نئے دور کے بندر بھی…

ٹوپی بیچنے والا بستر پر پڑا زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا، مگر وہ اب بھی پورے ہوش و حواس میں تھا۔ اسے گزرے زمانے کی بہت ساری باتیں یاد آرہی تھیں۔ اس کے دونوں بیٹے سرہانے بیٹھے تھے۔ ادھیڑ عمر کی بیوی بھی اس کے قریب ہی بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی۔ اچانک ٹوپی فروش مسکرایا اور بیٹوں سے مخاطب ہوا۔ ’’بچو! میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، میں ٹوپیاں ہی فروخت کرتا آیا ہوں۔ یہی میری روزی روٹی تھی اور اسی کے بل بوتے پر حلال روزی کماتا رہا۔شادی کی اور خوشحال زندگی گزاری۔ نیک بیوی اور تم جیسے دو فرزند اللہ نے عطا کیے، تمہاری پرورش بھی اسی حلال روزی سے کرتا رہا ہوں، اس پیشے میں بہت برکت ہے۔‘‘ ٹوپی فروش چند لمحے خاموش رہا پھر دوبارہ مخاطب ہوا: ’’اب میرا آخری وقت آچکا ہے۔ میں چند لمحوں کا مہمان ہوں۔ اس سے پہلے کہ میں تم لوگوں سے جدا ہو جاؤں میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم دونوں بھی اس پیشے کو جاری رکھنا۔ میری طرح تمہیں بھی گاؤں گاؤں جاکر ٹوپیاں فروخت کرنی ہوں گی۔ گاؤں والے خود بھی ٹوپیاں پہنتے ہیں اور لوگوں کو بھی دل کھول کر ٹوپیاں تحفہ دیتے ہیں۔ اسی لیے شہر سے زیادہ دیہاتوں میں ٹوپیاں بکتی ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور یاد رکھنا ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں پہنچنے کے لیے جنگلوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ جب جنگل سے گزرو تو ہوسکتا ہے تھکان محسوس ہو اور تم کسی سایہ دار درخت کے نیچے سستانے کے لیے بیٹھ جاؤ اور ہوسکتا ہے کہ تم نیند کی آغوش میں بھی چلے جاؤ۔ جنگل میں درختوں پر بندر ہوتے ہیں۔ بندر تمہیں سوتا دیکھ کر گٹھری سے ٹوپیاں نکال کر اپنے سر پر رکھ لیں گے۔ یہ منظر تمہیں اکثر دیکھنے کو ملے گا ایسی صورت میں تم اپنے سر کی ٹوپیاں نکال کر فرش پر پھینک دینا۔ بندر نقالی میں ماہر ہوتے ہیں۔ تمہاری یہ حرکت دیکھ کر بندر بھی فرش پر ٹوپیاں پھینک دیں گے۔ پھر تم ساری ٹوپیاں اکٹھا کرکے گاؤں کی طرف چل دینا۔ جنگل میں میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا ہے اور میں نے اسی ترکیب سے بندروں سے اپنی ٹوپیاں حاصل کی ہیں۔‘‘ یہ نصیحت کرکے ٹوپی فروش اس دنیا سے کوچ کرگیا۔

نصیحت و تاکید کے مطابق دونوں بیٹوںنے ٹوپی فروشی کے خاندانی پیشے کو جاری رکھا۔ ایک صبح دونوں لڑکے اپنے سروں پر ٹوپیوں کی گٹھریاں رکھ کر گاؤں کی طرف چل دیے۔ راستے میں جنگل تھا۔ دوپہر کے وقت ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد دونوں لڑکے ایک درخت کے سائے میں اپنی اپنی گٹھریوں کو اپنے قریب رکھ کر آرام کرنے لگے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی چند لمحوں بعد ہی دونوں نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد بندروں کا ایک گروہ وہاں آپہنچا ، درختوں سے اتر کر بندروں نے آہستہ سے ٹوپیوں کی گٹھریاں کھولیں، ان میں سے ٹوپیاں نکالیں، پھر اپنے سروں پر رکھ کر درخت کی ٹہنیوں پر جابیٹھے۔ جب ٹوپی فروش لڑکوں کی آنکھیں کھلیں تو گٹھریوں میں سے ٹوپیاں غائب پائیں، ادھر ادطر نظر دوڑائی کوئی نظر نہیں آیا۔ درخت پر نظر پڑی تو بندروں کو ٹوپیاں پہنے ہوئے دیکھا۔ بے چارے دونوں لڑکے پریشان ہوئے۔ اچانک اپنے مرحوم والد صاحب کی بتائی ہوئی ترکیب یاد آئی۔ دل ہی دل میں خوش ہوئے، پھر وہی عمل کیا، جسے والد مرحوم نے بتایا تھا۔ اپنے سروں سے ٹوپیاں نکال کر ہوا میں اچھال دیں، جو لہرا کر فرش پر گر پڑیں۔ جیسے ہی ٹوپیاں فرش پر گریں، دو بندر درخت کی شاخ سے جھول کر ٹوپیوں پر جھپٹ پڑے۔ ٹوپیوں کو اپنے سروں پر رکھا اور دونوں بندر درخت کی موٹی شاخ پر جا بیٹھے۔ یہ دیکھ کر دونوں لڑکے حیران ہوگئے۔ سبھی بندر اپنی اپنی ٹوپیاں پہنے ہوئے ایک شاخ سے دوسری شاخ پر قلابازیاں کرتے رہے۔ پھر ایک بڑا بندر جو شاید ان کا سردار تھا، کہنے لگا:’’ہم بے وقوف نہیں ہیں جو ٹوپیاں واپس پھینک دیںگے۔ ہمارے پرکھوں نے ہمیں نصیحت کی ہے کہ انسان کی چالوں میں نہ آنا۔ تم بہت ٹوپیاں پہنا چکے اب ہم اپنی برادری میں ٹوپیاں پہنائیں گے۔ ہی ہی ہی ہی، ہا ہا ہا ہا۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
شمیم ادھیکاری، پنویل

Leave a Reply