شہد

شہد بطور غذا

شہد ہمارے دسترخوانوں کی زینت شہد کو بطور غذا کئی طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی قسم کے کھانے میں شہد استعمال کرنے سے غذا کو معتدل اور صحت بخش بنایا جاسکتا ہے۔ اسے آپ ہر اس چیز کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں، جس میں چینی ڈالی جاتی ہے۔

شہد کے استعمال کے لیے درج ذیل احتیاط مدنظر رکھیں:

۱- اسے ہمیشہ خشک اور درمیانہ درجہ حرارت میں رکھئے۔ اس کے لیے بہترین درجہ حرارت ۷۰ سے لے کر ۸۰ فارن ہائٹ ہے۔

۲- شہد کے مرتبان، بوتل یا جار کا ڈھکنا اس طرح بند کر کے رکھئے کہ اس میں ہوا داخل نہ ہو۔ ہوا سے شہد پتلا ہو جاتا ہے۔

۳- شہد دو سال سے زیادہ پرانا ہوجائے تو اس کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے۔ یعنی تیز بھورا یا سیاہی مائل۔ اس طرح اس کی خوشبو بھی نسبتاً بڑھ جاتی ہے۔ اسے استعمال کرنے میں بالکل کوئی قباحت محسوس نہ کریں۔ یہ بھی تازہ شہد جتنی افادیت رکھتا ہے۔

۴- اگر آپ کیک میں چینی کی جگہ شہد استعمال کر رہے ہوں تو چینی کے مقابلے میں شہد ایک چوتھائی کم ڈالیں۔ یعنی اگر ۲۵۰ گرام چینی ڈال رہے ہیں تو شہد صرف ۱۸۶ گرام کے قریب ڈالیں۔ اس طرح دودھ کی مقدار بھی اسی تناسب سے کم کر دیں، ورنہ کیک زیادہ نرم ہوجائے گا۔

۵- کھانے کے ایک چمچے میں تقریبا ایک اونس آدھی چھٹانک سے ذرا کم، یعنی سوا دو ولے کے قریب شہد آتا ہے۔

چائے کی ایک عام پیالی میں تقریبا بارہ اونس شہد آتا ہے جب کہ ایک پونڈ شہد (تقریبا ساڑھے سات چھٹانک) چائے کے پونے دو کپ بھرتے ہیں۔

آئیے اب ہم آپ کو شہد کے چند پکوان بتاتے ہیں:

آپ ناشتے میں چینی کے بجائے شہد استعمال کرسکتے ہیں۔ توس یا کلچے پر شہد لگا کر کھائیں۔ ناشتے میں دلیا یا کارن فلیکس کھانا ہو تو ان میں بھی شہد ملا سکتے ہیں۔

فرانسیسی توس (فرنچ ٹوسٹ)

فرانس میں شہد کی مدد سے نہایت ذائقہ دار توس بنائے جاتے ہیں۔ ترکیب یہ ہے:

انڈے دو عدد، دودھ چوتھائی پیالی، شہد چوتھائی پیالی، نمک چٹکی بھر، مکھن حسب ضرورت، لیموں کا رس کھانے کے دو چمچ، ڈبل روٹی آٹھ سلائس، شہد مزید ایک پیالی اور مزید مکھن کھانے کے دو چمچے۔

پھینٹے ہوئے انڈے، دودھ، چوتھائی کپ شہد اور نمک کو اچھی طرح ملا کر یک جان کرلیں۔ پھر ڈبل روٹی کے سلائس اس میں اچھی طرح بھگو لیں اور مکھن میں تل کر سرخ کرلیں اس کے بعد مزید شہد، لیموں کا رس اور کھانے کے دو چمچے مکھن ملا کر علیحدہ گرم کرلیں اور اسے توسوں پر لگا کر کھائیں۔ یہ ناشتہ چار افراد کے لیے کافی ہوگا۔

ہنی سینڈوِچ

سینڈوچ میں نیا ذائقہ پیدا کرنے کے لیے درج ذیل تراکیب استعمال کریں۔

۱- مونگ پھلی کی گریاں باریک کاٹ کر مکھن اور شہد میں ملا کر سینڈوچ بنا لیں۔

۲- کھجوروں اور انجیروں کو باریک باریک کتر لیں اور انہیں لیموں کشمش اور شہد میں ملا کر مزیدار سینڈوچ بنایا جاسکتا ہے۔

۴- گاجر کدوکش کر کے اس پر باریک کترا ہوا پستہ چھڑک دیں اور شہد میں ملا کر سینڈوچ بنائیں۔

۵- پنیر کی باریک کٹی ہوئی قاشیں شہد میں لتھیڑ کر سینڈوچ بنائیں۔

سینڈوچ بنانے کے لیے درج ذیل طریقے بھی نوٹ کرلیں:

شہد کھانے کے تین چمچے، پنیر آدھا پاؤ، مکھن یا کریم حسب ضرورت:

شہد اور پنیر کو پھینٹ کر یک جان کرلیں۔ اس کے بعد اس آمیزے میں مکھن کی آمیزش کر کے پھر تھوڑی دیر پھینٹیں۔ اب سینڈوچ میں تقریبا بقدر کھانے کے دو چمچے یہ آمیزہ بھرلیں۔ یہ آمیزہ دس سینڈوچوں میں بھرا جاسکتا ہے۔

ہنی کسٹرڈ

دودھ ڈیڑھ پیالی، انڈے دو عدد، شہد کھانے کا ایک چمچہ، کسٹرڈ پاؤڈر حسب ضرورت۔

پہلے انڈوں کو اچھی طرح پھینٹ لیں۔ اس کے بعد اس میں شہد ملا کر دوبارہ پھینٹیں یہاں تک کہ یک جان ہوجائیں۔ اب اس میں دودھ ملا ہوا کسٹرڈ پاؤڈر تھوڑا تھوڑا ڈالیں اور چمچے سے ہلاتے جائیں۔ اسے ہلکی آنچ پر پکالیں اور پھر اتار کر پانی کے بڑے برتن میں ٹھنڈا کرلیں جب یہ گاڑھا ہوکر جم جائے تو شوق سے کھائیے۔

ہنی کھیر

چاول ایک چھٹانک، دودھ آدھ کلو، شہد کھانے کے تین چمچے، جائفل تھوڑی سی پسی ہوئی۔

چاولوں کو اچھی طرح دھولیں۔ ان میں دودھ اور شہد ملالیں۔ اب جائفل چھڑک کر اوون میں دو گھنٹے تک پکائیں (درجہ حرارت ۳۲۵فارن ہائٹ) یہ کھیر دو افراد دل بھر کر کھاسکتے ہیں۔

سینڈوچ تو آپ کھاتے ہی رہیں گے، اس لفظ کی خوب صورت تسمیہ بھی سن لیجیے در اصل انگلستان میں چوتھے ارل آف سینڈوچ (۱۷۱۷-۱۷۹۲) کو شطرنج کھیلنے کا جنون تھا اور کھانے کے لیے وقت نکالنا بھی اس کے لیے مشکل تھا، چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کہہ رکھا تھا کہ وہ روٹی کی دو پتلی تہیں پکائے اور ان کے درمیان پکا ہوا قیمہ یا سبزی رکھ کر اسے پکڑا دیا کرے تاکہ وہ کھیل جاری رکھتے ہوئے کھا سکے۔ بتدریج یہ پکوان عام ہوگیا اور نواب سینڈوچ کی نسبت سے ’’سینڈوچ‘‘ کہلایا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریم رشید

Leave a Reply