چقندر

چقندر کے کرشمے

چقندر بنیادی طور پر بحرِ روم کے یورپی علاقے اور مغربی ایشیا کی سبزی ہے۔ یہ رس دار جڑ نہایت خوش ذائقہ سبزی اور عمدہ غذائی ٹانک ہے۔ایسے تو چقندر کو کئی طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے مگر اس کا اہم استعمال بطور سلاد ہے۔ چقندر اپنے معدنی اجزا کیلشیم، پوٹاشیم وغیرہ کی وجہ سے بے شمار خوبیوں کا مالک ہے۔ اس کے اجزا گردوں اور پتے کو صاف کرتے، بدن سے فاسد مادوں کو خارج کرتے اور رنگ نکھارتے ہیں۔ جرمنی کے ماہرین کے مطابق سرخ چقندر کا جوس قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ یہ خون کی کمی کا عمدہ علاج بھی ہے۔

ایک سو گرام چقندر کی غذائی صلاحیت ۴۳ کیلوریز ہے۔ اس میں وٹامن اے اور بی بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ پاکستان، ہندوستان، یورپ اور افریقہ میں کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے۔ یورپ میں چقندر سے چینی بھی تیار کی جاتی ہے۔ ایران میں چقندر کا گرم گرم رس شوق سے پیا جاتا ہے۔ اس میں حیاتین ب اور ج کے علاوہ کیلشیم، فاسفورس اور فولاد بھی پایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں چقندر کثیر الفوائد سبزیوں میں شمار ہوتی ہے جو غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ دور جدید کی مہلک بیماری کینسر کو بھی روکتی ہے۔ فرانس کے معالج اپنے مریضوں کو ایک کلو چقندر روز کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ آئر لینڈ کے ساحلی علاقوں میں اس کے پتے پسند کیے جاتے ہیں۔ پتوں کے ڈنٹھلوں کو ساگ کی طرح پکا کر کھایا جاتا ہے۔ چقندر میٹھا ہوتا ہے اس لیے شوگر کے مریضوں کو نہیں کھانا چاہیے۔

یہ قبض کشا سبزی ہے، ورم، دور اور گیس تحلیل کرتی ہے۔ نیز جسم کو غذائیت بخشتی ہے۔ عام طور پر خواتین چقندر ابال کر اس کا پانی پھینک دیتی ہیں تاکہ اس کا کھارا پن دور ہوجائے اس طرح سالن تو مزے کا بنتا ہے مگر غذائیت کم ہو جاتی ہے۔

حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ مسجد نبویؐ کے دروازے پر ہر جمعہ ایک بوڑھی خاتون چقندر اور جَو کی دیگ تیار کر کے لاتی تھیں۔ وہ اسے خوب گھوٹ کر ہریسے کے مانند کرلیتیں۔ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوگ ان کے پاس جاتے، سلام کرتے اور خوشی خوشی چقندر اور جو کا پکوان کھاتے تھے۔

بواسیر، جوڑوں کے درد، سر درد اور پرانی قبض کے لیے بھی چقندر بہت مفید ہے۔ ایک درمیانہ چقندر پتوں سمیت کاٹ کر ڈیڑھ دو پیالی پانی میں ابال اور چھان کر ایک پیالی نہار منہ پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ صرف چقندر کاٹ اور ابال کر اس کا پانی پیالی بھر پینا بھی مفید ہے۔ اس سے پرانی قبض دور ہوجاتی ہے اور بواسیر کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے درج ذیل مفید استعمال ہیں:

بال خورہ

چقندر کے پتے ڈنٹھل اور ایک چقندر کاٹ کر پانی میں خوب جوش دیجیے اور اس سے بال دھوئیے ایک ماہ مسلسل بالوں میں یہی عمل دہرائیے۔

خشکی

ایک چقندر پتوں سمیت پانی میں ابال کر سر پر خوب ملیے آدھ گھنٹے بعد سر دھولیجیے۔ ہفتہ میں دو بارہ یہ عمل کرنے سے خشکی دو رہوجائے گی۔

چقندر کا تیل

دو بڑے چقندر لے کر انہیں کاٹ لیجیے گول قتلے کر کے ایک کلو سرسوں کے تیل میں خوب جلائیں۔ جب قتلے سیاہ ہو جائیں تو اتار کر ٹھنڈا کر کے چھان لیجیے۔ یہ تیل سر میں روزانہ لگائیں، بال مضبوط اور گھنے ہوں گے۔

سر درد

چقندر کا عرق نکال کر ناک میں ٹپکانے سے سر کا درد اور بعض دفعہ دانت کا درد بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ بھاری رہتا ہو، کنپٹیوں میں جکڑن ہو، سر میں درد ہو تو ایک درمیانہ چقندر لیجیے اور ہلکا سا چھیل کر قتلے کر کے اور نرم نرم پتے کاٹ کر ایک گلاس پانی میں ابالیے۔ تین چار جوش آنے پر اتار لیجیے۔ حسب ذائقہ چینی نمک ملا کر قتلے کھائیے اور پانی پی لیجیے چند روز میں فائدہ ہوگا۔

سیاہ داغ اور چھائیاں

چقندر پانی میں ابال کر اس پانی سے منہ دھونے یا منہ پر روئی سے یہ پانی لگا کر پانچ منٹ بعد منہ دھونے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے داغ دور ہوجاتے ہیں۔

گھٹیا کا ورم

جوڑوں میں درد ہو یا وہ سوچ گئے ہوں تو ایک کلو چقندر کے قتلے کر کے پانچ کلو پانی میں ابالیے۔ خوب ابل جائیں تو اس پانی سے متاثرہ حصہ بار بار دھونے سے درد اور ورم دور ہو جاتا ہے۔

جوڑوں کا درد

چقندر لے کر دھولیجیے۔ پتوں سمیت ان کا ایک کلو پانی نکالیے، اسی طرح ارنڈ کے پتوں کا پانی آدھ کلو نکال لیجیے اب تلوں کا تیل ڈیڑھ کلو لیجیے اور اس میں یہ پانی ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب پانی خشک ہوجائے تو اتار کر کپڑے سے چھان کر رکھیے۔ جوڑوں پر مالش کرنے سے ورم آہستہ آہستہ تحلیل ہو جاتا اور درد کو آرام آتا ہے۔

پسلی کے درد میں بھی اس تیل کی مالش آرام دیتی ہے۔ کان میں دانہ پھنسی ہو، اور درد رہتا ہو تو اس تیل کے دو چار قطرے کان میں ڈالنے سے آرام آجاتا ہے دن میں تین بار ڈالیے۔

چقندر گوشت

آدھ کلو گوشت میں ایک کلو چقندر کاٹ کر نرم پتوں سمیت پکائیے۔ گوشت بھون کر چقندر ڈال دیجیے۔ پک جانے پر ہرا دھنیا گرم مسالہ ڈال دیجیے، توانائی بخش سالن تیار ہے۔

چقندر کی سلاد

ایک درمیانہ چقندر کاٹ کر اسے معمولی سے پانی میں ابالیں اور اس کے گول ٹکڑے کاٹ کر نمک، کالی مرچ، کالا زیرہ پسا ہوا چھڑک دیجیے۔ اس میں ابلے ہوئے مٹر اور ہرا دھنیا بھی ملا سکتی ہیں۔

چقندر کا لذیذ حلوہ

ایک کلو چقندر چھیل کر کدوکش کرلیجیے۔

دودھ : آدھا کلو

کھویا: ڈھائی سو گرام

گھی: پستہ اور بادام حسب ضرورت

چینی : ایک پاؤ۔

دودھ میں چقندر پکائیے۔ دودھ خشک ہونے پر چینی ملا دیجیے، چینی کا پانی خشک ہوجائے تو کھویا ڈال دیجیے اور ایک چمچہ گھی ڈال کر بھون لیجیے اب اس میں پستہ بادام کاٹ کر ملائیے، چقندر کا لذیذ اور مقوی حلوہ تیار ہے۔

یرقان

چقندر کا جوس یرقان کے مریضوں کے لیے نہایت مفید ہے، اس جوس میں اگر چمچہ بھر لیموں کا رس بھی ملا لیا جائے تو اس کے طبی اثرات بڑھ جاتے ہیں۔ چقندر کے استعمال سے معدہ کی اصلاح ہوتی اور السر کا مرض رفع ہوجاتا ہے۔

بواسیر

چقندر میں موجود ریشے، انتڑیوں کو متحرک کر کے فضلہ خارج ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ چقندر کا رس اور بطور سلاد اس کا استعمال قبض اور بواسیر میں فائدہ پہنچاتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حکیم محمد عثمان

Leave a Reply