قرآن

قرآن سے تربیت و رہنمائی

٭ قرآن مجید کتاب ایمان ہے، وہ دل کو ایمان ویقین سے منور کرتا ہے۔

٭قرآن مجید کتاب عمل ہے، وہ زندگی کو بہترین عمل سے آراستہ کرتا ہے۔

٭قرآن مجید کتاب حکمت ہے، وہ عقل کو آزادی اور توانائی عطا کرتا ہے۔

٭قرآن مجید کتاب دعوت ہے، وہ بہترین داعی اور دردمند مربی بناتا ہے۔

یہ چاروں اوصاف انسانوں کی زندگی میں نظر آنے لگیں تو گویا زندگی میں قرآن مجید ظہور پذیر ہونے لگے، اور اگر یہی نظر نہیں آئے تو گویا قرآن مجید کا نہ دل پر نزول ہوا ، نہ زندگی میں ظہور ہوا۔

بندگی کا جذبہ ایمان سے پیدا ہوتا ہے، اور ایمان کی قوت کا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ کن چیزوں پر کیا ایمان لانا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کس درجے کا ایمان لانا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایمان والوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے، اور وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایمان کیسے بڑھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی آیات کو سننے سے ایمان بڑھتا جاتا ہے، اور ایک کرن سے نْور کا ہالا بن جاتا ہے۔ قرآن مجید فلسفہ اور کلام کی غیر ضروری بحثوں سے بچاتے ہوئے، یقین کی بلند منزلوں کی سیر اور ایمان کی بلند چوٹیوں کو سر کراتا ہے۔ قرآن مجید وہ ایمان مانگتا ہے اور عطا کرتا ہے: جو غفلت کو قریب نہ پھٹکنے دے، جو بخل اور بزدلی سے آزاد کردے، جو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اور اللہ کی مرضی کو سب سے زیادہ پسندیدہ بنادے، جو اللہ کے دین کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے لیے بے قرار کردے۔ قرآن مجید اس ایمان کی تعلیم دیتا ہے جو انسان کے ظرف کو وسیع کرے، اس کے اندر خیر سے محبت اور برائی سے نفرت پیدا کرے، اور اس کے دل میں اللہ کی بندگی، بندوں کی خدمت اور صالحین میں شمولیت کا شوق پیدا کرے۔

قرآن مجید میں اچھے عمل کو جس قدر اہمیت دی گئی ہے، وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ عمل کو نجات اور کامیابی کے لیے شرط بھی قرار دیا گیا ہے، اور اسے نجات اور کامیابی کا ضامن بھی بتایا گیا ہے۔ قرآن مجید کا مقصود باایمان اور باعمل فرد کی تیاری ہے۔ بے ایمان یا بے عمل کا انجام آخرت میں کیا ہوگا اس سے قطع نظر، یہ بات یقینی ہے کہ وہ قرآن مجید کے سایے میں تیار ہونے والا انسان نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اس کے لئے نہ کوئی وعدہ ہے اور نہ کوئی بشارت ہے۔ قرآن مجید میں کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ہے جو ایمان اور عمل میں سے کسی ایک کے بغیر نجات اور کامیابی کی گنجایش بتاتا ہو۔ قرآن مجید میں ایمان اور عمل ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کسی ایک پر زیادہ زور دینے سے دوسرے کی اہمیت کم ہوسکتی ہے۔ ہرجگہ دونوں کی اہمیت برابر نظر آتی ہے۔ قرآن مجید میں نہ ایمان کے اضافے کی کوئی آخری حد بتائی گئی ہے اور نہ عمل کے ذخیرے کی کوئی آخری حد بتائی گئی ہے۔ ایمان کا مسلسل بڑھتے رہنا بھی عین مطلوب ہے اور عمل کا بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ ہوتے رہنا بھی عین مقصود ہے۔

قرآن مجید میں عقل کے اطمینان کا سامان کیا گیا، عقل کو استعمال کرنے کی تاکید کی گئی اور غور وفکر پر اْبھارا گیا ہے۔ غوروفکر نہ کرنے پر مذمت کی گئی ہے، اس کے لیے مناسب ترین ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ غوروفکر کے راستے کی رکاوٹوں کو دْور کیا گیا ہے۔ بہتر طریقے سے غوروفکر کرنے کی تربیت کا انتظام رکھا گیا ہے اور قرآن مجید کو غور وفکر کا ایسا زبردست سرچشمہ بنا دیا گیا ہے، جہاں غور وفکر کے بے شمار مواقع ہیں اور جہاں سے غور وفکر کے بہت سے میدانوں کی راہیں ملتی ہیں۔ قرآن مجید میں کہیں عقل کی مذمت نہیں ہے، ہر جگہ عقل کی تعریف ہے۔ کہیں عقل کے استعمال پر قدغن نہیں ہے، عقل کو استعمال کرنے کی پوری آزادی ہے۔ قرآن مجید نے عقل کو جتنا اْونچا مقام دیا ہے اور جتنا اہم قرار دیا ہے، اتنا اونچا مقام اور اتنا اہم کام تو خود انسان اپنی عقل کو نہیں دے سکتا تھا۔ قرآن مجید کے کلام حق ہونے کی ایک بڑی دلیل اس کی حکمت دوستی اور عقل نوازی ہے۔

قرآن مجید کی ہر آیت دعوت وتربیت کی آیت ہے۔ ہر آیت دعوت وتربیت کے سفر کے لیے بہترین زاد راہ ہے۔ قرآن کی کوئی آیت خاموش نہیں ہے، ہر آیت بول رہی ہے۔ بات رکھنے کا سلیقہ، جواب دینے کا طریقہ، عقل کو مطمئن کرنے کا انداز، دل تک پیغام رسانی کا اسلوب، غرض ایک داعی اور ایک مربی کی بہترین تیاری کا سامان قرآن مجید کی سبھی آیتوں میں موجود ہے۔ مکی آیتیں داعی تیار کرتی ہیں، اور مدنی آیتیں مصلح اور مربی تیار کرتی ہیں۔ قرآن مجید کی آیتوں میں ایک عظیم داعی اور ایک عظیم مربی صاف دکھائی دیتا ہے، وہی قرآن مجید کا مطلوبہ داعی اور مربی ہے۔ قرآن مجید کے مطابق زندگی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کی دعوتی گفتگو اور تگ ودو قرآن مجید میں نظر آتی ہے، اسی جیسی اس انسان کی زندگی میں بھی نظر آنے لگے۔

اس وقت قرآن مجید سے ہماری بہت زیادہ دوری کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہمارا حال قرآن مجید کی بنیادی خصوصیات سے یکسر عاری ہے۔ خود ملامتی میرے نزدیک بھی اچھی بات نہیں ہے، لیکن اپنے حال کا صحیح تجزیہ نہ کرنا اور جھوٹ میں گندھی ہوئی خاموشی کو اپنی زبانوں پر تھوپے رہنا اور بھی برا ہے۔ اپنے حال کو خود اپنی نگاہ کے سامنے بے نقاب کرنا اور خوش فہمی کی قبر سے خود کو باہر نکالنا ہی سمجھ داری ہے، اگر ہماری زندگی میں سمجھ داری کے لیے تھوڑی سی بھی جگہ ہے۔

ہم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں، لیکن ایمان کی ساری خصوصیات سے محروم ہیں۔ ہمارے ایمان میں نہ یقین ہے اور نہ اطمینان، نہ جذبہ ہے اور نہ تمنا، نہ وہ غفلت کا پردہ چاک کرتا ہے اور نہ بدعتوں سے روکتا ہے، نہ معروف کو عام کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور نہ منکر کو مٹانے کی ہمت دیتا ہے، نہ اعلان حق کی جرأت بیدار کرتا ہے، نہ آنسو کے سوتے جاری کرتا ہے، نہ کسی خطرے کا سامنا کرنے دیتا ہے، اورنہ کسی بھاری بوجھ کو اٹھانے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔ ایسے کمزور ایمان کے ساتھ تو دنیا کی کوئی مہم سر نہیں کی جاسکتی ہے، بھلا آخرت کا سفر کیسے طے کیا جاسکتا ہے!

جھوٹی اْمیدوں نے ہماری زندگی کو عمل سے بے زار بنادیا ہے۔ بے کاری اور بے عملی ہماری خراب پہچان بن گئی ہے۔ اچھے کاموں کی دوڑ میں ہم آگے نظر نہیں آتے۔ آسان اور تھوڑے سے اعمال کو بہت کافی سمجھ لیتے ہیں۔ بڑے اور بہترین کام، مشکل اور قربانیوں والے کام، فتوحات اور اللہ کو خوش کرنے والے کام، شیطان کو شکست دینے اور قوموں کی امامت والے کام، مختصر یہ کہ قرآن مجید میں کثرت سے نظر آنے والے کام ہماری زندگی میں کم سے کم ہی نظر آتے ہیں۔ مزید یہ کہ عمل کے بغیر جنّت میں چلے جانے کا ہمیں اس قدر یقین ہے، گویا ہمیں جنت کے مالکانہ حقوق حاصل ہیں۔

ہماری عقلیں نہ کائنات کی نشانیوں پر غور کرتی ہیں، اور نہ قرآن مجید کی آیتوں میں تدبر کرتی ہیں، نہ انسانوں کے مسائل پر سوچتی ہیں اور نہ اپنی عاقبت ہی کی فکر کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری عقلوں کے لیے اس دنیا میں کوئی مصرف ہی نہیں ہے۔ ہمارے رسم ورواج، ہماری عادات ومعمولات، ہمارا رویہ، ہماری عبادتیں، ہمارے تعلقات، غرض ہماری زندگی کے ہر ہر پہلو میں بے عقلی بلکہ عقل دشمنی جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ کیا ماجرا ہے کہ قرآن مجید نے جنھیں لِّقَوْمٍ یَّعْقِلْوْنَ کہا تھا وہ اس قدر قَوْم لَّا یَعْقِلْوْنَ ہوگئے۔

ہماری زندگی یوں تو ہر طرح سے جمود کا شکار ہے، مگر دعوت وتربیت کو تو ہماری سرگرمیوں میں بالکل بھی جگہ نہیں ملتی۔ ہم دوسروں سے متاثر اور مرعوب رہتے ہیں۔ ہم دوسروں کے بنائے ہوئے منصوبوں میں رنگ بھرنے کے کام آتے ہیں، دوسروں کے اٹھائے ہوئے ایشوز پر کام کرنے یا انھی کو دْہرانے کا کام کرتے ہیں، اور دوسروں کے چھیڑے ہوئے سروں پر سر دْھنتے ہیں، نہ ہم اپنے ایشوز اٹھاتے ہیں اور نہ اپنے سر چھیڑتے ہیں۔ غرض یہ کہ قرآنِ مجید تو ہم کو داعی بناتا ہے، مگر ہم مدعو بنے ہوئے ہیں۔ الیکشن میں کھڑے ہونے والے اْمیدواروں کے حواری ان کا جس قدر پرچار کرتے ہیں، کم از کم اتنا پرچار بھی اگر اللہ کے انصار اور رسول کے حواری نہیں کریں گے توپھر کیسے خیر امت قرار پائیں گے؟ مزید یہ کہ جو داعی اور مربی ہونے کے دعوے دار ہیں، بسااوقات ان کی دعوت وتربیت میں قرآن سے دوری اورلاتعلقی صاف نظر آتی ہے، اور کہیں سے نہیں لگتا کہ ان کی تربیت قرآن مجید کی آیات سے ہوئی ہے۔

قرآن مجید سے تربیت لینے والا انسان ایمان ویقین کی قوت سے مالا مال ہوتا ہے، عمل کے میدان میں سب سے آگے ہوتا ہے، عقل وحکمت کے میدان کا بہترین شہسوار ہوتا ہے، اور اپنے مشن کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا ہے۔ یہ چار اوصاف جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اسے عروج و ترقی کے قلعے یکے بعد دیگر فتح کرنے اور دنیا کی امامت کا تاج زیب سر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسے ہی لوگ بلاشبہہ اہل القرآن ہوتے ہیں، اور وہی بے شک اہل اللہ بھی ہوتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی

Leave a Reply