بعد سر اچھی طرح سے دھو لیجیے۔

٭ دو چمچ میتھی دانے پانی میں ساری رات بھگو کر رکھیے۔ صبح پیس کر ان کا لیپ بنا لیجیے اور اسے اپنے سر پر اچھی طرح مل لیجیے۔ ایک گھنٹے تک اسے لگا رہنے دیجیے۔ اس کے بعد سکاکائی یا کسی ہلکے شیمپو سے اسے دھو ڈالیے۔

غذا سے بھی چھلکے بننے کے عمل پر اثر پڑتا ہے۔ ایک تعجب انگیز انکشاف یہ ہے کہ پنیر، بہت زیادہ تلی ہوئی اشیائے خوردنی اور دودھ سے بنی چاکلیٹ جیسی غذائیں چھلکے بناتی ہیں۔ بعض ماہرین کا یہ خیال ہے کہ خشکی کے پیدا ہونے کا تعلق وٹامن بی۶، بی ۱۲ اور میلینیم کی کمی سے ہے۔

اگرچہ خشکی کو عام مفہوم میں چھوت کہا جاسکتا ہے، تاہم یہ ایک دوسرے کو نہیں لگتی۔ ایک اور اہم بات یہ کہ خشکی کوئی نقصان نہیں پہنچاتی، اس سے صحت پر کوئی خراب اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی یہ بالوں کے گرنے کا سبب ہوتی ہے۔

یاد رکھیے خشکی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے بہت زیادہ ادو یہ اور تدابیر کا استعمال مت کیجیے کیوں کہ اس کے مکمل اور مستقل علاج کی تلاش آپ کو مزید مشکلات اور تکالیف میں مبتلا کرسکتی ہے۔ خشکی اگر کبھی کبھار نمودار ہو، تو اس سے بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
یاسمین عبد العزیز

Leave a Reply