ایک رجحان اور اس کا ازالہ

انسان حقیقتاً تنہا زندگی نہیں گزارسکتا اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ نارمل انسان نہیں ہے۔ ایک وجہ قنوطیت ہوسکتی ہے یا پھر اس کے ساتھ کوئی سائیکی مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے۔ ایک خوشگوار، کامیاب اور صحتمند زندگی کے لیے انسانو ںکے درمیان باہمی روابط بہت ضروری ہیں۔ ہمارے ارد گرد بکھرے ڈھیروں رشتے جو مختلف ناموں اور صورتوں میں قید ہوتے ہیں اپنے اندر خونی کشش اور جاذبیت رکھتے ہیں، خلوص کی چاشنی سے گندھے یہ رشتے زندگی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اوریہ اپنا تقدس قائم رکھیں تو ماحول کو اور خاندان کے افراد کو موتیوں کی صورت یکجا پروتے ہیں، نتیجتاً ایسے ماحول میں رہنے والے افراد عملی میدان میں خود اعتمادی سے سامنے آتے ہیں۔ چچا، پھوپھی، خالہ ماموں رشتوں کے وہ مہرے ہیں جو زندگی کو مضبوط بناتے ہیں، لیکن یہی رشتے اپنے اندر نزاکت بھی اتنی ہی رکھتے ہیں کہ ذرا سی دراڑ پڑنے سے یا کسی موتی کے لڑی سے نکلنے پر سارے موتی ہی بکھر جاتے ہیں اور اپنی خوبصورتی کھوبیٹھتے ہیں۔

موجودہ رجحان

آج کل زیادہ تر یہ رجحان دیکھنے میں آرہا ہے کہ خواتین کو ایسے لڑکے اپنی بیٹیوں کے لیے درکار ہوتے ہیں، جن کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو۔ اٹریکٹو جاب کے ساتھ تمام سہولیات سے آراستہ گھر کا مالک ہو لیکن بیٹی کی زندگی میں دخل دینے والے رشتے ساس، سسر، نند، دیور ہرگز نہ ہوں یا وہ رشتہ کرتے وقت اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ لڑکا اپنی بیوی کو لے کر الگ رہے گا۔ حالانکہ جہاں تک معاشی صورتحال کا تعلق ہے تو اس حوالے سے پڑھی ہوئی ایک بات میرے ذہن میں جاگزیں ہے کہ ’’انسان کسی کو شریک زندگی بنانے سے پہلے اس کے حال اور ماضی کو دیکھتا ہے، لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی رفاقت میں اسے مستقبل گزارنا ہے۔‘‘ چنانچہ اکیلے گھر کا تصور لڑکی کے ذہن کی دیوار پر ایسا چسپاں ہوتا ہے کہ اگر حسبِ خواہش تنہا لڑکا، شوہر کی حیثیت سے میسر نہ ہو تو لڑکی کے دل میں گرہ سی پڑجاتی ہے اور اس کے لیے سسرالی رشتوں سے نباہ ناممکن ہوجاتا ہے۔

صحت مند سوچ

اگر ہم اپنی سوچ کی سمت درست کرلیں تو کیا مشکل ہے کہ دل پر پڑے ہوئے خود غرضی کے جالے صاف ہوجائیں اور ذرا سی وسعت نظری اور وسعت قلبی سے ہم معاشرے کو اور خود کو بھی خوشگوار ماحول دے پائیں۔ اس صورتحال میں سب سے بھاری ذمہ داری خواتین کے کاندھوں پر ہوتی ہے، لہٰذا ایک لڑکی جب دوسرے گھر میں بہو کی حیثیت سے شامل ہوتی ہے، تو یہ سوچ اس کے آنچل سے بندھی ہونی چاہیے کہ اگلے گھر میں موجود افراد کو ماں، باپ اور بہن بھائی کا درجہ دے۔ نیز ساس، سسر کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آنے والی بہو اپنے تمام رشتے چھوڑ کر آئی ہے اور ساتھ ہی وسوسے بھی اس کے دل میں پنپ رہے ہوں گے کہ سسرال میں اس کی حیثیت کیا متعین کی جاتی ہے اگر اس کو احترام اور پیار ملے گا اور اس ماحول میں پرورش پانے والے بچے جب ایک صحتمند گھر کے پلیٹ فارم سے اپنی زندگی کا آغاز کریں گے تو جہاں جہاں جائیں گے، رشتوں کے تقدس کو سمجھیں گے اور ان کا احترام کریں گے۔

ہم چاہے ترقی کے جتنے زینے کیوں نہ طے کرلیں، چاند تاروں پر دسترس حاصل کرلیں لیکن مٹی سے بنے اس لوتھڑے میں فطرت نے یہ کشش رکھ دی ہے کہ انسانوں کے بغیر اور ان سے کٹ کر ہم زندگی گزار تو سکتے ہیں، لیکن ان لمحات میں رنگینی بالکل نہیں دیکھ سکتے۔ اس تیز رفتار زندگی کا حصہ بننے کے لیے ہمیں اس قدر قربانیاں دینی پڑتی ہیں کہ سچی خوشی رفتہ رفتہ ناپید ہوتی جارہی ہے۔

زندگی نشیب و فراز کے ساتھ بیت جاتی ہے، لیکن اگر ہم اپنے ساتھ ایک عہد کرلیں کہ ہمیں خوشی کا ہاتھ نہیں چھوڑنا تو یقینا ہم نئی پود کو ایسے لمحے دے جائیں گے جن پر آنے والے ہمارے گزرے دنوں پر فخر کرسکیں۔

اقدامات

٭ایک مسلمان کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری رشتوں کو جوڑنا اور مستحکم کرنا ہے۔ اس لیے اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ رشتے آپ کی زندگی میں الجھنیں پیدا کریں گے۔

٭رشتے دار ہی وقت پر کام آتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے ذہن میں حقوق کی ادائیگی کا تصور واضح اور مضبوط ہو ۔

٭ سماجی اور معاشرتی زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ اگر آپ کسی کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے ہیں تو اس کابہتر نتیجہ یقینا آپ کو ملے گا۔

٭ تنازعات اور اختلاف غیر فطری چیز نہیں ہے، سامنے آنے کی صورت میں عفو ودرگزر ہی بہتر ہے۔

٭ رشتہ ناطوں کا مضبوط تعلق ہماری ذاتی اور خاندانی قوت ہے۔ اسے چھوڑنے کے بجائے حاصل کرنے کی فکر ہونی چاہیے۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اس کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں کہ انسان جو زندگی کی یہ مشکل جنگ تن تنہا لڑ رہا ہے، وہ اس کے لیے آسان ہوجائے، کیا خیال ہے اگر ہم اس اس چارٹ پر عمل کرکے دیکھیں …!

٭ مسکراہٹ: ایک ایسا ہتھیار ہے جو زندگی کے مشکل لمحات کا اثر زائل کردیتی ہے، اسے اپنائیں۔

٭ دولت:آنی جانی شئے ہے، اس پر اعتبار کرنے کی بجائے خلوص و وفا پر اعتبار کریں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس بات پر یقین رکھیں کہ وقت وہی اپنا ہے جو دسترس میں ہے۔ ماضی ہمارا کل تھا اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونا لاحاصل ہے، اپنی نظر حال پر رکھیں اور موجود لمحات سے خوشیاں کشید کرنے کے لیے کوشاں رہیں۔

٭ اولاد خدا کی طرف سے آزمائش ہے، لہٰذا انہیں ایسی تربیت دیں کہ وہ اپنے عمل سے آپ کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ اپنے سے کم حیثیت لوگوں پر نگاہ رکھیں۔ تقابلی جائزہ لینے سے احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔

٭ خواہشات محدود رکھنے سے بھی مسائل کنٹرول کیے جاسکتے ہیں۔ لوگوں سے میل ملاقات رکھیں کیونکہ دوسروں کی پریشانیاں سننے سے اپنی پریشانیاں کم لگنے لگتی ہیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
بشریٰ کریم

Leave a Reply