اک شمع جلانی ہے! (قسط-۲۳)

کیا پرائز ہے بتائیے نا! غافرہ نے ایکسائنمنٹ سے پوچھا۔

’’ابتسام نے ایک چھوٹا سا خوب صورت باکس اس کے سامنے بڑھایا جو رنگین ربن میں بندھا تھا اور اسے کھولتے ہوئے اس نے جو کچھ اس میں دیکھا وہ اس کے وہم و گمان اور تصور سے بھی بہت آگے تھے۔

اس چھوٹے سے باکس میں تقریباً ڈھائی تین سو سادہ وزیٹنگ کارڈس تھے جن پر لکھا تھا:

غافرہ ابتسام

پری میرج اینڈ پوسٹ میرج فیملی کونسلر

ساتھ ہی ایک Web-siteاور ایک موبائل نمبر بھی درج تھا۔

’’یہ سب کیا ہے…؟‘‘

’’تم ایجوکیٹیڈ ہو… شادی کے بعد کا خاصہ وقت تم نے گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت میں دے دیا تھا۔ الحمد للہ چیزیں اب سیٹ ہیں۔ سب ایک روٹین میں چل رہا ہے تو اب وقت ہے کہ تم اپنی صلاحیتوں کا وسیع پیمانے پر استعمال کرو اور معاشرے کو فائدہ پہنچاؤ۔ میں نے اکثر تمھاری ڈائری میں تمھارے Thoughts پڑھے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ تم یہ کونسلنگ نہ صرف کرسکتی ہو بلکہ بہت بہتر طریقے سے کرسکتی ہو… اور تم خود بھی جانتی ہو کہ آج ان سب کی کتنی ضرورت ہے۔

ابتسام اسے وجہ بتا رہا تھا لیکن غافرہ کا تو جیسے دماغ سن ہوگیا تھا۔ نہ جانے کیا کچھ تھا جو اسے یاد آرہا تھا۔ یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا۔ کیا اس کا رب اس پر اتنا ہی مہربان ہے؟ ہاں… وہ تو ہمیشہ سے ہی اتنا مہربان ہے۔ لیکن نہ جانے کب ہم اپنی زندگیوں میں سے کچھ وقت نکال کر اس کی مہربانیوں پر غور کریں گے۔ اور پھر اس کا یوں شکر ادا کریں گے جیسے کہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ شکر ادا کرنا ہم پر واجب ہے۔ جب ہم اس کا شکر کرتے ہیں تو وہ مزید نعمتیں عطا کرتا ہے۔

غافرہ کا دل بھر آیا اور آنکھیں چھلک گئیں۔

’’ارے کیا ہوا…؟ پسند نہیں آیا کیا…؟‘‘ ابتسام تو پریشان سا ہوگیا۔ اب عورت کے آنسو سمجھنا سبھی کے بس کی تو بات نہیں ہے۔

’’نہیں! وہ بس ایسے ہی۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا ابتسام لیکن یہ سب ہوگا کیسے؟ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے، غافرہ نے جلدی سے آنکھوں سے بہتے نمکین قطروں کو صاف کرتے ہوئے اپنی الجھن بیان کی۔

’’شوہر بے چارا اتنی بھری دوپہر میں صرف اپنی بیوی کو سر پرائز دیتے سب کام چھوڑ کر آیا ہے اور بیوی بھی سر پرائزڈ ہوگئی ہے… نہ پانی پوچھا نہ چائے!! اب ایسا ظلم بھلا اور کون کرسکتا ہے…‘‘ ابتسام نے اس کی الجھن کے جواب میں بے چارگی کسی صورت بنا کر کہا تو غافرہ کو ہنسی آگئی۔

’’آپ نے آتے ہی وہ دھوم مچائی کہ مجھے یاد ہی نہ رہا۔ دو منٹ رک جائیں، ابھی لاتی ہوں…‘‘ اس کے کہنے پر ابتسام بھی ہنس دیا۔ غافرہ نے فورا کچن میں جاکر چائے چڑھا دی۔ فنگر فرائز اور یہ وہ دو چیزیں تھی جو دس منٹ میں بنائی جاسکتی تھیں۔ اس نے جلدی سے کڑھائی میں تیل رکھا… اور دوسرے چولہے پر پین (توا) رکھ دیا … Pan cake کا مکسچر تیار کرنے تک اور آلو کاٹنے تک تیل بھی گرم ہوگیا اور پین بھی۔ جلدی جلدی فنگر فرائز تل کر نکال لیے۔ پین کیک بھی ساتھ ہی ساتھ تیار ہی تھی سو وہ بھی تیار تھے… دو کپ میں گرما گرم چائے لے کر جو وہ ابتسام کے پاس پہنچی تو وہ لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا۔

’’کیوں بیگم… چائے بن رہی تھی کہ پائے جو…‘‘ ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی نظر کشتی پر پڑی… فنگر فرائز، پین کیک، بسکٹ چائے۔

’’یا اللہ غافرہ پندرہ منٹ میں اتنا سب…‘‘ وہ سچ مچ میں حیران ہوگیا تھا۔

’’ہاں… اب ہم نے سوچا شوہر بیچارہ اتنی بھری دوپہر میں صرف اپنی بیوی کو سرپرائز دینے سب کام چھوڑ کر آجائے اور بیوی بھی مکمل سرپرائزڈ رہو رہے اور صرف چائے پر گزارہ کرنے کو کہے تو یہ ظلم ہی ہوگا نا… غافرہ نے اسی کے الفاظ میں اسے جواب دیا تو ابتسام کو ہنسی آگئی۔

’’جزاک اللہ… اور ہاں پری میرج ہو یا پوسٹ میرج کونسلنگ … لڑکیوں کو خاص تاکید کرنا کہ شوہروں کو اچھا اچھا جلدی جلدی پکا کر کھلاتی رہیں ہمیشہ سکھی رہیںگی۔ ابتسام نے فنگر فرائز سے انصاف کرتے ہوئے شوخی سے کہا… لیکن غافرہ کا دھیان لیپ ٹاپ پر کھلی Web site پر تھا۔ ابتسام نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔

’’ہاں تو تمھارے کارڈ پر جو سائٹ پرنٹ ہے وہ یہ ہے… اس میں ہم نے شروعات میں نکاح کی اہمیت اور کچھ آج کے ابھرتے مسائل کا ذکر کیا ہے ان دو پیرا گراف میں۔ پھر تمھارا تھوڑا Intro ڈالا ہے اور واضح طور پر بتا دیا ہے کہ پرائیویسی کی مکمل حفاظت رہے گی اور پھر نیچے ایک لنک دیا گیا ہے۔

اس لنک کو کھولنے پر ایک چھوٹا سافارم بھی کھلتا ہے جس میں پرسنل معلومات کے نام پر شہر کا نام، شادی کب ہوئی یا کب ہونے والی ہے، رشتہ دار، جان پہچان کی فیملی ہے یا مکمل ہی انجان لوگ؟ ان کا خود کا اور سسرال دونوں کا سوشل اسٹیٹس کیا ہے؟ اور وہ ہم سے کیا چاہتے؟ General Guidance یا کوئی اور ایشو ہے کوئی ہے اگر ہے تو وہ لکھ دیں۔

جب وہ Formفل کر کے submit کردیں گے تو ہم انھیں ایک نمبر الاٹ کریں گے جو ہوگا اور تمھیں اپنا reply اس نمبر کا ریفرنس دے کر دینا ہے اور ہاں ساتھ میں یہ بھی کہ وہ اپنا replyکس طرح چاہتے ہیں؟ پبلک میں یا پرسنل Mailکے ذریعے…؟

اگر پبلک میں تو کوئی بات نہیں تم اپنا replyاس سائٹ پر دے دینا… اور اگر کوئی میل چاہتا ہے تو پھر اسے اپنا ای میل بھی دینا ہوگا اسی لیے ای میل بھرنا اختیاری ہے۔

ہم اس ویب سائٹ کو مختلف سوشل میڈیا پر اور اخبارات میں پرنٹ کریں گے اور اپنے لوکل نیوز پیپر میں اس ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ اس نمبر کو بھی دیں گے تاکہ جو Contactکرنا چاہیں وہ کرسکیں۔

’’اکثر یوں نمبر عام کردیا جائے تو Fake calls اور بے کار کے لوگ خوامخواہ کال کر کے تنگ کرتے ہیں تو اس کا حل میں نے یہ سوچا ہے کہ بڑی پھوپھو کو تمھارا اسسٹنٹ بنا دوں۔ وہ پہلے ہی سوشل ورک کرتی رہتی ہیں رشتہ لگانا جوڑنا، جھگڑے حل کرنا وغیرہ۔ میں نے ان سے بات کرلی ہے وہ بہ خوشی راضی ہوگئی ہیں تو یہ نمبر پھوپھوکے کے پاس ہی رہے گا… تم روزانہ کوئی وقت طے کر کے ان کے پاس چلی جانا اور جو کوئی بھی کال آئے ان سے ڈسکس کرلینا۔ یوں ایک تجربہ کار لیڈی تمہارے ساتھ رہے گی۔ اس قسم کے معاملات میں برحق کون ہے اور کون کتنا مبالغہ آرائی کر رہا ہے؟ کتنا جھوٹ کہہ رہا ہے یہ جانچنا بہت اہم ہوتا ہے؟ تم دھیرے دھیرے ڈیل کرتے کرتے سب سیکھ جاؤگی … ابھی تو فی الحال بڑی پھوپھو کے تجربہ سے فائدہ اٹھائے۔

غافرہ خاموش اور حیران سی بیٹھی تھی۔ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ یہ کام جتنا اس کے لیے Exciting تھا اتنا ہی ٹینشن والا بھی۔ ابتسام نے اپنے طور پر اس کی بھرپور مدد کا یقین دلایا تھا۔

’’میں نے موٹا موٹا کام سب کرلیا ہے اب آگے کس طرح بڑھنا ہے اور چیزوں کی ترتیب و تنظیم کیا ہوگی، اب اور چیزوں کو اس کی مائیکرو پلاننگ تم خود کرلو پھوپھو کے ساتھ مل کر۔ آج دوپہر چار بجے میں نے انھیں بلایا ہے۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ شام میں ہی بلا لوں لیکن …‘‘ ابتسام کچھ کہتے کہتے رک گیا تو غافرہ سوچوں سے باہر نکل آئی۔

’’لیکن…؟؟‘‘ اس نے الجھتے ہوئے پوچھا۔

’’لیکن چوں کہ آج ہماری شادی کی سالگرہ ہے… اور تحفہ تو ہم دے چکے… شام میں باہر کھانا کھانے کا پلان بنایا تھا… اب ہم نے سوچا کہ لوگوں کو تو بڑی شکایت ہے ہم سے کہ ہم بھول جاتے ہیں، کچھ کہتے نہیں ہیں…‘‘ ابتسام نے شرارت سے اسے چھیڑا تو وہ سرخ چہرہ لیے اسے گھورکر رہ گئی۔‘‘

’’اس گھر میں تو پرائیویسی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں… آپ کی پرسنل ڈائری بھی لوگ پڑھ لیتے ہیں…‘‘ غافرہ سچ میں خجل سی ہوگئی تھی۔ اسے دیکھ کر ابتسام اپنا قہقہہ روک نہ پایا۔

’’پیاری بیگم۔۔۔ لوگ تو نہیں پڑھتے! اب لوگوں کی پہنچ آپ کی کپڑوں کی الماری میں کپڑوں کے نیچے رکھی ڈائری تک تو نہیں ہے یہ کام بیچارہ شوہر ہی کرتا ہے جب رات میں بیوی اداسی کے ساتھ ڈائری اور قلم لیے بیٹھی رہے تو انکوائری تو کرنی پڑتی ہے نا۔۔۔‘‘ ابتسام نے مسکراہٹ کو ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا تو غافرہ بس گھور کر رہ گئی۔

لیکن یہ ناراضگی تو در اصل مصنوعی تھی… دل بہرحال خوشی سے چھلانگیں لگا رہا تھا… سچ ہے انسان جلد باز ہوتا ہے… زندگی کے ایک مرحلہ میں اسی جلد بازی کی وجہ سے اس نے کیسا فیصلہ لے لیا تھا… لیکن صحیح وقت پر سنبھل جانے اور پھر زندگی کے راستوں پر جدوجہد کرنے سے اللہ نے کیسے راستوں کو آسان کر دیا تھا… شوہر کی محبت تھی، لوگوں کی زندگی میں بجھتی امید کی شمع کو دوبارہ روشن کرنے کا وسیلہ بنا کر اللہ نے اس کے لیے ایک راستہ کھول دیا تھا۔ اپنے طور پر وہ بچوں کی تربیت کے لیے بہتر سے بہتر کوشش کر رہی تھی۔ ایک جذبہ شکر تھا جو امڈ امڈ کر آرہا تھا۔

’’الحمد للہ… بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا تو ابتسام چونک گیا۔

’’میں نے ڈائری پڑھی تم سے چھپ کر تو الحمد للہ!! وہ بیچارہ کنفیوزڈ تھا۔

’’ہاں … الحمد للہ کہ اللہ نے مجھے ایسا شوہر دیا جو اتنا خیال رکھتا ہے اور جزاک اللہ خیر کہ آپ نے میرا اتنا خیال کیا اور اس بات کا موقع فراہم کیا کہ اپنی صلاحیت اور تعلیمی لیاقت کے اعتبار سے کام کرسکوں اور لوگوں کو نفع پہنچانے کا راستہ کھول دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اللہ کی کن کن نعمتوں کا شکر ادا کریں گے۔ غافرہ نے نم آنکھوں اور پھر ائی آواز میں کہا تو ابتسام خاموش ہوگیا۔ ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن صحیح وقت تو یہی تھا اس کام کے لیے۔

’’بات تو یہ ہے کہ شکر ادا ہو ہی نہیں سکتا۔ اتنے سال گزرنے کے بعد آج میں جب سوچتا ہوں تو تمہارے لیے صرف محبت ہی نہیں بلکہ ایک شکر اور احسان مندی کا جذبہ بھی دل میں ابھر آتا ہے۔ اس وقت جب سب اپنی انا کو لیے اپنی اپنی ناک کے محافظ بنے بیٹھے تھے اس وقت تم نے اپنی انا کی قربانی دے کر عظیم ترین فیصلہ لیا تھا۔ غلطی کہیںنہ کہیں میری بھی تھی، لیکن اللہ کا صد شکر کہ اس نے مجھے تمھاری شکل میں ایک بڑی نعمت عطا کر دی ہے۔ الفاظ تھے یا جگنو… یا کوئی آب حیات… جس نے غافرہ کے دل کو یوں سرشار کر دیا تھا کہ وہ خود کو فضاؤں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی۔ اور ابتسام سوچ رہا تھا کہ یہ سب کہنا اتنا مشکل تو نہ تھا ، اور غافرہ کے تاثرات دیکھ کر تو اسے یوں لگا کہ یہ سب اسے بہت پہلے کہہ دینا چاہیے تھا یا اسے اس قسم کا اظہار ہو تھوڑے تھوڑے عرصے میں کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہ قیمتی ایکسپریشن دیکھنے کو ملے۔ در اصل اظہار محبت و تعلق، انا، عزتِ نفس یا پتہ نہیں کس چیز کا مسئلہ بنا کر ہم نے رشتوں کی خوب صورتی کو کھو دیا ہے۔ ہاں لیکن یہ ذرا مشکل سا کام لگتا ہے یا ممکن ہے کسی کسی کے لیے بہت مشکل ہو لیکن اس کے بعد جو رشتوں میں خوب صورتی ہوتی ہے، محبت جس طرح اور گہری ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہی ہے۔

ایک سفر تھا غافرہ کا جو شاید اس اظہار سے تکمیل پا رہا تھا یا ایک خواب تھا جو سچ ہوا یا ایک تمنا تھی جو پوری ہوئی تھی۔ لیکن ابتسام کے اس تحفہ نے اس کے لیے مقصدِ زندگی کو اور بڑا اور واضح کر دیا تھا۔ ادھر آج کے معاشرہ کے حالات نے اس کام کو اس کے لیے بہت اہم بنا دیا تھا۔ غافرہ جہاں شکر کے جذبے سے سرشار تھی وہیں اس کا ذہن کام کے لیے منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

منزل کو پائیں گے ہم بیڑہ اٹھا چکے ہیں

کچھ راستہ ہے باقی کچھ دور آچکے ہیں

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیہ تحریم

Leave a Reply