3

بزرگوں کے نفسیاتی مسائل

اللہ تعالیٰ نے انسانی سماج اور تمدن کا حسن جن چیزوں میں پوشیدہ رکھا ہے، ان میں ایک اہم چیز تنوع ہے۔ جس طرح سماج میں مردوں اور عورتوں، دونوں کا وجود ضروری ہے ، اسی طرح ہر عمر کے لوگوں کا وجود بھی ضروری ہے۔ تمام عمر کے لوگ، سماج کی ضرورت ہیں اور ہر عمر سے متعلق طبقہ کے ساتھ ، سماج اور تمدن کا کوئی نہ کوئی اہم رول وابستہ ہے۔ شیر خوار بچوں کی دلنواز مسکراہٹیں، چھوٹے بچوں کی توتلی باتیں اور معصوم شرارتیں، اسکول جانے والے بچوں کا شور شرابہ اور ہنگامہ، ان سب کے بغیر ہمارا سماج کس قدر بے معنی ،بے رنگ اور بدنما بن جائے گا؟دور ِشباب زندگی کا حسن ہے۔ نوجوانوں کا جوش و خروش اور دوشیزاوں کا حسن و شباب ادب اور فنون لطیفہ کا ہمیشہ محبوب ترین موضوع رہا ہے۔ بالکل اسی طرح سفید بال،شکن آلود پیشانیاں اور باوقار وبارعب نورانی چہرے ، انسانی تمدن کی ناگزیر ضرورت ہیں۔ اللہ تعالٰی نے اس عمر کے لوگوں کے ذمہ بھی سماج کے بہت سے کام لگا رکھے ہیں اوریہ لوگ، خاموش غیر محسوس طریقہ سے اپنی یہ ذمہ داریاں ادا کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے بزرگ ہماری روایتوں کے محافظ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں صدیوں کے انسانی تجربات کے ورثہ سے جوڑتے ہیں۔ وہ برگد کی ایسی گھنی چھاؤں کے مانند ہوتے ہیں جس کی ضرورت کا احساس ، بھاگتے دوڑتے وقت نہیں ہوتا لیکن جب یہ بھاگ دوڑ تھکادیتی ہے، گرادیتی ہے، زخمی کردیتی ہے تو اس چھاؤں کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہوتا۔ ہمارے بزرگ ہمیں جوڑتے ہیں، ہمارے مسائل اپنے ناخن تدبیر سے حل کرتے ہیں، ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں، غلطیوں پر ٹوکتے ہیں۔ وہ ہماری گاڑی کے بریک ، گیر اور کلچ ہوتے ہیں، جو نہ ہوں تو تیز رفتار ایکسلیٹر ہماری گاڑی کو حادثہ سے دوچار کردے۔

نئے زمانہ کی بدقسمتیوں میں سے ایک بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ بزرگوں کا یہ روایتی رول بہت کمزور ہوگیا ہے۔زمانہ قدیم میں بزرگوں کو گھر اور سماج میں بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ گھروں میں ہونے والی کسی تقریب یا شادی بیاہ، معاشی سرگرمی وغیرہ کے تعلق سے کوئی بھی فیصلہ درپیش ہو تو بزرگوں کا مشورہ اور ان کی رضامندی ضروری سمجھی جاتی تھی۔ بزرگوں کے پاس جو علم اور تجربہ ہوتاہے اسکو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی ۔کاروبار اور بیرون گھر کے مسائل میں بزرگ مردوں کی رائے اہمیت رکھتی تھی تو بزرگ خواتین کی رائے کے بغیر ، کچن، خانہ داری، بچوں کی صحت وغیرہ کے مسائل حل نہیں ہوپاتے تھے۔ لیکن آج کل کے دور میں ، معلومات کی فراوانی اور انٹر نیٹ وغیرہ کی وجہ سے بزرگوں کا مشورہ لینا لوگ یا تو کم کر چکے ہیں یا بالکل ہی بند کر چکے ہیں۔ زندگی کی تیز رفتاری نے نسلوں کے درمیان فطری فاصلہ (Generation Gap)بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ترقی کے نام پر جو سماجی اور معاشی تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے اسکا سب سے زیادہ منفی اثر گھر کے بزرگ افراد پر پڑا ہے۔معاشی ترقی کے لئے بچے ،بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں یا بیرون ملک کا۔بہت سی مصروفیات کی وجہ سے والدین ان کے ساتھ نہیں جاپاتے۔ نقل مکانی کرنے والے بچے بھی اس نئی صورت حال یعنی تنہا اور نیوکلیر فیملی کے عادی ہوجاتے ہیں۔ والدین وہاں جائیں بھی تو اس نئے طرز زندگی کو قبول نہیں کرپاتے۔ترقی یافتہ ممالک کی Old Age Homesکی لعنت ہمارے ملک میں بھی در آرہی ہے۔ اس طرح سماج کا یہ انتہائی قیمتی عنصر، اب شدید مظلومیت کا شکار ہوگیا ہے۔

ایک سروے کے مطابق جو کہ 1992 ء میں کیا گیا تھا ایسے بزرگ جو اپنے بچوں سے دور رہ کر زندگی گزار رہے ہیں انکی تعداد 9% تھی ۔ اب یہ تناسب بڑھ کر 2006 میں 19% تک پہنچ گیا ہے۔

ایک زمانہ وہ تھا جہاں بچے احتراماً اپنے بڑوں سے بات کرنے سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکلے جو والدین کی دل آزاری کا سبب بنے اور آج حالات ایسے ہیں کہ بچوں کے پاس اپنے والدین کے لیے فرصت ہی نہیں ہے۔ بزرگوں کی حالاتِ زار کی ایک اور اہم وجہ لائف اسٹائل بھی ہے۔ ہندوستان میں تیزی سے بڑھتے مغربی طرز زندگی اور کلچر نے بزرگوں کے لیے بہت ساری مشکلیں کھڑی کر دی ہیں۔ نوجوان نسل جہاں بزرگوں کی خدمت کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی وہیں بزرگ والدین بھی بچوں کابدلا ہواطرزِ زندگی اور نئے زمانہ کی مجبوریوں کو سمجھ نہیں پاتے، اس طرح دونوں نسلوں میں دوریاں بڑھتی جاتی ہیں۔ بزرگوں کی حالت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت ہند نے 2007 میں ایک قانون نافذ کیا جس میں یہ طے پایا کہ تمام بچے اپنے والدین کا خیال رکھیں پھر 2018ء میں والدین سے لاپرواہی برتنے والے بچوں کے لئے سزا بھی طے پائی۔ لیکن صرف قانونی اقدامات کے ذریعہ بزرگوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے سماجی سطح پر بھی لوگوں میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔

بزرگوں کے مسائل

عمر کے ساتھ ساتھ بزرگ افراد مختلف جسمانی بیماریوںکا شکار ہوتے ہیں۔ ان کا دماغ سکڑنے لگتا ہے جس کی وجہ سے یادداشت کمزور ہوجاتی ہے۔ بعض بزرگوں کو بات سننے اور سمجھنے میں بھی دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ اس کی انتہائی شکل الزائمیر اور ڈیمینیشیا وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جو آدمی کو ایک طرح سے مفلوج کرکے رکھ دیتی ہے۔ بہت سے بزرگوں کی سماعت اور بصارت متاثر ہونے لگتی ہے۔ نظام ہاضمہ کمزور ہوجاتا ہے۔ ذیا بیطس اور بلڈ پریشر جیسی بیماریاں شدت اختیار کرنے لگتی ہیں۔توانائی کم ہوجاتی ہے۔ بہت جلد تھکان ہوجاتی ہے۔ طرح طرح کے درد شروع ہوجاتے ہیں۔یہ عوارض ان کی خود اعتمادی کو مجروح کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ اسے ہر عمر میں سماجی زندگی اور سماجی رول کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ ساری زندگی ایک لگے بندھے کام میں گذاردیتے ہیں۔ عمر کے ایک مرحلہ میں وہ اپنے مخصوص کام انجام دینے کے لائق نہیں رہتے اور ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ دوسری سماجی دلچسپیاں نہ ہوں تو ریٹائرمنٹ کے بعد آدمی اپنی عمر کے لوگوں سے اور سماج سے کٹ جاتا ہے اور اسکے وقت کا بڑا حصہ تنہائی میں یا گھر کے لوگوں کے محدود حلقہ میں گذرنے لگتا ہے۔یہ صورت حال بہت سے بزرگوں کے اندر بیکاری کا احساس پیدا کرتی ہے۔وہ خود کو ناکارہ اور بے مصرف سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کی خود اعتمادی مجروح ہونے لگتی ہے۔ زندگی بھر کام کرنے والا شخص جب پوری طرح سے فری ہوتاہے تو بہت سارے منفی خیالات اس کے ذہن میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس موڑ پر آدمی کے اندر احساس کمتری پید اہوجاتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب گھر اور سماج میں اسکی اہمیت کم ہونے لگی ہے۔ ان حالات میں کوئی کچھ کہہ دے یا کوئی واقعہ پیش آجائے تو وہ پوری طرح سے ٹوٹ اور بکھر جاتا ہے۔ بعض لوگ غم، تنہائی اور خوف کا شکار ہوجاتے ہیں۔

چونکہ وقت کا بڑا حصہ گھر میں گذررہا ہوتا ہے اس لئے وہ گھر کے غیر ضروری کاموں میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں یا اپنے بچوں کی زندگی میں مداخلت کرنے لگتے ہیں۔ بیوی بچے، اس کے عادی نہیں ہوتے ۔ نتیجہ میں طرح طرح کے تنازعات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ سرگرم عملی زندگی کے دوران آدمی کامیابیاں حاصل کرتا رہتا ہے، نتیجہ میں اس کی تعریف و تحسین ہوتی ہے،جو اس کے اعتماد، عزت نفس، اور حوصلے کو بڑھاتی ہیں۔ اسی طرح ناکامیوں اور چیلنجوں سے بھی اسے گذرنا پڑتا ہے۔ جس سے اس کا جذبہ مقابلہ و مسابقہ Fighting Spiritجوان رہتا ہے۔ سرگرم زندگی سے دست برداری کے بعد ان سب مواقع سے وہ محروم ہوجاتا ہے۔

عمر کے اس حصہ میں موت کا خوف بھی ستاتا ہے۔ بہت سے ہمجولی ، ہم عمر لوگ اور اعزّہ ایک کے بعد ایک اللہ کو پیارے ہونے لگتے ہیں۔ ان سے محرومی بھی غم و یاس بڑھاتی ہے۔ خصوصاً اگر شریک زندگی کی موت واقع ہوجائے تو بزرگ مرد یا خاتون کے لئے یہ بہت آزمائشی مرحلہ ہوتا ہے۔ بعض بزرگ ان سب مسائل کی وجہ سے تناؤ، ڈپریشن وغیرہ کے شکار ہوجاتے ہیں۔ نیند ویسے بھی کم ہوجاتی ہے۔ ذہنی دباؤ، بے خوابی کو اور بڑھاتا ہے۔نتیجہ میں طبعیت زیادہ حساس ہوجاتی ہے۔ مزاج میں چڑچڑاپن، غصہ اور جھنجلاہٹ بڑھ جاتی ہے۔

جسمانی صحت اور نفسیاتی صحت ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ ایک کی خرابی دوسری طرف بھی خرابی پیدا کرتی ہے۔ اس طرح نفسیاتی چیلنج جسمانی انحطاط کی رفتار تیز کردیتے ہیں۔ آدمی تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ اور اس سے پھر نفسیاتی الجھنیں اور بڑھنے لگتی ہیں۔

اس مرحلہ میں اگر بزرگ انسان خود اور اس کے قریبی جوان اعزّہ سمجھ داری سے کام نہ لیں تو زندگی کا یہ آخری پڑائو، اذیت ناک ہوجاتا ہے۔ تھوڑی سی سمجھ داری، اور چھوٹی چھوٹی قربانیاں، بزرگوں کے بڑھاپے کو پرسکون بناسکتی ہیں اور وہ زندگی کی آخری سانس تک سرگرم، خوش و خرّم زندگی گذارسکتے ہیں۔

جوان لوگوں کا رول

اسلام نے بزرگوں کی تعظیم و تکریم کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان من اجلال اللہ اکرام ذی الشیبۃ المسلم یعنی بزرگ مسلمان کی تکریم و تعظیم اللہ تعالی کی تعظیم کا حصہ ہے۔(روایت ابوموسٰی اشعریؓ، ابو داود، حدیث حسن) نبی کریم ﷺ نے بزرگوں کے وجود کو خیر و برکت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ فرمایا ’’ہمارے بزرگوں کی وجہ سے ہی ہم میں خیر و برکت ہے۔پس وہ ہم میں سے نہیں، ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔‘‘(روایت ابوامامہؓ، طبرانی)نبی کریم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’تمہیں بوڑھوں کے سبب ہی رزق ملتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘(بخاری، روایت سعد بن مالک ؓ)

والدین اورخاص طور پر بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدیں تو کثرت سے قرآن و حدیث میں آئی ہیں۔اللہ تعالی فرماتا ہے:وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا ٓ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلٰئھُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْ ھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا (تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر تمہارے پاس اْن میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ "پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا)۔‘‘

اس آیت میں حسن سلوک کے ساتھ خاص طور پر لب ولہجہ میں نرمی، احترام اور محبت اور اظہار بیزارگی سے گریز (اف بھی نہ کہنا) کا حکم دیا گیا ہے۔ بوڑھے والدین کو اس لب ولہجہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس عمر کے نفسیاتی تقاضے والدین سے کوئی زیادتی سرزد کرائیں یا وہ بے جا مداخلت کریں یا چڑچڑے پن کا مظاہرہ کریں ، یا غیر ضروری سوالات کریں یا بچوں کی بات سمجھ نہ پائیں اور اس کے جواب میں بچے بھی غصہ و بیزارگی کا اظہار کریں تو بوڑھے انسان پر اس کا بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ قرآن کے حکم کی تعمیل میں بچے تحمل اور نرمی کا مظاہرہ کریں اور احترام و محبت کے ساتھ ان سے مخاطب ہوں اس کی انہیں تربیت دی جانی چاہیے۔ اور ان کے لئے دعا بھی کرتے رہیں تو والدین کو بھرپور نفسیاتی آسودگی میسر آتی ہے۔یہ آسودگی ان کی نفسیاتی صحت کے لئے بھی ضروری ہے اور جسمانی صحت کے لئے بھی۔ ایسی آسودگی کے ساتھ بڑھاپا پرسکون ہوجاتا ہے اور آدمی نہ صرف زندگی کا آخری حصہ خوشی و مسرت کے ساتھ گذارتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور سماج کو بہت کچھ آخری عمر تک دیتا رہتا ہے۔ ایسے پرسکون اور نفع بخش بڑھاپے کو یقینی بنانا ، والدین کا بچوں پر سب سے بڑا حق ہے۔

بچوں کو چاہئے کہ کبھی تصورات کی دنیا میں چند سال پیچھے جائیں اور اس وقت کا تصور کریں جب ان کے والدین جو ان تھے اور تصور کی آنکھ سے اپنا بچپن اور والدین کی قربانیاں دیکھیں ، تو ایک حساس ذہن رکھنے والا بیٹا یا بیٹی ضرور والدین کے ساتھ حسن سلوک کو اپنا فرض سمجھے گا۔ ڈھلتی عمر میں انسان کو نہ دھن دولت کی چاہ ہوتی ہے، نہ اچھے پہننے اوڑھنے کی اور نہ عمدہ لذید کھانوں کی۔ اس عمر میں انسان کو صرف محبت آمیز بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ اب اُن کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان سے دو گھڑی محبت سے بات کرے ،ان کے پاس کچھ دیر بیٹھے، اپنا وقت دے اور ان کی باتیں سنے۔ بچوں کا یہ اولین فرض ہے کہ اپنی مصروف زندگی سے کچھ وقت نکال کر وہ والدین کے ساتھ صرف کریں۔ اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ تین، چار سال کی عمر کے بچے تھے اور دنیا کو پہلی پہلی بار سمجھ رہے تھے۔ انہوں نے کبھی آپ کو نظر انداز نہیں کیاتھا تو پھر کیوں ہم انکی ضرورت کے وقت انہیں نظر انداز کردیں۔

گھر کے اہم فیصلوں میں والدین کا مشورہ ضرور لیں ۔اُس خوشی کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے جو اس وقت انہیں ہوتی ہے۔ انکو اس وقت یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ کتنے اہم ہیں۔ اس وقت کا تصور کیجئے جب والدہ آپکو یہ باور کراتی تھیں کہ پکوان میں آپ نے بہت مدد کی جب کہ آپ نے صرف مولی یا گاجر ہی کاٹا ہوتا تھا۔ کوئی وزنی چیز جب والد صاحب اٹھاتے اور آپ دوڑ کر اس کام میں شریک ہوجاتے تھے، اس وقت شفیق والد آپ کو یہ احساس دلانا نہیں بھولتے تھے کہ آپ نے ان کی کتنی مدد کی ہے حالانکہ اس وقت آپ ایک یا دو کلو وزن اٹھانے کے بھی اہل نہیں ہوتے تھے۔ بزرگی میں والدین کا یہ حق ہے کہ یہی خوشیاں ان کو لوٹائی جائیں۔

تفریح کے لئے باہر جائیں تو کبھی اپنے والدین کو بھی ساتھ لے جائیں۔ ان کی چھوٹی موٹی ضرورتوں کا خیال رکھیں۔بزرگوں کو چھوٹے بچوں کے ساتھ وقت گزار کر بہت خوشی ملتی ہے۔ اپنے چھوٹے بچوں کو یہ ترغیب ضرور دیں کہ وہ دادا دادی، نانا نانی کے ساتھ وقت ضرورگذاریں۔ گھر میں آپ کے کوئی دوست یا مہمان آئیں تو انہیں اپنے والدین سے ضرور متعارف کروائیں۔ بیرون ملک یا والدین سے دور رہنے والے بچے وقتاً فوقتاً ان سے بات کریں۔

احترام و محبت کے ساتھ انہیں تعمیری مشاغل میں مصروف کریں۔اگر وہ کچھ کرنا چاہیں تو ان کی بھرپور مدد کریں۔ فعال سماجی زندگی گذارنے میں ان کا تعاون کریں۔ ان کے دوستوں کو کبھی چائے پر بلائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کے دوستوں سے حسن سلوک کرے۔ (روایت عبد اللہ بن عمر ؓ، صحیح مسلم)۔ اگر بچے والدین کے ملنے والوں اور دوستوں سے حسن سلوک کریں اور گھر پر ان کا خوشدلی سے استقبال کریں تو اس سے بوڑھے والدین کو دوست احباب سے تعلقات رکھنے میں مدد ملتی ہے اورکوئی تکلف نہیں رہتا۔

یہ بظاہر بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن ان ہی باتوں سے بزرگوں کو اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے، تنہائی کا درد دور ہوتا ہے، کچھ نہ کرپانے اور خود کو بے کار سمجھنے کی اذیت سے وہ نجات پاتے ہیںاور زندگی کی امنگ اور توانائی کی حفاظت ہوتی ہے۔

بزرگوں کااپنا رول

خوشگوار بڑھاپے کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ جوان لوگ، خاندان کے بزرگوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں وہیں بزرگوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مناسب رویہ اختیار کریں ،اور اس بات کی بھرپور کوشش کریں کہ ان کا بڑھاپا نہ خود ان کے لئے بوجھ اور اذیت کا باعث بنے اور نہ خاندان کے دیگر ارکان کیلئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارذل عمر سے پناہ مانگی ہے، یعنی ایسا بڑھاپا جو آدمی کو محتاج بنادے، اس کے ذہنی قویٰ مفلوج ہوجائیں، اپنے آپ پر اسے کنٹرول نہ رہے اور اس کا وجود لوگوں کے لئے مشکلات کا باعث بن جائے۔ ہمیں ممکنہ کوشش کرنی چاہیے کہ ایسی کیفیت سے خود کو بچائیںاور اگر اللہ تعالیٰ اس آزمائش میں ہم کو ڈال دے تو پھر ثابت قدمی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

بڑھاپے کے اکثر نفسیاتی مسائل پر تھوڑی سی کوشش کے ذریعہ قابو پایا جاسکتا ہے۔

سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے لاشعور میں بڑھاپے کی مثبت اور بامقصد تصویر بنائیں۔ اس عمر کے ساتھ کمزوری، لاچاری، دوسروں پر انحصار، بے کاری وغیرہ کی جو تصویریں ہمارا سماج وابستہ کردیتا ہے، اس سے اپنے لاشعور کو نجات دلائیں۔ ڈھلتی عمر ایک حقیقت ہے جس کا ہر اس انسان کو سامنا کرنا ہے جو اس سے پہلے موت کا شکار نہ ہوجائے۔ اپنی ڈھلتی عمر سے خوشگوار سمجھوتہ کرنا اور بڑھاپے کو اپنے اوپر طاری کرنے کی بجائے اس عمر سے بھرپور لطف اندوز ہونے کی راہیں نکالنا ہی، خوشگوار بڑھاپے کا راز ہے۔

بڑھاپے میں اعضا و جوارح کا بوڑھا ہوجانا زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ایسی تکالیف و عذرات تو جوان لوگوں کو بھی ہوجاتے ہیں۔ اصل مسئلہ ذہن کا بوڑھا ہونا ہے۔ اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کولیسٹرول، مرغن غذائیں، سستی، کاہلی و عیش پسندی، بے ہنگم و غیر منظم زندگی، ذہنی تناؤ، سگریٹ و تمباکو نوشی وغیرہ وہ عوامل ہیں جو ذہن کو بوڑھا کرتے ہیں۔ اگر ہم متوازن غذا کھائیں، سونے جاگنے کے معمولات میں ڈسپلن پیدا کریں، وقت پر نماز، اور عبادات کی سختی سے پابندی کریں، صبح و شام ہلکی سی ورزش یا چہل قدمی کریںتو اس سے ہماری صحت بھی اچھی رہے گی اور ذہن پر بڑھاپے کا حملہ موخر بھی ہوگا اور اس کی شدت بھی کم ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

دماغ کا فعال استعمال کم ہوجائے تو بھی ذہن تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ ہمارے دماغ میں اللہ نے ایک عجیب و غریب صلاحیت رکھی ہے جسے نیورو پلاسٹی سیٹی کہتے ہیں۔ آپ نئی چیزیں سیکھتے رہیں اور دماغ کو مصروف رکھیں تو دماغ کے خلیات کی لچک باقی رہتی ہے ورنہ وہ سخت اور ناکارہ ہونے لگتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم کوئی نہ کوئی خوشگوار مصروفیت اختیار کریں۔ کوئی ہلکی پھلکی معاشی مصروفیت اپنائیں۔ اس کی ضرورت نہ ہو تو کسی سماج کام میں خود کو مشغول کریں۔ بچوں یا نوجوانوں کا پڑھائیں۔دینی سرگرمیوں میں فعال حصہ لیں۔محلہ کے، بلڈنگ یا سوسائٹی، مسجد کے امور میں دلچسپی لیں۔لوگوں کی مدد کا کوئی کام شروع کریں۔

نئی چیزوں کو سیکھنا بھی ہمارے دماغ کو فعال رکھتا ہے۔ اپنے بچوں سے کمپیوٹر سیکھیئے۔ کوئی نئی زبان، کوئی نیا فن یا کوئی نیا علم سیکھئے۔ قرآن و حدیث کا علم باقاعدہ طور پر حاصل کرنا شروع کیجئے۔ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور نہ نئی چیزوں سے فائدہ حاصل کرنے اور فائدہ پہنچانے کی کوئی عمر ہوتی ہے۔

آدمی مصروف ہوجائے تو اس کا اضافی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تنہائی اور بے کاری کے عذاب سے نجات پاتا ہے۔ اس سے تناؤ کم ہوتا ہے۔ اچھی نیند آتی ہے اور کی بھی ذہن کو تندرست رکھنے کے لئے بڑی ضرورت ہے۔

اگر باہر کوئی سرگرم مصروفیت نہ ہو تو وقت کا بڑا حصہ گھر میں گذرنے لگتا ہے۔ اس سے غیر متعلق امور اور بچوں کی زندگیوں میں مداخلت اور جا و بیجا نصیحت اور مخل ہوکر ان کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے رجحانات پیدا ہونے لگتے ہیں۔نتیجتاً،بعض گھروں میں تنازعات اور بعض گھروں میں خاموش کھینچاؤ کی سی کیفیت پیداہونے لگتی ہے۔ یہ صورت حال بھی غیر ضروری تناؤ اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ بزرگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ان کے بچوں کو آزادانہ زندگی گذارنے اور فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کی رہنمائی ضرور کیجئے۔ غلطیوں پر تنبیہ بھی کیجئے۔لیکن ہر چھوٹے بڑے مسئلہ میں مداخلت ، یقینا ان کی حق تلفی ہے اور خواہ مخواہ اپنے اوپر ایسے بوجھ لادلینا ہے جس کے اس عمر میں ہم مکلف نہیں ہیں۔ بچوں کے معاملات اور مسائل کو ان پر چھوڑ دیجئے۔ ان کو آزادی دیجئے۔ اس سے ان کے ساتھ آپ کے تعلقات بھی ہمیشہ خوشگوار رہیں گے اور آپ بھی تناؤ اور دباو سے محفوظ رہیں گے۔

اپنے آپ کو زندہ دل اور خوش مزاج رکھنے کی کوشش کیجئے۔ چڑچڑا اور بدمزاج بننا کوئی بھی پسند نہیں کرتا لیکن اگر مزاج میں منفی رجحانات اور منفی سوچ پروان چڑھے، شک، حسد، غصہ جیسے منفی رجحانات سے اپنی شخصیت کو پاک کرنے کی ہم فکر نہ کریں تو بڑھاپے میں یہ چیزیں ہمارے ساتھ رہنے والوں کے لئے اور ان سے زیادہ خود ہمارے لئے اذیت ناک بن جاتی ہیں۔ مثبت اور تعمیری سوچ پیدا کیجئے۔بہت سے لوگوں کو اس عمر میں اپنی ناکامیوں کا احساس بہت ستاتا ہے اور پچھتاوے کی آگ، ان کے مزاج کو منفی بنادیتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ دنیوی معاملات میں جو کچھ آپ کو حاصل ہوا ہے اس پر شکر کے جذبات سے اپنے دل کو معمور کیجئے۔ گناہوں اور غلطیوں کے معاملہ میں اسلام نے توبہ کا راستہ دکھا یا ہے۔ سچے دل سے توبہ کیجئے اور اپنے دل کو منفی خیالات سے پاک کرلیجئے۔جہاں تک دوسروں کی زیادتیوں کا تعلق ہے، ان کو معاف اور درگذر کرنا ہی مثبت طرز زندگی کا راز ہے۔

اچھی کتابوں اور صالح ادب کا مطالعہ کیجئے۔ اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں اور دیگر نیک بندوں کے بڑھاپے کی تصویروں کو اپنے لاشعور میں نقش کیجئے۔ خود اپنے اطراف و اکناف میں موجود ان بوڑھے لوگوں کی زندگیوں کو دیکھئے جو اس عمر میں بھی ہنستے مسکراتے خوش وخرم زندگی گذاررہے ہیں۔

بڑھاپے میں خوشیوں کا بہت بڑا سرچشمہ بچے ہوتے ہیں۔ اپنے معصوم پوتوں، پوتیوں، نواسے نواسیوں اور دیگر بچوں پر بھرپور محبت لٹایئے۔ ان کے ساتھ وقت گذاریئے۔ انہیں کہانیاں سنایئے۔ ہوم ورک کرایئے۔ ممکن ہو تو ان کے ساتھ کھیلئے۔ پارک میں لے جائیے۔ ان سے خوب باتیں کیجئے۔ اپنے ذہن کو جوان رکھنے کا اس سے بہترنسخہ کوئی اور نہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت (حیدر آباد)

2 Comments

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: