پیاس بجھاتے چلو! (قسط-18)

’’خفا ہو۔‘‘ فضا آپو نے اپنے نزدیک لیٹی فائزہ کا دو پٹہ ہلکا سا کھینچ کر اسے مخاطب کیا۔

’’جی نہیں۔‘‘ وہ داہنی کروٹ پر سونے کے لیے لیٹ چکی تھیں۔ آپو کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔

’’لیکن مجھے تو لگ رہ اہے…‘‘ پشت سے آپو کی آواز آئی۔

’’فائزہ نے پہلو بدلا اور چت ہوگئی اب اس کے دونوں ہاتھ پیٹ پر اور نگاہیں چھت پر تھیں۔

’’آپ کو غلط لگ رہا ہے۔‘‘ اس نے چھت کو تکتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا۔ کیوں کہ یاسر بڑی محنت کے بعد سویا تھا۔

’’چلو تم کہتی ہو تو مان لیتی ہوں لیکن صبا مجھ سے نااض ہوکر سوئی ہے، اسے میرا ڈانٹنا ڈپٹنا پسند نہیں آیا شاید‘‘ فضا آپو بھی دھیمے سروں میں بات کر رہی تھیں۔

’’پاگل ہے وہ۔ آپ اس کی خفگی کو خاطر میں نہ لائیں۔‘‘

رات کا ایک بج رہا تھا۔ کمرے میں صرف زیرو کے بلب کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ صبا اپنے بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی جب کہ فضا آپو اور فائزہ نے اپنا بستر بیڈ کے قریب فرش پر لگایا تھا۔ فضا آپو کی بائیں طرف یاسر سویا ہوا تھا اور دائیں طرف فائزہ لیٹی ہوئی تھی۔

’’حالاں کہ مجھے برا لگ رہا ہے کہ میری بہنیں میری تنقید کا برا مان رہی ہیں لیکن پھر بھی تم دونوں کے غصے کے باوجود میں تمھیں ٹوکنا بند نہیں کروں گی۔ صبا کے چہرے پر تو اتنا تناؤ اور بے زاری تھی جیسے زبان حال سے کہہ رہی ہو کہ ’’پتہ نہیں ہے شادی شدہ لڑکیوں کو آخر ایسا کیوں لگتا ہے جیسے وہ ہی عقل کل ہوں اور گھر بیٹھی ان کی بہنیں بالکل ہی عقل سے پیدل۔ یہ بات بات میں روک ٹوک، سمجھانا بجھانا، ڈانٹنا ڈپٹنا۔ اور وہ اس بات کو کیوں نہیں سمجھتیں کہ وہ بھی آخر ان کی ہی بہنیں ہیں جیسے یہ سب کچھ سیکھ گئی ہیں آہستہ آہستہ وہ بھی سیکھ ہی جائیں گی۔‘‘

آپو نے صبا کے تاثرات کی ترجمانی کردی تھی۔

’’لیکن آج میں نے چاچو سے یہ سیکھا ہے کہ اگر کسی کو آپ کی صحیح بات غلط لگتی ہے تو یہ اس کی کم عقلی ہے اور میں تم لوگوں کے برا ماننے کے ڈر سے تمھیں غلطیوں پر ٹوکنا چھوڑوں گی نہیں۔ اگر میں ایسا کروں تو ظاہر ہے پھر تو میں خود غلطی کروں گی۔

’’مجھے آپ کی کوئی بات بری نہیں لگتی آپو، لگ ہی نہیں سکتی۔‘‘

’’ہوتے ہیں نا کچھ لوگ اس نادان جیسے۔‘‘

انھوں نے بیڈ پر سوئی صبا کی طرف اشارہ کیا حقیقتاً کا برا مان جائے، کجا کہ اپنی بہن کا۔ چھوڑیں اسے، وہ بس بیماری کی وجہ سے چڑچڑی ہو رہی ہے۔‘‘

بلب کی مٹیالی روشنی میں فضا آپو نے نگاہیں اٹھا کر اس پیاری سی لڑکی کو دیکھا۔ اللہ کو ایسے لوگ کتنے پسند آتے ہوں گے جو پیٹھ پیچھے کسی مسلمان کا دماغ کرتے ہوں، اس کی پوزیشن کلیئر کرتے ہوں اور اس کی عزت پر حرف نہ آنے دیتے ہوں۔

فائزہ حیدر چاچو جیسے صالح انسان کی بیٹی تھی اس کو ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔

’’آپو‘‘ فائزہ نے تکیہ پر رخسار کے نیچے ہاتھ رکھا۔ وہ ان کی سمت رخ کرے پوری طرح متوجہ تھی۔ ’’آج کیا ہوا تھا آپ کہہ رہی تھیں کہ آپ نے ابو یہ یہ یہ سٹھیا۔‘‘ جواباً فضا آپو آج صبح انس اور دادی کے ساتھ ہوئی حیدر مرتضی کی گفتگو کی تفصیلات اس کے گوش گزار کرنے لگیں۔ فائزہ ہمہ تن گوش تھی۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا فضا آپو جب بھی رات کو رکتیں ان بہنوں کی راتیں باتوں ہی میں کٹتی تھیں۔ حسب معمول آج بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔ گھڑی رات کے دو بجنے کا اعلان کر رہی تھی اور فضا آپو کی گفتگو کے پس منظر میں فائزہ کو اپنا گزشتہ رات والا خواب دکھائی دے رہا تھا۔ توجہ کبھی آپو کی باتوں کی طرف تو کبھی غنڈوں کی بھیڑ کے ذریعے ان کے گھر پر حملہ کی طرف چلی جاتی۔ اس کا ارتکاز بار بار ٹوٹ رہا تھا۔

کل رات سے امڈنے والی بے چینی جو صرف چند گھنٹوں کے لیے معدوم ہوئی تھی پھر سے اس کے سینے میں پیر پسارنے لگی تھی۔ خدشات کے اژدھے دوبارہ پھن پھیلانے لگے تھے… رات اس نے اُس رسالے میں جو تصاویر دیکھی تھیں وہ نگاہوں کے سامنے ایک کے بعد ایک چلنے لگی تھیں۔

’’چاچو نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ہماری قوم کا بچہ لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے والا اور رحم کی بھیک مانگنے والا بنے۔واقعی چاچو بہت بہادر انسان ہیں۔‘‘

اس سے بے خبر فضا ستائشی انداز میں بولتی جا رہی تھیں۔

’’اچھا فائزہ۔‘‘ انھوں نے تھوڑا سا اٹھ کر کہنی تکیے پر ٹکائی اور مٹھی کی پشت پر چہرہ رکھ کر اشتیاق سے پوچھا۔ ’’کیا تمھیں پتہ ہے عرصہ قبل پولس چاچو کو پکڑنے آئی تھی۔!!!‘‘

’’کیا۔‘‘ وہ کٹ ہوکر اچھل پڑی۔ اور لینے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔

’’شش۔‘‘ فضا آپو نے تیزی سے اس کا منہ دبایا اور گھبرا کر بائیں جانب سوئے ہوئے یاسر کی طرف گردن گھمائی۔ یاسر کے ننھے وجود میں حرکت ہوئی اور اس نے اپنی ناک کھجانی شروع کی۔ یہ اس کے رونے کا اسٹارٹ اَپ لینے کا انداز تھاـ

’’اللہ رحم۔‘‘ فضا آپو، اسے دونوں ہاتھوں سے تھپکنے لگیں۔ اگر یاسر جاگ جاتا تو تین چار گھنٹوں تک اس کے دوبارہ سونے کا کوئی چانس نہیں تھا۔ خیر ہوئی کہ وہ کسمسا کر جلدی گہری نیند میں چلا گیا۔

’’بتائیں نا کیا کیا تھا ابونے؟ کیوں آئی تھی پولس؟‘‘ اس نے بے چینی سے پوچھا۔ یہ انکشاف تو اسے بھونچکا کرگیا تھا۔

’’کیا واقعی ہندوستانی پولس کی کسی وجہ کی ضرورت ہوتی ہے ایک معصوم شہری خصوصاً مسلمان کو اریسٹ کرنے کے لیے…‘‘ وہ الجھی تھی۔

’’مطلب جس وقت کا یہ واقعہ ہے انہی دنوں ڈبلیو سیٹھ یہاں کے نئے نئے کارپوریٹر منتخب ہوئے تھے۔ اور جب پولس چاچو کو اریسٹ کرنے لگی تھی تو انھوں نے کسی طرح معاملہ کو ہینڈل کیا تھا اور چاچو کو گرفتار ہونے سے بچایا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہی تو دادا نے تنگ آکر چاچو کو سعودی بھیج دیا تھا۔ یعنی یہ بات چاچو کے سعودی عرب جانے سے قبل بلکہ ان کی شادی سے بھی پہلے کی بات ہے۔‘‘

’’اچھا؟ لیکن ہوا کیا تھا؟‘‘

’’ہوا کچھ یوں تھا کہ…‘‘

فضا آپو نے اسے آہستہ آواز میں وہ کہانی سنانی شروع کی جو انھوں نے اپنی آمنہ چچی سے آج ہی بعدصد اصرارکے سنی تھی۔

حید رمرتضیٰ اپنے بچپن سے ہی بے خوف و نڈر انسان تھے۔ان کی پہلی شکایت ان کے گھر اس وقت آئی تھی جب انھوں نے اپنی اسکول میں ایک بچے کو پیٹ کر رکھ دیا تھا اور اسے ایسے مارا تھا کہ اس کے کپڑے تک پھٹ گئے تھے۔

ہیڈ ماسٹر صاحب نے مرتضیٰ علی (حیدر کے والد) اور والدہ کو اسکول میں طلب کیا تھا۔ جب ان کے والدین وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حیدر تو ابھی معمولی زخمی ہے اور اس لڑکے کی تو حالت ابتر تھی جسے انھوں نے مارا تھا۔

’’کیوں مارا تم نے اسے؟‘‘ ان کی اماں نے خشمگیں نگاہوں سے انہیں گھورا تھا۔ وہ اس لڑکے سے سخت نالاں تھیں جو اپنے بڑے بھائی سے یکسر مختلف تھا۔

’’اس نے انور کا ٹفن چھین لیا تھا پھر جب انور نے اس سے واپس لینا چاہا تو اس کا دانت توڑ دیا… انور کا منہ خون سے بھر گیا تھا۔ اماں، آپ کو تو معلوم ہے اس کا وہ دانت کچھ دنوں سے ہل رہا تھا۔‘‘

وہ معصومیت سے ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں کھڑے اپنے حق بجانب ہونے کا یقین دلا رہے تھے۔ جگری دوست انور بھی ساتھ تھا اور تکلیف کی وجہ سے اس نے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

’’لیکن اس نے تمھیں تو کچھ نہیں کہاتھا ناں!‘‘ ان کے والد مرتضیٰ علی بہ مشکل خود پر قابو کیے ہوئے تھے۔ انھیں سخت تذلیل اور شرمندگی کا احساس ہو رہا تھا۔ حیدر کی آج کی حرکت نے انہیں ہیڈ ماسٹر کے سامنے نگاہیں جھکانے پر مجبور کر رہا تھا۔

’’لیکن ابا میں اس واقعے کا گواہ ہوں۔ رمیش نے اس کے ساتھ غلط کیا تھا اور میں ظلم ہوتے دیکھ کر چپ کیسے رہ سکتا تھا۔ میرے سامنے غلط کام ہو رہا تھا۔‘‘

’’غلط کام کے بچے! کرانتی کلامی بولا! آئندہ اگر تمھاری کوئی شکایت آئی تو کھال ادھیڑ دوں گا تمھاری۔‘‘

لیکن حیدر مرتضیٰ اپنی فطرت نہیں بدل سکتے تھے۔ بڑے ہوئے تو نوجوانوں کی ایسی تنظیم سے جڑ گئے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی تھی۔ جہاں کہیں غلط کام ہوتا یہ گروہ صدائے احتجاج بلند کرتا وہاں جاپہنچتا۔ کتنے ہی شراب خانے ان کی NGO نے بند کروائے تھے۔ ایک شراب خانہ لڑکیوں کے کالج والے راستے پر کھلنے جا رہا تھا اس تنظیم کے جوانوں نے جب اس کے خلاف پروٹیسٹ شروع کیا تو وہاں کے غیر مسلم بھی اس ٹیم میں ان کی اس NGO کے ساتھ شامل ہوگئے حتی کہ اس علاقے کی ہندو، دلت اور دیگر عورتوں نے بھی اس احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کیوں کہ ان خواتین کو اب یہ خدشہ ستانے لگا تھا کہ اس بیئر بار کی کولڈ ڈرنک پیتے پیتے نہ جانے کب ان کے مردوں کو مے کشی کی لت لگ جائے اور ان عورتوں کی زندگی عذاب ہوجائے۔ اس کاوش کا کامیاب نتیجہ نکلا اور وہ شراب خانہ کھلنے سے پہلے ہی بند ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد ان کی تنظیم شرپسند اور غیر سماجی عناصر کی نگاہ میں آگئی اور کانٹے کی طرح کھٹکنے لگی اور یہ تنظیم چوں کہ مسلم نوجوانوں کی تھی اس لیے اس پر پولس کی خاص ’’نظر‘‘ تھی۔ حالاں کہ وہ NGO کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتی تھی لیکن پھر بھی آئے دن ان کے کسی نہ کسی سینٹر یا آفس پر چھاپہ پڑ جاتا۔ لیکن وہاں قانون کے رکھوالوں کو کوئی قابل اعتراض چیز نہ ملتی۔

اسی دور میں اسرائیل نے فلسطین کی عوام پر ظلم کی انتہا کردی تھی۔ غیور اور حساس نوجوانوں کی اس ٹیم نے سڑک پر بہت سی اسرائیلی مصنوعات کو جلایا تھا اور آگ لگا کر ان کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ حیدر مرتضیٰ اس سرگرمی میں پیش پیش تھے۔ جلسہ پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا تھا لیکن نہ جانے پولس کس بات کی بنیاد پر انھیں گرفتار کرنے پہنچ گئی۔ ان کے کچھ ساتھیوں کو پہلے ہی اریسٹ کیا جاچکا تھا۔ پولس نے اس بات کو بنیاد بنایا تھا کہ جس جگہ جلسہ ہوا وہ عام آمد و رفت کا راستہ تھا اور یہ پورا پروگرام بغیر پرمیشن کے کیا گیا تھا۔

قیصر مرتضیٰ نے اپنے ابا مرتضیٰ علی کے کہنے پر ’’وقار الملک‘‘ کی مدد لی۔ جو قیصر کے خاص دوست تھے اور ابھی ابھی کارپوریٹر کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔ وقار الملک کے الیکشن کیمپین میں قیصر نے ان کا بہت ساتھ دیا تھا اب مدد کرنے کی ان کی باری تھی۔ وقار الملک اس وقت تک ڈیلر سیٹھ نہیں کہلاتے تھے۔ ان کے الیکشن جیتنے کو ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا تھا لیکن سیاسی خاندان سے تعلق کی بنا پر وہ اپنا اچھا رسوخ رکھتے تھے۔ ادھر حیدر مرتضیٰ لگاتار اپنی صفائی میں پولس کے اہل کاروں کو بتا رہے تھے کہ وہ احتجاجی دھرنا کلکٹر کی اجازت سے ہی کیا گیا تھا۔

حیدر کی اس تنظیم کا صدر بروقت پہنچا اور اس پروگرام کا اجازت نامہ ڈبلیو سیٹھ کے حوالے کیا۔ ڈبلیو سیٹھ نے اس احتجاجی جلسے کا ’’پرمٹ‘‘ بہت با رعب انداز میں دکھا کر پولس کو الٹے پیروں لوٹایا تھا۔ اور حیدر کے دیگر ساتھیوں کو بھی رہا کرنے کی سخت تاکید کی تھی۔

حیدر تو گرفتار ہونے سے بچ گئے تھے لیکن پولس کا یوں گھر تک آجانا مرتضیٰ علی کو کڑا صدمہ پہنچا گیا تھا۔

پولس اور محلے والوں کے جانے کے بعد انھوں نے دروازہ بند کیا اور صحن میں کھڑے اپنے گھبرو جوان بیٹے پر پہلی بار ہاتھ اٹھایا تھا۔ اور وہ حیدر جو باہر صرف ایک ہی ہاتھ میں سامنے والے کو چت کردیتے تھے، خاموش کھڑے باپ کے تھپڑ کھاتے رہے۔ ’’تم نے میری عزت مٹی میں ملا دی۔ اب محلے والوں کا سامنا کیسے کروں گا میں، آئندہ تم نے ایسی کوئی حرکت کی یا کسی بھی قسم کی شکایت موصول ہوئی تو تم میرا منہ دیکھوگے۔

لیکن وہ جانتے تھے کہ حیدر باز نہیں آئے گا۔ مرتضیٰ علی نے اسی وقت سے حیدر کو ملک سے باہر بھیجنے کے انتظامات شروع کردیے تھے اور بس چند ماہ بعد ہی ان کا پاسپورٹ اور ویزہ انھیں تھماتے ہوئے اپنے آخری فیصلے پر مہر لگائی اور انہیں ملک سے چلے جانے کا حکم صادر کر دیا۔

حیدر مرتضیٰ کبھی بھی ہندوستان سے باہر نہیں جانا چاہتے تھے لیکن اماں اور ابا نے مل کر ان پر ایسا جذباتی دباؤ ڈالا کہ وہ مجبور ہوگئے۔ ویسے بھی یہاں باوجود کوشش کے انہیں جاب نہیں مل پا رہی تھی کیوں کہ ان کی رپوٹیشن کی وجہ سے کوئی انہیں نوکری نہیں دے رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ایک سول انجینئر ہونے کے باوجود وہ اب تک بے روزگار تھے۔ ایسی صورت حال میں وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہے تھے۔ اور پھر بادلِ ناخواستہ انہیں ابا کا حکم ماننا پڑا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply