honey

شہد

شہدعطیہ خداوندی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اس کو شفاء للناس ’’لوگوں کے لیے شفا‘‘ بیان کیا ہے اور حدیث مبارک میں اسے موت کے علاوہ ہر مرض کے لیے شافی قرار دیا گیا ہے۔ گویا شہد آب حیات کا درجہ رکھتا ہے جو ایک انسان کو مختلف بیماریوں سے بچا کر ہمیشہ صحت مند بناتا ہے۔ طب نبویؐمیں شہد کو ماء الحیات کے صفاتی نام سے پکارا گیا ہے۔

یہ گاڑھا، نیم شفاف، ہلکا زردی مائل سیال صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اول روز سے شہد کو بطور غذا اور دوا استعمال کرنے والی اقوام ہمیشہ سے صحت و ذہانت کی علمبردار رہی ہیں۔ خداوند کریم نے انسان کو جتنی غذائی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ ان سب میں دودھ اور شہد ہی کو ممتاز درجہ حاصل ہے۔ ایک وقت تھا کہ شہد نوزائدہ بچے کو بطور گھٹی شہد چٹایا جاتا تھا اور جاں بلب مریض کے لیے طبیب آخری وقت میں شہد ہی تجویز کرتے تھے مگر طب اسلامی کے دشمنوں نے مسلمانوں کو ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کا موجب بنا کر شہد سے خوف زدہ کر دیا، لیکن خود اسے آب حیات کے طور پر استعمال کرتے رہے۔

خالص شہد بہ شمول ذیابیطس دور حاضر کی تمام بیماریوں کے علاج کی موثر دوا ثابت ہو رہا ہے۔ دورہ دل، ڈپریشن، بلڈ پریشر، دمہ، فالج اور نزلہ زکام جیسے عام امراض سے نجات کے لیے شہد ایک موثر دوا ہے۔

خالص شہد سر کی بے شمار بیماریوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہ دماغ کو فالتو اور زیریلے مادوں سے پاک و صاف کر کے اسے تقویت دیتا ہے۔ حافظہ تیز کرتا ہے، دماغی تھکان دور کرتا ہے۔ درد شقیقہ میں مبتلا رہنے والے ایک بوند شہد لے کر سر درد والے حصے کے مخالف نتھنے میں ڈالیں انشاء اللہ فوراْ آرام آجائے گا۔ نزلہ زکام ہمارے ہاں عام بیماری ہے۔ شافی مطلق نے شہد میں اس بیماری کا تریاق رکھا ہے۔گرم پانی گلاس بھر کر اس میں ایک بڑا چمچہ شہد اور ایک چمچہ ادرک کا رس شامل کر کے دن میں دو تین بار پیا جائے تو نزلہ زکام سے جان چھوٹ سکتی ہے۔ یا پھر دو تولہ شہد میں چھ ماشہ ادرک کا رس شامل کر کے چاٹ لیا جائے تو یہ سردی سے پیدا ہونے والے نزلہ و زکام کے لیے نہایت موثر دوا ثابت ہوتی ہے۔ اس طرح جسمانی کمزوری میں ایک گلاس نیم گرم پانی میں ملا کر پی لیا جائے تو انشاء اللہ راحت ملے گی۔ خالص شہد کے مسلسل اور مناسب استعمال سے امراض سے نجات مل جاتی ہے اور جان لیوا بیماریوں کے خلاف مدافعت بھی پیدا ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں جب سے دانتوں کی حفاظت کے لیے نت نئے منجن اور ٹوتھ پیسٹ بازار میں آئے ہیں، مسواک کا استعمال تقریبا ختم ہوچکا ہے۔ مسواک اگر استعمال ہوتی ہے تو صرف دیہات میں ورنہ شہروں میں صرف نمازی حضرات ثواب حاصل کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ مختلف ٹوتھ پیسٹ کے استعمال کے باوجود دانت کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے فطرت سے بھاگنا شروع کر دیا ہے۔ مسواک کا اسلامی رواج ترک کرنے کے باعث اکثر مسلمان دانتوں اور منہ کی متعدد بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ شہد دانتوں کے امراض کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے دانتوں پر ملنے سے مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں، ان کا گوشت جم جاتا ہے، زرد دانت صاف ہوجاتے ہیں۔ اگر مسوڑھوں میں زخم پڑ گئے ہوں تو وہ دور ہوجاتے ہیں۔ شہد سے غرغر ے کرنے سے حلق کا ورم خت ہو جاتا ہے جب کہ دن میں تین مرتبہ شہد کا ایک بڑا چمچہ چاٹ لیا جائے تو گلے کی سوزش دور ہو جاتی ہے۔

سردیوں کے موسم میں سینے اور پھیپھڑوں کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ لوگ علاج معالجے کے لیے گرم ادویات کھاتے ہیں، لیکن اگر شہد ہی بطور دوا استعمال کیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔

سردیوں میں بلغمی کھانسی، خشک کھانسی، نزلی کھانسی کا مرض عام ہو جاتا ہے۔ خالص شہد کو روزانہ خوراک اور چائے میں چینی کی جگہ استعمال کیا جائے تو ایسے امراض لاحق نہیں ہوتے۔ امریکہ میں اسپغول اور شہد پر خاصی تحقیق ہوئی ہے اور شہد کو بطور جراثیم کش تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اس میں فوری عافیت بخشنے اور نڈھال طبیعت کو بحال کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
حکیم محمد عثمان

Leave a Reply