مسلم خواتین

معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار

نسل نوکی تعمیر میں خواتین کاکردار

معاشرہ کی تشکیل اور خاندان کی تعمیر میں مردو زن دونوںکی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔مگر نسل نو کی پرورش، بچوں کی نگہداشت،اور ان کی تعلیم وتربیت سے لے کر ان کی ذہن سازی تک ،خواتین جو نمایاں کردار ادا کرتی ہیںوہ مردوں کے مقابلے زیادہ موثر اور دیر پا ہوتا ہے ۔قرآن کریم کی ایک آیت کا مفہوم ہے’’اے اہل ایمان! اپنے آپ کواوراپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچائو "(سورہ تحریم)۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے سامنے یہ آت تلاوت فرمائی توصحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنے آپ کو تو جہنم کی آگ سے بچا سکتے ہیں مگراپنے اہل عیال کوجہنم کی آگ سے کیسے بچائیں؟یہ سن کر آپؐنے ارشاد فرمایا کہ تم انھیں ایسے کام کرنے کا حکم دیتے رہو جن سے اللہ راضی ہوتا ہے اور ایسے کاموں سے روکتے رہو جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔

اچھے برے کی تمیز، بھلائی کی تلقین اور برے کاموں سے بچنے کی ترغیب مرد بھی دیتا ہے اورخواتین بھی مگر ماں، بہن ،بیٹی یا بیوی کی حیثیت سے خواتین جس طرح موثر ثابت ہوتی ہیں مرد کم ہی ثابت ہوتے ہیں۔ایک معروف مفکرکا وہ مشہور یاد گار اور تاریخی جملہ در اصل اسی حقیقت کا عکاس اور ترجمان ہے۔

’’نپو لین نے کہا تھا کہ تم مجھے بہترین مائیں دو ،میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔‘‘

یہ جملہ بظا ہر ہے تو بہت سادہ مگر بہت اہم اور نتیجہ خیز ہے ۔اس جملے میںایک بہترین قوم کا لائحہ عمل اور اس کے افراد کی ترقی کا راز مضمر ہے ۔ایک کامیاب قوم کا تصور بغیر ایک اچھی ماں کے ممکن نہیں۔ایک تربیت یافتہ ماںسماج کی تعمیروترقی میں نمایاںرول ادا کرتی ہے، ایک اچھا خاندان ملک وملت کے لئے بہت بڑا سرمایہ ہے۔ رب کائنات نے ماں کی ذات میں وہ صلاحیتیں اور قابلیتیں رکھی ہیںجن کے ذریعہ وہ ایسی نسلیں تیار کرسکتی ہے جو دنیا کی باگ ڈور سنبھال سکے۔

دور جدیدکا المیہ اور ہماری ذمہ داری

آج آزادی نسواں کے پر فریب نعروں کے پس پردہ بے حیا ئی اور فحاشی کا ایک سیلاب ہے جس سے مسلم خواتین بھی کافی حد تک متا ثرہو رہی ہیں۔ دور حاضر میںجب کہ دنیا بھر میں مسلمان مذہبی، معاشی، تعلیمی، سیاسی سماجی ہر طرح سے پستی کاشکار اور دنیا میں جگہ جگہ محکو می اور مظلومی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، ہماری پستی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ مسلم خواتین اپنے اسلاف کی سیرت بھول گئیں۔صحابیات اورازواج مطہرات کی پاکیزہ زندگیوں کو نمو نہ بنا نے کے بجائے مغر ب کے آزادی نسواں کے پر فریب نعروںمیں گم ہو گئیں۔حضرت خدیجہ،حضرت ہا جرہ اور بی بی آسیہ کی سیرتوں سے سبق لینا چھوڑ دیا،جس کے نتیجہ میں پوری قوم ذلت ورسوائی کا شکار ہوگئی۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس وقت اخبارات اورسوشل میڈیا پر یہ حیرت انگیز خبر بڑی تیزی سے گردش کررہی ہے کہ فلاں فلاں مقام پربعض مسلم لڑکیاںغیر مذہب میں شادی کرکے مر تد تک ہو گئیں۔

گواں دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا نے زمیںپر آسماں سے ہم کو دے مارا

ضرورت ہے کہ اس وقت پوری امت مسلمہ اپنا احتساب کرے۔خاص طور سے مسلم خواتین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خدائی تعلیمات کی روشنی میںمعاشرے کی اصلاح میںاپنا بھر پور کردار ادا کریں، نئی نسل کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کریں۔اسلام کی اشاعت و ترویج میںدور اول کی مسلم خواتین کا ایک نمایاں کردار ہے ،امہات المو منین اورصحابیات کا اسوہ ہمارے لئے ایک بے مثال نمونہ ہے۔آج کی خواتین اگر اپنی ذمہ داری کا احساس کر لیں اور اپنے تمام معاملات میں شریعت سے رہنمائی حاصل کرنے لگیںتو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔تعلیمات نبوی پر عمل پیرا ہو کر ہی سماج کی صحیح معنوں میں اصلاح ہو سکتی ہے۔ آج کے حالات میںمسلم خواتین کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں۔ ایک صالح معاشرہ کا خواب صالح خواتین کی کو ششوں کے بغیر شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا ۔ قرآن نے ہمیں اس سلسلے میں ایک جامع دعا بتلائی ہے۔ہمیں کثرت سے اسے پڑھتے رہنا چاہئے۔ـ’’اے ہمارے رب ہماری بیویوںاور بچوں سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب فرما اور ہمیں متقیوںکا پیشوا بنا۔‘‘(آمین)lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمان وسیم خان

Leave a Reply