یہ درندہ صفت مائیں!

پچھلے دنوں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ایک عورت نے اپنے بچوں سمیت دریا میں کود کر خود کشی کرلی۔ اس سے پہلے بھی دو بہنوں نے اپنے بچے دریا برد کیے اور خود کو بھی ہلاک کر دیا۔ اسی طرح ایک باپ نے جو نشہ کا عادی اور کام کاج نہیں کرتا تھا، اپنے سات بچوں او ربیوی کو قتل کیا اور بھاگ گیا۔ اخبارات نے یہ سرخی لگائی کہ بیروزگاری سے تنگ آکر ایک بے چارے باپ نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ جواری تھا اور کوئی کام نہیں کرتا تھا۔

اخبارات عموما درد ناک الفاظ میں اس قسم کی خبریں شائع کرتے ہیں تاکہ ان کی فروخت میں اضافہ ہو۔ ایسی خبروں میں عموما ماؤں کو معصوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے سامنے کوئی راستہ نہ تھا لہٰذا انھوں نے بچوں سمیت خود کشی کرلی یا گھر چھوڑ کر تنہا فرار ہوگئیں۔ پچھلے دنوں خبر تھی کہ شہناز نامی عورت نے غصے میں آکر اپنی آٹھ سالہ بیٹی کا گلا کاٹ دیا۔ خبر میں اسے بے خطا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کیوں کہ بعد کو اس نے خود کشی کرلی۔ یہ خبر میرے لیے دوہری تکلیف دہ تھی۔ ایک تو معصوم بچی کا قتل تکلیف دہ تھا اور دوسرے اس کا مسلمان ہونا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ نام کی اور محض خاندان کی مسلمان تھی بہ صورتِ دیگر وہ ہرگز ایسا نہ کرتی، مگر اس کا یہ عمل مسلم سماج کے لیے اور خصوصاً میرے لیے تازیانہ معلوم ہوتا ہے۔

میں ایسی ماؤں کو ہرگز قابل رحم نہیں سمجھتی جو اپنے بچوں کو بیدردی سے قتل کردیتی ہیں۔ ایک بچے کے لیے سب سے محفوظ حصار ماں کی آغوش ہوتا ہے۔ وہ ماں کی گود میں خود کو ہر بلا سے محفوظ اور مامون سمجھتا ہے مگر وہی ماں جب اسے دریا برد کرے یا باپ جو شفقت کا نشان ہوتا ہے، اپنے بچے کا گلا کاٹ دے، تو اس وقت آسمان کیوں نہیں ٹوٹ پڑتا۔ آہ! بے یار و مددگار ہونا بھی کیسی قیامت ہے۔

عورت تو قربانی کا پیکر ہوتی ہے۔ وہ بچپن سے برھاپے تک کبھی ماں، کبھی باپ، بھائیوں، تو کبھی شوہر اور بچوں کے لیے ہمیشہ اپنی خواہشات اور ضروریات کی قربانیاں ہی دیتی رہتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ماسیاں چار چار گھروں میں برتن مانجھتی اور کپڑے دھوکر، جھاڑو پوچھا کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔ ان کے مرد یا تو نشہ کرتے ہیں یا انھیں خاندان کی کوئی پروا نہیں ہوئی پھر بھی یہ عورتیں پورے استقلال سے اپنے کام میں مصروف رہتی اور اپنے خاندان کی پرورش کرتی ہیں۔

ایک قسم کی عورتیں وہ ہیں جو اپنے بچوں خصوصاً بیٹوں کو ناز و نعم سے پالتی اور ارمانوں سے چاند سی دلہن لاتی ہیں مگر جب وہ بوڑھی اور کمزور ہو جاتی ہیںتو ان کے بیٹے عموما انھیں نظر انداز کردیتے ہیں۔ خدمت کرنا تو درکنار ان سے ملنے سے بھی کتراتے ہیں۔ وہ پھر بھی ہر وقت ان کی خوش حالی او رسلامتی کے لیے دعائیں مانگتی رہتی ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ شہناز کے شوہر نے اس پر تشدد یا مہمانوں کے سامنے ذلیل کیا ہوگا مگر ا سکے باوجود بچی کو مار ڈالنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ میرے خیال میں اس قسم کی عورتیں نفسیاتی مریض ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی کے مصائب اور شوہروں کے بے رحمانہ رویہ سے فرار کا صرف ایک راستہ ہے، خود کشی۔

لیکن وہ خود کو تو مارتی ہی ہیں اپنے بچوں کو بھی مار ڈالتی ہیں۔ شاید وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے بعد بچے درد ناک زندگی گزاریں گے لہٰذا انھیں مار دینا بہتر ہے۔ یا شاید یہ سمجھتی ہیں کہ بچوں کی موت سے اس کے شوہر کو تکلیف پہنچے گی اور وہ پچھتائے گا۔ ہوسکتا ہے اس خیال سے ان کے جذبہ انتقام کو تسکین ملتی ہو مگر پھر بھی بچوں کو ہلاک کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

مشکل یہ ہے ہمارے ہاں گھریلو مسائل میں مبتلا بیویوں اور شوہروں کو مدد یا مشورے دینے کا کوئی انتظام نہیں، نہ کوئی ایسے ٹھکانے ہیں جہاں کوئی بے بس عورت اپنے ماحول سے بھاگ کر دو چار گھنٹوں کے لیے پناہ حاصل کرلے۔ مردوں خصوصاً خواتین کو یہ سکھانے کی اشد ضرورت ہے کہ سخت اشتعال یا مایوسی میں کس قس کا رویہ اختیا رکرنا چاہیے۔ اور بیشتر کونسلنگ کے ذریعے اس قسم کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں اسے ؟؟؟؟

مذہبی جماعتوں کی خواتین رہ نماؤں سے میری درخواست ہے کہ وہ دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس مسئلہ پر بھی غور کریں اور اپنی تقاریر کے ذریعے لوگوں کی توجہ اس گناہ عظیم کی طرف مبذول کروائیں۔ خود کشی انتہائی ظالمانہ اور شرم ناک حرکت ہے اور اس کا تدارک ہونا چاہیے۔

ماہر نفسیات بھی اس مسئلہ پر غور کریں کہ آخر ماں باپ اپنے بچوں کے اس قدر دشمن کیوں بن جاتے ہیں۔ اخباروں میں ایسے مضامین چھپنے چاہئیں جن میں گھریلو اختلافات سے نمٹنے کے آسان طریقے بیان کیے جائیں۔ نیز ایسے ادارے بننے چاہئیں، جن سے منسلک ماہرین ناروا حالات سے دو چار لوگوں کی ہمت بڑھائیں اور انھیں ایسے مشورے دیں کہ وہ اپنے مسائل کا مقابلہ کرسکیں۔ خاص طور پر ایسے افراد کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ خاندان کے سب لوگ مل جل کر ایک دوسرے کا ہاتھ ہٹا کر برا وقت بطریق احسن گزار سکتے ہیں۔

یہ اسی وقت ممکن ہے جب شوہر اپنی بیویوں کے جذبات کا احترام کریں، اپنی پریشانیوں میں ان کو شریک کرکے انھیں انسان کا درجہ دیں۔ انھیں اتنا تنگ نہ کریں کہ وہ اپنی جان دینے یا بچوں کی جان لینے پر آمادہ ہوجائیں۔ تاہم قصور ہمیشہ مردوں کا ہی نہیں ہوتا، ایسی خواتین بھی ہیں جو مردوں کی زندگی عذاب بنا ڈالتی ہیں۔ سکون اور آرام سے زندگی گزارنے کے لیے اعتدال کا راستہ ہی بہتر ہوتا ہے۔

میری درخواست ہے کہ مسجدوں میں خطیب حضرات بھی گھریلو مسائل کے موضوعات پر تقایر کر کے رجحانِ خود کشی کی مذمت کریں۔ تبلیغی جماعتوں کا اگر کوئی باقاعدہ لائحہ عمل ہوتا ہے، تو وہ اس موضوع کو سر فہرست رکھیں یعنی مردوں اور عورتوں کو گھر میں اچھا ماحول بنانے کی تلقین اور برا وقت ہمت اور حوصلہ سے گزارنے کی اہمیت بیان کریں۔ مالی پریشانیوں میں مبتلا لوگوں کی زکوٰۃ سے بروقت مدد کی جائے تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔ سماجی خدمت کرنے والی تنظیمیں خاص طور پر ان سے وابستہ خواتین ان ناروا حالات کو ختم کرنے کی کوشش کریں، جن کے باعث عورتیں اور مرد اپنے بچوں کوخود ہلاک کر کے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اختر نسیمی

Leave a Reply