میری غلطی

ایک دن میں امی کے ساتھ بازار گئی۔ میری بہن ایمان بھی ساتھ تھی۔ ہم دونوں کو اسکول کے جوتے چاہیے تھے۔ مجھے کالے، ایمان کو سفید۔ ہمارے گھر سے کچھ دور باٹا کی دکان تھی۔ امی ہم دونوں کو وہیں لے گئیں۔ دو جوڑے جوتوں کی خریداری پر ہمیں ایک گیند تحفتاً ملی۔ یہ سفید رنگ کی خوبصورت سی گیند تھی۔ اس پر سرخ رنگ سے باٹا لکھا تھا۔ مجھے یہ گیند بہت اچھی لگی، جب کہ ایمان کی نگاہ گیند سے زیادہ سامنے میز پر موجود ان پنسلوں پر تھی، جو ایک لمبے سے ڈبے میں رکھی تھیں۔ یہ پنسلیں بھی سفید ہی تھیں اور ان پر بھی سرخ رنگ سے باٹا لکھا نظر آرہا تھا۔ پنسل کا تحفہ ایک جوڑے جوتے کی خریداری پرمل رہا تھا۔ دکاندار انکل نے ایمان کا شوق دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چاہے تو گیند واپس کرکے دو پنسلیں لے سکتی ہے۔ ایمان یہ سن کر خوش ہوگئی۔ پنسل بھی اچھی تھی مگر گیند سے زیادہ نہیں۔ میں اس پیاری گیند کو واپس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اپنے دونوں ہاتھوں میں گیند کو گھماتی ہوئی میں چپکے سے دکان سے باہر آگئی۔ امی کو پتا بھی نہ چل سکا۔ وہ اپنے لیے بھی کوئی چپل پسند کررہی تھیں۔ دکان سے کچھ فاصلے پر کھڑے مکئی والے کے ٹھیلے سے اٹھتی مکئی کی خوشبو مجھے آرہی تھی۔ میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ادھر پہنچ گئی۔ ایک دم مجھے یاد آیا کہ امی کے پرس میں پاپا کے مجھ کو دیے ہوئے بیس روپے موجود ہیں۔ ابھی میں مڑی ہی تھی کہ پیچھے سے آتی ہوئی ایک پرام سے ٹکرا گئی۔ گیند میرے ہاتھ سے گرگئی۔ پرام والی آنئی نے جلدی سے مجھے سنبھالا مگر ہائے میری گیند! وہ بیچ سڑک پر کسی تیزی سے گزرتی ہوئی گاڑی کے ٹائروں کے نیچے آکر پچک سی گئی تھی۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اتنے میں امی اور ایمان مجھے ڈھونڈتی ہوئی وہاں آگئیں۔ پرام سے میری کہنی چھل گئی تھی اور اس میں جلن بھی ہورہی تھی۔ امی نے خاموشی سے میرا ہاتھ پکڑا اور آنٹی کا شکریہ ادا کیا، جو میری چھلی ہوئی کہنی سے خون صاف کررہی تھیں۔ گھر پہنچ کر امی نے ڈیٹول سے میری کہنی صاف کرکے اس پر سنی پلاسٹ لگادیا اور پھر بغیر بتائے جوتوں کی دکان سے باہر جانے پر سخت سزا سنائی۔

میں آپ کو بتاؤں وہ سخت سزا کیا تھی؟ پورے ہفتے مجھے اسکول کے لنچ بکس میں صرف اور صرف جیم لگے ہوئے توس ملنے تھے جو کہ مجھے سخت ناپسند ہیں۔ امی یہ بتاکر کام میں مصروف ہوگئیں۔ ایمان کو چپکے چپکے ہنستا دیکھ کر میرا دل جل گیا تھا۔ آپ بتائیے کیا میری غلطی اتنی بڑی تھی کہ مجھے اتنے میٹھے توس پورے ہفتے کھانے کو دیے جائیں؟

شیئر کیجیے
Default image
ماہم عباس، کانپور

Leave a Reply