خط اللہ میاں کے نام!

ایک بچہ تھا منا منا، بچے کا نام تھا اختر۔ اختر یتیم تھا۔ اس کے ابا انتقال کرچکے تھے۔ صرف ماں تھیں۔ ایک دن کی بات ہے اختر مدرسے گیا۔ مدرسے کے سب بچوں کے پاس پڑھنے لکھنے کا سامان تھا۔ اختر کے پاس کچھ نہیں تھا۔ سب کے کپڑے نئے تھے۔ اختر کے کپڑے پھٹے پرانے تھے۔ اختر منہ بسورتا ہوا گھر پہنچا۔ امی نے رونی صورت دیکھی، پوچھا: ’’میرے لال کیوں رورہے ہو؟‘‘

اختر بولا: ’’امی جان! سب کے ابا بڑے اچھے ہیں۔ اپنے بچوں کے لیے نئے نئے کپڑے بنوادیتے ہیں، لکھنے پڑھنے کا سامان دلایتے ہیں، ہمارے ابا کیوں نہیں بھیجتے؟ آپ پتہ دیں میں اُن کو خط لکھوں گا۔‘‘

’’بیٹا ! ابو کا انتقال ہوگیا۔‘‘ امی نے جواب دیا

’’تو پھر ہم کو کون کھلاتا ہے؟‘‘ اختر نے جواب دیا۔

’’ہم کو سب کچھ اللہ میاں دیتے ہیں۔‘‘ امی نے کہا۔

اختر بولا: ’’اچھا اللہ میاں کا پتہ بتادو۔ میں ان کو خط لکھوں گا۔‘‘امی نے پتہ بتادیا، اختر نے اللہ میاں کو خط لکھا:

پیارے اللہ میاں! السلام علیکم

میرے پاس نہ تو کتابیںہیں اور نہ قلم دوات۔ کپڑے بھی پھٹ گئے ہیں۔ آپ میرے لیے یہ سب چیزیں بھیج دیں۔ ہمارے ابا کا انتقال ہوگیا ہے۔ امی کہتی ہیں ہم کو سب کچھ آپ دیتے ہیں۔ آپ کو چھوڑ کر ہم کس سے مانگیں؟

فقط

آپ کا بندہ اختر

اختر نے خط بند کیا اور لفافہ پر پتہ لکھا:

بخدمت جناب

اللہ میاں،مقام عرش،ملک آسمان

خط لکھ کر ڈاک خانے پہنچا۔ لیٹر بکس اونچا تھا ادھر سے ایک بڑے میاں گزر رہے تھے، اس نے بڑے میاں سے مدد کے لیے کہا۔ بڑے میاں نے خط پر کا پتہ دیکھا، بڑے میاں مسکرائے اور ایک دن سارا سامان لے کر گھر پہنچے۔ اختر بہت خوش ہوا۔ اور سارا سامان لے کر اللہ کا شکریہ ادا کیا۔

کہانی کا سبق:ہمیں ہمیشہ اللہ میاں پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
نا معلوم

Leave a Reply